بد ترین جمہوریت کے حامی اور ہم

0

 

ہمارے نام نہاد جمہوریت پسند حلقوں کے سیاستدانوں کے حق میں مقدمہ کو اگر ایک فقرے کی صورت پیش کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے ’’میں مجبور تھی وہ بے غیرت تھا‘‘ جب بھی آپ شفافیت کی بات کریں، اقربا پروری کو ہدف تنقید بنایئں، اداروں کے سامنے جواب دہی پر زور دیں،سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر پروان چڑھانے پر زور دیں تو آسان لفظوں میں جواب میں یہی کہا جاتا ہے کہ ’’سرہانے میر کے آہستہ بولو‘‘جمہوریت خطرہ میں  ہے۔سمع خراشی کا باعث بننے والے چند گھسے پٹے فقرے آپ کی سماعتوں کی نذر کیے جاتے ہیں جیسے سیاستدانوں کو کام کرنے نہیں دیا گیا، بد ترین جمہوریت آمریت سے بہتر ہے، سیاستدانوں کو جلا وطن کیا گیا ،پھانسی پر لٹکایا گیا اگر ان رٹے رٹائے جملوں کے جواب میں اوپر اٹھائے گئے سوال سامنے رکھیں تو جھٹ سے آپ کو آمریت کا حمایتی تصور کیا جائے گا یا آپ پر ایسٹیبلشمنٹ کا روایتی بیانیہ بیان کرنے کا الزام لگایا جائے گا۔ . آیئے ایک ایک کر ان فقروں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ . . ’’سیاستدانوں کو کام کرنے نہیں دیا گیا‘‘ . میں ایک قبایئلی پینڈو ہوں۔ جب سے ہوش سنبھالا سردار کو ووٹ دینے کی یہ افادیت بتائی جاتی تھی کہ سڑک بنے گا۔ میں بڑا ہو گیا پڑھ لکھ گیا شادی ہو گئی بچے ہوئے ابھی تک سردار صاحب کو ووٹ دینے کی وہی وجہ قائم و دائم ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایسٹیبلشمنٹ سڑک بنانے نہیں دیتی، سکول آباد کرنے کی راہ میں حٓائل ہے ، ہسپتال  ان کی مداخلت سے ویران ہیں، روڈ نہ بننے سے دوران زچگی خواتین شہر تک پہنچتے پہنچتے موت کا شکار ہوتی ہیں۔ وہی ایسٹیبلشمنٹ سردار کے ہر بیٹے کی نئی ماڈل کی گاڑی خریدنے کی راہ میں حائل نہیں ہوتی، گاوں اور شہر میں سردار اور اس کے بیٹوں کی بلڈنگ بنانے کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اس پہ آپ کہیں گے یہ ایک لوکل معاملہ ہے ملکی لیول کی بات کریں۔ چلو ملکی لیول پہ بات کرتے ہیں اس وقت ہمارے مجبور و مقہور وزیر اعظم کا نام ہے میاں محمد نواز شریف۔ایسٹیبلشمنٹ ان کی پرفارمینس کی راہ میں تو حٓائل ہے لیکن ملکی لیول کے کی پوسٹس پر اپنے قریبی رشتے داروں کو نوازنے کی راہ میں بالکل رکاوٹ نہیں ڈالتی۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے سربراہ وزیرَ اعظم کے بھائی ہیں، سمدھی وزیر خزانہ ہیں،بھتیجا حمزہ شہباز ممبر قومی اسمبلی ہے۔ ایک بھانجا عمر سہیل بٹ ایم این اے اور دوسرا خرم سہیل بٹ ایم پی اے ہے، بیگم کا بھتیجا محسن لطیف پی پی147 سے ایم پی اے رہا، بیگم صاحبہ کا ایک اور بھتیجا بلال یٰسین ایم این اے ہے۔ میاں نواز شریف کا ایک اور انتہائی قریبی عزیز عابد شیر علی وفاقی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی ہے۔ دیگر کئی اور عزیز بھی مختلف حیثیتوں میں اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں داماد کیپٹن صفدر بھی ایم این اے ہیں، -بیٹی مریم نواز شریف بھی نوجوانوں کو قرضے فراہم کرنے والے سرکاری منصوبے کی سربراہ تھیں؛ جسے عدالت کے حکم پر عہدے سے ہٹانا پڑا۔ایسٹیبلشنٹ پتہ نہیں عزیزوں کو نوازنے کے معاملے میں حائل کیوں نہیں ہوتی؟؟ . بد ترین جمہوریت آمریت سے بہتر ہے۔ . اس سے کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ آمریت کے مقابلے جمہوریت ایک بہتر نظام ہے لیکن اس فقرے کی آڑ میں نا اہل سیاستدانوں کی کھیپ ہم پر مسلط کی جاتی ہے تو سوال اٹھانا تو بنتا ہے کہ قدرت نے ہمارے نصیب میں یہی بد ترین جمہوریت ہی لکھی ہے؟ کیا اس کی بہتری کے لیئے سوال اٹھانے والے لازمی طور پر آمریت کے حمایتی ہیں؟ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کا ایجینٹ ہے؟کیا ملک الیکشن کے بعد ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے کہ جو مرضی اس ملک کے ساتھ کریں آپ کو کچھ نہیں کہا جائے۔ . ’’یہاں پر صرف سیاستدانوں کے لیئے سزایئں ہیں کبھی پھانسی تو کبھی جلاوطن۔ ملٹری کے کسی بندے کو ہاتھ لگانا ممکن نہیں‘‘ ۔ مقصد فوج کی کوئی ناجائز حمایت نہیں (فوج کی جو زیادتیاں ہیں اس پر علیحدہ سے ایک کالم کی ضرورت ہے )اس یکطرفہ سچ کو ایکسپوز کرنے کی ہے۔ جہاں تک بھٹو صاحب کی پھانسی کا تعلق ہے اس میں ہر گز دو رائے نہیں کہ وہ واقعہ اس ملک پہ ایک ظلم تھا لیکن میاں صاحب باقاعدہ سودے بازی کر کے گئے ہیں۔ حیرت انگیز طور پرہمارے جمہوریت نواز یہ دو واقعات جا بجا سناتے نظر آتے ہیں انہی دو پرائم منسٹرز نے اپنے آرمی چیفس کو کیسے گھر بھیجا اس کا تذکرہ کرتے کہیں نظر نہیں آتے۔نواز شریف نے جہانگیر کرامت کو جس طرح کھڑے کھڑے نکال دیا وہ بھی اسی پاکستان کا واقعہ ہے اور جہانگیر کرامت ایک آرمی چیف ہی تھے۔ اور بھٹو صاحب نے جس طرح گل حسن کی تذلیل کر کے گھر بھیجا وہ شاید جمہوریت نوازوں کی یاد سے محو ہو چکا اس لئے نوائے وقت کے ایک کالم نگار کی زبانی وہ واقعہ بھی پڑھ لیجیے ۔ ’’سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو، آرمی چیف جنرل گل حسن کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ گل حسن کو جی ٹی روڈ کے ذریعے کار پر لاہور روانہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ ایک اعلیٰ اجلاس میں شرکت کرنی ہے اور پیشکش کی گئی کہ گورنر اور ایک وزیر کے ساتھ لاہور چلے جائیں۔ یہ 3 مارچ 1972ء کا دن تھا، پنجاب کے گورنرغلام مصطفیٰ کھر تھے۔ کار میں یہ دونوں صاحبان جنرل کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ ایک گھنٹے تک گل حسن کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ جبری حراست میں ہیں۔ جب شک کا اظہار کیا تو صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھیوں نے انکی پسلیوں پر پسٹل رکھ دئیے۔ سی این سی کی کار جونہی پنڈی سے لاہور کی طرف روانہ ہوئی عین اس وقت وزیر خزانہ مبشر حسن کو لے کر ایک ہیلی کاپٹر اوکاڑہ کی طرف محوِ پرواز ہوگیا۔ اوکاڑہ سے جی او سی جنرل ٹکا خان کو ساتھ لیا اور جنرل گل حسن کے لاہور پہنچنے سے قبل ٹکا خان اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔ ٹکا خان پر اپنی طلبی کا مقصد اس وقت واضح ہوا جب انکے کندھوں پر آرمی چیف کے کراﺅن لگائے جا رہے تھے۔ گل حسن لاہور پہنچے تو ٹکا خان فوج کا چارج سنبھال چکے تھے۔‘‘ . یہ تمام واقعات بھی پاکستان میں پیش ٓائے چونکہ سرکاری سچ سے ایسی باتیں مطابقت نہیں رکھتیں اس لیئے ایسی باتیں ہم جیسے ٓامریت کے حمایتیوں کو مجبورا بتانی پڑتی ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: