ایک غیر ملکی سیاح کا “سفر نامہ لاہور” — قسط: 5 —– عطاء الحق قاسمی

0
  • 17
    Shares

ڈبل ڈیوٹی
یہاں میں نے محبوبہ کے بھائیوں کو بہت شکی پایا، وہ اپنی کڑی نگرانی میں انہیں کا لج تک چھوڑنے جاتے ہیں اور پھر کالج سے وا پس لے کر آتے ہیں تا ہم وہ یہ کام جلدی سے جلد نپٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد انہوں نے خود کسی بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر کسی اور کو کالج چھوڑنا اور اسے گھر تک پہنچا کر آنا ہوتا ہے۔ یہ ڈبل ڈیوٹی ان کے لئے خاصی اعصاب شکن ہوتی ہو گی۔

کزن
یہاں کزن کا رشتہ مجھے خاصا الجھا ہوا محسوس ہوا، ایک شخص نے اپنی سا تھی خاتون کا تعارف مجھ سے کر وایا اور کہا یہ میری کزن ہے اور اس وقت میرے پاس ایک اور شخص بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے میرے کان میں کہا پچھلے سال یہ میری کزن تھی۔ رشتے کی یہ روٹیشن میں نے اسی خطے میں دیکھی ہے مشرق واقعی بہت پر اسرار ہے۔

میٹنگ پوائنٹ
اندرون شہر کے عشاق اپنی محبوبہ سے عموماً یا اس کے گھر کی سیڑھیوں میں ملاقات کرتے ہیں، یا میٹنگ پوائنٹ طے کرنے کے لئے اپنے مکان کی چھتوں پر کھڑے ہو کر کسی ڈھیلے میں رقعہ لپیٹ کر ایک دوسرے کی طرف پھینکتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر اوقات رقعہ گلی میں جا گرتا ہے اور ڈھیلا کسی بزرگ کو جا لگتا ہے۔ سیانوں کا کہنا ہے کہ اس سے اکثر و بیشتر خاصی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

رانگ نمبر
ملاپ کی ایک صورت ٹیلیفون پر رانگ نمبر ملنے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں بسا اوقات نوبت شادیوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ کچھ عرصہ گزر نے کے بعد طرفین محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے را نگ نمبر ہی پر گفتگو کرتے چلے آر ہے ہیں۔

بول بچن
مجھے یہ جان کر مسرت ہوئی کہ جب یہاں کوئی کسی سے کہتا ہے کہ ’’ مجھے تم سے محبت ہے‘‘ تو اس کا مطلب ضرو ری نہیں کہ واقع یہی ہو بلکہ یہ فقرہ یہاں عموماً رومانی فضا پیدا کرنے کے لئے کہا جاتا ہے جب کہ ہم لوگوں کی ضر و رت سے زیادہ حقیقت پسندی نے ہما ری زندگیوں سے رو ما نس کی چاشنی ختم کر دی ہے۔ یہاں کے لوگ اس قسم کی رو مانی گفتگو کو ’’ بول بچن ‘‘ کہتے ہیں۔ جس کا صحیح مفہوم مجھ پر پوری طرح واضح نہیں ہو سکا۔

ایک میان میں ایک تلوار
یہاں میں نے ایک عجیب رواج دیکھا کہ لوگ جس سے محبت کرتے ہیں، اس سے عموماً شادی نہیں کرتے او جس سے شادی کرتے ہیں اس سے محبت نہیں کر تے۔ شا ید یہ لوگ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ وقت میں صرف چیز ہو سکتی ہے، چنانچہ وہ شادی اور محبت میں سے ایک کا انتخاب کرتے ہیں۔

فرسٹ کم فرسٹ سرو
قیام لاہور کے دو ران میں نے یہ محسوس کیا کہ عشق کرنے کے لئے یہاں کے لوگ کسی لمبے چکر میں نہیں پڑتے بلکہ زند گی میں پہلی بار جس سے ملاقات کا موقع میسر آ جائے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ یہاں کی معاشرتی زند گی میں ایسے مواقع روز روز نہیں آتے۔ اس فرسٹ کم فرسٹ سرو کے اصول کو یہاں فرسٹ سائیٹ لو کہا جاتا ہے۔

قومی ہیرو؟
لاہور ائیر پور ٹ اس عظیم تاریخی شہر کے شایان شان نہیں ہے۔ میں جب وہاں پہنچا چھوٹے سے لاؤ نج میں کھوے سے کھو اچھل رہا تھا۔ میں نے یہاں ایک مسا فر دیکھا کہ کہ وہ ہاروں سے لدا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کا چہرہ بھی پوری طرح نظر نہیں آر ہا تھا، اس کے ساتھ سو ڈیڑھ سو کے قریب عورتیں مرد اور بچے تھے کوئی خاصا امیر آدمی تھا۔ غالباً پورا جہاز چارٹر کرا کر لے جا رہا تھا مگر میرے دوست نے مجھے بتا کر جلد ہی میری غلط فہمی دور کر دی کہ مسا فر تو صرف یہ ہے، باقی لوگ تو اسے الوداع کہنے کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کوئی قومی ہیرو ہے جسے پورے اعزاز کے ساتھ کسی بڑی مہم کے لئے رخصت کیا جا رہا ہے۔ مگر میرے دوست نے ایک بار پھر مجھے بتا یا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس شخص نے ملازمت کے لئے بیر ون ملک جانا ہے۔ اور اس وقت اسلام آباد ویزہ لگوا نے جا رہا ہے۔ عجیب لوگ ہیں۔

میڈیکل چیک اَپ
یہاں جہاز میں سوار ہو نے سے پہلے ہر مسا فر کا میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے کہ آیا وہ سفر کے قابل ہے بھی یا نہیں۔ چنانچہ دوسرے مسافروں کی طرح مجھے بھی ایک کیبن میں لے جا کر میرے بازو، ٹانگیں اور سینہ وغیرہ ٹٹول ٹٹول کر دیکھے گئے تا ہم میں پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ میڈیکل چیک اپ تھا یا مسافروں کی تلا شی لی جا رہی تھی۔ غالباً یہ میڈیکل چیک اپ ہی تھا، کیونکہ تلاشی تو اس طرح نہیں لی جاتی۔

ائیر ہوسٹس
میں جب پاکستان آیا تھا اس وقت مجھے بتا یا گیا تھا کہ یہاں سوشلزم نافذ کیا جا رہا ہے۔ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ اب یہاں اسلام کے نفاذ کی تیاریاں ہو رہی ہیں ائیر ہو سٹس کی شبا ہت دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ یہاں واقعی نفاذِ اسلام کی کوششیں جا رہی ہیں کیونکہ اسے دیکھ کر دل میں کسی قسم کے فا سدخیالات کا پیدا ہونا ممکن نہیں تھا البتہ سٹورٹ خاصا دلکش نو جو ان تھا۔ مجھے پالیسی کا یہ دو رخا پن سمجھ نہ آیا کیونکہ آخر خواتین بھی تو جہاز میں سفر کرتی ہیں۔

لوکل جوک
جس رو ٹ پر میں سفر کر رہا تھا۔ اس رو ٹ پر عموماً فوکر فلائٹ ہوتی ہے۔ طیارہ ساز کمپنیوں نے ایک عرصے سے یہ طیارہ تیار کرنا بند کر دیا ہے، چنانچہ ان کی حیثیت اب ’’انٹیق‘‘ کی سی ہے۔ فضائی میزبانوں نے جب مہمانوں کو چائے سرو کرنے کے لئے ٹرے گرانا شروع کیں تو ائیر پاکٹس شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے جہاز ہچکو لے کھا نے لگا چنانچہ ایک اعلان کے ذریعے معذرت کی گئی کہ مو سم کی خرابی کی وجہ سے مہمانوں کو چائے ’’سرو‘‘ نہیں کی جا سکے گی۔ مگر میرے قنوطی ہم سفر نے ایک بار پھر زبان کھو لی اور کہا یہ ’’یہ جہاز ہمیشہ عین اس وقت ہچکولے کھا نے لگتا ہے جب چائے پیش کرنے کا وقت ہو‘‘ انہی ہچکولوں کے در میان میں نے اپنی اور اس کی توجہ ہٹا نے کے لئے اس سے ایسے ہی پو چھا کہ ’’جہاز کتنے بجے اسلام آباد پہنچ جائے گا‘‘ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی اور کہا ’’ اگر پھا ٹک کھلا ہوا تو ہم اور پندرہ منٹ تک اسلام آباد پہنچ جائیں گے اور اس کے ساتھ ہی وہ ہنسنے لگا۔ مجھے اس مذاق کی سمجھ نہیں آئی۔ کوئی لو کل جوک Local Joke ہو گا۔

خوشگوار سفر
دریں اثنا ہم اسلام آباد کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے تھے، انہی ہچکو لوں کے در میان اعلان کیا گیا ’’ہم تھوڑی دیر کے بعد اسلام آباد کے ائیر پو رٹ پر اترنے والے ہیں۔ امید ہے ہمارے ساتھ آپ کا سفرخوشگوار گزرا ہو گا۔ اس پر میرے ہم سفر نے ایک بار پھر مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’ یہ رو ٹین کا اعلان ہےاس کا برا نہ ماننا‘‘

سپورٹس مین سپرٹ
میں چند روز کے لئے جس گھر میں قیام پذیر تھا اس کے بالکل سا منے ایک مسجد تھی جس کے ایک مینار پر چار ڈلا ؤ سپیکر فٹ تھے۔ ایک روز رات کو یہاں کوئی جلسہ ہو رہا تھا، چنانچہ مقر رین کی گو نج دار آوا زوں سے سا را علاقہ لرز رہا تھا۔ میں نے سو نے کی کو شش کی اور جب نیند نہ آئی تو یہ جلسہ دیکھنے کے لئے مسجد میں داخل ہو گیا تا کہ کہ اپنے سفر نامے میں اس پہلو کا احاطہ بھی کر سکوں۔ میں نے دیکھا کہ ایک مقرر نہایت پر جوش انداز میں تقریر کر رہے تھے اور ان کے ارد گرد پانچ چھ لوگ بیٹھے سر دھن رہے تھے۔ میں نے ان سا معین میں سے ایک سے پو چھا کہ یہ مقرر کون صاحب ہیں اور آپ کون لوگ ہیں۔ اس نے کہا ’’ خوش نصیب مقرر کا نام علا مہ ہے جو ایک گھنٹے سے تقریر کر رہا ہے اور ہم وہ ہیں جنہوں نے ابھی تقریر کرنی ہے۔ بس اب با ری آیا ہی چاہتی ہے آپ تشریف رکھیں ‘‘

زندہ دل لوگ
میں ایک روز با زار میں سے گزر رہا تھا میں نے ایک عجیب و غریب منظر دیکھا۔ لوگوں نے ایک شخص کا منہ کالا کر کے اسے گدھے پر سوار کر رکھا تھا اور شہر کے بچے اس کے پیچھے پیچھے شور مچاتے جا رہے تھے۔ گدھے پر سوار شخص خاصا پریشان نظر آر ہا تھا۔ میں نے فو را اپنا کیمرہ درست کیا اور تصویر کھینچنے کے لیے جھکا اس دوران میں نے دیکھا کہ گدھے پر سوار شخص کے چہرے پر پریشانی غائب ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنا پوز درست کرنے کے لئے ایک دم اپنی گردن ذرا ترچھی کی اور پھر مسکرانے لگا۔ میں نے فوراً تصویر اتاری اور وہاں سے جا نے ہی کو تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا ’’ گدھے پر سوار شخص نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور فرمائش کی ہے کہ اس تصویر کی ایک کاپی اسے بھی ضر ور دیں۔ میں نے اس سے پتہ حاصل کیا اور پھر پو چھا کہ معاملہ کیا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ چند روز پیشتر ایک لڑکی کو اغوا کر کے لے گیا تھا۔ آج یہ محلے والوں کے قا بو آیا ہے۔ انہوں نے اسے سزا دینے کے لئے منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا دیا ہے اور اب اسے لے جا رہے ہیں۔

سراسر ناانصافی
یہ عجیب اتفاق ہے کہ اگلے ہی روز میں نے پھر یہی منظر دیکھا۔ اس بار ایک شخص گھوڑے پر سوار تھا، تا ہم اس نے اپنا منہ ریشمی تاروں سے ڈھانپا ہوا تھا اور بہت سے بچے شور مچاتے ہوئے اس کے آگے آگے چل رہے تھے۔ ان بچوں کے ساتھ مختلف عمروں کے لوگ بھی تھے۔ علا وہ ازیں گھوڑے کے آگے آگے ایک شخص ڈھول بجا رہا تھا۔ کچھ دوسرے لوگ مختلف ساز بجا رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص ڈھول بجا رہا تھا ان میں سے ایک شخص نے ایک بہت برے با جے کو بکل ما ری ہوئی تھی۔ اوراس میں سے انتہائی خوفناک آواز نکالتا تھا۔ غالباً یہ اوزار گھوڑے پر سوار شخص کو خصوصی اذیت دینے کے لیے تھا میں نے اندازہ لگا یا کہ یہ معاشرے میں قدرے بر تر مقام کا حا مل ہو گا۔ تبھی اسے گدھے کے بجائے گھوڑے پر سوار کیا گیا، نیز اسے یہ سہو لت دی گئی ہے کہ وہ اپنا منہ ریشمی تاروں سے ڈھانپ لے، مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی۔ ایک جیسے جرم پر دو طرح کی سزائیں دینا عدل کے اصولوں کے منافی ہے اور یوں میرے نزدیک یہ فعل سرا سر نا انصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ اہل پاکستان کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

معذور افراد
لاہور میں مجھے ایک خاصی تعداد معذور لوگوں کی نظر آئی جس پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ لگتا ہے حفظان صحت کا محکمہ اپنے فرائض صحیح طور پر انجام نہیں دے رہا۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ آپ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ اس کا اثر پھلوں پر بھی ہو نے لگا ہے۔ چنانچہ میں نے یہاں ایک آم دیکھا جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ یہ لنگڑا آم ہے۔ میں نے تجربے کے طور پر اسے کھا کر دیکھا تو بے حد لذیذ پایا۔ میں نے سو چا ابھی یہ آم لنگڑا ہے اور یہ عالم ہے اگر یہ لنگڑا نہ ہوتا تو خدا جا نے کس قدر لذیذ ہوتا ؟

اہل فن کی بے قدری
لاہور کی سڑکوں پر قسمت کا حال بتا نے والے، بندر نچا نے والے اور جا دو کے کمالات دکھا نے والے جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ میں یہاں کے ایک مشہور بازار بیڈن روڈ سے گزر رہا تھا کہ میں نے ایک ریڑھی کے گرد چند لوگ کھڑے دیکھے، وہاں ایک جادوگر کھلی فضا میں اپنے کمالات دکھا رہا تھا اور اس نے لمبے بازوؤں والا چوغا بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔ میں نے گزرتے گزرتے دیکھا کہ اس جادوگر نے مٹی کے ایک بر تن کو تین چار مرتبہ ہلا یا اور پھر اس پر سے ہاتھ اٹھایا تو ایک موسمی پھل جو غالباً جامن تھا، کثیر مقدار میں اس مٹی کے برتن میں سے بر آمد ہوا جو اس نے وہاں کھڑے لوگوں میں با نٹ دیا۔ یہ جادوگر بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس تھا میں نے سوچا اگر یہ با کمال شخص یورپ میں ہوتا تو یقیناً لاکھوں میں کھیلتا۔

ختم شد

اس تحریر کا پچھلا حصہ اس لنک پہ دیکھئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: