سوشل میڈیا کا مزید نسوانی بیان: جاری ہے — سحرش عثمان

0
  • 141
    Shares

مدعی لاکھ برا چاہے ہوتا کیا ہے۔ کے مصداق آنٹیاں چاہے ہزار تعویذ گنڈے کرا لیں یہ بلا قابو آنے کی نہیں۔ بلا کو ہرگز حقیقی نہ سمجھا جائے ہم نے تعویذ گنڈے کے ساتھ ذرا ردیف قافیہ ملاکر ہلکی سی شاعری کی ہے۔ کہ آج ہمارے مہمان ہی ایسے ہیں۔ رکیے رکیے تعارف سے پہلے یوسفی صاحب کا چٹکلہ سنتے جائیے۔ فرما تے ہیں وہ خاتون جو شادی کے کئی سال بعد بھی ہر تقریب میں شوہر کو ساتھ لئے نظر آئے اس کی مثال اس بلی سی ہے جو چوہے کی جان لے کر بھی اٹھکیلیاں کرتی رہتی ہے۔

خیر یہ تو یونہی سنا دیا۔ ہم تو یہ کہنے والے تھے کہ فرح رضوی صاحبہ انکل کو جو شاعرانہ تقریبات میں ساتھ لے جاتی ہیں تو بڑا اچھا کرتی ہیں۔ بڑا ہی اچھا لگتا ہے دونوں کی تصاویر دیکھ کر۔

دیکھیے فرح آپ کو پتا ہے ہم یعنی آنسہ کس قدر شائستہ اطوار خاتون ہمارا مطلب لڑکی ہیں تو ایسا کوئی جوک آپ کے لیے کیسے کرسکتے ہیں ہم۔ تطبیق کرنے والے فسادیوں کی باتوں میں ہرگز مت آئیے گا۔ تو یوں ہے کہ جب ہمیں معلوم پڑا کہ فرح شاعرہ ہیں تو ہم باقاعدہ بری نیت سے ان کی وال پہ جانے لگے اور ان کے کلام کے کمنٹ باکس میں اپنا نمونہ کلام اور نمونے کا کلام پیش کرنے لگے۔ ہمیں اندازہ تھا شاعر لوگ ہلکے سے نازک مزاج ہوتے ہیں لہذا خاتون جلد ہی ہمیں بلاک کردیں گی۔ جیسے کہ پہلے بتایا جاچکا ہے بلاک کرنا اور ہونا ہمارا اولین مقصد ہے یہاں ہونے کا۔ تو بلاک ہونے کی نیت باندھ کر ہم لگے شاعری کرنے۔ پر جب مسلسل کوششوں کے بعد بھی بلاک کر کے نہیں دیا خاتون نے تو ہم ہلکے سے شرمندہ ہوئے اور خود کلامی کی کہ آنسہ وہ پہلے سی بات نہیں رہی شمشیر زنگ آلود ہوگئی ہے۔

ہم نے کچھ دن۔ بریک لینے اور دینے کا فیصلہ کیا اور شاعرہ کی وال پہ جانا کم کردیا تو خاتون ہماری وال پہ پوچھنے لگیں کیا ہوا طبیعت اچھی نہیں کیا۔

کچھ لمحے کے لیے سٹنڈ stunned چھوڑ کر خاتون اگلا کمنٹ کرنے لگیں۔ اور ہم سوچتے رہ گئے کہ کیا ایسے کسی شخص کی کمی بھی محسوس کی جاسکتی ہے بھلا جو روز اریٹیٹ ہی کرتا ہو۔ یہ تھا فرح سے باقاعدہ پہلا تعارف دوستانہ تعارف۔

یوں تو یہ شاعری کرتی ہیں لیکن ویسی شاعرہ ہرگز نہیں جیسی آجکل مارکیٹ میں آتی ہیں۔ یعنی زود رنج نہیں ہیں، مسلسل نحوست پھیلانے پر یقین نہیں رکھتیں۔ محبت کی شاعری تو کرتی ہیں لیکن “دو لینوں” والے شعر بہت کم کہتی ہیں۔ جے ڈاٹ کے کپڑے پہنتی ہیں اور پوچھنے پر فریش ارییول مینشن کرنا نہیں بھولتیں۔ سیل والی آنٹی مت سمجھا جائے انہیں اور نہ ہی پھوکٹ شاعرہ سمجھا جائے۔ شاعرہ تو اتنی زیادہ ہیں کہ پٹوار خانے کو ڈانٹ بھی شاعری میں پلاتی ہیں۔ حالانکہ جانتی ہیں کہ مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک اُکا بے اثر۔ لیکن سمجھتی نہیں ہیں۔

آزاد نظم ابھی کچی ہے ان کی اندر اندر سے آنسہ کو بہت آئڈیلائز کرتی ہیں۔ کہنے سے جھجکتی ہیں۔ کم و بیش ساری خواتین کی دوست ہیں۔ اسی بات سے اندازہ کرلیں خاتون کس قدر چالاک ہیں۔

خواتین کے گروپ میں جب جب یہ آن لائن آتی ہیں خواتین چپکے چپکے کھسکنا شروع ہوجاتی ہیں اس کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہوسکا۔ قرین از قیاس شاعری ہی وجہ ہے۔ اکثر اپنی شاعری شئیر کر کے اپنی ہی چار پانچ آئڈیز سے چپکے سے اس کی تعریف فرما دیتی ہیں۔ اور دو گھنٹے بعد اصلی آئڈی سے آن لائن آکر نہ صرف اپنا شکریہ ادا کرتی ہیں بلکہ عاجزانہ اظہار خیال بھی کہ ایسی خاص پسند نہیں ہمیں یہ نظم، آپ کہیں تو دو چار اچھی غزلیں شیئر کروں؟ اور اس جال میں پھنسا کوئی معصوم ضرور ضرور کہہ دیتا ہے اور شاعرہ صاحبہ سارا دن وال پہ اس معصوم کو شاعری سناتی رہتی ہیں۔ خیر یہ کوئی ایسی بری بات بھی نہیں۔ اتنی محنت کے بعد اتنا سا تو بنتا ہے ان کا۔ محنت تخلیق والی۔ ۔ آئڈیز والی نہیں۔ ۔ کس قدر فسادی ہیں آپ سب۔ ہنہہہ

تو خاتون اتنی اچھی انسان ہیں کہ نہ۔ بلاک کرتی ہیں نہ ہوتی ہیں۔ بلکہ ہم سے شمیشر زن کو بھی درازی عمر کی دعا دیتی ہیں۔ اور اتنی سادہ ہیں کہ کسی بھی۔ چلتے پھڈے میں جا کر کہہ آتی ہیں ہمیں کیوں نہیں ڈالا۔

یقینا خاتون اب آپ کی شکایت دور ہو گئی ہوگی۔ ان کو ایڈ اپنے رسک پر کریں کیونکہ اتنی سوییٹ ہیں کہ بعد میں کبھی جو آپ کا اپنی آئیڈی بند کرنے کا بھی جی چاہا تو نہ کر پائیں گے۔ اسقدر محبت اپنائیت اور نرمی سے روکیں گی کہ انکار نہ کر پائیں گے۔ ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسانے کا مفہوم سمجھ آئے گا۔ کبھی جو بیمار پڑ گئے آپ تو اسقدر خلوص سے دعا دیں گی کہ جی چاہے گا آپ یوں ہی بیمار پڑے رہیں اور خاتون دعائیں دیتی رہیں۔ اتنا میٹھا ہینڈل کرسکتے ہیں تو بھاگ کر جائیے اور ایڈ کر لیجئے۔

اگلی لڑکی خاتون کون ہیں یہ جاننے سے پہلے یہ جانیے کہ ایسی بہت سی خواتین ہیں جو سائلنٹ ہیروز ہیں۔ خاموشی سے اپنے حصے کا کام کرتی ہوئیں اپنے بچوں کی تصاویر لگاتی ہوئیں اپنی کوکنگ شئیر کرتی ہوئیں۔ تو یہ ساری خواتین کسی طرح کم نہیں۔ نہ ہی ان کے متعلق ہماری رائے کسی طرح کم تر ہے۔ یہاں ان خواتین کا ذکر شائد کم ملے کہ یہ تحریر بھی فساد اور پھڈے کی نیت سے شروع کی تھی کہ یہ لکھاری خواتین جوابی کاروائی کریں گی۔ اور آتی خزاں کا یہ اداسی والا موسم ذرا اچھا گزر جائے گا۔ لیکن خواتین جانے اتنی چپ چپ کیوں ہیں۔

اگلی خاتون یاسمین فاروق جن کی شاعری کوکنگ اور پیارے بچے ان کی وال پہ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔
اپنے بچوں کی شرارتوں میں محبت کی طرح چھلکتی ہوئی۔ اور اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے اداسی کی طرح چھا جانے والی یہ خاتون لمبے عرصے سے دوست ہیں۔

ان سے نے کیلا بریانی اور کچولا کسٹرڈ بنانا سیکھا تھا۔ کم و بیش کسٹرڈ ڈش دیکھ کر پوچھا کیا ہے کہنے لگیں مکس فروٹ این کیک ٹرائفل گارنشڈ ود ایم این یم چاکلیٹ این کیریمل۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہمارے ہاں ایسی چیز کو کچولا کہا جاتا ہے۔ اور ان سے ہم نے ٹیگنگ سیکھی تھی۔ اب تو خیر ہم خاصے ماہر ہوچکے۔

اور ان کی وال پہ ہم نے محبتوں کا شفاف پن ملاحظہ کیا۔ جماعت کے ساتھ جذباتی و دلی وابستگی ہونے کے باوجود ہم لوگ دوست ہیں یہ ہماری ہم ان کی سیاسی باتوں پر غور نہیں کرتے۔ سماج کے دوسرے معاملات میں البتہ ہم ایک پیج پر ہیں۔ لیکن وہ پیج ہے کونسا یہ نہیں معلوم۔ جب تک ہم پتا کرتے ہیں آپ اگلا تعارف پڑھیے۔

مونا رضا
ان سے دوستی کی وجہ تحریک انصاف و سیاست ہے۔ بہت پیاری دوست ہیں باتیں بھی بہت پیاری کرتی ہیں۔ اوور سیز ہیں پاکستان کے ساتھ ان کی محبت دیکھ کر کبھی کبھی شرمندگی ہونے لگتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ہمارا درد سر پالنے کا کیا غم ہے جیتے رہییں اپنی زندگی خوش رنگ زندگی۔ لیکن معصومیت اور خلوص سے گندھے یہ لوگ پھر بھی ہمارے لیے میلوں دور بیٹھے الجھتے اور کڑھتےرہتے ہیں۔

ایک دن ایسی ہی ایک الجھن میں تھیں تو کہنے جاب پہ بھی مسئلہ ہے۔ اب ہم اپنی نالائقی کے ہاتھوں ایسے مسائل حل کرنے سے تو قطعی قاصر ہوتے ہیں لہذا سن لیتے ہیں۔ پر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ دوست صاحبہ ٹیکنیکل جاب کرتی ہیں جس کا ہم سے اتنا ہی واسطہ ہے جتنا نواز شریف کا جمہوریت سے۔ ۔ یعنی نہ ہونے کے برابر۔ اس لیے تسلی کے سے انداز میں کہا کہ حل ہوجائے گا مسئلہ پریشان مت ہوئیے۔ کہہ اٹھیں مسئلہ تو حل ہوجائے گا پر امی نہیں مانیں گیں۔ ۔ پوچھا کیوں کہنے لگیں وہ کہتی ہیں اب بس یہ نوکری کرنی ہی نہیں۔ یقین کیجیے مونا کی یہ بات سن کر جتنی خوشی محسوس ہوئی اتنی تو عامر بھائی کے نااہل ہونے پر ہی مل سکتی ہے دوبارہ۔ خوشی اس بات کی نہیں تھی کہ مونا کی امی نہیں مانتیں۔ خوشی اس بات کی تھی پاکستانی لڑکی امریکن بھی ہو تو امی ابا دیسی ہی رہتے اور دیسی پیرنٹس کا پہلا اصول ہوتا ہے نہ ماننے والا۔ اب ہم اور مونا نہ ماننا بہنیں ہیں۔ جب جب ہماری امیاں نہیں مانتیں تب تب ہم ایک دوسرے کا غم غلط کرنے کو میاں صاحب کو کرپشن پر کوس لیتے ہیں۔ مونا اکثر اداس رہتی ہیں اور پوچھتی ہیں یہ پاکستانی لبرلز این ایس کو کیسے سپورٹ کرلیتے ہیں۔ یاد رہے یہاں نواز شریف کو این ایس پڑھا جائے گا کہ مونا ہلکی سی برگر ہیں۔ خیر جب جب مونا پوچھتی ہیں ہمارا جی چاہتا ہے انہیں جواب دیں کہ اک ایناں دی اکھ کاشنی دوجا رات دے اونیندرے نے ماریا۔ یعنی ایک تو ہیں نہیں۔ لبرل اوپر سے کچی پی پی کر نیست مار لیتے اپنا۔ لیکن کہہ نہیں پاتی کہ مونا کی پنجابی بہت اچھی ہے۔

خیر مونا آپ سے بہت سی نہ کہی جاسکتے والی باتوں میں ایک بات ہے کہ آپ اتنے بھی دیسی پیرنٹس کے ساتھ نہیں رہتیں۔ کیونکہ اصلی سچے سُچے اور کھرے پاکستانی دیسی پیرنٹس کے پاس بیٹیوں کے لیے ہر چیز کا ایک بیک اپ پلین ہوتا ہے۔ ۔ اکا (also known as Shadi) شادی.
جاب میں۔ مسائل ہیں دفع کرو تمہاری شادی کرتے ہیں
جی پی اے اچھا نہیں آیا بر اچھا ڈھونڈ لیتے ہیں۔
سکائے ڈائوینگ کرنی ہے۔ ۔ چلو شادی کردیتے کرلینا۔
باہر پڑھنے جانا ہے۔ ۔ کوئی بات نہیںی شادی کے بعد چلے جانا۔
سکینگ کرنی ہے____شوہر کے ساتھ چلی جانا۔
ہائنگ__شادی
ڈرائیونگ__شادی
اتنی برائٹ لپ سٹک__شادی
روٹین خراب ہے__شادی
کیا کہا۔ ۔ ۔ بزنس کرنا ہے۔ ۔ چلو بزنس مین ڈھونڈ لیتے۔

اور سب سے مزے کی بات یہ کہ “ہم لڑکیاں” اس بیک اپ پلین کے ساتھ خوش بھی بہت ہیں۔ آخر کو ہمیں بھی تو اپنے خراب کاموں ادھورے خوابوں کے لیے کسی کو مورد الزام ٹہرانا ہوتا ہے نا۔

مونا آپ پوچھتی ہیں نا پاکستان میں اتنی فرسٹریشن کیوں ہے۔ تو ایسا ہے مونا ابھی ہم سماج کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں بقا کی اور ہماری آپکی جنس اپنے لئے پورے فرد کا، سٹیٹس منوانے میں مصروف ہے۔ یہ کرلیں تو شائد گھٹن کم ہو۔ تب تک ایسے ہی برداشت کریں ہمیں۔

بھئی مونا کو کسی کو بھی ایڈ کرنے میں مسئلہ نہیں انٹل وہ این ایس کا فین نہ ہو۔

مونا کو دوست بنا چکنے کے بعد کی ایک ہی احتیاط ہے کسی بھی تصویر کے ساتھ شاعری اپنے رسک پہ کرنی ہے کہ مونا امی ابو بنادیا کرتی ہے۔ یہ نہ ہو، آپ جارج کلونی کی تصویر لگا کر سرد و گرم آہیں لفظوں میں بیان کریں اور مونا پوچھ لیں “آپ کے ابو ہیں” یاد رکھئے گا آپکی پوسٹ سے زیادہ لائکس مونا کے اس کمنٹ کو ملیں گے۔

ایک اور اوور سیز خاتون جو آجکل لائیو آ، آ کہ جھلی قوم کی سیاسی و سماجی تربیت کررہی ہیں دراصل نئے سکارفس اور سٹالرز کا سٹاک لے بیٹھی ہیں اب جب تک سارے اوڑھ نہ لیں گی ایسے ہی لائیو سیشنز چلتے رہیں گے۔ پہچان تو گئے ہوں گے۔ جی ثمینہ رشید۔ اپنی نظموں جیسی دوست ہیں۔ محبت کرنے والی ایزی گوئنگ اور لٹریری۔ کبھی بھول کر بھی ان سے اکنامکس پر بحث مت کیجئے گا۔ ۔ ہار جائیں گے۔

البتہ سیاست پر کرسکتے ہیں کہ اس میں آپکی مات ہی ہماری جیت ہوگی۔
ان کی وال پہ ایک صاحب انہیں انگریزی زباں سکھایا کرتے تھے اس سے پہلے وہ میرا جی کے ٹیچر رہ چکے ہیں۔ لیکن جیسے کے آپ سب کو پتا ہے خاتون انصافی ہو اور بلاک نہ کرتی ہو ممکن نہیں۔ اس لئے اپنے استاد کو بلاک کردیا انہوں نے۔ ۔ اس نے بس یہ ہی کہا تھا آپ کی نظمیں بھی آپکی طرح وزن میں ہوتیں۔

لو دسو ہن کی او ویچارہ بے وزن کہہ دیندا؟ بس جی دنیا نو دو پاسے دندانے ہوندے۔ خیر یہ قصہ تو ازرہ تفنن سنا دیا وگرنہ کہاں ثمینہ کی شاعری کہاں ہم مطلب ہے آئڈینس۔ ان کے متعلق زیادہ کچھ کہہ نہی سکتے کہ ایڈ کرنے کے بعد آپکو کس قسم کی صورت احوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیوں کہ خاتون لمبے چوڑے دقیق مضامین لکھتی اور پڑھواتی ہیں۔ جب کچھ نہ کرسکیں تو شُد انگریزی بولنے لگتی ہیں۔ حفاظتی تدابیر کرسکتے ہیں تو کر لیجئے ایڈ۔
ہم بھی ہیلمٹ پہن کر آتے ہیں تب تک آپ سب یہ پڑھیے۔ شکریہ۔
ہم یعنی سحرش


اس مضمون کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: