پیار کا پہلا شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ قدسیہ جبیں

0
  • 11
    Shares

مدہم اور روشن تاروں سے بھرے ٹھنڈے آسمان تلے جب امی سونے سے پہلے کیے جانے والے سوال ’’ہم کون ہیں، کس کی امت اور کس کی ملت ہیں‘‘، وغیرہ پوچھ کر فارغ ہو چکتیں تو لاجوردی تنے آسمان کا سب سے روشن تارا عین ہمارے سر پر پہنچ، اپنی آنکھیں جھپکا جھپکا کر ہمیں دیکھ رہا ہوتا۔ اس وقت تک ہم ’’چمکو ننھے تارے چمکو‘‘ یا ’’twinkle twinkle‘‘ جیسی نظموں سے یکسر ناواقف تھے البتہ جگمگ کرتے تارے میں ایک چھوٹی سی دنیا ہم نے اپنے تخیل کے دھاگوں سے بن لی تھی۔ گلاب کے پودے کی ڈالی پر دھری انگوری رنگ کی منی سی بش شرٹ جس پر ٹنگے بٹنوں سے خوشبو آتی تھی اور نیلگوں شفاف فضا میں رنگ برنگے پروں والا ایک خوشنما پرندہ ادھر ادھر اڑتا پھرتا۔

ان دونوں چیزوں کے پس منظر میں ایک دیو مالائی بستی جہاں وقفے وقفے سے سات چھوٹے چھوٹے بوسیدہ گھر ہیں سارے میں گلاب کی خوشبو پھیلی ہے اور یہاں وہاں سبزے سے ڈھکی پہاڑیوں پر پانی کے چھوٹے چھوٹے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔

یہ سب بتدریج بند ہوتی آنکھوں سے دیکھتے دیکھتے ہم لالہ موسی سے چلنے والی لمبی سبز ڈبوں والی للہ ایکسپریس پر سوار ہو جاتے جو زمین کے سینے سے چمٹی مضبوط پٹریوں کو کچلتی منزلوں پر منزلیں مارتی پنڈ دادنخان کی طرف دوڑتی جاتی۔ جس کے راستے میں چواسیدن شاہ کا چھوٹا سا قصبہ پڑتا تھا اور وہاں سے ایک پتلی سی سڑک لوکاٹ کے باغوں کے بیچوں بیچ پہاڑی اترائیاں اور چڑھائیاں طے کرتی اس دیو مالائی بستی میں جا نکلتی تھی جسے کٹاس کہتے ہیں اور جہاں کے سات بوسیدہ گھروں میں سے ایک میں ایک ننھا اپنے اماں ابا کی آنکھوں کا اکلوتا تارا بنا در و دیوار کو اپنی مدھر قلقاریوں سے بھرتا رہتا پھر اچانک اس کے معصوم جی میں کیا آئی کہ در و دیوار نے شوخ قلقاریوں کے بیچ ایک آخری ہچکی سنی اور وہ تارا رنگ برنگے پروں والا خوشنما پرندہ بن کر اوپر جنت کے باغوں میں اڑنے لگا۔

ہاں جب ساون بھادوں رخصت ہوتا اور خزاں دہلیز پر اپنا پہلا قدم رکھتا تو صندوق اور ٹرنکوں میں تہہ در تہہ رکھے کپڑے وہاں سے نکل دھوپ میں رکھی دریوں اور چارپائیوں پر منتقل ہو جاتے۔ تب سکول سے آتے ہی بستہ پھینک ہم سردیوں کے بچھڑے کپڑوں سے ملاقات کرتے اور ا نگوری بش شرٹ کو ہاتھ میں لے کر اس کے بٹنوں کی خوشبو کو بار بار سونگھتے۔ جس میں کٹاس اور چوا سیدن شاہ کے گلاب اور لوکاٹ خوشبو بن کر مہک رہے ہوتے۔


65 کی جنگ کے فوراً بعد ہمارے ابا لاہور جیسے بارونق شہر کو خیر باد کہہ کر کٹاس کے کھنڈرات کو آباد کرنے چل پڑے تھے۔

یہ زمین کی وہی ٹکڑی تھی جن پرصدیوں پہلے من کے اڑیل گھوڑے کو قابو کرنے کے لیے بدھ مت کے مذہبی پیشواؤں کی نظر آ ٹکی تھی اور وہ یہاں فطرت کی گود میں دھونی رمائے آبیٹھے یہ سیدنا عیسی کی پیدائش سے بہت پہلے کی بات ہے۔ کچھ نے یہاں کی بجریلی مگر شاداب پہاڑیوں میں تپسیا اور استغراق کے لیے غاریں تلاش کر لیں اور کچھ دلکش ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے ٹیمپل بنا کر بیٹھ رہے صدیوں تک یہی سلسلہ چلتا رہا ۔

کہا جاتا ہے کہ ’’بھگوان شیوا‘‘ کی پیدائش بھی اس سرزمین پر رونما ہوئی تھی اور قرن ہا قرن سے زمین کی یہ ٹکڑی بدھ مت اور ہندو مت کے پیروکاروں کیلیے مقدس سرزمین کی حیثیت سے ممتاز سمجھی جاتی رہی۔ اور آخر کار جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب کی زرخیز زمین پر اپنا تسلط قائم کیا تو اس کے قابل ترین جرنیل نے ایک شاندار حویلی تعمیر کر کے سکھ مذہب کے پیروکار کے طور پر اپنی یادگار یہاں رکھ چھوڑی۔ لیکن بچپن میں ہم نے کٹاس کے تذکرے میں یہ سب کچھ ہر گز نہ سن رکھا تھا اس وقت یہ سب آثار نہ اس کے ارد گرد رہنے والے باسیوں کے لیے کوئی خاص اہمیت رکھتے تھے اور نہ محکمہ آثار قدیمہ کےلیے۔ وہ فوجیوں کی سرزمین تھی بلکہ ایک روایت کے مطابق فوج تھی ہی چکوال کے قبضے میں۔

ہندووں اور سکھوں کے متروکہ سب آثار بھیانک سے کھنڈرات کے سوا کچھ نہ تھے جو اس دلکش جگہ کو کچھ پراسرار اور کلاسیکل بنا دیتے تھے انہی دنوں یہاں کے ایک ریٹائرڈ فوجی بریگیڈیئر گلزار کے جی میں ایک مفید خیال آیا اور انہوں نے علاقے کی تعلیمی صورت حال کی بہتری کے لیے اس غیر آباد جگہ علم کی ایک چھوٹی سی بستی بسانے کے لیے حکومت پاکستان کو سکول کے لیے گرانٹ فراہم کرنے کی درخواست دے دی۔ ان کی کوششیں رنگ لائیں اور ان غاروں، اسٹوپوں، ٹیمپلوں، مندروں اور حویلی کی عقبی ڈھلان کے پہلو میں بچیوں اور بچوں کا ایک مشترکہ ہائی سکول بن گیا۔ ارد گرد کے دیہہ سے طلبہ و طالبات کی آمدورفت کے لیے بس اور گاڑیاں بھی مل گئیں اور غالبا پروہتوں اور پنڈتوں کے لیے مختص رہائش گاہیں دور دراز کے سکول ملازمین کی رہائش گاہوں میں بدل گئیں۔ کٹاس کی اس وقت کی آبادی یہی کل سات گھر ہوا کرتے تھے جن کی دیواریں نوکیلے ان گھڑے پتھروں سے بنی تھیں اور جن کے درمیان چونے اور اینٹوں کے سرخ برادے کی بھرائی تھی۔

گھر کے ایک کونے میں مقفل مندر ہوا کرتا تھا جس پر گول سا گنبد اسے باقی کمروں سے ممتاز کرتا تھا۔ کون جانے بریگیڈیئر گلزار کا قائم کردہ نیم سرکاری سکول عین اسی جگہ ہو جہاں قدیم چینی سیاح ژوانگ سانگ نے کٹکشا یونیورسٹی (کٹاس کا قدیم ترین نام کٹکشا بیان کیا جاتا ہے )کے آثار دیکھے تھے اور جہاں ملائیشیا، برما، نیپال، چین، سری لنکا اور خود برصغیر کے طول و عرض سے طلبہ جوق در جوق روحانی اور مذہبی علوم کی تحصیل کے لیے کھینچے چلے آتے تھے اور ایک دن دنیائے ہندسہ اور تحقیق کا نامور ماہر البیرونی خوارزم سے کشاں کشاں چلتا یہاں آ ٹکا تھا اور اس نے سنسکرت سیکھنے کے لیے یہاں کے شعبہ لسانیات میں داخلہ لے لیا تھا یہیں اس نے ہندوستان کے قدیم مذاہب کامطالعہ کرنے میں اپنی زندگی کے قیمتی سال صرف کیے۔ یہاں کی بود وباش کو قریب سے دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کی۔ رات میں مٹی کے دیئوں کی ٹمٹماتی روشنی میں کھردرے بڑے بڑے کاغذوں پر سیاہ روشنائی میں قلم ڈبو ڈبو کر کتاب الہند کے نوٹس تیار کیے اور دن کی روشنی میں زمین کے قطر اور پیمائش کی گنجلکوں میں الجھا رہا۔
کون جانے!
اور جاننے کی طلب ہے بھی کسے ؟ !


ثاقب ہمارے والدین کی پہلوٹھی کی اولاد تھی ننہیال ددھیال کا پہلا لاڈلا۔ ہم نے خاندان کے سب بزرگوں کو اس کی روشن پیشانی، ذہین آنکھوں اور پیاری اداوں کو یاد کرتے سنا۔ اس کی مختصر زندگی کی ساری یادیں کٹاس کی دلربا بستی سے وابستہ تھیں۔ عید الاضحی کی لمبی چھٹیاں آبائی وطن میں گزار کر جب یہ مختصر سا خاندان واپس کٹاس پہنچا تو صحت مند بچے نے اچانک سوتے میں آخری ہچکی لی اور اپنے اصل مالک کی طرف لوٹ گیا۔ جن راستوں پر ابھی اس کی آوازیں اور قدموں کی چاپ مدہم بھی نہ ہوئی تھی انہی راستوں پر ایک معصوم بچے کی لاش اٹھائے اس کے والدین ٹھوکریں کھاتے واپس چل پڑے۔

یہ زندگی کیا ہے! آدمی کہاں سے آتا ہے اور کون سی دلکش وادی اسے واپس اپنی اور کھینچتی چلی جاتی ہے ………چھوٹی اور بڑی خوشیوں کی مدھر لے پر غم کا صرف ایک کچوکا انسان کو کیونکر نڈھال کر دیتا ہے۔ ابا نے ہمیشہ اپنے نام کے اخیر میں ثاقب لکھا پھر ہماری بہن کے نام کے ساتھ۔ ماموں نے اپنے دونوں بچوں کے نام کا حصہ بنایا۔ مگر جانے والا خود لوٹ کر نہیں آتا دوسروں کو بلاتا ہے۔

ثاقب کی جدائی نے کٹاس کو درد و الم کی بستی میں ڈھال دیا۔ جہاں محبوب کی یادیں بکھری ہوں اور وہ کسی پل قرار نہ لینے دیں۔ ابا نے سکول کی ملازمت چھوڑ دی اور ہمارے لیے بس کٹاس کی کہانیاں رہ گئیں جہاں سے ہمارا حقیقی بھائی خوشبووں اور خوشیوں بھرے دیس کی طرف پرواز کر گیا تھا۔

آخر جاتی سرما کی ایک روشن دوپہر کو جب ہم اپنے بچوں کو لیے نمک کی کان کے منہ سے باہر نکل رہے تھے تو یوں ہی ہم نے کہا: ’’کٹاس بھی ادھر کہیں نزدیک ہی ہے اگر بندہ تھوڑی ہمت کرے تو‘‘ اور صاحب نے حاتم طائی کی قبر پر زور سے لات رسید کی ’’ظہر کی نماز پڑھ کر ادھر کو نکلتے ہیں‘‘۔

اب ہم کٹاس جا رہے تھے یعنی ہم واقعی وہاں جا رہے تھے جہاں بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ آکاش کے روشن ترین تارے کو تکتے ہوئے ہم روز جایا کرتے تھے۔ رستے کا ایک ایک موڑ اہم تھا۔ یہاں 65 سے 70 تک ہمارے والدین آتے جاتے رہے تھے گاڑی چھوٹی چھوٹی خوبصورت پہاڑیوں کے گرد گھوم کے اوپر چڑھتی، نیچے اترتی رہی۔

ہمارا دل بربط کے نازک تاروں کو چھیڑنے لگا۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر گائے اور بکریاں دیکھ کر بچے خوش ہوتے اور حیرت کا اظہار کرتے رہے۔ یکایک کچھ اونٹ بوجھ لادے جاتے نظر آئے اور ہمیں اپنی دوست کی امی کی بتائی ہوئی بات یاد آگئی :

’’پنڈدادنخان سے جب یہ لوگ بغرض تعلیم 60 کی دہائی لاہور منتقل ہوئے تو چھوٹی بہن نے پرائمری کے کسی درجے میں داخلہ لینے کے لیے ٹیسٹ دیا۔ معلومات عامہ کے ضمن میں ایک سوال درج تھا:’’ درج ذیل جانور کہاں پائے جاتے ہیں نیچے ایک فہرست تھی جیسے شیر ، چیتا، بندر، گائے، اونٹ وغیرہ۔ باقی جانوروں کا تو انہوں نے ٹھیک لکھا مگر اونٹ کے آگے کافی دیر سوچنے کے بعد لکھ دیا ’’چاوے میں‘‘ (چاوہ یہیں کہیں چکوال کو چھوتی ہوئی ضلع سرگودھا میں بھیرہ کے قریب واقع مقام ہے جہاں رشتہ داروں کے گھر آتے جاتے انہوں نے ہماری طرح بار برداری کے اونٹ دیکھ رکھے تھے)۔

گاڑی سبزہ کے درمیاں مست لیٹی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی ارد گرد بکھری پہاڑیوں کے ہجوم میں کسی کسی پر کہیں کہیں تارکول سا گر کر جما ہوا محسوس ہوتا ہم اندازہ لگاتے رہے کہ یہ کیا ہے کہ اچانک ایک دوراہا نما موڑ آیا۔ سرسبز جھومتے ہوئے درخت نیچے کو جھکے جا رہے تھے اور آسمان پر بادلوں کی ٹکڑیوں نے دھوپ کے آگے آوٹ سی بنا دی تھی۔ اندازے سے ہم نے ایک رستہ چنا جو تھوڑا آگے جا کر ڈنڈوت کے بورڈ کی جانب مڑ گیا۔

اچھا تو ڈنڈوت یہاں چھپا بیٹھا تھا جہاں سیمنٹ بنانے کی فیکٹریوں کے بارے ہم پرائمری کی معاشرتی علوم میں پڑھاکرتے تھے اور ساتھ بنے قدرے بڑے تہہ شدہ نقشہ جات کے صفحے سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر چھوٹے چھوٹے غیر معروف شہروں اور جگہوں کے نام اپنی ہم جماعتوں کو بطور پہیلی بجھوایا کرتے تھے۔ ایک دور تھا جو اپنی سادگی اور معصومیت سمیت ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

گاڑی واپس مڑ کر چواسیدن شاہ کی طرف بڑھی اور شہر کی چہل پہل کو چھوتی سر مئی بادلوں کے سائے میں ہلکے ہلکے چھینٹے اڑاتے پہاڑی نا لے کے پل کو پار کرنے لگی۔ نا لے کے دونوں اور لکڑی کے دروازوں والی چھوٹی بڑی بارونق دکانیں گہماگہمی سے بھری تھیں۔ لوگ باگ دیکھ کر ایک لمحے کو گمان ہوتا تھا جیسے ہم غلطی سے صوبہ سرحد کے کسی قصبے میں آ نکلے ہوں یا شاید یہ میرا وہم ہو۔ اب کٹاس آیا ہی چاہتا تھا بارش ہلکی ہلکی پھوار سے شروع ہوئی اور بتدریج تیز بوچھاڑ میں بدل گئی اور جو ہم ایک خوبصورت لینڈ سکیپ کے سامنے بنے چھوٹے اور سادہ سے ہوٹل کے سامنے پکوڑوں اور چائے سے لطف اٹھانے کو رکے تو اپنے بالکل سامنے چند قدم کے فاصلے پر کٹاس کے بورڈ کو لگا پایا۔


چواسیدن شاہ آتے ہی ہم چوکنا ہوئے ادھر ادھر گلاب کی باڑھیں اور لوکاٹ کے باغ دیکھنے کو تیار ہو چکے تھے لوکاٹ کے باغ تو بے شمار تھے گھنے اور سایہ دار۔ اینٹوں کی نیچی چار دیواری سے گھرے سڑک کے گردا گرد۔ کہیں کہیں بارش کے باوجود کیاریوں کے قریب آدمی بیٹھے کام کرتے دکھائی دے رہے تھے البتہ گلاب راستے میں کہیں دکھائی نہ دئیے۔ ہم نے اپنے والدین سے سن رکھا تھا کہ دسمبر آتے ہی علاقے کی ساری فضا گلاب سے مہکنے لگتی تھی جگہ جگہ عرق گلاب اور گل قند تیار کرنے کی بھٹیاں گرم ہو جاتیں اور پھر یہ دونوں اشیاء ملک بھر میں سپلائی کی جاتیں۔ دسمبر گزر چکا تھا اور غالبا سب اسباب سمیٹا جا چکا تھا یا مرور وقت نے اس فصل اور کاروبار دونوں کو متاثر کر دیا ہو۔

اور اب ہم کٹاس میں تھے۔ بارش کے سبب ہوٹل سے باہر رونق مفقود تھی سڑک بھی اکا دکا ٹریفک کی وجہ سے کسی قدر اداس دکھائی دیتی تھی۔ سڑک کے دوسری طرف صرف چھوٹی چھوٹی ٹیلے نما پہاڑیاں تھیں ہم نے مقدس عبادت گاہوں کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا مگر سڑک پار سامنے کی پہاڑیوں پر بنے قدرے ماند پڑتے سفید چونا پھرے، نیچی گول گنبد نما چھت کے اکا دکا ٹیمپل نما چبوتروں / پختہ چھپروں کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ یہاں سے سامنے سے گزرتی شفاف سڑک ہلکا سا خم لیے ہوئے تھی اور ہمارے بالکل سامنے ایک چھوٹے قد کے آہنی جنگلے کے داخلی دروازے سے ایک مختصر خاندان ایک ہی چھاتے کے نیچے سمٹا باہر نکل رہا تھا۔

ہم بھی بارش کے ہلکا ہوتے ہی جنگلے کی طرف بڑھ گئے دروازے کے بائیں جانب سبزے سا ڈھکے بورڈ پر یوتھ ہاسٹل لکھا تھا اور اندر اونچی عمارت میں داخلے کی سیڑھیاں نظر آرہی تھیں۔ ہم اس کے پہلو سے نکل کر جونہی جنگلے کے احاطے میں داخل ہوئے تو قدیم عمارتوں کا اندر کی جانب سکڑا اور باہر کی طرف ہلکا سا بکھرتا ہوا جھرمٹ سا سامنے آیا یوں جیسے کچھ تارےدرمیان میں بہت قریب اور بیرونی طرف سے قدرے دور ہو کر ایک کہکشاں سی بنا دیں۔ چوڑی چوڑی سنگی سلوں کے خوب چوڑے اور ایک دوسرے سے بہت قریب قدمچے ہمیں ان تک لے جانے کے لیے زمین پر بچھے تھے اور اونچی نیچی پہاڑیوں پر بنے ان معبدوں کا مجموعہ یوں سوگوار کھڑا تھا جیسے کوئی بے حد حسین معصوم دوشیزہ اپنی غزال آنکھوں میں حزن کا ایک جہاں لیے دنیا والوں سے بے نیاز اپنی ذات میں گم آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی ہو۔


پختہ پتھریلےرستے کی چڑھائی نے ہمیں جھیل کنارے اترتی سیڑھیوں کی منڈیر پر پہنچا دیا تھا منظر یکدم بدل گیا خاموش فضا کو ساتھ بنے مندر کی اوٹ سے نکل کر باہرجھیل کی جانب آتی کسی بھجن وغیرہ کی آواز نے توڑ دیا۔ یا شاید یہ کوئی لوک گیت ہو۔ گانے والےکی آواز سر سے خالی مگر درد سے بھری تھی۔ اپنے ارد گرد کسی قافلے کے ابھرتے قدموں کی چاپ نے آواز کو خاموش کر دیا۔ پھر دو نوجوان لڑکے اوٹ سے نکل کر سامنے آ گئے اور ہمیں دیکھ کر ہدایت کی کہ جھیل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔ انہیں بھلا کیسے معلوم ہوتا کہ یہ بہت ’’بیبے‘‘ زائرین ہیں بورڈ پر درج ہدایات ہی ان کے لیے کفایت کر جاتی ہیں۔

قافلے کے کچھ ساتھی عقب میں سینہ تانے کھڑے بورڈ پر درج کٹاس راج کے مندروں کا پس منظر اور جھیل کے تقدس کی داستان پڑھنے میں لگ گئے اور ہم جھیل کا گھیراو کیے قدامت میں یکساں مگر نوعیت میں مختلف دکھائی دیتی ایک دوسرے میں پیوست عمارات کا جائزہ لینے لگے۔ دوسرے کنارے پر سامنے شیو اور ستی کی رہائش گاہیں تھیں وہی بھگوان شیو جن کی جائے پیدائش کے طور پر کٹاس ہندووں کے لیے اول اول مقدس ٹھہرا ہو گا اور وہی ان کی محبوب بیوی ستی جس کی موت پر شیو کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں سی جاری ہو گئیں اور ان سے دو مقدس جھیلیں وجود میں آئیں ان میں سے ایک کے سامنے آج ہم کھڑے تھے اور دوسری بہت دور اجمیر میں پشکارا کے نام سے جانی جاتی ہے۔

رواں گنگا کے مغربی گھماو / موڑ کے بعد شاید یہی مقدس ترین جھیلیں ہیں جہاں کا اشنان ہندو مت کے پیروکاروں کو پوتر بناتا ہے۔ ستی سے محبت کی داستان کہیں پس منظر میں چلی گئی اور ہم جھیل کے سبز مبہوت حسن پر نظریں جمائے ادیان کی تاریخ میں پانی کے تقدس پر غور کرنے لگے۔ عیسائیوں کا holy water، ہمارا زمزم اور ہندووں کی گنگا ….. کیا اس لیے کہ پانی حیات کی علامت ہے ابدی زندگی کی خواہش کا علامتی اظہار بھی ’’آب‘‘ کی تلاش کے ساتھ لازم ہوا۔

آہ ! یہ پی کر ابدیت کا خواہشمند کہ فنا جس کا مقدر ہے۔!

مینہ برس کر رک چکا تھا مگر فضا میں اٹکے اس کے کچھ شرارتی قطرے ہوا کے خنک جھونکوں کے ساتھ وقفے وقفے سے جھیل میں گر کر گم ہو رہے تھے سبز پانی اپنے ارد گرد شان سے کھڑی عمارتوں کے لیے آئینہ بنا ہوا تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جرنیل ہری سنگھ نلوہ کی تعمیر کروائی گئی قابل دید حویلی کے منقش جھروکے ہولے ہولے ہلتے پانی میں جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔

یہ ساری شبیہہ جب ہماری آنکھوں کی پتلیوں عکس بن کر جھلملانے لگی تو اپنے عقب میں کھڑے قدرے ناٹے قد کے ہنو مان مندر کیطرف بڑھے۔ جس کی دیوار کے ساتھ وہی دو نوجوان کھڑے شاید ہماری راکھی کر رہے تھے مبادا ہم جھیل کی شان میں کسی گستاخی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔

ہم نے پوچھا: ’’یہ مندر آباد کب آباد ہوتے ہیں ہندو یاتری کس موسم میں زیارت کو آتے ہیں۔؟‘‘
’’سال میں ایک دفعہ ، کبھی دو دفعہ کبھی کوئی نہیں آتا‘‘۔

ایک بولا، دوسرے نے اس کی بات کاٹی: ’’آتے ہیں اب تو آتے ہیں آتے ہی رہتے ہیں پہلے انتظام نہیں تھا اب تو حکومت نے ان کی رہائش کا اچھا انتظام کیا ہے فروری اور نومبر میں آ جاتے ہیں ’’پھر وہ آپس میں باتیں کرتے وہی پتھریلی سیڑھیاں اتر کر نیچے چلے گئے جہاں سے ابھی ابھی ہم تشریف لائے تھے۔ شاید ہماری جانب سے جھیل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خطرہ ٹل گیا ہو۔

ہم زیر لب مسکرانے لگے چشم تصور ہمیں 65 کے آس پاس جھیل کا وہ دور دکھا رہی تھی جب اس کی سیڑھیاں ٹوٹ پھوٹ چکی تھیں علاقے کے سارے دیہات کی خواتین کھلے پانی کی فراوانی دیکھ کر گندے کپڑوں کی پوٹلیوں سمیت ریڑھوں، ٹرالیوں اور بسوں میں بیٹھ کر کھنڈرات کے پاس اتر جاتیں۔ جی بھر کر دھوبی گھاٹ سے استفادہ کیا جاتا بلکہ بعض لوگ تو پینے کے لیے بھی اسی پانی کو استعمال میں لاتے۔ سکول کا مشکی یہیں سے پانی کے ڈول بھرتا اور اپنے کندھے پر لٹکی مضبوط لاٹھی کے دونوں اور لٹکا کر ڈھلوان اترتا گھروں کے غسل خانوں کے ذخیرے میں بھر آتا۔ بھئی ہم کسی کی رسوئی بھی کبھی نا پاک کرنے کے مرتکب نہیں ہوئے کجا کہ مقدس پانی اور وہ بھی ہندووں کے دوسرے یا ایک روایت کے مطابق تیسرے مقدس ترین مقام کا۔

مندر کی بیرونی دیواروں میں دئیے جلانے کے بڑے بڑے طاق بنے تھے ہم نے موقع غنیمت جانا اور اپنے منے کو اس دور میں طاق کی اہمیت بتانے کے لیے آگے بڑھے جس نے نام سنتے ہی پہیلی بوجھنے کے انداز میں جھٹ کہا: ’’ہاں مجھے معلوم ہے یہ وہی طاق ہے جس میں‘ ’ادھڑے‘ کی ماں کا رکھا بیری کا آدھا پتا بلی کھا گئی تھی‘‘۔ سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور ہم ہنومان کے مندر کے سامنے اپنی نوع کی چند قدیم عمارتوں کے بیچ کھڑے ہر دور میں جنریشن گیپ کی گہری کھائیوں کو بھرتی ان لوک کہانیوں کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیشہ برول سمجھی جانے والی ادھڑے کی کہانی پر سر دھننے پر مجبور ہو گئے۔


جھیل کے بائیں جانب دو دو کے جوڑے میں بنے چھوٹے چھوٹے مندر دیکھتے ہم اب قدرے اونچائی پر بنے مندر کی لاتعداد سیڑھیاں عبور کر رہے تھے غالبا یہ ست گڑھ کا سب سے بڑا مندر رہا ہو گا درمیان میں صحن نما راہداری کے دو اطراف اوپر جانے کے راستے تھے بڑی بڑی بغیر چوکھٹوں کے بنی کھرکیوں کے خلا معبدوں کی تصویری عکاسی کے لیے عمدہ جگہ مہیا کرتے تھے۔ ان عبادت گاہوں کے احاطے سے باہر ڈھلان پر تھوڑی سی آبادی کے آثار نظر آتے تھے۔ ہماری بیٹی کو سخت تھکاوٹ اور نیند نے آ لیا۔ مختصر قافلہ تصویریں اتارنے کو ادھر ادھر بکھر گیا اور ہم نیچے اترتی ڈھلان پر بنی چھوٹی سی چوڑی دیوار پر آلتی پالتی مارے بیٹی کو گود میں لیے سلانے لگے۔ صاف اور خاموش فضا نوکیلے خود پہنے رتھوں پر سوار سنہری لمبی زلفوں والے پانڈوں کے بے آواز مکالموں سے بھرنے لگی۔ آہنی چہروں والے جوان جو بنارس یا پانی پت کے میدان میں نیزوں، بلموں اور تلواروں کی جھنکار پیچھے چھوڑ کر کٹاس میں آبسے تھے اور غالبا مندروں کی اس پیمانے پر باقاعدہ تعمیر کا آغاز انہوں نے ہی کیا تھا۔ جھیل کے دوسرے سرے پر سبز پانیوں کے پار جھانکتی ہری سنگھ کی حویلی، قلعہ نما دفاعی عمارت، شادی گھر اور شیو ستی کی رہائش گاہیں سب ماضی کی رونقوں سے بھرنے لگے۔ ست گڑھ کے مندر کی چھت پر ہمیں بڑی بڑی تختیوں پر بنی لکیروں میں الجھے عمر رسیدہ کاہن نظر آنے لگے اور مندروں کو باہم ایک دوسرے سے ملانے والے سفید مر مر لگی اونچی نیچی طویل راہداریاں پر جا بجا سیندور گرنے لگا۔ مندر کے سائے میں بنے سٹوپے میں سے بدھ راہب دھیرے دھیرے نکلا اس کا منڈھا سر بید مجنوں کی طرح لرزتا تھا اور بوسیدہ چہرے کی ہر سلوٹ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔

نیچے ڈھلان کےپاربکھری آبادی کےبیچوں بیچ سکول کی سرخ چار دیواری دیکھتے ہی ہم آنکھیں سکیڑ سکیڑ کر ارد گرد بنے گھروں کا جائزہ لینے لگے۔ کون سا گھر، کونسا دروازہ، کونسی سمت؟ ہمارا دل جاننےکو بے تاب ہونے لگا۔ مختلف زاویوں سے اندازے لگا اور خود ہی مسترد کرتے کرتے جب ہم تھک گئے تو اندر باہر شام کا سناٹا چھانا شروع ہو چکا تھا۔

آہنی جنگلا پار کر کے جب ہم گاڑی کے بوجھل ماحول کا حصہ بن چکے تو مغربی افق پر آفتاب کی الوداع سرخی باقی تھی۔ قدیم مندروں کے جھرمٹ پر ایک بے نام شام آ کر ٹھہر چکی تھی شام جس کے بعد نہ رات آتی ہو نہ سحر۔

تارکول کی پختہ سڑک پر ماضی کا ہلکا سا دھندلکا چھایا ’’لرزتے جسموں اور دل کے لبریز پیمانوں کو سنبھالے دو وجود ایک منا سا بے جان لاشہ ہاتھوں میں اٹھائے کسی سواری کی تلاش میں پتھریلی سڑک سے گزرتے چواسیدن شاہ کی جانب بڑھ رہے تھے اور جب پنڈ دادنخان سے لالہ موسی جانے والی ٹرین میں انہوں نے اپنے ڈگمگاتے قدم رکھے تو ریل کی کھڑکی سے آسمان کی پیشانی پر لٹکا ہلال نو محرم کی آمد کی اطلاع دے رہا تھا‘‘۔

کہیں دور کوئی پرندہ ہلکا سا چہچہایا اور پھر خاموش ہو گیا۔
مسافر جا چکے تھے۔ مسافر جا رہے تھے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: