ہشت پہلو آنسو —— سعود عثمانی

0
  • 25
    Shares

سفید سنگ ِ مرمر کے ٹھنڈے فرش پر میں سنگ ِ مرمر کی جالی پر ہاتھ رکھے دریائے جمنا کے پار دیکھ رہا تھا۔ میرے جوتوں پر ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے کا غلاف چڑھا تھا۔ جو سنگ مرمر کو گرد، مٹی اور خراشوں سے محفوظ رکھنے کی احتیاطی تدبیر تھی۔ تاج محل آگرہ کی اس بلند کرسی سے بل کھاتی جمنا کو دیکھنا ایک مبہوت کن نظارہ تھا۔ اس بلندی سے میں نے نیچے جھانک کر دیکھا۔ میرے بالکل نیچے سرخ اور سفید پتھروں کا گنگا جمنی چبوترہ تھا۔ وہ چبوترہ جس کے چاروں کونوں سے تاج محل کے سفید سبک اور نازک مینار آسمان کی طرف بلند ہوتے تھے۔ اس چبوترے سے اور نیچے سرخ اینٹوں کا فرش تھا۔ ذرا آگے مٹی کا کنارہ جس سے دریائے جمنا کی لہریں ٹکراتی تھیں۔

لیکن یہ آج اچانک تاج محل کیوں یاد آگیا۔ 27 دسمبر1998کی وہ ابر آلود صبح اورپندرہ اکتوبر 2006کی دھوپ بھری دوپہر آنکھوں کے عدسوں میں کیسے لوٹ آئیں؟ کوئی سبب تو ضرور ہوگا۔

شاید اخبارات میں چھپنے والی یہ خبر کہ130کلو میٹر کی رفتار والی تند و تیز ہواؤں اور بارش میں تاج محل کے داخلی جنوبی دروازے ”دروازہ ئ روضہ” کا 12میٹر لمبا ستون اور اس سے منسلک مینار اور گنبد زمین پر گر پڑے اور ان کے کئی ٹکڑے ہوگئے۔ ایک ٹکڑا دل میں بھی پیوست ہوگیا۔ کسی نے کان میں سرگوشی کی۔ یہ تو وہی دروازہ ہے نا جہاں سے تاج محل کی پہلی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

تاج محل کی پہلی جھلک اور ”دروازہ ئ روضہ”۔ 27 دسمبر کی صبح ایک دم عدسوں میں جھلملانے لگی۔ نیم روشن راہداری کے د وسرے خم دار سرے پر جڑا ہوا تاج محل، جیسے نقرئی تصویر، جیسے رُو پہلا منظر، جیسے پہلو دار ہیرا، جیسے تاج محل۔ جیسے سانس لیتی ہوئی صبح۔ نو زائیدہ کرنوں نے ابھی کہرے اوردُ ھند کو دور نہیں کیا۔ د ُھند کے جھالے سے رہ رہ کر گزر رہے ہیں۔ اس چلمنی جھلملاہٹ میں کچھ روشن کچھ روپوش۔ کچھ خواب کچھ بیداری۔ کچھ نقرئی شب۔ کچھ ماہ نما سورج۔

تاج محل عمارات کا ایک مجموعہ ہے۔ بیرونی احاطے، مہمان خانہ، مسجد اور مرکزی مقبرہ۔ کھلے قطعات، چمن زار، دروازے، غلام گردشیں، حجرے اور رہائشی کمرے اس کے علاوہ ہیں۔ تاج محل کو خود یکھنے سے پہلے میں اس کی لا تعداد تصویریں، ٹرانس پیرنسیز، فلمیں وغیرہ دیکھ چکا تھا لیکن سچ اور بالکل سچ یہ ہے کہ کوئی بھی کیمرہ اس حسن، اس خوب صورتی، اس نزاکت، اس جمال کو بیان نہیں کر سکتا جس کا احساس تاج کے سامنے ہوتا ہے۔ ویسے بھی بہترین کیمرہ بہترین کیمرہ مین کے ساتھ بھی کسی منظر کا جو حصہ محفوظ کرنے پر قادر ہے وہ تمام تر منظر کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کسی عدسے کا مقدور ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جزئیات کے ساتھ منظر محفوظ کرسکے تو وہ انسانی آنکھ ہے۔ اتنی بڑی عمارت اور اتنی نازک؟ اتنی سبک؟ ہمیشہ یہی دیکھا کہ وسعت، بلندی، اور عمارت کی لمبائی چوڑائی نزاکت کو ختم کردیتی ہیں۔ بڑی اور بلند عمارتوں میں رعب، جاہ وجلال ملتا ہے۔ نزاکت اورسبک پن دور دور نہیں ملتا۔ لیکن اس کلیے کو تاج محل ختم کرکے رکھ دیتا ہے۔

بات صرف تناسب، تعمیری کمال اور نزاکت پر ختم نہیں ہوتی۔ تاج محل خوب صورتی، اداسی، دل گرفتگی اور ان کیفیات کا مجموعہ ہے جن کے لیے میں ابھی تک موزوں الفاظ ڈھونڈ رہا ہوں۔ ہر خوبصورت چیز میں ایک اداسی ہوتی ہے۔ ذرا سی اوٹ میں۔ ذرا سا جھانکنے پر یہ اداسی اپنے پٹ کھول دیتی ہے۔ آ پ اس دریچے سے اس کے دل میں اترتے ہیں اور یہ اداسی آپ کے دل میں اترتی ہے۔ زینہ بہ زینہ۔ ہر قدیم عمارت میں یہ کیفیت شامل ہوتی ہے لیکن تاج محل میں شاید شاہ جہاں کا دکھ بھی شامل ہوگیا ہے۔ کہیں پڑھا تھا (ممکن ہے روایت درست نہ ہو یا مبالغہ آمیز ہو) کہ برہان پور میں تدفین کے بعد شاہ جہاں نے درباریوں کو حکم دیا کہ ایک رات کے لیے مجھے یہاں اکیلا چھوڑ دو۔ رات بھر اس سوگوار نے محبوبہ کا غم کیا۔ صبح جب درباری بادشاہ کو لینے آئے تو وہ پہچانا نہ جاتا تھا۔ کمر خمیدہ، بال سفید، رنگ پھیکا، حالت دگرگوں۔

کیا تھا ایسا اس ملکہ میں کہ شاہ جہاں جس کی ایک نظر کو حسین شہزادیوں کی کہکشاں ترستی تھی، اس کے سوگ میں ساری عمر مبتلا رہا ؟ممتاز محل کی محبت میں آخری عمر میں اس نے قلعہ آگرہ کا وہ برج منتخب کیا جسے مثمن برج(ہشت پہلو برج) کہتے تھے کیوں کہ وہاں سے تاج محل چند میل سے فاصلے پر صاف دکھائی دیتا تھا۔ پھر جب بادشاہ بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا تواس نے بستر کا وہ رخ اختیار کیا جہاں دیوار میں جڑے ہوئے ایک ہیرے سے تاج محل کا عکس نظر آتا تھا۔ ایسی لازوال محبت، ؟ایسا کیا تھا اس باکمال ملکہ میں؟

اکتوبر کی ایک دھوپ بھری دوپہر سنگ ِسرخ سے بنے ہوئے مثمن برج میں کھڑے ہوکر میں نے سامنے کھلے منظر کو دیکھا۔ قلعہ آگرہ کی فصیل کے پار جمنا۔ کھلے دریائی بستر میں لہریں لیتی اور بل کھاتی ہوئی ـ آتی ہے اور ممتاز محل کے پاؤں کو بوسہ دے کر قلعے کے پاؤں چومنے آتی ہے اور پھر الٹے پاؤں دور ہٹتی جاتی ہے۔ ایک با ادب خادم کی طرح۔
تاج محل کے ٹھنڈے فرش پر جمنا کے اس پار دیکھتے ہوئے میںنے وہ برجیاں اور آثار دیکھے جو تاج محل کے ٹھیک سامنے دریا کے پار سیاہ تاج محل کے تھے۔ ۔ شاہ جہاں دریا کے دوسری طرف اپنے لیے سنگ ِ سیاہ کا بالکل ایسا ہی مقبرہ چاہتا تھا۔ ہو بہو تاج محل کا عکس لیکن سیاہ پتھر میں۔ سفید اور سیاہ تاج محل آمنے سامنے اور دونوں کے درمیان چاندی کا پل۔ کام کا آغاز ہوا لیکن گردش نے شاہ جہاں کا یہ خواب پورا نہ ہونے دیا۔ عنان ِ مملکت شاہ جہاں کے ہاتھ میں نہ رہی۔ پھر ایک دن چند وفاداروں نے مثمن برج آگرہ سے ایک بوڑھے شخص کی لاش اتاری۔ کشتی میں رکھی اور لہروں پر ممتاز محل کے پاس لے گئے۔ اسی خواب گاہ میں جہاں ملکہ سو رہی تھی بادشاہ بھی ابدی نیند سو گیا۔ تاج محل کے ہر تناسب اور موزونیت میں بادشاہ کی قبرایک غیر موزوں اضافہ ہے۔ ہال کے وسط سے ہٹی ہوئی قبر۔ اس لیے کہ مقبرہ بناتے ہوئے اس قبر کی گنجائش کا سوچا بھی نہیں گیا تھا۔ یہ قبر تو دریا کے پار بننی تھی۔ لیکن قسمت کا فیصلہ یہی تھا کہ دونوں محبت کرنے والے پہلو بہ پہلو سوئیں۔

دونوں قبروں کے سامنے کھڑے ہوئے میرے ذہن میں 14 سالہ ارجمند بانو اور 15سالہ شہزادہ خرم کی تصویریں گھومنے لگیں۔ میں مغل نہ سہی، شہزادہ نہ سہی، ویسا خرم بھی نہ سہی لیکن شہزادہ خرم سے میری ایک نسبت تو تھی۔ وہ بھی میری طرح لاہوری تھا۔ شہزادہ 5جنوری 1592کو لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ کسی نے کان میں سرگوشی کی کہ شاید لاہوری ہونا بھی اس کے شدتِ عشق کی ایک وجہ تھی۔

ارجمند بانو ایرانی امیر ابوالحسن آصف بیگ کی بیٹی اور نورجہاں کی بھتیجی تھی۔ لیکن نسبت کی یہ بات تب کی ہے جب جہانگیر سے نورجہاں کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ خرم اور ارجمند بچپن سے ایک دوسرے سے مانوس تھے۔ نہ معلوم کس مرحلے پر دونوں ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے۔ 1607 میں نسبت طے ہونے کے بعد پانچ سال دونوں کو انتظار کرنا پڑا۔ 10 مئی1612کو 19سال کی عمر میں ارجمند بانو 20 سالہ خرم کے محل میں آگئی اور اسے ممتاز محل کا لقب عطا ہوا۔ لیکن رشتہ طے ہونے سے شادی ہونے تک کی پانچ سالہ مدت میںشہزادہ خرم کو سیاسی اور انتظامی مصلحتوں کے سبب دو شادیاں کرنی پڑیں۔ مؤرخ قزوینی کے مطابق خرم کو ان بیگمات سے کوئی وابستگی نہیں تھی۔ ممتاز محل شہزادہ خرم کی تیسری بیگم تھیں۔ ممتاز محل کی قبر کے سرہانے میں نے خود سے یہ سوال پوچھا تھا کہ اس عورت میں وہ کیا تھا جس نے خرم کو اس کا دیوانہ بنا رکھا تھا۔ جواب کے لیے ماضی کا سفر کرکے 1612عیسوی میں جھانکنا پڑےگا۔ جب خرم شاہ جہاں نہیں بنا تھا۔ جہانگیر کو تخت نشین ہوئے سات سال اور نورجہاں کو ملکہ بنائے ہوئے صرف ایک سال ہوا تھا۔

ارجمند بانو بیگم اورشاہ جہاں کی غیرمعمولی محبت شاہی خاندانوںکے حوالوں سے بھی غیر معمولی تھی۔ 38 سال کی کم عمری میں ممتاز محل انتقال کرگئی۔ 19 سال کی اس شادی شدہ زندگی میں ممتاز محل نے شاہ جہاں کے چودہ بچوں کو جنم دیا۔ سات بچوں کا پیدائش کے فوراً بعد یا نہایت کم عمری میں انتقال ہوگیا۔ باقی سات شہزادے اور شہزادیاں زندہ رہیں۔ چودھویں اولاد شہزادی گوہر آرا بیگم کی ولادت کے دوران ممتاز محل کا انتقال ہوگیا۔ دونوں کی عمروں میں کم فرق، ممتاز محل کی غیر معمولی خوب صورتی، ذہانت، معاملہ فہمی، شعری ذوق اور شاہ جہاں کی مزاج شناسی بھی اس محبت کے بڑے عوامل رہے ہوں گے، لیکن میرا خیال ہے جس بات نے شاہ جہاں کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا وہ سخت اور نہایت حوصلہ شکن حالات میں شاہ جہاں سے وفا نباہنا تھی۔

شادی کے بعد ایک کڑا وقت وہ آیا جب جہانگیر اپنے ولی عہد شہزادہ خرم سے سخت ناراض ہوگیا۔ نورجہاں بوجوہ بادشاہ کو بھڑکانے میں پیش پیش تھی۔ اس کے عزائم کچھ اور تھے۔ آہستہ آہستہ یہ واضح ہوتا گیا کہ وہ جہانگیر کے چھوٹے بیٹے اور اپنے داماد شہزادہ شہریار کو جہانگیر کے تخت پر بٹھانا چاہتی ہے۔ شہزادہ خرم اور نورجہاں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا اور خرم نے سیاہ و سفید کی مالک، نورجہاں کے حکم پر قندھار کی مہم سے انکار کردیا۔ خرم کو اندازہ تھا کہ نور جہاں شہنشاہ جہانگیر سے اس کے قتل تک کا حکم صادر کروا سکتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ 1622 میں اس نے مشہور سالار مہابت خان کے ساتھ مل کر بادشاہ کے خلاف بغاوت کا علم اٹھا لیا۔ مارچ 1623میں بلوچ پور میں دونوں لشکر مقابل آئے۔ خرم کو شکست ہوئی اور وہ جان بچا کر بھاگا۔ خون کی پیاسی شاہی افواج سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔

جہانگیر نے شہزادے کو باغی قرار دے کر اسے زندہ یا مردہ اپنے حضور پیش کیے جانےکا حکم دے دیا۔ ان دنوں خرم کے لیے کوئی جائے امان نہیں تھی۔ کوئی شخص بادشاہ کی مرضی کے بغیر اس کی مدد نہیں کرسکتا تھا۔ جہانگیر کے بیٹے خسرو کا انجام سب کے سامنے تھا۔ بادشاہ کا غضب بھگتنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ آصف الدولہ میں بھی نہیں جو شہزادہ خرم کا سسر اور لاہور کا گورنر تھا۔ جنگلوں، ویرانوں، بیابانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں بھٹکتا خرم اب ایک باغی تھا اور اسے پکڑنے والے پیچھا کرتے تھے۔ معمولی ساز و سامان اور چند وفادار۔ ہاں ایک محبت بھری بیوی ہر تکلیف میں اس کے ساتھ تھی جو اس کا حوصلہ بڑھاتی اور مشکل سے نکلنے کی تدبیریں سجھاتی تھی۔ ایسے میں خرم مہاراجہ اودھے پور، کرن سنگھ کے پاس پناہ کا طالب ہوا اور راجہ نے اسے پناہ دے دی۔ تین سال خرم اور اس کا گھرانہ غیروں کی پناہ اور رحم و کرم پر رہا۔

1626میں بالآخر جہانگیر کی شفقت نے جوش مارا اور اس نے خرم کی خطائیں معاف کردیں لیکن مراعات اور عہدہ و منصب بحال نہ کیے۔ اس کے ساتھیوں کو عبرت ناک سزائیں ملیں۔ ۔ یہ دور ِ آزمائش جہانگیر کی وفات پر ختم ہوا جب آصف الدولہ نے نورجہاں کو محل میں نظر بند کرکے اس کے اختیارات ختم کردئیے۔ دارا شکوہ، شجاع اور اورنگ زیب کو جہانگیر کے محل سے اپنے پاس بلا لیا اور خرم کی تخت نشینی کی راہ ہموار کرکے اسے شاہ جہاں بنا دیا۔ شاہ جہاں کی تخت نشینی 14فروری 1628کو ہوئی۔ اس کے صرف تین سال کے بعد7 جولائی 1631کو ممتاز محل کا انتقال ہوگیا۔ کڑی مشکلات میں شاہ جہاں کا ساتھ دینے والی آسائش کے دور میں زیادہ دیر ساتھ نہ رہ سکی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دور ابتلاء ہمیشہ کے لیے شاہ جہاں کو ممتاز محل کا بنا گیا، یہ محبت ہمیشہ کے لیے اس کے دل میں گھر کر گئی۔

ماہ و سال کی یہ کٹھن داستان میں نے تو کچھ ہی جملوں میں رقم کرڈالی لیکن کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس کا ممتاز محل اور خود شاہ جہاں کے لیے کیا مطلب رہا ہوگا؟ بغاوت سے پہلے کی ہر مہم میں ممتاز محل اپنے شوہر کے ساتھ تھی۔ خواہ وہ راجپوتانہ کا ایک سال کا محاصرہ ہو یا دکن کی دور دراز کٹھن چڑھائیاں۔ پھر بغاوت کے دنوں میں محلاتی سازشیں ہوں یا وطن سے دور دراز غیروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنا۔ ہمہ وقت خطرات ہوںیا بچوں سے دوری۔ بیان کرنا آسان ہے۔ جانتا وہی ہے جس پر یہ قیامتیں گزرتی ہیں۔ اب سمجھا جاسکتا ہے کہ شاہ جہاں ممتاز محل کے بعد ایک سال تک اس کے سوگ میں کیوں رہا۔ اور کیوں اس محبت کی ایک یادگار عمارت بنانے کی دھن اسے بے چین رکھتی تھی۔

17جون1631کوشاہ جہاں کے چودھویں بچے شہزادی گوہر آرا کو جنم دیتے ہوئے 38سالہ ممتاز محل برہان پور، حید ر آباد دکن میں انتقال کر گئی۔ ممتاز محل کو امانتاً دریائے تپتی کے کنارے شاہ جہاں کے چچا دانیال کے باغ زین آباد میں دفن کیا گیا۔ لیکن شاہ جہاں اس محبت کی یادگار عمارت آگرہ میں بنانا چاہتا تھا چنانچہ دسمبر1631 میں ملکہ کی میت اس کے بیٹے شاہ شجاع کی نگرانی میں سنہرے تابوت میں آگرہ لائی گئی اور دریائے جمنا کے پاس ایک چار دیواری میں تاج محل کی تکمیل تک کے لیے دفن کردی گئی۔

اس یادگار کے لیے شاہ جہاں نے معمار استاد احمد لاہوری کا انتخاب کیا۔ شاہ جہاں ہر مرحلے میں دل چسپی سے شریک رہا۔ آخر دریائے جمنا کے کنارے اس قطعہئ زمین کا انتخاب کیا گیا جو راجہ مان سنگھ کی ملکیت تھا۔ 56 ایکڑ کا یہ مستطیل قطعہ جنوب سے شمال کی طرف بتدریج بلند ہوتا گیا تھا۔ عمارت کا نقشہ تیار ہوا۔ تاج محل کے احاطے میں وہ میوزیم موجود ہے جس میں ابتدائی نقشے محفوظ ہیں۔ مجھے ہمایوں کا مقبرہ دہلی تاج محل کا ابتدائی خاکہ لگتا ہے۔ 1631میں تاج کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ 0 2 ہزار مزدوروں، سنگ تراشوں، معماروں، خطاطوں سمیت بہت سے اہل ہنر نے بائیس سال کام کیا اور 1653میں یہ مقبرہ مکمل ہوا۔ سامان کے لیے ایک ہزار ہاتھی مامور کیے گئے۔ ۔ دریا کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے سیلاب، پانی اور نمی بہت بڑے خطرات تھے۔ چنانچہ بنیادوں میں کنوؤں کا ایک سلسلہ بنایا گیااور انہیں سال کی لکڑی (sal wood) اورچنائی سے بھرا گیا۔ ماہرین کے مطابق دریا ئے جمنا تاج محل کے لیے خطرہ نہیں بلکہ بقا کا سبب ہے۔ اگر دریا نہ رہے تو تاج کی بنیاد خطرے میں پڑ جائے گی۔ میرے علم کے مطابق دنیا میں کسی عمارت کی یہ پہلی اور آخری ہائیڈرالک فاؤنڈیشن تھی۔ بنیادیں بھرنے، عمارت کی کرسی بنانے کا کام پندرہ سال میں مکمل ہوا جبکہ مسجد، مہمان خانہ، داخلے کا دروازہ بننے میں مزید پانچ سال صرف ہوئے۔ سنگ مرمر زیادہ تر راجستھان کی مکرانا کان سے نکالا گیا او رپنجاب، چین، تبت، افغانستان، سری لنکا اور عرب سے بھی منگوایا گیا۔ اٹھائیس اقسام کے قیمتی پتھر جڑاؤ کام کے لیے استعمال ہوئے۔ سنگ یشب پنجاب، فیروزہ تبت، لاجورد افغانستان، اور نیلم اور بلّور چین سے لائے گئے۔ ان کاموں کے لیے ترکی، ایران اور عرب سے بھی ماہرترین کاری گر بلوائے گئے۔

سنگ مرمر میں نازک بیلوں، پھولوں اور پتیوں میں مختلف قیمتی پتھر کمال مہارت سے جڑے گئے ہیں۔ سورج نکلتے وقت عمارت پر روشنیوں کی چھوٹ پڑتے دیکھنا ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔ آپ عمار ت سے ذرا فاصلے پر چلے جائیں۔ مثلا مہمان خانے اور مقبرے کے بیچوں بیچ۔ اور عمارت کو دیکھیں۔ سورج کی ابتدائی کرنوں میں ایک دو قیمتی پتھر جگمگائیں گے۔ پھر ایک ایک کرکے سب جگمگانا شروع کردیں گے۔ ہر پتھر ایک قمقمے کی شکل اختیار کرلے گا۔ مبہوت کردینے والا یہ نظارہ پورے چاند کی رات میں بھی ایک نئے رنگ کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ اس مبہوت کن منظر پر بہت سے سیاح حیرت اور خوشی سے چیخ پڑتے ہیں یا بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں اور یہی بے ساختہ خراج تحسین ہوتا ہے۔

مسلمانو ں پر تاریخی ورثوں کو برباد کرنے کا الزام دینے والے لوگ ذرا یاد رکھیں کہ 1857میں بغاوت ہند کے زمانے میں قیمتی پتھر لاجورد Lapis lazuli سمیت بہت سے قیمتی پتھر انگریزوں نے اکھاڑ لیے اور سامنے والے وسیع باغ کوجو اسلامی، ایرانی، مغل انداز کا چار باغ تھا، انگریزی طرز کے باغ میں بدل دیا۔ لیکن تاریخی عمارتوں کو برباد کرنے والے پھر بھی ہم ہی ٹھہرے۔ وحشی پھر بھی ہم ہی کہلائے۔

مرکزی عمارت زمین سے240 فٹ بلند ہے، یعنی قطب مینار دہلی سے بھی تین فٹ بلند۔ مقبرے کی عمارت ایک چوکور چبوترے پر قائم ہے جس کے چاروں کونوں پربلند مینار ہیں۔ چالیس میٹر بلند یہ مینار قصدا 137فٹ کے فاصلے پر رکھے گئے اور انہیںپیازی شکل کے مرکزی گنبد سے نیچا رکھا گیا تاکہ مقبرے کی اصل عمارت نمایاں رہے۔ یہ مینارمعمولی یعنی دو ڈگری باہر کی طرف جھکے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ یہ مغلوں کا خاص طریقہ تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ کسی زلزلے کی صورت میں مینار اصل مقبرے پر نہ گر سکیں۔ کبھی لاہور میں جہانگیر کے مقبرے پر جائیں تو وہاں بھی آپ کو مینار معمولی سے باہر کی طرف جھکے ہوئے نظر آئیں گے۔

مغلوں کے عام رواج کے مطابق اصل قبریں تہ خانے میں ہیں جہاں تک عام آدمی کی رسائی نہیں۔ جبکہ ان کے ٹھیک اوپر ہشت پہلو ایوان میں مصنوعی قبریں بنائی گئی ہیں۔ دونوں مصنوعی قبریں قیمتی پتھروں اور ننانوے اسماء الحسنٰی سے مزین ہیں۔ اورہر سمت میں جھجھریاں (مرمر کی جالیاں) ان تک روشنی اور ہوا پہنچاتی ہیں۔

خطاطی کو دیکھیے تو بس دیکھتے رہیے۔ لفظ کاغذ پر لکھے گئے۔ پھر پتھر پر اتارے گئے۔ پھر سنگ تراشوں نے ان لفظوں کی شکل میں سنگ مرمر کو کھودا اور جڑاؤ کاروں نے سنگ سیاہ روشنائی کی صورت میں بھر دیا۔ ویسے تو دروازوں اور محرابوں پر بھی کمال کی خطاطی ہے۔ لیکن اس میں مزید کمال یہ ہے کہ خطاط کو معلوم تھا کہ بلند دروازے کی اونچائی پر لکھا ہوا لفظ چھوٹا دکھائی دے گا۔ چنانچہ وہ نیچے سے اوپر کی طرف غیر محسوس طریقے سے ان حروف اور الفاظ کو بڑا کرتا گیا۔ اس لیے سامنے کھڑے ہوئے شخص کواپنے قریب لکھا ہوا ا لف جس سائز کا نظر آرہا ہے اسی سائز کا الف چالیس فٹ بلندی پر بھی نظر آتا ہے۔ میں مقبرے کے اندرجنوبی محراب میں امانت خان شیرازی کے دستخط اور تاریخ رقم دیکھ رہا تھا، 1045 ہجری۔ یہ وہ فنکار ہے جس نے نہ حرف کی خوب صورتی میں فرق آنے دیا اور نہ تناسب کے حسن میں۔
تناسب اور موزونیت تاج محل پر ختم ہے۔ مقبرے کے دونوں طرف مسجد اورمہمان خانہ یکساں نقشے پر اور سنگ سرخ سے بنائے گئے تاکہ سنگ مرمر اور نمایاں ہو۔ پانی کی نکاسی کے لیے ستاروں کی شکل والے سوراخ جو توجہ نہ دلائی جائے تو نظر بھی نہیں آتے، پرنالوں کا کام کرتے ہیں۔ 300میٹر لمبا اور 300میٹر چوڑا باغ چار یکساں قطعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چار کا عدد بھی معنی خیز ہے۔ پختہ بلند راستے ان قطعات کو 16پھولوں کے تختوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ایک تختے میں 400 پودے لگائے گئے۔ درمیان میں فوارے اور نہریں جاری ہوتی ہیں۔ یہ باغ سکون، ٹھنڈک بخشنے اور تاج محل کے بھرپور نظارے کے لیے بہشت مثال ہے۔

مہمان خانے کے ذکر سے ایک اور بات یاد آئی۔ معمار کو اعتماد تھا کہ پوری عمارت پتھر سے بنائی گئی ہے اور صدیوں قائم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم مرکزی عمارت میں ایک چیز پتھر کی نہیں دھات کی ہے۔ اور وہ ہے بڑے گنبد کا کلس یعنی (Finial)۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس کلس کا قد کیا ہے؟ اونچائی پر نصب ہونے کی وجہ سے چھوٹا لگنے والا یہ کلس تیس فٹ لمبا ہے۔ ایک چوتھائی ٹن وزنی یہ کلس پیتل کا ہے. روایت ہے کہ یہ کلس ابتدا خالص سونے سے ڈھالا گیا تھا۔ معمار کو فکر ہوئی کہ یہ دھاتی کلس مستقبل میں خراب ہوگیا تو دوبارہ کیسے بنے گا۔ چنانچہ اس نے مہمان خانے کے قریب فرش پر اس کلس کا پورا سائز نقشے کے مطابق بنادیا۔ دیکھیے اور معمار کی فکر کو داد دیجیے۔

تاج محل کے فنیّ عجائبات بہت سے ہیں جن میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے رنگ اور روپ بدلتا رہتا ہے۔ سورج طلوع ہوتا ہے تو یہ ہلکے گلابی رنگ کا دکھائی دینے لگتا ہے۔ سورج بلند ہوتا جاتا ہے اور مقبرہ سفید برّاق ہوتا جاتا ہے۔ دن بھر سنگ مرمر کی نقرئی چھوٹ اطراف کو چاندی کرتی ہے۔ دن ڈھلے سورج کی ترچھی کرنوں میں یہ نارنجی رنگ اختیار کرتا ہے جو سورج ڈوبنے کے ساتھ ہلکے شفق رنگ میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ پورے چاند کے سیمیں سحر میں تاج محل چاندی اور آتشی رنگوں کے ملاپ والی دلہن ہوتی ہے۔ کہنے والے نے کہا کہ یہ سب عورت کے بدلتے موڈ ز اور رنگا رنگ کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ دراصل سنگ مرمر، سنگِ سرخ، مرمر میں جڑاؤ پتھروں اور بہتی جمنا سے روشنیاں اور کرنیں منعکس ہوتی ہیں تو سب مل کرانسانی کیفیات کی تجسیم کر دیتے ہیں۔

میں اس یادگار عمارت میں بے چین پھرتا رہا۔ کیوں؟ مجھے نہیں معلوم۔ انسانوں کے درمیان غیر مرئی لہریں سفر کرتی ہیں جو بنا کچھ کہے ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچا دیتی ہیں۔ لیکن یہاں سنگ و خشت سے بنی ایک عمارت دھڑکتے انسان کی طرح کچھ کہتی تھی۔ کچھ بتاتی تھی۔ میں اس کی آواز سنتا تھا کہ مجھے ٹھیک سے دیکھو، مجھے سراہو، میرے ساتھ سانس لو اور میری دھڑکن میں اپنی دھڑکن شامل کرو۔

لیکن تاج محل کو کون ٹھیک سے دیکھ سکتا ہے ؟ کون سراہ سکتا ہے۔ ؟اس کی طرح سانس کون لے سکتا ہے ؟اس کی طرح کون دھڑک سکتا ہے ؟ہے کسی کی ایسی ہمت؟ ہے کسی کی ایسی محبت؟

سنگ مرمر کے ٹھنڈے فرش پر جمنا کو دیکھتے ہوئے مجھے یہی لگا کہ یہ ایک ہشت پہلو آنسو ہے جس کی ارجمند اور خرم کی محبت نے تجسیم کردی۔ محبت کے علاوہ آنسو کی تجسیم اور بھلا کون کرسکتا تھا؟

میں نے ممتاز محل کے مقبرے میںارجمند بانو اور شہزادہ خرم کو یاد کیاجو ممتاز محل اور شاہ جہاں کے لقب سے امر ہونے والے تھے۔ ان کی امر محبت کو یاد کیا جو سفید سنگ مرمر میں مجسم ہونے والی تھی۔ کتنے حرف سازوںنے اس محبت کو یاد کیا۔ کتنے شاعروں نے اس پر شعر لکھے۔ کیا میں بھی کبھی اس کیفیت کو بیان کرسکوں گا۔ کیا میں کبھی اس ہشت پہلو آنسو کی تجسیم کرسکوں گا؟

پتھر ہے مگر پھول کے پیکر سے بنا ہے
کیا خواب ہے جو سنگِ منور سے بنا ہے

اس خواب نے تو مجھ میں پلک تک نہیں جھپکی
یہ خواب تو آنکھوں کے مقدر سے بنا ہے

اس حُسن کو تو ہاتھ بنا ہی نہیں سکتے
یہ حسن تو معمار کے اندر سے بنا ہے

یہ صبحِ از ل رنگ کہ چاندی سے سجی ہے
یہ ماہِ ابد گیر کہ مرمر سے بنا ہے

شمشیر کے مانند یہ مڑتی ہوئی جمنا
یہ آب کہ جو پگھلے ہوئے زر سے بنا ہے

یہ آئنہ خانے کے شکستہ د ر و دیوار
یہ عکس جو ٹوٹے ہوئے منظر سے بنا ہے

یہ حجرئہ ویران میں آباد کبوتر
یہ گھر جو اسی اجڑے ہوئے گھر سے بنا ہے

سینے سے گزرتا ہوا یہ لمحہ ئ موجود
ایسا ہے کہ جیسے کسی خنجر سے بنا ہے

دل حُسن کے اس حزن پہ شق کیوں نہیں ہوتا
معلو م نہیں کون سے پتھر سے بنا ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: