شوہروں کی اقسام —- غزالہ خالد

0
  • 68
    Shares

بیویوں کی قسمیں” لکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ مرد حضرات اس آرٹیکل سے کتنا خوش ہوئے ہیں اور کتنے ذوق و شوق سے یہ قسمیں پڑھی ہیں۔ ایک دوسرے سے سوال ہو رہا ہے کہ “ہاں بھئی تمہاری والی کونسی قسم کی ہیں؟” خوب خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ لوگوں کی پسندیدگی کا اندازہ ہوا تو ہم نے سوچا کہ ہم نے تو دل بڑا کر کے اپنی صنف کا مذاق اڑوا لیا اب ذرا ان حضرات کی باری بھی آنی چاہئے۔ ذہن پر زور دے کر سوچنا شروع کیا تو ان کی اتنی قسمیں ذہن میں آنا شروع ہوئیں کہ اگر سب کو لکھ لیا جائے تو مضمون شیطان کی آنت کی طرح طویل ہو جائے لہذا خاص خاص اقسام حاضر خدمت ہیں۔ ویسے ایک بات محسوس کر کے ذرا افسوس بھی ہوتا ہے کہ قارئین زیادہ تر حضرات ہی ہوتے ہیں، خواتین نے مطالعہ کرنا کافی کم کر دیا ہے۔ تو محترم حضرات ہماری آپ سے گذارش ہے کہ مضمون پڑھنے کے بعد ذرا اپنی نصف بہتر کو بھی پڑھوا دیجئے گا تا کہ وہ بھی اپنے والے کو پہچان سکیں اور اگر ہو سکے تو کامنٹ کے ذریعے ہمیں بھی بتا دیں کہ “ان کے والے کون سے ہیں؟”

حاکم شوہر :-
ہر وقت شوہر ہونے کے زعم میں مبتلا اور بیوی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، ایک منٹ بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے، آرڈر، آرڈر، آرڈر اور حکم کی تعمیل ہر ھال میں ہونی چاہئے بے چاری بیوی ہر وقت تگنی کا ناچ ناچ رہی ہوتی ہے، ان کا لہجہ نہائت کھردرا اور کٹیلا ہوتا ہے چہرے پر ہر وقت ایک کھنچاؤ کی سی کیفیت رہتی ہے کبھی کبھی تو باقائدہ ناک سے دھواں نکلتا محسوس ہوتا ہے ان کی بے تکلفی میں بھی ایک تحکم ہوتا ہے اگر بیوی بھی ہم مزاج مل جائے تو گھر میں اکثر میدان کارزار بنا رہتا ہے۔

تاڑو شوہر :-
نام سے کچھ بد تہذیبی ضرور جھلک رہی ہے لیکن ہم بھی مجبور ہیں کیونکہ اس سے بہتر نام ان کے لئے کچھ ہو ہی نہیں سکتا، ہمارے ملک میں سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے دل میں خواہشات کا انبار ہوتا ہے لیکن چونکہ شریف خاندان سے تعلق ہوتا ہے یا فطرتاً کم ہمت ہوتے ہیں اس لئے صرف تاڑنے پر اکتفا کرتے ہیں اور دماغ کو ٹھنڈک، دل کو چین اور نظر کو تراوٹ پہنچاتے رہتے ہیں۔ کھڑکی سے، دروازے سے، چلمن سے، چوبارے سے، کبھی دوبدو، کبھی ظاہر، کبھی چھپ کر غرض خواتین کو تاڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، کالی، گوری، خوبصورت، بدصورت، امیر، غریب سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں تاڑنا ہوتا ہے سو تاڑے چلے جاتے ہیں۔ بیویاں جل جل کر کباب ہوتی رہتی ہیں خواتین کی موجودگی میں ان کی نظریں دوسری عورتوں پر جبکہ ان کی بیگم کی شعلہ بار نگاہیں ان پر جمی ہوتی ہیں۔

بزرگ شوہر :-
جس عمر میں لوگ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد اللہ اللہ کر رہے ہوتے ہیں اس عمر میں یہ شادی کا سوچتے ہیں اور بالوں میں کالا سیاہ خضاب لگا کر ایک کم سن حسینہ کو اپنی پر شفقت پناہ میں لے لیتے ہیں، حسینہ یا تو کوئی مجبور ہوتی ہے یا ان کی دولت سے متاثر ہوتی ہیں یا پھر اس حسینہ کے گھر والے اس کی حرکتوں سے اتنے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں کہ بخوشی ان کا ہاتھ ایک بزرگ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، یہ دوست احباب کو شادی کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے البتہ اگلے سال موتی چور کے لڈو کھلانا نہیں بھولتے اور اس سے پہلے کہ لوگ دادا بننے کی مبارک دیں بڑے فخر کے ساتھ سینہ پھلا کر اپنے باپ بننے کی خوش خبری گوش گذار کر دیتے ہیں۔

کتابی کیڑا شوہر :-
ان کا دیدار کبھی کبھی نصیب ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر یہ آفتاب کسی اخبار، کسی میگزین یا کسی موٹی سی کتاب کے پیچھے غروب رہتا ہے اور بیوی کے سخت واویلا مچانے کے بعد بڑی مشکل سے طلوع ہوتا ہے۔ عینک کے اوپر سے دیکھ کر بات کرتے ہیں اور بات چیت “ہوں، ہاں، اچھا، ٹھیک ہے، کیا کہا؟” سے زیادہ نہیں ہوتی، گھر میں جا بجا ردی پیپر کے ڈھیر پڑے نظر آتے ہیں جسے یہ اپنی متاع حیات قرار دیتے ہیں۔ ٹین ڈبے والے کی آواز سن کر بیویاں اس ڈھیر کو کینہ توز نظروں سے گھورنا شروع کر دیتی ہیں اور کبھی نہ کبھی کوئی سنہرا موقع ملنے پر یہ متاع حیات دس روپے کلو کے عوض ٹھیلے کی رونق بڑھا رہی ہوتی ہے۔

بچہ جمہورا شوہر :-
زیادہ تر گھر داماد ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی نہیں بھی ہوتے، دامے، درمے، قدمے، سخنے، بیوی اور اس کے میکے والوں کی خدمت پر ہر وقت چوکس اور تیار رہتے ہیں، ہر وقت چوکنا رہتے ہیں کہ کب ادھر سے کوئی حکم ملے اور یہ تعمیل کریں اگر” وہ ” کہیں بچہ جمہورا بیٹھ جاؤ یہ بیٹھ جاتے ہیں اگر حکم ملے بچہ جمہورا لیٹ جاؤ یہ فٹا فٹ لیٹ جاتے ہیں، فرمائش ہوتی ہے بچہ جمہورا ناچ کے دکھاؤ یہایک لمحے کی دیر لگائے بغیر سسرال والوں اور بیگم کی انگلیوں پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں، معاشی طور پر سسرال والوں سے کافی کمزور ہوتے ہیں اس لئے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں ہوتی۔ دولت مند سسسرال سے بڑے بڑے پھنے خان اپنی چوکڑی بھول جاتے ہیں۔

نازک شوہر :-
چھلا سی کمر، غنچہ سا دہن رکھنے والے نرم و نازک لڑکی نما ہوتے ہیں، پہلے اماں کے لاڈلے اور پھر بیوی کے راج دلارے بنے رہتے ہیں، گھر سے ذرا باہر نکل جائیں تو تیز ہوا سے چھینکیں آ جاتی ہیں، دھوپ میں پگھلنے کا خطرہ رہتا ہے، ذرا سا وزن اٹھا لیں تو کمر میں چک پڑ جاتی ہے، اپنی جان بہت پیاری ہوتی ہے لہذا معمولی بیماری پر بھی آفس سے چھٹی کرنے کو تیار رہتے ہیں بیگم سے خوب خوب لاڈ اٹھواتے ہیں ذرا سے زکام میں کم از کم ایک ہفتہ بستر پکڑ لیتے ہیں اور اگر خدانخواستہ بخار کی نوبت آ جائے تو پھر تو چھلہ نہائے بغیر آفس نہیں جاتے اور اس کے بعد بھی کئی دن تک گوند مکھانے کھاتے رہتے ہیں۔

پیٹو شوہر :-
یہ زندہ رہنے کے لئے نہیں کھاتے بلکہ کھانے کے لئے زندہ رہتے ہیں ان کے دل کا ہی نہیں بلکہ دماغ کا راستہ بھی پیٹ سے ہو کر گذرتا ہے بیویوں کو طرح طرح کے پکوان بناتے دیکھ کر ان کا ڈھیروں خون بڑھتا ہے اور ان پکوانوں کو کھانے کے بعد سیروں وزن بڑھتا ہے جس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی، زیادہ تر بے ہنگم ڈیل ڈول کے مالک ہوتے ہیں ہر جگہ موٹے سے پیٹ کے پیچھے لڑکھتے پڑکھتے تشریف لاتے ہیں۔ کھاؤ، پیو، موج اڑاؤ پر یقین رکھتے ہیں بیگمات کی تقریباً پوری عمر باورچی خانے میں ہی گذرتی ہے۔

ہیرو شوہر :-
بانکے سجیلے، گورے چٹے، چھیل چھبیلے، دھلے دھلائے الگ ہی نظر آتے ہیں زیادہ تر شوخ رنگوں کی پھول پھول کی شرٹ پہننا پسند کرتے ہیں، جس راستے سے گذر جائیں گھنٹوں خوشبو آتی رہتی ہے، ڈریسنگ ٹیبل ایسی کہ جسے دیکھ کر خواتین بھی دنگ رہ جائیں ان کا زیادہ تر وقت آئینے کے سامنے گذرتا ہے، خوبصورت اور دھیمے لہجے مین بن بن کر بات کرتے ہیں، نفاست پسندی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنے بچوں تک کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے لیکن افسوس کے زیادہ تر کو بیویاں پھوہڑ ملتی ہیں جو جلد ہی ” ہیرو ” کو ” زیرو ” میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

پردیسی شوہر :-
غم روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر رہتے ہیں، بیوی بچے ان کے بغیر رہنے کہ اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر کبھی واپس بھی آنا چاہیں تو بیویاں گانا شروع کر دیتی ہیں کہ بقول شاعر ” ابھی نہ آؤ چھوڑ کر کہ گھر ابھی بھرا نہیں “سال دو سال میں چکر لگائیں تو بیوی بچوں کو پرائے پرائے لگتے ہیں ان کی روک ٹوک گھر والوں کو بالکل پسند نہیں آتی اس لئے ان سے زیادہ ان کے بھیجے ہوئے چیک و تحائف کا انتظار رہتا ہے،

مصروف شوہر :-
بھئی بہت ہی مصروف رہتے ہیں ہر وقت دھن دولت کی دوڑ دھوپ میں مصروف، انکا دماغ ہر وقت دو اور دو چار اور ایک اور گیارہ میں الجھا رہتا ہے ان کے پاس بیوی بچوں کے لئے بالکل وقت نہیں ہوتا ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں شرف ملاقات کبھی کبھی نصیب ہوتا ہے اگر کبھی بھولے سے بیوی کا حال احوال پوچھ لیں تو اس پر شا دی مرگ کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ہاتھ پاؤں مڑ جاتے ہیں اور منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔

دل پھینک شوہر :-
ان میں اور “تاڑو شوہر” میں ایک لطیف سا فرق ہے اور وہ یہ کہ وہ صرف آنکھوں سے کام لیتے ہیں جب کہ یہ کافی با ہمت ہوتے ہیں ڈوروں کا ایک لچھہ ان کے پاس ہوتا ہے جسے یہ وقتاً فوقتاً خواتین پر ڈالتے رہتے ہیں، نہایت رنگین مزاج اور ہتھیلی پر دل لئے پھرتے ہیں، خواتین کی موجودگی میں ان کی چہکاریں اور طبیعت کی جولانی عروج پر ہوتی ہے بتیسی بڑی مشکل سے اندر جاتی ہے، وقت بے وقت کامیڈی بھی کرتے رہتے ہیں چشم ما روشن دل ما شاد کے مصداق ہر آنے والی کے لئے اپنے دل کے دروازے وا رکھتے ہیں۔

ٹڈی پہلوان شوہر :-
پہلوان کیا ہوتا ہے یہ تو آپ سب ہی جانتے ہونگے لیکن ” ٹڈی پہلوان ” کی تشریح ہم کئے دیتے ہیں یہ بہت دبلے پتلے، کانگڑی سے ہوتے ہیں چلیں کوئی بات نہیں اللہ نے جیسا بھی بنا دیا لیکن مزے کی بات یہ کہ اپنے آپ کو کسی سورما سے کم نہیں سمجھتے، غصہ ناک پر دھرا رہتا ہے ہر کسی کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کو تیار رہتے ہیں، جھگڑا کسی کا بھی ہو یہ ضرور پنگا لیں گے سامنے والا اگر تگڑا ہو تو بیوی کے پیچھے چھپ چھپ کر چلاتے ہیں اور جب چیخ چیخ کر سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگے تو نڈھال ہو کر بستر پر پڑ جاتے ہیں اور بار بار بیوی سے کہتے رہتے ہیں ” وہ تو تم نے مجھے روک لیا ورنہ میں اس کاخون کردیتا “۔

ہرجائی شوہر :-
ہیرا پھیری میں ماہر ، بے وفا اور جھوٹ بولنے کے چیمپئن ہوتے ہیں، موج میلہ بہت پسند ہوتا ہے ان کے کارنامے ادھر ادھر سے سننے کو ملتے رہتے ہیں زیادہ تر بیویوں کے پاس صبر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا اسلئے وہ بڑھاپے کا انتظار کرتی ہیں کیونکہ انہوں نے سنا ہوا ہوتا ہے کہ “وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا “تو جب یہ لوٹ کر بڑھاپے میں ان کے پاس آتے ہیں تو وہ بھی ان کا ایسا حشر کرتی ہیں کہ اگلے پچھلے سارے حساب برابر ہوجاتے ہیں۔

کنجوس شوہر :-
دانتوں سے پکڑ پکڑ کر پیسہ خرچ کرتے ہیں شادی بھی شائد اسلئے ہی کرتے ہیں کہ بہت سے نوکروں کا کام ایک ہی بیوی سے مفت میں کروایا جاسکے اگر بیوی کبھی شاپنگ پر جانے کا کہہ دے تو لے تو ضرور جاتے ہیں لیکن صرف ونڈو شاپنگ کروا کے واپس لے آتے ہیں، بیوی کے ساتھ باہر جاتے وقت جیب میں پیسہ بلکل نہیں رکھتے ان کا اصول ہوتا ہے کہ “ناں جیب میں پیسہ ہوگا نہ خرچ ہوگا “لہذا بیویاں ہر چیز کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتی ہیں، قیمت پوچھتی ہیں، شوق اگر حد سے بڑھ جائے تو چیز کو چھو بھی لیتی ہیں اور پھر دل مسوس کر واپس آجاتی ہیں۔

نکھٹو شوہر :-
ہر وقت پلنگ توڑتے ہیں یا بیمار بننے کی ایکٹنگ کرتے رہتے ہیں۔ بیوی کماتی ہے اور یہ مزے سے کھاتے ہیں، بیوی کی کمائی پر عیش کرو مزے کرو کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں لمبی لمبی چھوڑنے کی بھی عادت ہوتی ہے۔ موج مستی میں بھی خوب دل لگتا ہے صرف کام کا سن کر جان جاتی ہے اور کبھی طبیعت بھی خراب ہوجاتی ہے جو بیوی کے بہت ناز اٹھانے اور اچھا خاصا جیب خرچ اینٹھنے کےبعد ٹھیک ہوتی ہے۔

سگھڑ شوہر :-
امور خانہ داری میں ماہر اور گھریلو کام کاج میں طاق ہوتے ہیں ان کی اماں کی ٹریننگ انکی بیوی کے کام آتی ہے لیکن ساس کو دعائیں وہ پھر بھی نہیں دیتیں، صبح اٹھ کر بیگم کو بیڈ ٹی بنا کر دینے سے لیکر گھر کا سودا سلف لانا، بچوں کی فیڈر بنا کر دینا ان کے ڈائیپرز چینج کرناغرض ہر کام خوشی خوشی کرتے ہیں اور حیرت کی بات یہ کہ اس کے ساتھ ساتھ دفتر کی ذمہ داریاں بھی خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں۔ محفلوں میں بچے سنبھالتے بھی نظر آتے ہیں ان کی بیوی ساری عمر سکھ شانتی سے گذارتی ہے۔

ساس نما شوہر :-
کڑوی کسیلی اور طنزیہ گفتگو کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، بیوی کے ہر کام کو تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ زبان سے جملے نہیں بلکہ تیر نکلتے ہیں جو جاکر کھٹاک سے بیوی کے دل میں پیوست ہوجاتے ہیں۔ بیویاں شکر کرتی ہیں کہ خدا نے انہیں عورت نہیں بنایا ورنہ نجانے کتنوں کے سینے پر مونگ دلتے، اگر ساس داغ مفارقت دے چکی ہوتی ہیں تو بیگم کو ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔

شرمیلا شوہر :-
نہائت کم اعتماد اور تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ خواتین کو دیکھ کر ان کی روح فنا ہوجاتی ہے گھبراہٹ میں عجیب مضحکہ خیز حرکتیں سر زرد ہوتی ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ آنچل ہو اور وہ اوئی اللہ کہہ کر اس میں منہ چھپالیں، بچپن اماں کی گود اور جوانی بیوی کی اوٹ میں چھپ کر گذار دیتے ہیں۔ محفلوں میں بیوی کے پاس گھسے بیٹھے نظر آتے ہیں کسی سے بات نہیں کرسکتے اس لئے بے وقوفوں کی طرح مسکرا مسکرا کر سب کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کے گھر کا دروازہ بجانے پر ہمیشہ ان کی بیوی ہی دروازہ کھولنے آتی ہے شائد یہ بیل کی آواز سن کر ہی کسی پردے کے پیچھے غائب ہوجاتے ہیں۔

جنتی شوہر :-
ہم گناہ گاروں کی اتنی مجال کہاں کہ کسی کو جنت کی بشارت دے سکیں لیکن تمام شواہد کی روشنی میں سو فیصد کہا جاسکتا ہے کہ یہ انشا اللہ العزیز جنت میں ہی جائیں گے کیونکہ ان کے گناہوں کی سزا بیوی کی صورت میں انہیں دنیا میں ہی مل چکی ہوگی، گائے کی طرح سیدھے سادھے اور معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ نہائت صابر و شاکر بھی ہوتے ہیں ساری زندگی بیوی کی کڑوی کسیلی باتوں اور کبھی کبھار تو ایک آدھ جھا نپڑ کھاکر بھی ایک لفظ زبان سے نہیں نکالتے، بیوی کے سوالاً جواباً سے ایسی ٹریننگ ہوچکی ہوگی کہ منکر نکیر کے سوالات کے فرفر جواب دے دیں گے، نجانے کیوں ہمیں یقین ہے کہ میدان حشر میں جب ہر طرف افرا تفری، نفسا نفسی اور ہنگامہ ہوگا تب بھی ان کے چہرے کا اطمینان قا بل دید ہوگا کیونکہ ساری عمر گھر نے میدان حشر کا نقشہ ہی پیش کیا ہوگا اس لئے انہیں کچھ بھی نیا نہیں لگے گا دنیا کی زندگی بھی پل صراط پر چلنے سے کم نہیں گذاری ہوگی اسلئے مزے سےاچھلتے کودتے پل صراط بھی پار کرجائیں گے اور دیکھ لینا جنت میں ہی جائیں گے۔

بیویوں کی اقسام پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: