ایرانی فلمیں: نظر، دل کی حیات جاودانی —— قدسیہ جبیں

0
  • 27
    Shares

یہ بہرحال پرانا قصہ ہو چکا کہ جب بھی ہم اپنے طالبعلموں سے انکے ذوق مطالعہ کی جانچ کو پوچھ بیٹھتے کہ آپ کس قسم کی کتب پڑھتے ہیں فوراً سے پیشتر جواب وارد ہو جاتا ’’اسلامی کتابیں‘‘۔ یقیناً اس میں ہمارے اسلامیات کی استانی ہونے کے رعب کا دخل ہو گا۔

اب جو ’’اسلامی کتابوں‘‘ کی تفصیل سامنے آتی وہ عموما ’’سو اقوال زریں، موت کا منظر اور کچی روٹی پکی روٹی‘‘ کے قبیل پر مشتمل فہرست ہوا کرتی۔ مگر جب ہم سے استفسار پر انہیں ناول اور افسانہ کا نام سننا پڑتا تو جھٹ ’’اسلامی کتابوں‘‘ سے انتقال فرماتے ہوئے ’’اسلامی ناولوں/ کہانیوں‘‘ پر آ جاتیں۔

مگر یہ فلم اور ڈرامہ اور اسلامیات کی استانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توبہ توبہ !

آخر ایسا کیوں ہے کہ بچیاں اسلامیات کی استانی کے سامنے افسانے اور کہانی کا نام لیتے ہوئے تو گھبراتی ہی ہیں مگر اسکے منہ سے فلم و ڈرامے کا نام۔ سن کر ذومعنی نظروں سے میں اک دو جے کی جانب دیکھتی اور کانوں کو ہاتھ لگاتی ہیں۔ یقینا اس میں دین کی نہایت محدود تصویر پیش کرنے والے مذہبی پیشواوں کی کوتاہیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اسکے ساتھ ساتھ عوام کیلیے ان ذرائع سے پیش کردہ ’’ سستی، غیرمعیاری اور غیراخلاقی تفریح’’ کا کردار بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

فلم اور ڈرامہ نہ صرف عوام الناس کی ذہن سازی کرتا اور ان میں بہتر ذوق کو پروان چڑھانے کا موثر ترین آلہ ہے بلکہ یہ دنیا بھر تک آپ کے قومی تشخص ، افکار و خیالات ، تہذیبی اور ثقافتی روایات کو موثر انداز میں پیش کرنے کا ایسا ہتھیار ہے جس سے آپ دنیا بھر کے انسانوں کے ساتھ غیر محسوس انداز میں سفارتی تعلقات استوار کر لیتے ہیں۔

ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو امام خمینی نے اس ضمن میں انتہائی فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو حیران کر دیا۔ انہوں نے فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں اپنی روایات اور تہذیب کے ساتھ وابستہ نظریات کو دنیا بھر میں پیش کرنے اور روایتی ایران کا چہرہ دکھانے کی خصوصی ہدایات کے ساتھ حکومت کی جانب سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

فلم اور ڈرامہ نہ صرف عوام الناس کی ذہن سازی کرتا اور ان میں بہتر ذوق کو پروان چڑھانے کا موثر ترین آلہ ہے بلکہ یہ دنیا بھر تک آپ کے قومی تشخص ، افکار و خیالات ، تہذیبی اور ثقافتی روایات کو موثر انداز میں پیش کرنے کا ایسا ہتھیار ہے جس سے آپ دنیا بھر کے انسانوں کے ساتھ غیر محسوس انداز میں سفارتی تعلقات استوار کر لیتے ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ ایران کے مشہور انقلاب کے بعد ایرانی سینما میں بڑی تبدیلیاں آئیں ۔ موضوعات میں تنوع کے ساتھ ساتھ معیار بلند ہو اور ایرانی سینما کو دنیا بھر کے بہترین سینماوں میں شمار کیا جانے لگا۔

ہمارے ہاں کچھ ثقافت و کلچر کی ہم آہنگی ، کچھ زبان اور کچھ وہی ہلکے ذوق کی بدولت بھارتی فلمی صنعت کا ڈنکا بجتا ہے ۔جو ساری کی ساری میری نظر میں کمرشل ہے اور عوام عام طور پر لفظ ’’فلم‘‘ کو پاکستانی یا بھارتی فلم کے تناظر میں دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔

انگریزی فلم میں بھی اگرچہ غالب تہذیب ہونے کے ناطے بڑا تنوع اور رنگا رنگی ہے اور بہت معیاری اور بھلی چیزیں مل جاتی ہیں ۔ لیکن کسی خاص تناظراور تہذیبی یا تاریخی پس منظر پر مبنی فلم کے علاوہ انسانی مشترکات کے ساتھ ساتھ کلچر کا فرق بہرحال موجود رہتا ہے۔

ایسے ہی جیسے ، ہم جیسے پنجابی ہنری سلاسر کو پڑھنے کے لطف بعد تشنگی تو احمد ندیم قاسمی اور پریم چند کو پڑھ کر مٹاتے ہیں۔

چند احباب کا خیال تھا کہ اچھی، ستھری اور معیاری شے کی ترویج اور تعارف ہونا چاہیے اسی فرمائش اور ضرورت کے پیش نظر ایرانی سینما سے مستفاد چند ایسی ایرانی فلموں (جنہیں آپ انگریزی سب ٹائٹل یا اردو ڈبنگ کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں) کی فہرست اور تعارف پیش خدمت ہے جنہیں دیکھ کر یقینا آپ ” فنون لطیفہ” کی کئی جہات سے واقف ہونگے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ میڈیا سے وابستہ اہل ذوق اس جانب توجہ کریں اور ایرانی فلموں کے اردو سب ٹائٹل اور ڈبنگ پر کام کرنے کی طرف پیش رفت کا آغاز ہو۔ موضوع، عکس بندی، مکالمہ اور خاموشی سب میں معانی اور مفاہیم کی کئی کئی پرتیں ہیں۔ جو آپ کی فکر و نظر کو سوچنے سمجھنے اور تخلیق کرنے کے نئے جہتوں سے ضرور روشناس کروائیں گی۔

آزمائش شرط ہے۔ تو لیجیے! بسم اللہ کرتے ہیں۔

1۔ cow (گاو) 1969

دریش مہر جوئی کی زیر ہدایت غلام حسین سعیدی کی لکھی ہوئی کہانی پر اس فلم کو تیار کیا گیا۔
ایرانی سینما میں پرانی ڈگر سے ہٹ کر نئی ابھرنے والی لہر میں اس فلم کا کردار بہت اہم ہے۔
فلم کی کہانی ایک سادہ دیہاتی شخص کے گرد گھومتی ہے جس کی محبتوں اور توجہ کا مرکز اسکی واحد ملکیت گائے ہے جو ایک بار اسکی غیر موجودگی میں مر جاتی ہے۔ دیہاتی کی زندگی کا محور چھن جانے پر اسکی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کی بہت ہی اثر پذیر داستان۔
کہتے ہیں کہ امام خمینی نے اسی فلم کو دیکھنے کے بعد فلمی صنعت کی اہمیت کو محسوس کیا اور اس جانب خصوصی توجہ دی۔
فلم کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ جیت چکی ہے۔
اور یوٹیوب پر انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ دیکھنے کو میسر ہے۔

2۔ Blackboard ( تختہ سیاہ) 2000

سمیرا مخملباف کی ہدایتکاری اور اسکے باپ محسن مخملباف کے لکھے انتہائی سادہ اور جاندار مکالمے کے ساتھ تیارکردہ فلم کا پس منظر ایران عراق جنگ ہے۔ جب عراق حکومت نے ایران کے بارڈر پر واقع کردی شہر ہبلجہ پر کیماوی بمباری کے ذریعے انہہں ہلاک کرنے کی کوشش کی تو کرد باشندےایران کے سرحدی علاقوں میں پناہ گزین ہو گئے۔ ایران عراق بارڈر پر بھٹکتے ان کردی باشندوں کی کہانی جن میں ایرانی کردی استاد اپنی بھوک مٹانے کو تختہ سیاہ اپنی پشت سے باندھے شاگرد تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ سمگلر بچے خچر بنے اپنی کمر کو سامان سے لادے سرحد پار کرنے کو پر تول رہے ہیں اور بہت سے بوڑھے کرد مردوں کا ریوڑ واپس اپنے گاوں جانے کے لیے بارڈر کی جانب کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ یہ فلم بلاشبہ ندرت خیال اور فطری مکالماتی بہاو کا تخلیقی شاہکار ہے۔ انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ دستیاب ہے۔

3۔ where is friend’s home (خانہ دوست کجاست) 1987

عباس کیارستمی کی وہ پہلی کاوش ہے جس کی بنا پر وہ عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوا۔
کہانی ایک بچے کی وفا اور اخلاص کی داستان ہے جس کے بستے میں غلطی سے اپنے ہم جماعت دوست کی نوٹ بک آ جاتی ہے اسے خدشہ ہے کہ دوست سکول سے ملنے والا کام نہ کر سکا تو فیل ہو جائے گا یا سکول سے نکال دیا جائے گا۔ اسی ڈر سے وہ ساتھ والے گاوں میں اپنے دوست کا گھر تلاش کر نے جاتا ہے انتہائی فطرہ رچاو سے مزین یہ فلم دیکھنے والے کو خلوص و محبت کے جذبات سے بھر دیتی ہے۔

فلم کی خاص بات اس میں ہیرو بچہ اور اسکا دوست ہے جو اداکاری کے شعبے سے باقاعدہ وابستہ نہیں ۔ بلکہ ایران کے سرحدی گاوں کوکر سے تعلق رکھنے والے دو دیہاتی بچے ہیں جنہوں نے واحد اسی فلم میں عباس کے لیے کام کیا۔
عباس کی بعد میں آنے والی دو مزید ایوارڈ یافتہ فلمیں Life and nothing more اور Through the olive trees بھی اسی گاوں کوکر میں بنائی گئیں ۔ اور اسی فلم کا ضمیمہ ہیں۔ یوٹیوب پر انگریزی سب ٹائٹل موجود نہیں ہیں ۔ مگر فلم میں مکالمہ اور گفتگو بہت تھوڑی ہے زیادہ تر مفہوم خاموش عکاسی سے منتقل کیا گیا ہے آپ اسے فارسی میں دیکھ کر بھی لطف اٹھا سکتے ہیں ۔

4۔ life and nothing more (زندگی و دیگر ہیچ) 1992۔

عباس کیارستمی ہی کی ڈاکیوفکشن فلم ہے۔
جو ایران میں بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے زلزلے کے بعد ایک فلمکار باپ اور اسکے کمسن بیٹے کے سفر کی داستان ہے جو وہ ” خانہ دوست کجاست ” میں کردار ادا کرنے والے بچے کی سلامتی اور اسکے خاندان کو زلزلہ زدگان کے بیچ تلاش کرنے کیلیے کرتے ہیں ۔ قدرتی مناظر اور سادگی و پرکاری لیے ایرانی ثقافت و روایات پر مبنی یہ فلم بھی قابل دید ہے۔

5۔ Children of heaven (بچہ ہائے آسمانی) 1997

ایرانی فلمی صنعت سے وابستہ کچھ لوگ فنی معیار کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ عباس کیارستمی ، مجید مجیدی، اصغر فرہادی اور جعفر پناہی ایسے ہی چند مستند نام ہیں۔
دو بہن بھائیوں کی کہانی جن میں سے ایک کے سکول کے جوتے گم ہو جاتے ہیں۔ نادار والدین کا خیال رکھتے یہ بچے اپنی زندگی کے اس مسئلے سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔
فلم بے شمار بین الاقوامی ایوارڈ جیت چکی ہے جن میں سے ایک غیرملکی زبانوں میں پیشکردہ فلموں میں سے سب سے بہترین کا ایوارڈ بھی ہے۔

یہ فلم آپ اردو /ہندی ڈبنگ کے ساتھ بھی دیکھ سکتے ہیں ۔

6۔ Hayat (حیات)

بچوں کیلیے تیارکردہ فلم ہے ایک دیہاتی بچی جسے پرائمری کا امتحان پاس کر کے ہائی سکول میں جانا ہے عین امتحان کے دن اسکے والد بیمار پڑ جاتے ہیں ۔ والدہ دو چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکے سپرد کر کے علاج کے لیے شہر چلی جاتی ہے ۔ مگر امتحان دینے کی خواہش ایک قوت بن کر اس کو اپنی شیر خوار بہن کے ساتھ کمرہ امتحان تک لے جاتی ہے۔

اردو ہندی ڈبنگ میں بچوں کے ساتھ دیکھیے۔ اور لطف اٹھائیے

7۔ Colours of paradise (رنگ خدا) 1999

مجید مجیدی کی یہ فلم رنگ و نغمہ کا خوبصورت امتزاج ہے ۔ایک اندھے بچے کی کہانی جسکی ماں مر چکی ہے اور باپ اسے بوجھ سمجھ کر تہران میں واقع سکول کی بورڈنگ میں داخل۔کروا آتا ہے دور دیہات میں کھیتوں میں بنے اسکے گھر میں اسکی دادی اور بہنیں ہر روز اسکے آنے کا انتظار کرتی ہیں ۔
فلم غم ، خوشی ، زندگی کے اتار چڑھاو اور محروم بچوں کے جذبات کا بہت عمدہ بیان ہے۔ اور ظاہر ہے ایوارڈ یافتہ ہے ۔ انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ موجود ہے۔

8۔ Bashu the little stranger (باشو، غریبہ کوچک) 1986

بہرام بیضاوی کی تیار کردہ یہ فلم بھی ایران عراق جنگ کے پس منظر میں ہے ایک ایفرو ایرانی بچے کی کہانی جو بمباری میں تباہ ہونے والے گھر اور ہلاک شدہ والدین کو چھوڑ کر سامان سے بھرے ایک ٹرک میں وہاں سے چھپ کر بھاگتا ہے اور ایک سرحدی گاوں کے قریب اتر جاتا ہے ۔ کھیتوں میں کام کرتی ایک خاتون اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ اسے اپنے گھر لے جاتی ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف ہیں ۔ مامتا سے مجبور وہ خاتون اسے گاوں بھر کی مخالفت کے باوجود اپنے پاس رکھتی ہے یہاں تک کہ روزگار کے سلسلے میں باہر گیا ہوا اس کا شوہر بھی پلٹنے پر اسے سخت ناپسند کرتا ہے۔ اجنبی زبان بولنے ولا باشو کیسے انکے دل میں گھر کرتا ہے۔
انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ بہترین ایرانی فلموں میں سے ایک۔

9۔ Turtles can fly (لاک پشت ھا ھم پرواز می کنند) 2004۔

صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد عراقی کردستان کے پس منظر میں بنائی گئی فلم جو جنگ زدہ بچوں کے گرد گھومتی ہے ۔ سیٹلائٹ وہ مقبول ترین بچہ ہے جو پناہ گزین کیمپ میں موجود افراد میں سے ٹیکنالوجی اور انگریزی زبان سے کچھ واقفیت رکھتا ہے۔ اسی بنا پر اسکی اہمیت مسلم ہے ۔
بارودی سرنگیں نکالنے پر مامور کچھ بچے جن میں سے دو بہن بھائی اسکی توجہ کھینچ لیتے ہیں ۔
ایک دلخراش داستان ۔ انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔
میں نے اسے دس بہترین ایرانی فلموں کی فہرست سے منتخب کرکے دیکھا تھا۔

10۔ Taste of cherry (طعم گیلاس) 1997

عباس کیارستمی کے شاعرانہ تخیل اور بہترین فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت۔
عربی سب ٹائٹل کے ساتھ دستیاب ہے۔ مگر کچھ حصے انگریزی کے ساتھ بھی مل جاتے ہیں۔
خودکشی کی نیت سے چلتے ایک شخص کی کہانی جو اپنی قبر پر مٹی ڈالنے والے شخص کی تلاش میں ہے۔

11۔ Baran (باران) 2001

مجید مجیدی کی تیار کردہ فلم افغان پناہ گزینوں کے پس منظر میں ہے جنگ کے نتیجے میں جنم لینے والے المیے ۔۔۔۔

ایرانی ہوٹل میں بغیر پرمٹ کام کرنے والے سستے مزدور اور ایک لڑکی کی کہانی جو اپنے اور کنبے کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے لڑکے کا روپ دھار کر مزدوری کرتی ہے۔

12۔ The wind will carry us (باد ما را خواھد گرد)

عباس کیارستمی کی یہ فلم بھی شاعرانہ خیالات اور تخلیقی مہارت کا بہترین نمونہ ہے۔
شہر سے آئے چند صحافیوں کی کہانی جنہیں گاوں کی زندگی راس آ جاتی ہے۔ فلم کے کچھ حصے ہی انگریزی ترجمے کے ساتھ دستیاب ہیں۔

اس فہرست کا اگلا حصہ بھی جلد پیش کیا جائے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: