چینی ایفیکٹ، پاک بھارت تعلقات اور دانشور ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرحان شبیر

0
  • 109
    Shares

آرمی چیف نے چین کا 3 روزہ دورہ کیا جس میں چینی آرمی چیف سے لیکر چینی صدر شی چن پنگ سے ملاقات میں سی پیک کو ہر صورت میں کامیاب کرانے کے اعلانات دنیا کو سنا دئیے گئے۔ تاکہ امریکہ اور بھارت بھی کان کھول کر سن لیں اور وہی بات کہ امن کی خواہش کو کمزوری نا سمجھا جائے۔

اب وزیراعظم عمران خان نومبر میں چین کا سرکاری دورہ کرینگے اور جیسا کہ صاف ظاہر ہے کہ سی پیک کے حوالے سے معاملات اور مذید بہتری کی طرف جائیں گے۔ بھارتی اور امریکی اخبارات کے پراپیگنڈے کے باوجود چین نے نا صرف اس نئی حکومت کا خیر مقدم کیا بلکہ سی پیک کو ایک اور گئیر لگاتے ہوئے تجزیہ کاروں کے ایک اور تجزئیے کو غلط ثابت کیا کہ چین میاں صاحب کے جانے سے خوش نہیں ہے اور اسٹیبلشمنٹ سی پیک کو لپیٹنا چاہتی ہے۔ ارے بھائی تو کیا چینی اتنے بے وقوف اور گھامڑ ہیں جو پھر بھی آرمی چیف کو تین تین دن کے لئیے سرکاری دوروں پر بلا رہے اور آگے نومبر میں عمران خان کو بھی بلا رہے ہیں۔

اور تو اور حکومت نے چین کے اعتماد کے ساتھ سعودی عرب کو بھی سی پیک کا تیسرا اسٹریٹجک پارٹنر بننے کی پیشکش کر کے دہلی، تل ابیب اور واشنگٹن تک کی تاریں ہلا دیں ہیں۔ سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ سعودی حکمرانوں سے اتنی قربت کی دعویدار شریف فیملی کے دور میں سعودی عرب سی پیک میں کیوں شامل نہیں ہوا؟۔ اور اب کیسے وہی سعودیہ چین کے ’’فلیگ شپ‘‘ پراجیکٹ سی پیک میں پاکستان کا تیسرا اسٹریٹجک اتحادی ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودیہ تو تیار بیٹھا تھا بس پاکستان کی دعوت کی دیر تھی اور میاں صاحب، مودی امریکی لائن پر چلتے ہوئے سعودیہ کو پاکستان کو دور ہی رکھ رہے تھے ۔ اب جب کہ میاں صاحب نہیں رہے تو ایک ہی دورے نے کر دیا قصہ تمام۔ کہا تھا نا چینی ایفیکٹ ہی چلتا نظر آرہا ہے۔

پاک بھارت تعلقات میں بھی چینی ایفیکٹ ہی کار فرما ہے۔ شنگھائی کوآپریشن تنظیم SCO کا بھارت بھی ایک ممبر ہے بھارت کو بھی چین نے پاکستان کے ساتھ 2017 میں اس فورم کا رکن بنایا ہے اب بھارت پر بھی روس اور چین کا دباو ہے کہ خطے کے حالات کو بہتر بنایا جائے تاکہ سی پیک تیزی سے مکمل ہو اور چین کی گروتھ میں کمی نا آنے پائے اسکے لئیے ضروری ہے پاکستان اور بھارت اپنے جھگڑے مذاکرات کی میز پر نمٹا لیں اور جیو پالیٹکس کے بجائے جیو اکنامکس پر توجہ دے دیں۔ اب یہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ SCO کے منشور کے مطابق اس خطے سے شدت پسندی، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے نظریات کے خاتمے کی کوشش کرتا ہے یا پھر امریکی لائن کو فالو کرتے ہوئے اسکے راستے میں روڑے اٹکاتا ہے اور نفرتوںکے الاو بھڑکاتا ہے۔

ایس سی او میں شامل ہونے کے باوجود بھی اب تک کا ٹریک ریکارڈ یہ بتا رہا ہے کہ جس طرح ٹرمپ اور نیتھن یاہو جیسے جنگ پسندوں کی وجہ سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں ویسے ہی جنوبی ایشیا کے امن کو مودی سرکار سے خطرات لاحق ہیں ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات بھارت کے لئیے سوہان روح بنتے جارہے ہیں۔ مودی سرکار اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لئیے، ہندو توا اور ہندو قوم پرستی کے ہتھیار کا بہیمانہ استعمال کر رہی ہے ۔

انتخابات کا زمانہ ہے تو بھارت میں ایک طرح سے جنگ کا سا ماحول بنایا جا رہا ہے آپکو جان کر حیرت ہوگی کہ بھارت کی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے بھارتی جامعات کے وائس چانسلرز کو باقاعدہ خط لکھ کر 29 ستمبر کے دن کو یوم سرجیکل اسٹرائک منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یعنی جس دن دو سال پہلے بھارت نے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اسی دن یونیورسٹی کے طلبا و طالبات باقاعدہ بھارتی افواج سے محبت کا اظہار کرینگے۔

جموں کے بارڈر پر بی ایس ایف کے جوان کے مارے جانے کا الزام پاکستان کے سر ڈال کر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ اجلاس کی سائڈلائن میٹنگ سے انکار کر دیا۔ بی ایس ایف کے سپاہی کے افسوسناک قتل کا الزام پاکستان پر ڈال کر بھارت ایک دفعہ پھر مذاکرات کی ٹیبل سے بھاگ رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے بھارت کے اس امن مخالف روئیے پر ہمارے لبرل دانشور حضرات کبھی نہیں آتے اور اس میں پاکستان کا دوش نکال لاتے ہیں۔

اکثر حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کے دانشور طبقے میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات بگڑنےکا ذمہ دار یکطرفہ طور پر پاکستان کو ہی کیوں سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ہاں کا سو کالڈ انٹلیکچول طبقہ بھارت کو ہر معاملے پر کلین چٹ کیوں دے دیتا ہے۔ دانشور بننے کے لئیے پاکستان کو مطعون کرنا کیوں ضروری ہے۔ ہمیشہ سے خودملامتی کی اس نفسیاتی لہر میں بہنے والوں میں لیفٹ والے بھی شامل ہیں بلکہ ایک طرح سے وہ ہی اس روئیے کی بنیاد رکھنے والے تھے۔

حالیہ دنوں بھی ہمارے دانشوڑوں کا عجیب سا رویہ دیکھنے میں آرہا ہے انکے نزدیک اسٹیبلشمنٹ بھارت سے دوستی کے جرم میں نواز شریف کو ہٹانے پر تلی ہوئی تھی اور بھارت دشمنی سے چونکہ جرنیلوں کے گھر چلتے ہیں لہٰذا طالبان خان کو وزیر اعظم بنا کر بھارت سے لڑائی والا ماحول رکھا جائیگا۔ اب جبکہ بھارت بار بار پاکستان کی مذاکرات کی دعوت کو رد کر رہا ہے تو اس میں بھی پاکستان کی ہی خامی نکالی جارہی ہے۔ یہ بتانے کا کوئی تکلف نہیں کر رہا کہ ان احباب کے تجزیوں کے برخلاف عمران خان ، بھارت دشمنی کے انگاروں کو مزید بھڑکانے کے بجائے ان پر پانی کیوں ڈال رہا ہے اور ان احباب کے تجزیات کی قلعی کیوں اتار رہا ہے۔ یعنی پھٹا پوسٹر نکلا زیرو ۔

حقیقت یہ کہ ہمارے ہاں کے اکثر پڑھے لکھے لوگوں نے پاکستان کا بھارت کے سامنے ایک معذرت خواہانہ اور شرمسار قسم کا کردار ہی قوم کے سامنے رکھا ہے اس لئیے بعض اوقات بھارت کا منفی کردار بھی پاکستان کا منفی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی رکنیت کا دعویدار بھارت امن سے بھاگ رہا ہے اور دنیا بھی امریکی اثر و رسوخ کمزور ہونے سے بھارت کو باتیں بھی سنا رہی ہے۔

دہلی کو ریپ کنگڈم جیسے القابات سے نوازا جا رہا ہے۔ ہمیشہ سے خاموش اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی پچھلے دنوں چپ کا روزہ توڑا اور اپنی رپورٹ میں کشمیر میں بھارت افواج کے مظالم کا ذکر کیا ۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم پر آوازیں بھی آٹھنے لگی ہیں ۔ ادھر افغانستان اور ایران میں بھارت کی اربوں کی سرمایہ کاری ڈوب گئی امریکی پابندیوں کے سببب چاہ بہار ٹھپ ہو کر رہ گیا، افغانستان کے امن عمل میں بھی بھارت ایک اجنبی کی طرح کھڑا ہے جبکہ افغانستان میں کوئی بھی نکاح ہو یا طلاق، امن کی کنجی پاکستان کے پاس ہے۔

خلیجی ممالک میں بھی ایک دفعہ پھر پاکستان کی عزت بڑھتی نظر آرہی ہے اور عمران خان کا سعودیہ کے دورے کے دوران حرمین شرفین کے دفاع کا عزم دہرانے کے ساتھ ساتھ امت کے اتحاد کے لئیے آپس کے اختلافات مٹانے کا مشورہ دینا پاکستان کے اسی بلند ہوتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔ اللہ تعالی ہمارے ملک کو اتنا استحکام اور مضبوطی عطا کرے کہ ہم چین کی مدد کی محتاجی سے بھی نکلیں اور اپنے فیصلے سو فیصد اپنی مرضی سے کریں ۔ تب تک کے لئیے اقبال کا یہ شعر

ملت کے ساتھ اپنا رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اور امید بہار رکھ


فرحان شبیر طویل عرصہ سے الیکٹرانک میڈیا میں نیوز اور پروگرام اینکر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے اور بسلسلہ روزگار لاہور میں مقیم ہیں۔ ماسٹرز ان پیٹرولیم ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود مطالعہ کتب کے عادی اور علم و تاریخ سے شغف ہے۔ دانش کے قارئین اب انکی تحاریر مستقل طور پہ پڑھ سکیں گے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: