ادبی جرائد، استعارہ اور دنیا زاد ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 17
    Shares

ڈاکٹر امجد طفیل اور ریاض احمد کے زیر ادارت ادبی جریدے ’’استعارہ‘‘ کا تیسرا شمارہ شائع ہو گیا۔ استعارہ نے اپنی ابتدائی تین اشاعتوں میں ہی کئی عمدہ مثال قائم کی ہے۔ جو عموماً ادبی رسائل میں ناپید ہے۔ دوسو اٹھاسی صفحات کے معیاری جریدے کی قیمت چار سو روپے ہے۔ الحمد پبلشرکی معاونت سے پرچہ صوری اور معنوی حسن سے بھی آراستہ ہے۔

استعارہ کے اداریے میں پرچے کے مشمولات سے تعارف ایک اچھا سلسلہ ہے۔ جس سے قاری کو ابتدا ہی میں علم ہو جاتا ہے کہ موجودہ شمارے میں اس کی دلچسپی کے کیا کیا سامان شامل ہیں۔ لکھتے ہیں ’’استعارہ کا تیسرا شمارہ اس یقین کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ دو شماروں کی مانند یہ بھی قارئین کو پسند آئے گا۔ اس شمارے میں ہم نے مستنصر حسین تارڑ سے جوطویل انٹرویو کیا ہے وہ بعض حوالوں سے خود مستنصر حسین تارڑ کی زندگی کے بعض نئے پہلوؤں کو قارئین کے سامنے لائے گا بعض ادبی معاملات پر اُن کا بے لاگ تبصرہ ہمیں حیران کر دے گا اور سوچنے پر مائل کرے گا۔ اس انٹرویو میں محمدعاصم بٹ بھی ہمارے ساتھ شریک تھے۔‘‘

کسی ایک ادیب یا شاعر سے انٹرویو استعارہ کا اختصاص ہے۔ اس بار مستنصر حسین تارڑ کا طویل انٹرویو خاصے کی چیز ہے۔ جیسا کہ ادارے میں بھی ذکر ہے کہ اس انٹرویو میں مصنف کی ذات اور نظریات کے حوالے سے کئی نئی اور بحث طلب گفتگو کی گئی ہے۔ تارڑ صاحب لاہور کئی نئی تعمیرات اور پلوں وغیرہ کے بارے میں اظہار کرتے ہیں۔ ’’مختصر بات کرتا ہوں یہ جو درمیان میں اسٹرکچر کھڑا کر دیا ہے میں اسے دیوارِ برلن کہتا ہوں دیوار برلن ہمیشہ دشمن بناتا ہے۔ ان کو اس سرزمین سے کوئی الفت نہیں ہے۔ اس دیوارنے لاہور کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ یہ سب کچھ جو کھڑا ہوا ہے۔ میں صبح گھر سے نکلتا ہوں مجھے نہیں پتہ چلتا کہ نہر کب گزر گئی مزنگ کب آ گیا اچھرہ کب گزرا، ایک بہت بڑا ملبے کا ڈھیر جو سیمنٹ کا ہے اس نے مجھے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے اور اس میں میں جا رہا ہوتا ہوں۔ منظر تو ہے ہی نہیں، منظر تو بلاک کر دیا ہے، یہ ایک بہت بڑا کرائم ہے اور میں آج پیش گوئی کرتا ہوں کہ ابھی نہیں کوئی پندرہ بیس برس بعدکچھ لوگ آئیں گے وہ اس کو مسمار کر دیں گے، جیسے دیوارِ برلن مسمار کی گئی تھی۔‘‘

نیا قلم کے زیر عنوان اس شمارے میں نوجوان تخلیق کار فیاض منیر کی تحریریں شائع کی گئی ہیں۔ فیاض منیر اپنے ہم عصر لکھنے والوں میں ایک منفرد آوازہے اور اُس کی تخلیقات اردو شاعری میں نئے امکانات کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ شاعر کے دو اشعار ملا حظہ کریں۔

اس سے پہلے کہ ہواؤں میں اچھالی جائے
ریت کچھ دیر ہتھیلی پہ سجا لی جائے
مہرباں گیری اُداسی کی طلب ہے مجھ کو
تیرے چہرے سے نظر بھر کے اٹھالی جائے

جبکہ ’’تازہ کار اور پختہ کار‘‘ کے عنوان سے اس مرتبہ معروف شاعر عباس تابش کی دس غزلیں درج ہیں۔ عباس تابش ہمارے دور کے اہم شاعر ہیں۔ حال ہی میں ان کی کلیات بھی شائع ہوئی ہے۔ ان کا یہ شعر تو ضرب المثل بن گیا ہے۔

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہاتھا مجھے ڈرلگتا ہے

عباس تابش کی غزلوں سے چند خوبصورت اشعار پیش ہیں۔

بادباں اور کوئی دیر نہ کھولے جائیں
لنگر انداز کوئی خوش خبری ہے مجھ میں
میرے باہرکے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے شخص
تونے کس کے لیے قندیل دھری ہے مجھ میں

ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت
لیکن اس سے کام چلایا جاسکتاہے
مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں
عشق میں کتنا نام کمایا جاسکتا ہے

کسی سے کہہ نہیں دینا کہ عشق ہو گیا ہے
یہ لفظ معنی نہیں اعتبار مانگتے ہیں

افسانہ کا حصہ اس مرتبہ پچپن صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں دس تخلیقات شامل کی گئی ہیں۔ جن میں مستند افسانہ نگار رشید امجد کا ’’بے نام رشتہ‘‘ اور محمد حامد سراج کا ’’بوڑھا اخبار‘‘ اور طاہر اسلم گورا کا افسانہ ’’خوابوں کا شہر‘‘ بہت عمدہ اور دل میں گھر کرنے والے افسانے ہیں۔ محمد حامدسراج کے افسانوں کاتازہ مجموعہ ’’برادہ‘‘ اور ان کی تالیف کردہ کتاب ’’مشاہیر علم و دانش کی آب بیتیاں‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہیں۔ اور قارئین کی بھر پور داد حاصل کر رہی ہیں۔ محمد جاوید انور بھی ادب کی دنیا میں تیزی سے ابھرنے والا نام ہے۔ ان کا افسانہ ’’نیرنگی‘‘ بھی موضوع اور ٹریٹ مین کے اعتبار سے بہت اچھا افسانہ ہے۔ سینئر ادیبوں کے دوش بدوش نو وارد افسانہ نگاروں کو بھی پرچے میں جگہ دی گئی ہے۔ جن میں راشد جاوید احمد کا ’’صرف ایک زمین‘‘ لے کر آئے ہیں۔ ناصر رانا ’’سفید بلی‘‘ حسنین جمیل ’’گرجا، مسجد اور کوٹھا‘‘ کے ساتھ شامل ہیں۔ محمد عباس کا افسانہ ’’واپسی‘‘ احمد سلیم سلیمی کا ’’بڑھاپے کا کرب‘‘ اور عبیرہ احمد کا ’’آخر عمر کا ہے ذکر‘‘ اچھی ابتدائی کاوشیں ہیں۔ اور ان میں اسپارک محسوس ہوتاہے۔

عالمی ادب سے حمید رازی نے ترکی مشہور ناول نگار ایلف شفق کی تحریر ’’کالا دودھ‘‘ پر بہت اچھا تعارفی مضمون لکھا ہے۔ ایلف شفق کے ناول ’’ناموس‘‘ اور ’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ ہوئے ہیں۔ وہ عالمی شہرت یافتہ ناول نگار ہیں۔ ڈاکٹر مظہر علی طلعت نے پروفیسر شنکر رامن کا فرانسیسی فلسفی دریدا پر کیے کام کابہت عمدہ ترجمہ کیاہے۔ اداریے میں اس کے بارے میں تحریر ہے۔ ’’ہمارے ہاں جدید مغربی مفکرین کے کام پر درسی نوعیت کی کتابیں پڑھ کر کچے پکے ترجمے کے ذریعے دانشوری تخلیق کرنے کی جو روش چل پڑی ہے زیرِ نظر مضمون ہمیں اُس سے بہت آگے کی چیز معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ایک سوچتا ہوا ذہن جدید مغربی فکر سے مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ کام ہے جسے عہدِ حاضر میں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اِسی تسلسل میں ہم محمد حمید شاہد کے موجودہ شمارے میں شامل مضمون ’’تنقیدی تھیوری، اطلاقی جہت‘‘ کو بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ دو فکر انگیز مضمون ہمیں مزید غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘

مضامین میں اردوکے دو بڑے نقاد شمس الرحمٰن فاروقی اور شمیم حنفی شریک ِمحفل ہیں۔ شمیم حنفی کے خاکوں کا دوسرا مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔ افسانہ نگار، شاعر ، دانشور اور ادبی جریدے ’’مکالمہ‘‘ کے مدیر مبین مرزا نے ہمارے عہد میں انسانی صورتحال کی عمدہ عکاسی اپنے مضمون ’’عہدِ جدید اور انسانی احساس کی صورت گری میں کی ہے۔ افسانہ نگار نجم الدین احمد ’’جہانِ گم گشتہ کی کہانیاں اور فیصل شہزاد نے ’’پھر وہی دن کا اجالا تجزیاتی مطالعہ‘‘ میں معاصر فکشن کو اپنا موضوع بنایا ہے۔

استعارہ کے تازہ شمارے میں ڈاکٹر امجد پرویز نے ناہید نیازی کی گائیکی پر بہترین مضمون پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز نے اپنی دو بہترین کتب ’’میلوڈی میکرز‘‘ اور ’’میلوڈی سنگرز‘‘ میں برصغیر کے نامور موسیقاروں اور گلوکاروں سے قارئین کو کیا خوب متعارف کرایا ہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز خود بھی اچھے گلوکار ہیں۔ اس لیے وہ موسیقی پر بہت عمدہ مضامین پیش کر رہے ہیں۔ اور اس نظر انداز شعبے سے اردو ادب کا دامن مالا مال کر رہے ہیں۔

محمد عاصم بٹ دورِ حاضر کے اہم ناول نگار ہیں۔ انہوں نے کافکا کی تحریروں کے بہت عمدہ تراجم کئے ہیں۔ ان کے دو ناول ’’دائرہ‘‘ اور ’’ناتمام‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا تیسراناول ’’بھید‘‘ اشاعت کامنتظر ہے، اس ناول کا ایک باب ’’مٹھو ایلن‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہے۔ محمد عامر رانا کا پہلا ناول ’’سائے‘‘ کچھ عرصہ قبل شائع ہوا تھا۔ ان کے دوسرے ناول ’’بستی میر جان‘‘ کا پہلا باب استعارہ کے پہلے شمارے کا حصہ بنا تھا۔ اس مرتبہ ناول کا دوسرا باب شامل کیا گیا ہے۔

اپنے سفرنامے میں حمید رازی نے ’’ہیروشیما‘‘ کی سیر کروائی ہے۔ ان کا انداز تحریر سفرنامے کو دلچسپ بنا رہا ہے۔ مشہور ادیب اور مزاح نگار اشفاق احمد ورک نے محمد منشا یاد کا خاکہ پیش کیا ہے۔ اشفاق ورک کی تحریر میں شگفتگی کی لہر خاکے کو دلچسپ بنا کر پیش کرتی ہے۔

شاعری کے حصے میں پندرہ شعرا کی اٹھائیس غزلیں اور نو کی پندرہ نظمیں شامل ہیں۔ غلام حسین ساجدکے دو اشعار پیش ہیں۔

کنارِ قریہء آشفتگاں بکھر بھی چُکا!
میں جس کے ساتھ تھا، وہ کارواں بکھربھی چُکا
مراجعت میں بہت دیر ہو گئی مجھ سے
گلی اُجڑ بھی چکی اور مکاں بکھر بھی چُکا

سلیم انصاری کاخوبصورت شعرہے

چمک خیال کو، لفظوں کو دلکشی دے گا
ترا جمال مرے غم کو زندگی دے گا

ایسے کئی عمدہ اشعار غزلوں میں شامل ہیں۔ نظموں میں فہیم شناس کاظمی کی نظم ’’جرنیلی سڑک‘‘ میں جو لاہور سے دہلی کے ایک سفر کو شعری روپ میں بیان کیا گیا ہے۔ نظم میں سفر نامے کا لطف موجود ہے۔

مجموعی طور پر استعارہ کا تیسرا شمارہ پہلی دو ایڈیشنز سے بہتری کی جانب گامزن نظر آتا ہے۔ جس میں نثر اور نظم کی عمدہ تخلیقات شامل ہیں۔ جس کے لیے مدیرانِ کرام ڈاکٹر امجد طفیل اور ریاض احمد مبارک باد کے حقدار ہیں۔

محمد آصف فرخی کے ادبی کتابی سلسلہ ’’دنیا زاد‘‘ کا چھیالیس واں شمارہ قدرے تاخیر سے اشاعت پذیر ہوا ہے۔ دنیا زاد کی اشاعت میں اب وقفے بڑھنے لگے ہیں۔ آصف فرخی کے اشاعتی ادارے ’’شہر زاد‘‘ سے کتابوں کی اشاعت بھی کافی کم ہوئی ہے۔ اجمل کمال کے ’’آج‘‘ اور ’’دنیا زاد‘‘ دنیا بھر کے ادیبوں کی تخلیقات سے اردو ادب کا قاری متعارف ہوتا رہتا ہے۔ خصوصاً دونوں ممالک کی کتابوں کے حصول میں ناکامی کے پیشِ نظر پاکستانی قارئین کے لیے ان کتابوں کی اشاعت کسی تحفے سے کم نہیں۔ آج سے تو سلسلہ جاری ہے۔ لیکن دنیا زاد اور شہر زاد کی اشاعت میں تعطل سے کئی کتب جو اس ادارے سے متوقع تھیں۔ اب تک سامنے نہ آ سکیں۔ انیس اشفاق کا پہلا ناول ’’دکھیارے‘‘ شہر زاد ہی سے شائع ہوا تھا۔ انیس اشفاق کے دو ناولز ’’خواب سرائے‘‘ اور ’’پری ناز اور پرندے‘‘ بھی شائع ہوئے ہیں۔ جن کے پاکستانی قاری بے چینی سے منتظر ہیں۔ اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔
دنیا زاد کاتازہ شمارہ تاخیر سے آنے کے باوجود بھرپور ہے۔ تین سو بہتر صفحات کے پرچے کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔ جسے حسب ِ روایت ’’قافلہء اعتبار‘‘ کا عنوان دیا گیا۔ اور اس شمارے کو حال ہی میں وفات پانے والے ساقی فاروقی، محمد عمر میمن اور مشتاق احمد یوسفی کے نام معنون کیا گیا ہے۔

حسبِ روایت ابتدا ئی محفل میں پرچے کے مشمولات سے قارئین کو متعارف کرایا گیا ہے۔ کہتے ہیں۔ ’’اس بار محفل سونی ہے۔ سوگوار ہے۔ ہر مرتبہ ہم ادب کی محفل سے رُخصت ہونے والوں کا ذکر کرتے ہیں، کبھی افسوس کرتے ہیں، کبھی محض تعزیت اور بعض مرتبہ سرسری گزر جاتے ہیں۔ اس بار محسوس ہو رہا ہے کہ چراغ سلسلہ وار بجھتے چلے جا رہے ہیں۔ تخلیقی اُپچ رکھنے والے انوکھے شاعر ساقی فاروقی نے ہم سب کو ایک بار پھر چونکا دیا جب وہ اس دنیاسے رُخصت ہو گئے۔ محمد عمر میمن نے ترجمے کے ذریعے نئے پیرایہء اظہار کی ترسیل کی جیسے زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔ نثر کو سلیقے سے سنوارنے اور کلاسیکی تراش خراش کے بعد سامنے لانے کا وطیرہ مشتاق احمد یوسفی نے اس طرح اختیار کیا کہ وہ ہمارے عہدکی بے حد پسندیدہ شخصیت بن گئے بلکہ ایک نادرہ کار اسلوب کے ایسے ماہر کہ وہ آپ اپنی مثال معلوم ہوتے ہیں۔ امریکی ناول نگار فلپ روتھ جدت، طباعی، ہنرمندی اور واشگاف اظہار کا حامل تھاجس نے اعتراض، تنازعات اور مخالفت کی پروا نہیں کی۔ ساری دنیا کی طرح دنیا زاد بھی ان کے لیے سوگوار ہے۔ لیکن سوگ کے عالم میں مطالعہ میں انہماک بڑھ سکتاہے۔ اس لیے موجودہ شمارے کے بعد مجوزہ عنوانات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اور اس کے بجائے ادب کی چندنابغہء روزگار ہستیوں کوخراجِ عقیدت و تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘

شمارے کا آغاز شبلی نعمانی کے اشعارکے انتخاب کیا گیا ہے۔ جو ’’شعرالعجم ‘‘کے مصنف ہی نہیں بلکہ فارسی کے اچھے شاعر بھی تھے۔ شبلی کے علمی کام سے تو لوگ واقف ہیں۔ ان کی فارسی شاعری پر شمس الرحمٰن فاروقی نے تنقیدی مقالہ تحریر کے اس کی ادبی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان اشعار کا ترجمہ نئی نظم کے اہم شاعر افضال احمد سید نے بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔

انیس اشفاق نے دکھیارے کے بعد پچھلی صدی کے لکھنو کو ایک اور ناول ’’خواب سراب‘‘ میں بڑی کامیابی سے موضوع بنایا ہے۔ انیس اشفاق مضمون ’’اردو شاعری غالب کے بغیر‘‘ لے کر آئے ہیں۔ نوجوان ادیب تمثال مسعود نے اپنے والد کے توسط سے پس نو آبادیاتی مطالعات کے موضوع پر بہت اچھا مضمون لکھا ہے۔ معروف نقاد اور افسانہ نگار محمد حمید شاہد نے ’’پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال‘‘ پر عمدہ مضمون پیش کیا ہے۔

چند منفرد ادیبوں کی نگارشات سے کیا گیا ہے۔ نرم لہجے کی شاعرہ زہرا نگاہ نے اپنا نیا مجموعہ کلام ترتیب دے دیا ہے۔ اس مجموعے سے ان کی چندنئی نظمیں پرچے میں شامل ہیں۔شا عرہ اور نثر نگار کشور ناہید نے بھی تواتر سے نئی نظمیں لکھی ہیں۔ ان میں سے چند نظموں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ناول نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر حسن منظر کبھی کبھی نثری نظمیں بھی لکھتے ہیں۔ ان کی چند نثری نظمیں اور ایک طویل تر نثر پارہ بھی شمارے کا حصہ ہیں۔ یہ نثر پارہ آگے بڑھ کر مختصر یا طویل قصے میں بھی بدل سکتا ہے۔ جس کا مصنف نے عندیہ تو دیا ہے مگر واضح اشارہ نہیں دیا۔ مصنف اور شاعرہ فہمیدہ ریاض خرابی صحت سے دو چار ہیں۔ بیماری میں بھی وہ دوستوئیفسکی کو پڑھتی رہیں اور اس حوالے سے قارئین سے باتیں بھی کرتی رہیں، اس احوال کو انہوں نے ’’بیماری کی تحریریں‘‘ کا نام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یابی عطا کرے تا کہ وہ ایسی مزید تحریریں قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کرتی رہیں۔

مسعود اشعر کے دو افسانے ’’کیوں‘‘ اور ’’اللہ کا نام سچا‘‘ اس شمارے میں شامل ہیں۔ دونوں افسانے ان کے مخصوص اسلوب کے آئینہ دار ہیں۔ کہنہ مشق افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد کافی عرصے بعد نیا افسانہ لکھا ہے۔ ان کے افسانے ’’دادی امان کا دن‘‘ میں بدلتے رشتوں کوموضوع بنایا گیا ہے۔ جیم عباسی نئے افسانہ نگار ہیں۔ ان کے دو افسانے بہت عمدہ اور ایسی مزید تحریروں کا پیش خیمہ نظر آتے ہیں۔

دو ہزار تین کے نوبل انعام یافتہ جنوبی افریقہ کے ناول نگار، افسانہ نویس، مضمون نگار، نقاد، ماہرِ لسانیات اور مترجم جے ایم کوئٹزی سے افسانہ نگار اور مترجم نجم الدین احمد نے متعارف کرایا ہے۔

شاعری میں فاطمہ حسن، شہلا نقوی، توصیف خواجہ، فیصل ریحان، ارفع اعزازی، علی سعید اور اُسامہ میر کی نظموں اور کاشف حسین غائر، کاشف مجید، سعید شارق کی غزلیں شامل ہیں۔ کاشف حسین غائر کے چند اشعار بطور نمونہ پیش ہیں۔

کام کچھ خوبیِ کردار ہی آ جاتی ہے
سر بچانے مرا، دستار ہی آ جاتی ہے
میں کبھی وقت کے ہمراہ نہیں چل پایا
میرے آڑے، مری رفتار ہی آ جاتی ہے

سعید شارق کا ایک بہت خوبصورت شعر ہے۔

اپنے مجرم کو بہت سخت سزا دیتا ہوں
اب وہ تنہا ہے سو جینے کی دعا دیتا ہوں

معروف ناول نگار سلمٰی اعوان نے اسپین کے گارسیالورکا کا خوبصورت تعارف پیش کیا ہے۔ سلمٰی اعوان نے ادب کی روشن قندیلیں میں دنیا بھر کے معروف ادیبوں اور شاعروں کا تعارف کرایا ہے۔

مرحوم ساقی فاروقی کی یاد میں ناصرعباس نیر اور آصف فرخی کے مضامین بہت خوب ہیں۔ محمد عمرمیمن کے دو تراجم کے عنوان سے نیر مسعود کی تحریر قند ِمکرر کے طور پر شامل ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن اور محمد حمید شاہد نے بھی عمر میمن کے بارے میں مضامین لکھے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کے بارے میں اسلم فرخی کے دو ہزار نو کے دبئی میں جشن یوسفی کا خطبہ ’’خوشبوئے یوسفی‘‘ اور آصف فرخی کا مشتاق احمد یوسفی کا انٹرویو بھی اس شمارے کی اہم تحریروں میں ایک ہے۔

دنیا زاد کا یہ شمارہ حسبِ سابق قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے بہترین ادبی گلدستہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: