صائمہ کا ’’رخت‘‘، ڈے آفٹر ٹومارو اور سماجی آلودگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملیحہ سید

0
  • 74
    Shares

گذشتہ کچھ دنوں سے پرانی عادات کی بحالی کی کوشش کر رہی ہوں،جس میں ایک کتاب کا مطالعہ، ایک مووی دیکھنا اور سماجی مسائل پر ہلکا پھلکا لکھنا، جو ہمیشہ میری ڈائری کے پنوں میں محفوظ رہتا ہے۔ کچھ کالم بن جاتے ہیں تو کچھ کاغذوں میں خاموش رہتے ہیں۔ اچھے شاعر دوستوں کی کتابیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔جن پر لکھنا ایک قرض ہے جو دوسرے لکھنے والے دوست پر واجب ہوتا ہے ،اس لیے اس محبت بھرے قرض کی ادائیگی ضروری ہے چاہیے دیر سے ہی سہی۔

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم نے دور دور رہنے والے شاعروں اور ادیبوں کو ایک دوسرے کے نہ صرف قریب کیا بلکہ سوشل میڈیا کو ادبی سرگرمیوں کا ایک بہترین ذریعہ بنا ڈالا ہے۔ انہی شاعر دوستوں میں سے ایک کراچی سے تعلق رکھنے والی خوبصورت شاعرہ صائمہ اسحاق ہیں۔ جن کے اب تک دو شعری مجموعے ’’حاصل‘‘ اور ’’رخت‘‘ منظر عام پر آ چکے ہیں۔ رخت آجکل زیر مطالعہ ہے بلکہ اب اس شعری مجموعہ کا سفر اپنے انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انسان کے لالچ، ہوس اور مفادات نے اس کی روح تک کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔ معاشرتی آلودگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جو قدرتی آفات سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

حاصل کے بعد رخت نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔ صائمہ اسحاق کی شاعری معنویت کی فسوں کاری لگتی ہے جو قاری کو اپنے حصار میں لئے رکھتی ہے۔ وہ بھی ان سوالوں کی کھوج میں نکلتا ہے جو صائمہ اٹھاتی ہے۔ رخت پڑھتے ہوئے مجھے اس بات کا احساس قدم قدم پر ہوا ہے کہ صائمہ رومانیت کی روایتی خاتون شاعرہ نہیں ہے وہ اپنے عہد کے حالات سے نا صرف با خبر ہے بلکہ اسے الفاظ کا پیراہن دے کر اپنے حصے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ وہ ہمارے عہد کی ایک احساس شاعرہ ہے جو غور وفکر اور تدبر پر یقین رکھتی ہے۔ محبت اس کے وجود کا حصہ ہے اور زندگی کو برتنے کا ہنر بھی مگر اسے اس کی غزلوں کا مرکزی موضوع نہیں کہا جا سکتا۔

قاضی دانش صدیقی صائمہ پر لکھے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’صائمہ اسحاق کی شاعری جمالیاتی تنوع کا بر ملا اظہار ہے۔ جوا س بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ شاعر کی سطحِ قرطاس پر بہ اعتبار سخن سازی آپ ایک مجموعی تاثر کی حامل تخلیقات سے مزین قارئین ادب کے لیے ذہنی و فکری بالیدگی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ میرے قائم کردہ مقدمہ کا حاصل بھی ہے۔‘‘ ’’رخت‘‘ سے منتخب چند اشعار

علاقہ ہے مجھے پروازگی ہے
تبھی تو بال وپر بخشے گئے ہیں

بات کرنے سے لب چٹختے تھے
میں نے پتھر بنا لیا خود کو

ٹپکا رہا ہے ذہن پہ سیال کی روشنی
کشفِ دروں اجال سے آگے کی چیز ہے

فلم دیکھنا اور اپنی پسندیدہ فلم کئی بار دیکھنا میرا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ پسندیدہ ترین موویز میں ایک ہالی ووڈ کی The Day After Tomorrow بھی ہے۔ دو ہزار چار میں ریلیز ہونے والی یہ فلم، اس سوچ پہ بنائی گئی کہ دنیا قدرتی آفات سے کبھی بھی محفوظ نہیں ہو سکتی۔ احتیاطی تدابیر سے اس کے اثرات پر قابو تو پایا جا سکتا ہے مگر مکمل فرار ممکن نہیں۔ اس لیے انسان دنیا کو غیر محفوظ بنانے والے ہتھیار بنانے سے باز رہے۔ Roland Emmerich جرمن فلم ڈائریکٹر ہے جس نے یہ فلم بنائی۔ اس فلم کی کہانی، اسکرین پلے بھی رولینڈنے ہی لکھے ہیں۔ اس کی دیگر مشہور فلموں میں (Godzilla (1998), Independence Day (1996) and The Patriot (2000) شامل ہیں ۔ بطور فلم ناظر کے مجھے ایسی تمام فلمیں پسند ہے جو زندگی کی بقاء کے لیے لڑتے ہوئے لوگوں پر مشتمل ہوں۔ The Day After Tomorrow بھی ایک ایسی ہی فلم ہے۔

وطن عزیز میں آلودگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ،کہیں یہ آلودگی فضاؤں میں شامل ہو کر ہمیں بیمار کر رہی ہے تو کہیں زمین کا حصہ بن کر پانی کو انسان دشمن اور خوارک کو زیریلا بنا رہی ہے۔ انسانی جسم کو کھوکھلا کرتی یہ آلودگی تو ہی ہے مگر انسان کے لالچ، ہوس اور مفادات نے اس کی روح تک کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔ کہیں وہ چند روپوں اور جائیداد کی خاطر اپنے ماں جائے کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا تو کہیں اس کے ماں باپ تک اس کے لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کہیں وہ معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر مرد بنا پھرتا ہے تو کہیں وہ اپنی ماں بہن بیٹی کا سودا کرتا پھرتا ہے۔ انسانوں میں بلا تخصیض جنس دونوں ہی اپنے جیسے انسانوں کے دشمن ہیں اور یوں معاشرتی آلودگی دن بدن بڑھتی جارہی ہے جو قدرتی آفات سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑیھے: بنت حوا کے لیے نیا عمرانی معاہدہ کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملیحہ سید

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: