نیا پاکستان اور پرانی روایات ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد نعمان کاکا خیل

0
  • 65
    Shares

اطلاع ملی ہے کہ نئے پاکستان کے اندر 14 ستمبر 2018 کو ایک اعلامیہ جاری ہوا ہے جس کے اندر جناب ذلفقار حسین بخاری عرف ذلفی بخاری کو وزیر اعظم کا مشیر برائے اوؤرسیز پاکستانی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ وہی ذلفی بخاری ہیں جو کچھ عرصہ قبل عمران خان صاحب کے عمرہ جاتے وقت ایک تنازعے کی بدولت میڈیا کی زینت بنے تھے جب انکشاف ہوا تھا کہ نیب (NAB) کی درخواست پر وزارتِ داخلہ نے موصوف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) کے اندر شامل کیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس کے اندر تحریکِ انصاف کے ترجمان اور موجودہ وزیر اطلاعات و نشریات نے یہ اقرار کیا تھا کہ زلفی بخاری بھی پانامہ پیپرز کے اندر نام کمانے والے شخصیات کے اندر شامل ہیں۔ بعد میں ایک پروگرام کے انٹرویو کے اندر سوال کے اوپر وزیر اعظم صاحب سے جہاز کے اندر موصوف سے متعلق واقعے کے بارے میں دریافت کرنے پر عمران خان صاحب نے ناراضگی اور برہمگی کی ملتی جلتی کیفیت کے اندر جواب دیا کہ زلفی بخاری اس ملک کا باشندہ نہیں ہے تو کیسے اس کے اوپر اس ملک کے قوانین لاگو کئے جا رہے ہیں !

اس خبر کے بعد کوئی وزیر اعظم صاحب سے یہ پوچھے کہ جس شخص سے اثاثوں کے بارے میں ملکی قوانین کے تحت پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی تو کیا برطانیہ کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھانے والے اس شخص کو اس اہم منصب پر کیسے براجمان کیا جا سکتا ہے؟ یا پھر اس ملک کا قانون کوئی وَن وَے ٹریفک ہے جس کے اندر کسی ملزم سے ملکی قانون کے تحت پوچھ گچھ تو جائز نہیں لیکن اسی ملک کے عوام کے اوپر اس کو مقرر کرنا، اسی ملک کی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اور اسی ملک کے حکومتی اداروں سے ان کو مراعات دینا جائز ہے؟

دوسری جانب عون چوہدری کی بطور مشیر وزیر اعلٰی تعیناتی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یہ حضرت بھی لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخصیت ہیں جو کہ چئیر مین سیکرٹریٹ کے سربراہ کے طور پر بنی گالہ میں کام کر رہے ہیں۔ ان تقرریوں کو چار چاند وزیر قانون کی تعیناتی نے لگائے جو صدر مشرف کے خصوصی مشیر رہ چکے ہیں۔

کیا ان اعلامیوں اور تقرریوں کی وضاحت اور تفصیلات وزیر اعظم صاحب قوم کو بتانا پسند کریں گے یا پھر اس کو پچھلی حکومتوں کی طرح وزیر اعظم کے مخصوص اختیارات کے کھاتے میں ڈال کر ’ مٹی پاؤــ‘ والا معاملہ کیا جائے گا؟ اگر یہ حضرات اتنے صاحب ِ علم و بصیرت ہیں کہ ابھی تک قوم ان کی ان اہلیتوں سے بے خبر ہے تو حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اِن کی اہلیتوں کو سامنے لائے تا کہ عوام ان کے اوپر چلنے والے مقدمات اور ان کے پرانے تعلقات اور اعمال کے ساتھ ساتھ ان کے کمالات اور علم و فہم سے بھی شناسا ئی حاصل کر لیں۔

پرانے پاکستان کے اندر نَیب کے ملزموںاور مجرموں کو سزا دینے اور پابندِ سلاسل کرنے کی تو پوری پاکستانی عوام اوردنیا شاہد ہے لیکن کیا نئے پاکستان میں بھی ایسا کچھ ہوگا یا پھر ذاتی تعلقات اور پسند نا پسند کی بنیاد پر اہم قومی اور ریاستی فیصلوں کے اندر نوازے جانے جیسی روایات کے اوپر کاربند رہتے ہوئے اپنی پسندیدہ شخصیات اور دوست و احباب کو قوم کے اوپر مسلط کیا جائے گا؟ اس حکومت کے لئے امتحان کی گھڑی ہے کہ کیسے روایتی پالیسیوں، روایتی روؤیوں اور ذاتی پسند نا پسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس عوام نے صرف وزیر اعظم کا چہرہ تبدیل کرنے کے لئے اتنی تحریکیں نہیں چلائیں بلکہ ایک اعتماد، اخلاص اور جذبۂ حب الوطنی کی بنیاد پر اس جماعت کے ہاتھ میں بھاگیں دینے کے لئے قربانیاں دیں۔ یہ عوام پچھلی حکومتوں کے خاندانی اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کھڑی حکومتوں اور فیصلوں سے تنگ آ چکی ہے۔ مملکتِ خداداد کی مٹی ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی کہ کوئی اعلٰی پائے کا دانشور یا پالیسی ساز پیدا نا کر سکے۔ بس اس کے لئے شرط ہے کہ اپنی بنائی ہوئی دنیا سے نکل کر باقی استعداد رکھنے والوں کی کھوج لگائی جائے جو الفاظ کے غازہ کم اور کردار کے غازی اپنے نظریات اور افکار کی بنیاد پر ہوں۔

موجودہ حکومت سے راتوں رات تبدیلی کی امید رکھنا خام خیالی ہے اور تنقید سے پہلے نئی حکومت کو کم از کم چھ مہینے وقت دینا ان کا حق ہے لیکن منزل کی پہچان اس کی طرف اٹھانے والے قدموں سے کی جاتی ہے۔ اچھے اور مثبت فیصلے بہترین اور تابناک مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ لیکن اگر فیصلے ہی متنازع ہوں تو اس سے اچھے نتائج برآمد کرنے کی امید رکھنا سادہ لوحی اور کم فہمی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

امید ہے کہ موجودہ وزیر اعظم صاحب ان معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تنقید کو تنقید برائے اصلاح سمجھ کر اپنی اور جماعت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کی امیدوں کے اوپر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: