تو کون ہوتا ہے جو مودودی کے منہ آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم

0
  • 43
    Shares

سال ۹۷۹۱ ستمبر کی ۲۲ تاریخ تھی، نوائے وقت کے نیوز روم میں ٹیلی پرنٹرز کی گھنٹیاں یک بارگی تیزی سے بجنے لگیں اس زمانے میں بریکنگ نیوز اسی طرح آتی تھی، نیوز ایڈیٹر محبوب علی خان ایک کرسی پر بیٹھے پان چبا رہے تھے، انھوں نے مجھ سے کہا کہ پرنٹر سے خبر پھاڑ کر لے آؤں۔ میں پرنٹر کے پاس پہنچا اور اس کے شیشے سے جھانک کر انگریزی کریڈ دیکھنے لگا، پرنٹر تیزی سے خبر لکھ رہا تھا، فلیش فلیش فلیش بیفیلو مودودی ڈائیڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے پڑھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ میں پرنٹر کی خبر ہاتھ میں لیے رو رہا تھا، شدت جذبات سے میری چیخیں نکل رہی تھی۔ نیوز روم کا ہرشخص میری طرف متوجہ ہو گیا، پھر مجھے ہوش نہیں کب میں کرسی پر بیٹھا، ہوش آیا تومحبوب علی خان دلاسا دے رہے تھے۔ وہ بھی مولانا سید مودودی کے عقیدت مند تھے۔

مولانا کے انتقال کی خبر بہت روح فرسا تھی۔ اس رات ڈاؤ میڈیکل کالج میں انتخابی معرکہ تھا، پوری فضا غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اگلے دو تین دن سوگواری کے تھے، ایر پورٹ پر سید کا جسد خاکی آیا تو ایک دنیا امنڈ پڑی تھی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی، سروں کا ایک ہجوم تھا، جو ائیر پورٹ سے دور دراز کی سڑکوں تک پھیلا ہوا تھا، سید کا جسد خاکی امریکہ سے کراچی اور پھر لاہور کو روانہ ہوا،عزیز از جاں عزیز جہاں بن گیا تھا۔

سنار گلی میں ایک چھوٹی سی دکان تھی، جس میں ایک بزرگ زیورات کو صاف کرنے کا کام کرتے تھے۔ شام کو میں اکثر ان کی اس چھوٹی سی دکان پر جایا کرتا تھا۔ مجھے کہانیوں اور کتابوں سے دلچسپی تھی۔ اور ان کے پاس بچوں کی بہت سی کتابیں تھیں، ہاتھیوں والے، غار والے، بچوں کا رسالہ نور ،ان ہی میں سے خطبات کے چھوٹے کتابچے بھی تھے، نماز، روزہ، حج ،مجھے تو لکھنے والے کے بارے میں اتنا علم نہ تھا، لیکن اس کی لکھی باتیں میرے دل میں ایسی بیٹھی کہ آج تک وہ یاد ہیں۔ کالج میں سبز ہے سبز ہے، ایشیاءسبز ہے، انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب کے نعروں کے ساتھ ہی سیدی مرشدی مودودی مودودی کے نعرے بھی میرے جسم اور روح میں بجلیاں بھر دیتے۔ نعروں کی گونج میں کئی معرکے سر ہوئے، پھر جمعیت کے سالانہ اجتماع میں ایک دن سید مودودی دیکھا بھی، سنا بھی اور دل وجان فدا کرکے اس کے قافلے میں شامل ہو گیا۔ تحریک تحفظ ختم نبوتﷺ میں جیل میں جو واحد کتاب مجھے میرے دوست نسیم السحر نے پہنچائی وہ تفہیم القران کی پہلی جلد تھی۔ دوسری بار مولانا کو ان کی عصری نشست میں اچھرہ میں قریب سے دیکھا، میرے مولانا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تھے؟ عالم اسلام کے بطل جلیل، عظمت اور محبت کا پیکر، جذبوں کو رواں کرنے والا، گوہر شب چراغ، بیسویں صدی کا مجدد، اسلام کی صداقت کو نئی جہت اور زمانے کو ایک اعتماد سے حق کا پیغام دینے والا۔ اسلام کو جدید دنیا اور ننظریات کے سامنے ایک روشنی کے طور پر پیش کرنے والا۔

مولانا مودودی ؒ علامہ اقبال ؒ اور قائد اعظم ؒ دونوں کے پرستار تھے۔ ان کے بارے میں کہتے ہیں ’’علامہ اقبال اور قائد اعظم آپ کو اسلام کی بنیاد پر ایک وطن دے کر گئے۔ اقبال نے آپ کو فکر اور نظریہ دیا اور قائد اعظم کی قیادت میں آپ کو یہ وطن حاصل ہوا‘‘۔ تقسیم ہند کے بعد سید مودودی پاکستان آ گئے۔ انھیں علامہ اقبال کی کشش اس سر زمین پر کھینچ لائی، جنہوں نے مولانا مودودی کو لاہور آنے اور یہاں اسلامی مرکز بنانے کی دعوت دی تھی۔ مولانا نے اس کے لیے پٹھان کوٹ کو پسند کیا۔ علامہ اقبال کی زندگی نے وفا نہیں کی، مولانا کے پٹھان کوٹ منتقل ہونے کے ایک ماہ بعد ہی علامہ اقبال خالق حقیقی سے جا ملے۔ تقسیم کے بعد مولانا مودودی نے لاہور کو اپنی دعوت اور کام کا مرکز و محور بنایا۔ حیات قائد اعظم ہی میں ریڈیو پاکستان سے مولانا کی سلسلہ وار تقریر نشر ہوئیں، لیکن اس وقت کی قیادت موقع کی تاک میں تھی۔ پاکستان میں قائد اعظم کے انتقال کے اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 1948ء میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے پر مولانا مودودی گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتاری سے قبل جماعت کے اخبارات ’’کوثر‘‘ جہان نو اور روزنامہ ’’تسنیم‘‘ بھی بند کردیے گئے۔ سرکاری ملازمین پر جماعت میں شمولیت پر پابندی لگا دی گئی۔سید مودودی کو اسلامی نظام کا مطالبہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن الزام یہ دھرا گیا کہ وہ جہادِ کشمیر کے مخالف تھے۔ جماعت اسلامی ہی کے مطالبہ کی بنیاد قرار داد مقاصد بنی، جو آئین کا حصہ ہے۔ قرارداد مقاصد کی منظوری سے قبل اس کا متن بھی مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا تھا۔ انہیں 20 ماہ بعد 1950ء میں رہائی ملی۔ اپنی پہلی قید و بند کے دوران مولانا سید مودودی نے ’’مسئلہ ملکیت زمین‘‘ ، ’’تفہیم القرآن‘‘ کا مقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب ’’ابو داود‘‘ کا انڈکس تیار کیا، کتاب ’’سود‘‘ اور ’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘ مکمل کیں۔

مولانا مودودی قائد اعظم سے نہ صرف محبت کرتے تھے بلکہ وہ قائد اعظم کو جامع اور معتمد علیہ شخصیت بھی سمجھتے تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے ستمبر 48 کے ترجمان القران کے اداریہ میں کیا۔ ان کی وفات پر اظیار غم کرتے ہوئے مولانا نے تحریر کیا کہ ان کی (قائد اعظم) کی وفات کے بعد کوئی دوسرا شخص بلکہ کوئی پورا گروہ بھی ہمارے درمیان ایسا نہ رہا جس سے لوگوں کو محبت ہو جس کا احترام لوگوں کے دلوں میں جاگزیں ہو۔ جس کے اخلاص تدبیر اور عزم ہمت پر سب کو اعتماد ہو۔ جس کی آرزو پر سب قوتیں حرکت میں آجائیں۔ اور جس کی مقناطیسی کشش ہمارے شیرازہ قومی کے مائل انتشار اجزاءکو باہم پیوست رکھ سکے۔ قائد کی موت کے فوراً بعد ہی مولانا مودودی کو نظر بند کر دیا گیا اور ان کے خلاف حکومتی پروپیکنڈہ شروع کیا گیا۔ جس میں انھیں قائد اعظم اور پاکستان کا مخالف ٹہرایا گیا۔ اس بارے میں مولانا خود تحریر کرتے ہیں کہ 1948 میں جب مجھے میرے دو رفقاءکے ساتھ نظر بند کیا گیا تو اس وقت کے وزیر داخلہ نے ایک پریس کانفرنس بلوائی۔ ان کے اشارے پر ایک صحافی امین الدین صحرائی نے میرے (مودودی) خلاف الزام تراشی شروع کر دی کہ یہ شخص قائد اعظم کو برا بھلا کہتا ہے۔ اور جہاد کشمیر کا مخالف ہے۔ شورش کاشمیری وہاں موجود تھے۔ فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور سختی سے اس صحافی کو ڈانٹا اور کہنے لگے ایاز قدر خود بشناس۔ تو کون ہوتا ہے جو مودودی کے منہ آتا ہے اور اس کے متعلق ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ یہ سب باتیں جھوٹ اور بکواس اور خلاف واقعہ ہیں۔ پھر وزیر موصوف کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں اور اپنی صفوں میں نظر ڈالیں آپ کا وزیر خارجہ وہ شخص ہے جس نے قائد اعظم کا جنازہ تک نہیں پڑ ھا۔ جو آپ سب کو کافر سمجھتا ہے اور جو یو این او میں تقریر کرتا ہے کہ ہمارا جنگ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہمارا کوئی آدمی وہاں لڑ رہاہے۔ اس پر وہاں ایک سناٹا چھا گیا اور کسی کو کچھ کہنے کی جرات نہ ہوئی آج آزادی اظہار کا نعرہ بہت شدت سے لگایا جاتا ہے۔ شوشل میڈیا پر بھی اس کا بہت چرچا ہے۔ مولانا مودودی ہمیشہ آزادی اظہار کے وکیل بن کر کھڑے ہوئے، انھوں نے اس سلسلے میں قید و بند بھی برداشت کیں، قادیانیت کے خلاف لکھنے پر انھیں سزائے موت بھی سنائی گئی۔ لیکن سید نہ نواب کالا باغ کی گولیوں سے ڈرا نہ سزائے موت سے، اس کے کہے جملے تاریخ کا حصہ بن گئے، برستی گولیوں میں جب ان سے کہا گیا کہ مولانا بیٹھ جائیں تو انھوں نے تاریخی جملہ کہا ’’آج اگر میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا‘‘۔ سزائے موت کے پروانے کے بعد کہا گیا کہ معافی کی درخواست کر دیں تو انھوں نے کہا ’’موت اور زندگی کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں، یہ اگر الٹے لٹک جائیں تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، لیکن اللہ کو یہی منظور ہے تو کوئی اسے نہیں ٹال سکتا‘‘۔

یہ بھی پڑھئے:  فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین

 

آج سے 90 برس پہلےجب مودودی 24 سالہ نوجوان صحافی تھے۔ اور الجمعیت دہلی کی ادارت کر رہے تھے تو انہوں نے آزادی اظہار کے بارے میں ایک اصول بتا یا تھا۔ وہ آج بھی ہماری رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ایک اخبار نویس سے زیادہ آزادی تحریر کا حامی اور کون ہوسکتا ہے؟ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ چیز ہمارے پیشے کے لیے بمنزلہ حیات ہے۔ لیکن جس طر ح ہم کچھ حقوق رکھتے ہیں اسی طرح کچھ فرائض بھی ہم پر عائد ہوتے ہیں۔ اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہمیں اس وقت زیب دیتا ہے۔ جب ہم اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کرتے ہوں۔ قلم اور تحریر کی آزادی یقینا ہمارا حق ہے۔ لیکن اس آزادی کو صداقت و دیانت کے ساتھ سوسائٹی کی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہمارا فر ض بھی ہے۔ اگر ہم اس فرض کو ادا نہیں کرتے تو ہمیں آزادی تحریر مانگنے کا کیا حق ہے۔ مولانا کس قدر آزادی اظہار کا احترام کرتے تھے اور امیر اور بانی جماعت ہوتے ہوئے، کیسے کڑے احتساب سے گزرتے تھے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے کر لیجئے کہ مجلس شوری کے اجلاس میں یہ سوال اٹھا کہ مولانا مودودی امیر جماعت اسلامی کے گھر کے پچھواڑے ایک اضافی بجلی کا بلب جلتا ہے جس کی وجہ سے جماعت کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان دنوں اچھرہ میں جماعت کا دفتر اور مولانا کی رہائش ایک ساتھ تھی۔ مولانا نے شوری کے اجلاس میں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس جگہ اندھیرے کی وجہ سے کچھ چوروں نے نقب لگانے کی کوشش کی تھی۔ جس کے بعد یہ اضافی بلب لگایا گیا ہے۔ اب اس کا اضافی بل بھی میں خود ادا کروں گا۔

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: