ماہنامہ پیام: محرم کے شمارہ پر تبصرہ‎ — ڈاکٹر عرفان شہزاد

0
  • 33
    Shares

ماہنامہ پیام اکتوبر 2017 میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کی مختلف توجیہات پر مشتمل آرا پر تبصرہ
محترم جناب ثاقب اکبر کی سربراہی میں علم و تحقیق سے وابستہ ادارے، ‘البصیرہ’ کے زیر اہتمام ماہنامہ ‘پیام’ شائع ہوتا ہے جس کا شمارہ اکتوبر 2017 ماہ محرم کے حوالے سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور واقعہ کربلا کے موضوع پر عمدہ مضامین کے ایک انتخاب پر مشتمل ہے۔ وحدتِ امت کی پالیسی کو بخوبی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ شمارے میں اہل سنت سمیت دیگر مکاتب فکر کے اکابرین اور معاصر علما کے مضامین کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

واقعہ کربلا تاریخِ اسلام کا المناک باب ہے۔ خاندانِ نبوت کی اس مظلومانہ شھادت پر ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کا دل ہمیشہ غم زدہ رہے گا۔ اس واقعہ نے مسلمان امت کی نفسیات اور ان کے علوم و ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کی عالمگیر تاثیر اس بات کی متقاضی ہے کہ قرآن مجید کی اساسی، ابدی ہدایات اور تاریخ کے مسلّمات کی روشنی میں اس کا درست تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ مسلم اذہان اس کے مضمرات سے واقف ہو سکیں اور دین کی روشنی میں اپنے لیے درست لائحہ عمل اختیار کر سکیں۔

ماہنامہ “پیام” کے اس شمارے میں مختلف علما کی طرف سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یزید بن معاویہ کے خلاف اقدام کی مختلف توجیھات پیش کی گئی جن میں کچھ باہم متضاد بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ان سطور میں ان میں سے چند نمایاں آرا پر تبصرہ پیش کرنا مقصود ہے۔ درج ذیل چھ آرا تبصرے کے لیے منتخب کی گئی ہیں:

‌أ. حضرت حسین نے مقاصدِ شریعت: دین، نفس، مال، عقل اور ناموس کی حفاظت کے لیے اپنی جان دی۔ یزید کے دور میں بنو امیہ ان اقدار کو پامال کر رہے تھے۔ ۔ یزید کا طریقہ تخت نشینی حضرت امام حسین کا مورد تنقید نہیں رہا۔ (واقعہ کربلا کے کلامی پہلو از ڈاکٹر محسن نقوی)‌

ب. حضرت حسین نے اسلامی سیاسی نظام میں جانشینی کی راہ سے در آنے والی ملوکیت کی بدعت کو روکنے کی کوشش میں اپنی جان قربان کی۔ (مولانا مودودی) (شھادت امام حسین، چند اکابر کی نظر میں از جناب ثاقب اکبر صاحب)‌

ج. حضرت حسین کے اقدام کی وجہ کتاب و سنت کے قانون کو صحیح طور پر رواج دینا، اسلام کے نظامِ عدل کو از سرِ نو قائم کرنا تھا، آپ کا اقدام خلافت کی بجائے ملوکیت کی بدعت کے خلاف جہاد تھا۔ (مفتی شفیع) (شھادت امام حسین، چند اکابر کی نظر میں از جناب ثاقب اکبر صاحب)‌

د. حضرت حسین کا خروج فاسق اور جابر حکمران کے خلاف کامیابی کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہی لحاظ سے درست اقدام تھا۔ (خروج کے جواز پرڈاکٹر محمد مشتاق کی رائے کا اطلاقی نتیجہ۔ یہ نتیجہ ڈاکٹر مشتاق نے خود نہیں نکالا، تاہم محرم کے پیام کے اس شمارہ میں خروج کے جواز پر مبنی ان کی مضمون سےبدیہی طور پر اخذ ہوتا ہے۔) (ظالم، یا غاصب حکمران کے خلاف خروج کا مسئلہ از ڈاکٹر محمد مشتاق)‌

ه. حضرت حسین، یزید کی جبری بیعت سے بچنا چاہتے تھے، بیعت نہ کرنے کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ لاحق تھا۔ چنانچہ آخری چارہ کار کے طور پر اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر آپ نے یزید کے خلاف اقدام کیا۔ (مفتی امجد عباس)‌

و. حضرت حسین کا ارادہ مسلّح تصادم کا نہ تھا۔ آپ اہل کوفہ کے اصرار پر نظامِ اقتدار سنبھالنے جا رہے تھے۔ اس کام کو آپ نے اپنی شرعی ذمہ داری سمجھا۔ (اقدام امام حسین، موجودہ بغاوتیں اور ہمارے دانشور از ڈاکٹر شہباز منج)

ان آرا پر ایک ایک کر کے ہم اپنا تبصرہ پیش کرتے ہیں۔
پہلی رائے ڈاکٹر محسن نقوی صاحب نے اپنے مضمون “واقعہ کربلا کے کلامی پہلو” میں اختیار کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق، حضرت حسین نے مقاصدِ شریعت: دین، نفس، مال، عقل اور ناموس کی حفاظت کے لیے اپنی جان دی۔ یزید کے دور میں بنو امیہ ان اقدار کو پامال کر رہے تھے۔ یزید کا طریقہ تخت نشینی حضرت حسین کا موردِ تنقید نہیں رہا۔ وہ لکھتے ہیں کہ خدا کے کسی نبی نے کسی حاکمِ وقت کے طریقہ تقرری پر تنقید نہیں کی، بلکہ وہ ایمان و عمل کے بگاڑ پر بات کرتے تھے، یہی وارثِ انبیاء، حضرت حسین نے کیا۔ ان کے مطابق جو کچھ پیش آیا وہ حاکمِ وقت کے کسی عمل کا رد عمل نہیں تھا، بلکہ حضرت حسین کے “عمل کا رد عمل تھا”۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: “امام حسین علیہ السلام نے مدینہ میں طلبِ بیعت سے قبل سے لے کر مقامِ شہادت پر فائز ہونے تک یزید کے سریر آرائے سلطنت ہونے پر گفتگو کرنے کی بجائے ان پانچوں مقاصدِ شریعہ کی زبوں حالی کو بار بار بیان کیا ہے، جس کی بناء پر معاشرے قائم رہتے یا پھر برباد ہو جاتے ہیں۔”
اس کے برعکس مولانا مودودی کے نزدیک حضرت حسین کا اقدام بنیادی طور پر، اسلام کے سیاسی نظام میں یزید کی جانشینی کی صورت میں در آنے والی ملوکیت کی بدعت کو روکنا تھا، یعنی طریقہ تخت نشینی اصلا مورد تنقید تھا اور اسی راہ میں انھوں نے جان دی۔ ان دونوں آرا میں بنیادی نوعیت کا اختلاف ہے۔

اس معاملے کو انبیا کے اسوہ کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے انبیا کی دعوت اور اصلاحی تحریکوں کا مقصد ایمان باللہ اور آخرت کی بنیاد پر نفوس کا تزکیہ اور اصلاح ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ جاتا ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے دعوت ایمان او اصلاح اور اتمام حجت کے دوران اپنی انفرادی میں یا جتھہ بندی کرکے ہتھیار اٹھانا ان کی پالیسی میں شامل نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین و اصلاح کے دوران وہ خود ہتھیار اٹھاتے ہیں نہ اپنے پیروکاروں کو ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ حتیٰ کے دور جبر کی انتہا پر اپنے اور اپنے پیروکاروں کے دفاع میں وہ ہجرت کر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں پاتے۔ البتہ جب اپنی دعوت کے نتیجے میں کسی خطہ زمین پر انھیں ریاست و اقتدار کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے تو ریاستی طاقت کے بل بوتے پر اپنے خلاف جارحیت سے دفاع کا حق انھیں حاصل ہو جاتا ہے۔ اس ریاستی طاقت کے حصول کے بعد وہ ان لوگوں کے خلاف اقدامی طور پرقتال بھی کرتے ہیں جو جبر کی راہ سے افراد کے عقیدہ اختیار کرنے کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ڈالے ہوئے ہوں۔ قرآن اس جبر کو فتنہ یعنی persecution کہتا ہے اور اس کے خاتمے تک لڑنے کا حکم دیتا ہے:

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا (سورہ النسا، 4:75)
(ایمان والو)، تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں کہ پروردگار، ہمیں ظالموں کی اِس بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہمدرد پیدا کر دے اور اپنے پاس سے حامی اور مددگار پیدا کر دے۔

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (سورہ البقرہ، 2:193)
اور تم یہ جنگ اُن سے برابر کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (اِس سر زمین میں) اللہ ہی کا ہو جائے۔ تاہم وہ باز آ جائیں تو (جان لو کہ) اقدام صرف ظالموں کے خلاف ہی جائز ہے۔

تیسرے اور آخری درجے میں وہ آگے بڑھ کر خدا کے ان دشمنوں کے خلاف جنگی اقدام کرتے ہیں، جن پر برسوں کی دعوت ایمان اور اصلاح کے بعد اتمامِ حجت ہو جاتا ہے اور خدا کے علم کی روشنی میں بتا دیا جاتا ہے کہ ان کی اصلاح کی امید باقی نہیں رہی، ان کے مٹ جانے کا وقت آ گیا ہے:

فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (سورہ التوبہ، 9:5)
(بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے) اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔

حضرات انبیا میں سے جو رسول ہوئے ان کے ہاں دعوت، ہجرت اور قتال کے یہ مراحل پائے جاتے ہیں۔ بعض رسولوں کے ہاں پہلے دو مراحل کے بعد قتال کا مرحلہ نہیں آنے پایا، ان کے منکرین قدرتی طاقتوں کے عذاب سے نیست و بابود کیے گیے۔ محمد رسول اللہ ﷺ دور میں یہ تمام مراحل مکمل ملتے ہیں، اس آخری مرحلے کا احوال سورۃ توبہ میں ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔

جہاں تک معاملہ کسی مسلم سماج کے اندر اصلاح کے لیے ہتھیار اٹھانے کا ہےتو اس کی کوئی ایک بھی نظیر انبیا کے اسوہ میں موجود نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کے انبیا کا اسوہ اس میں واضح ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں کفار کے خلاف ان کے انبی اور ملوک نے جہاد کیا وہاں بنی اسرائیل کے اندرونی سماج کے غیر صالح مگر مومن بادشاہوں، جو ان کی دینی اقدار ملیا میٹ کرنے کے درپے تھے کے مقابل ان کے انبیا انھیں وعظ و نصیحت اور کلمہ حق کی ادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے، چاہے اس میں ان کی جان ہی چلی جاتی، حضرت زکریا، یحیی، اور عیسی علیھم السلام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھی یہی ہدایت ہم تک پہنچی ہے کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کی ادائیگی کو ہی سب سے افضل جہادہے۔ فرد کا جہاد یہی ہے۔ آپ کی طرف سے یہ حکم بلکہ اجازت بھی نہیں دی گئی کہ فرد ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھالے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

دعانا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فکان فیما اخذ علینا ان بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرھنا و عسرنا و یسرنا واثرۃ علینا. ان لا ننازع الامر اھلہ، قال: إلا ان تروا کفرا بواحا، عندکم من اللّٰہ فیہ برھان.(بخاری، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الامارہ)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ ہم ہر حالت کے لیے سمع و طاعت کی بیعت کریں کہ نرمی و جبر، تنگی و فراخی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیے جانے (کے باوجود بھی حکمران کی اطاعت سے نہیں نکلیں گے)، اور نہ ان سے جھگڑا کریں گے۔ فرمایا کہ صرف (اس صورت میں تم حکمران کی اطاعت سے نکل سکتے ہو) کہ تم کوئی صریح کفر اس کی طرف سے دیکھو، جس کے بارے میں تمھارے پاس اللہ کی واضح حجت ہو۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کربلا: اسلامی تاریخ کا سیکولر مخالف حوالہ — عزیز ابن الحسن

 

یہاں کفر و عصیان کے معاملے میں ان کی اطاعت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت یا حکم۔ حضراتِ انبیا کے اس اسوہ کی روشنی میں حضرت حسین کے اقدام کا جواز صرف اس صورت میں بن سکتا ہے کہ یہ متحقق ہو کہ یزیدحکومت کی طاقت کی راہ سے دینی معاملات میں جبر کا مرتکب ہو رہا تھا۔ یعنی عوام کواسلام قبول کرنے یااس پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ اس لحاظ سے اس کی بیعت کفر پر بیعت کرنے کے مترادف ہوتی۔ اس بنا پر حضرت حسین سے بیعت لینے کا جبر، فتنہ یعنی persecution کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ دوسری شرط اس می یہ ہے کہ حضرت حسین کو اہل عراق کی تلواروں کی صورت میں ریاست و اقتدار مل جاتا، جس کی انھیں توقع تھی، یوں ان کے اقدام کا جواز بن سکتا ہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ کیا یزید کے دور میں ہونے والے حکومتی ظلم اور جبر کو کفر اور نفاذِ کفر قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر یہ ثابت ہو سکے تو امام حسین کے اقدام کا جواز تو ایک حد میں ثابت ہو جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ صحابہ کی ایک بڑی تعداد بشمول فرزندِ علی، محمد بن حنیفیہ کے اور اہل شام سمیت امت کا ایک بڑا حصہ اس کفر یا کفر کے نفاذ پر رضامند ہو گیا تھا۔ معاملہ اگر دین کی حرمتوں کی پامالی تک پہنچ گیا تھا، جیسا کہ ڈاکٹر محسن ایسا باور کراتے ہیں، تو از روئے قرآن اور اسوہ انبیا اس وقت کے سب مسلمانوں کا فرض تھا کہ حکمران کی اطاعت سے نکل جاتے، پھر ان کے پاس دو راستے تھے: یزید کے زیرِ حکومت علاقوں سے ہجرت کر جاتے یا ان کی غالب اکثریت ایک رہنما کی قیادت میں خود کو کسی علاقے میں منظم کر پاتی تو پھر وہ حاکم کے خلاف بشرطِ امکانِ کامیابی جنگ کرتے۔ امکان کامیابی کی شرط کا استنباط سورہ انفال کی درج ذیل آیات سے ہوتا ہے:

{ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ (65) الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ} [الأنفال: 65، 66]
اے پیغمبر، اِن مومنوں کو (اُس ) جنگ پر ابھارو (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے)۔ اگر تمھارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار منکروں پر بھاری رہیں گے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔ اِس وقت، البتہ اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، اِس لیے کہ اُس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمھارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے۔ اور اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں) ثابت قدم رہیں۔

حجاز میں اس وقت بھی اس امت کا جوہر موجود تھا جس نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست تربیت پائی تھی، کم از کم وہی یہ اطاعت سے نکل جاتے، مگر حیرت یہ ہے ان کی ایک بڑی تعداد نے یزید کی بیعت کر لی تھی اور باقی لوگ کسی مسلح مزاحمت ک لیے تیار نہیں تھے. یہی وہ درست تربیت تھی جو انھیں قرآن اور رسول اللہ ﷺ سے ملی تھی۔ اس جنگ کے لیے تیار ہوئے تو اہل عراق! وہی اہل عراق جن کی بد دینی اور ناقابل بھروسہ ہونے کی گواہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ بارہا دے چکے تھے۔ مزید یہ کہ حضرت حسین بھی دین کے ان اصولوں کی روشنی میں اہل حجاز کو یزید کے خلاف اقدام کے لیے ابھارتے نظر نہیں آتے، اور نہ ہی اس مزعومہ کفر یا جبر کی بیعت کر لینے پر کسی کے خلاف کفر کے ارتکاب کا فتوی ہی دیتے ہیں!

صورتِ حال در حقیقت یہ تھی کہ یزید کے تمام تر ظلم و جور کے باوجود، اس وقت کا سماج اپنی روایات اور رسوم میں اسلامی ہی تھا اور آئین و قوانین بھی اسلامی تھے، دینی شعار اور احکامات کی بجا آوری میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ یزید کے بعد بھی آل امیہ تقریباً ایک صدی حکمران رہے، اس تمام عرصے میں اسلام کے تمام شعائر نہ صرف یہ کہ محفوظ رہے بلکہ سرکاری سرپرستی میں دینی علوم ترقی کرتے رہے۔ اس سلسلے میں مثلا موی خلفا عبد الملک بن مرواان اور عمر بن عبد العزیز کےنام نمایاں ہیں۔ یزید کے وقت معاملہ بس یہ ہو گیا تھا کہ حکومتی اشرافیہ طاقت کے زور پر قانون سے بالاتر ہو گئے تھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج ہم اپنے ہاں کی اشرافیہ کو قانون سے بالا دیکھتے ہیں، ان کے خلاف احتجاج بھی اگر جارحانہ صورت اختیار کر جائے تو گولی چلانے سے دریغ نہیں کرتے، ان کے ہاتھوں کمزوروں کی عزتیں بھی محفوظ نہیں ہوتیں، لیکن اشرافیہ کی تمام تر بد اخلاقی اور لاقانونیت کے باوجود سماج کا بنیادی ڈھانچہ اسلامی ہی ہے، اور اسی بنا پر اس کے خلاف خروج کا جواز مہیا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یزید پر کفر کا الزام حضرت زینب نے اس وقت بھی نہیں لگایا، جب سانحہ کربلا کے بعد یزید کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی۔ نیز اسی واقعہ میں ہے کہ یزید اشتعال میں آکرمیں ایک خلاف شریعت حرکت کرنے کا اعلان کر بیٹھا مگر اس پر عمل کرنےکی جرات نہ کر سکا:”حضرت فاطمہ بنت علی سے مروی ہے کہ جب ہم یزید کے سامنے بٹھائے گئے تو اس نے ہم پر ترس ظاہر کیا۔ ہمیں کچھ دینے کا حکم دیا۔ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔ اسی اثنا میں ایک سرخ رنگ کا شامی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: امیر المومنین یہ لڑکی مجھے عنایت کر دیجیے اور میری طرف اشارہ کیا۔ اس وقت میں کمسن اور خوب صورت تھی، میں خوف سے کانپنے لگی اور اپنی بہن زینب کی چادر پکڑ لی۔ وہ مجھ سے بڑی تھیں، سمجھدار تھیں، جانتی تھیں یہ بات نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے پکار کر کہا: تو کمینہ ہے نہ تجھے اس کا اختیار ہے نہ اسے (یزید کو) اس کا حق ہے۔ اس جرات پر یزید کو غصہ آ گیا۔ کہنے لگا: تو جھوٹ بکتی ہے، واللہ مجھے حق حاصل ہے، اگر چاہوں تو ابھی کر سکتا ہوں۔ زینب نے کہا: ہرگز نہیں، خدا نے تمھیں یہ حق ہرگز نہیں دیا۔ یہ بات دوسری ہے کہ تم ہماری ملت سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لو۔ یزید اور بھی خفا ہونے لگا: دین سے تیرا باپ اور تیرا بھائی نکل چکا ہے۔ زینب نے بلا تامل جواب دیا: اللہ کے دین سے میرے باپ کے دین سے میرے بھائی کے دین سے میرے نانا کے دین سے تو نے، تیرے باپ نے تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ یزید چلایا: اے دشمن خدا تو جھوٹی ہے! زینب بولیں: تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے۔ ظلم سے گالیاں دیتا ہے، اپنی قوت سے مخلوق تو دباتا ہے۔ ” زینب کہتی ہیں: اللہ کی قسم، ایسا لگا کہ اسے حیا آ گئی۔ پھر وہ خاموش ہوگیا۔ اس شامی نے پھر مطالبہ کیا: “اے امیر المومنین مجھے یہ لڑکی عنایت کر دیجیے۔ اس پر یزید غصے سے بولا: دور ہوجا، خدا تجھے موت دے۔” بعد ازاں یزید نے آل حسین کو عزت و احترام سے اپنے ہاں ٹھرایا اور اور پھر عزت و احترام سے انھیں مدینے کے لیے رخصت کر دیا۔ (تاریخ طبری جلد 5، ص 461، 462)

تاریخ میں سیاسی معاملات میں انفرادی روایات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ آج کے سیاسی مخالفین اور ان کے پیروکار کس طرح ایک دوسرے مبالغہ آمیز الزامات لگاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو غدارِ وطن اور گستاخِ دین و مذہب بلکہ مرتد تک باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ آج کے اخبار احاد ہیں، یہ مستقبل کے قاری کے لیے کتنے قابل بھروسہ ہو سکتے ہیں؟ اتنی ہی قابل اعتنا وہ روایات ہیں جو سیاسی رقابت اور نفرت کے جذبے سے مختلف راویوں سے تاریخ میں نقل ہوئی ہیں۔ اسی بنا پر ہم روایات کی بجائے، تاریخی مسلمات سے بحث کر رہے ہیں۔ ہم اس وقت کے سماج کے اجتماعی چہرے کی بات کر رہے ہیں جس میں یزید کے عہد سمیت پورے اموی دور میں اسلامی شعار اور اقدار کا تسلسل برقرار رہااور اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ اصل میں یہ تھا کہ سیاست و حکومت کا وہ اسلامی چہرہ گہنا گیا تھا جو خلافت راشدہ میں تاباں تھا۔ عدل و انصاف کی صورتِ حال مثالی نہیں رہی تھی۔ سیاسی مفادات، دینی مفادات پر ترجیح پا گئے تھے۔ حکومتی اہل کار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے میں بے باک ہو گئے تھے۔

لیکن معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین کے لیے سیاست کے دائرے میں آنے والا وہ بگاڑ بھی قابل قبول نہ تھا، انھیں شاید یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جہاں یہ بگاڑ آیا ہے اگر وہیں اس کی روک تھام نہ کی گئی تو سماج کی اصلاح کی راہ مزید دشوار ہو جائے گی۔ نیز، یزید کی بیعت ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خلاف اقدام کا جواز حضرت حسین کے نزدیک موجود تھا۔ یعنی حضرت حسین کی نظر میں سیاست اور سماج میں آنے والے بگاڑ کی اصلاح کی صورت سیاسی نظام کی اصلاح میں تھی۔ اس نقطہ نظر پر ہم تمام آرا کے جائزے کے بعد آخر میں تبصرہ کریں گے۔

وہ اصلاح یا انقلاب جو تلوار کے زور پر، خون بہا کر آئے، اوّل تو اس کے صالح ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس کی ضمانت خدا کا کوئی فرستادہ ہی دے سکتا۔ دوسرا یہ کہ یہ اصلاح یا انقلاب صالح ہو بھی تو اس کے صالح رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

جناب ثاقب اکبر صاحب کا مضمون، “شھادت امام حسین، چند اکابر کی نظر میں”، کے عنوان سے شاملِ اشاعت ہے۔ اس میں مکتبہ اہل سنت کے چند علما کے امام حسین اور ان کے اقدام پر تبصرے شامل ہیں۔ مولانا مودودی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت حسین نے وہ اقدام اس لیے کیا کہ بنو امیہ، جمہوریت اور شورائیت کے اسلامی سیاسی نظام کو بگاڑ کر ملوکیت کی بدعت رائج کرنا چاہتے تھے۔ اسلام کے سیاسی نظام کے بچاؤ کے لیے حضرت حسین نے اقدام کرنا ضروری سمجھا۔ مولانا لکھتے ہیں: “حضرت امام حسین کا نمونہ یہ ہے کہ مسلمان حکومت بگڑ رہی ہو تو مسلمان کا کام تماش بین بن کر بیٹھنا نہیں، بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ اصلاح کے لیے کھڑا ہو جائے خواہ وہ اکیلا ہی ہو اور خواہ کچھ نتیجہ ہو۔ “مولانا کا یہ بیان حضرت حسین کے طرزِ عمل سے پوری طرح میل کھاتا محسوس نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت حسین نے یہ کہاں کہا کہ وہ شورائیت کا نظام بحال کرنے اور ملوکیت کے خاتمے کےلیے لڑنے جا رہے تھے؟ انھیں حضرت معاویہ کے یزید کو جان نشین مقررکرنے پر اعتراض تھا، لیکن اصول جان نشینی پر ان کی کوئی تنقید کہاں ہے؟ ڈاکٹر محسن نقوی کے بقول طریقہ جان نشینی حضرت حسین کا مورد تنقید رہا ہی نہیں۔ حضرت حسین اگر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو کیا ضمانت تھی کہ وہ ملوکیت نہ ہوتی؟ لوگوں نے حضرت حسن کو حضرت علی کے بعد خود خلیفہ چنا تھا، وہ حضرت حسین کے اولاد کو کیوں نہ چنتے، جب کہ تشیع کے عقیدے کے مطابق یہ آپ کی اولاد ہی تھی جو امامت کبری (خلافت و امارت) کی مستحق تھی؟ ہم جانتے ہیں کہ بعد ازاں، ہاشمی یا فاطمی خاندانوں میں سے جس کو بھی اپنی حکومت قائم کرنے کا موقع ملا، اس نے ملوکیت کے نظام کو ہی جاری رکھا۔  دوسری بات یہ کہ حضرت حسین اکیلے اٹھ کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ انھیں جب اہل عراق کی طرف سے بار بار بلاوا آیا تب آپ نے حالات میں تبدیلی کے لیے کوشش کی۔ یعنی معاملہ یوں نہیں تھا کہ آپ نے لوگوں کو ابھارا، بلکہ ان لوگوں نے آپ کو پکارا۔ پھر جب ایک موقع پر آپ نے دیکھا کہ آپ کے وہ حمایتی آپ کے ساتھ نہیں رہے، تو آپ نے واپس آنے کی کوشش بھی کی۔ اس بنا پریہ کہنا ” حضرت امام حسین کا نمونہ یہ ہے کہ مسلمان حکومت بگڑ رہی ہو تو مسلمان کا کام تماش بین بن کر بیٹھنا نہیں، بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ اصلاح کے لیے کھڑا ہو جائے خواہ وہ اکیلا ہی ہو اور خواہ کچھ نتیجہ ہو۔ “، واقعہ کی درست تعبیر ہے نہ یہ سبق اس سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت حسین نے شامی کمانداروں کے سامنے اپنی واپسی، یزید کے پاس جا کر مذاکرات کرنے یا حکومت وقت کی سرکردگی میں غیر مسلم ممالک کے خلاف اس وقت کے جہاد میں اپنی خدمات صرف کرنے کی تین تجاویز پیش کیں تھیں، لیکن کمانداروں سے انھیں مسترد کر دیا اور آپ سے یزید کی بیعت لینے پر بضد رہے۔ آپ نے اپنے اصول کے خلاف جبراً بیعت دینے سے انکار کر دیا اور اس میں آپ نے اپنی اور اپنے خاندان کی جان قربان کر دی۔ اس لحاظ سے مولانا مودودی کا نتیجہ خود ساختہ محسوس ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اسوہ حسین سے یہ نتیجہ نکالنا کہ “اس (مسلمان فرد) کا فرض ہے کہ وہ اصلاح کے لیے کھڑا ہو جائے خواہ وہ اکیلا ہی ہو اور خواہ کچھ نتیجہ ہو۔ “، یہ ہر مسلمان کو اس کی انفرادی حیثیت میں خدائی فوج دار بنانا، فرد کو ظالم و جابر ریاست کے خلاف اس کی انفرادی حیثیت میں اقدام کی ترغیب دینا اور جواز فراہم کرنا ہے۔ گویا ہر فرد کو خود مدعی اور خود منصف بنایا جار ہا ہے کہ وہ اپنے طور پر یہ طے کر لے کہ کوئی حکومت ظالم ہو گئی ہے اور اس کے خلاف مسلح اقدام کرنے کا جواز بھی خود اس کے پاس ہے۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔ یہ انارکی کا بیانیہ ہے۔ پھر جب کوئی ایسے حوصلہ مند نکل ہی پڑیں تو ان کی مذمت کس اصول کی بنا پر درست ہو سکتی ہے۔ یہ جو خلافت علی منھاج النبوت کے لیے جانیں قربان کرنے پر تلے ہوئے حوصلہ مند ہمارے دور میں پائے جاتے ہیں، یہ پھر کیوں غلط ہیں۔ ان کے طرز عمل میں کوئی غلطی ہے تو اس سے ان کے اصولی موقف پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

’’اگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور غیر اسلامی طریقے سے چلائی جا رہی ہو تو مسلمانوں کو سخت الجھن پیش آتی ہے۔ قوم مسلمان ہے، حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے، مگر چلائی جا رہی ہے غیر اسلامی طریقے پر تو اس حالت میں ایک مسلمان کیا کرے، اگر حضرت حسینؓ نمونہ پیش نہ کرتے تو کوئی صورت راہنمائی کی نہ تھی۔‘‘

تو کیا یہ تسلیم ہے خلافت کے موجودہ داعیوں کو اصولی رہنمائی و حمایت مولانا مودودی کی افکار اور اسوہ حسین سےمہیا ہو ہی ہے؟ پیغام پاکستان کے مشترکہ فتوی پر دستخط کرتے ہوئے کیا ہمارے اکابر کے ان فتاوی او ر ایسی مذھبی نوعیت کی تعبیرات سے رجوع کا اعلان بھی کیا گیا جو فرد کو اصلاح کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتی ہیں یایہ دو عملی جاری رکھی جائے گی؟ جب تک اہل علم کی طرف سے دو ٹوک موقف نہ بتایا جائےسماج اسی طرح کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں جیسے کہ اب ہیں۔ علما اور اہل مدارس کو اپنی پوزیشن اس معاملے میں واضح کرنی ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حکومت میں تبدیلی جمہوریت کے ذریعے سے لانے کی راہ کھلی ہے تو اتہل علم کی ایک خاطر خواہ تعداد جو جمہوریت کو درست نہیں مانتے، اسے نظامِ کفر قرار دیتے ہیں جو اسے خدا کی بجائے عوام کی حاکمیت کے تصور کی بنا پر اسےشرک گردانتے ہیں، ان کے ہاں تبدیلی لانے کا راستہ اس کے سوا کیا ہے کہ وہ بھی اسوہ حسینی پر عمل پیرا ہوں اور باطل کے طاغوت کو بزور ہٹا کر اسلام کا نظام نافذ کر دیں، “خواہ وہ اکیلے ہی ہو اور خواہ کچھ نتیجہ ہو۔”

اس شمارے میں شامل مضمون، “امام حسین پر تین نمائندہ تحریریں”، ازجناب سید نثار علی کے مطابق، اقدام کی وجہ کتاب و سنت کے قانون کو صحیح طور پر رواج دینا، اسلام کے نظامِ عدل کو از سرِ نو قائم کرنا اور خلافت کی بجائے ملوکیت کی بدعت کے خلاف جہاد تھا۔

غور کیجیئے کہ پاکستان سمیت بیشتر مسلم ریاستوں میں یہ تینوں مسائل موجود ملیں گے: یہاں کتاب و سنت کا قانون صحیح طور پر رائج نہیں، نظامِ عدل کا حال سب کو معلوم ہے۔ اور جمہوریت ملوکیت کی پروردہ ہے۔ ملک میں اسلامی قانون نافذ نہیں، معیشت سود پر مبنی ہے، ان حالات میں جو لوگ خلافت علی منھاج النبوت کے نظام کے قیام کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ان کی مذمت پھر کس اصول کے تحت کی جاتی ہے؟ اس حال میں اسوہ حسین دوسروں کے لیے مشعل راہ کیوں نہیں بنتا، جب کہ اسے ایک مثالی نمونہ کے طور پر پیش بھی کیا جاتا ہے؟مولانا مودودی کو بھی یہ تسلیم ہے کہ مسلم سماج و سیاست کے بگاڑ کی اصلاح کے لیے عسکریت کی راہ اپنانے کے لیے واحد نمونہ حضرت حسین ہیں۔ یہ سچ بھی ہے کیوں کہ اس طرزِ اصلاح کے لیے کسی نبی اور رسول کے اسوہ میں ایسی مثال موجود نہیں۔ انبیاءِ بنی اسرائیل کا اسوہ اس پر گواہ ہے۔ انھوں نے بنی اسرائی کے غیر صالح بادشاہوں کے خلاف کبھی تلوار نہیں اٹھائی۔

جناب مفتی امجد عباس نے، اپنے مضمون، ‘ اقدام حسین کی اجمالی تفہیم’ میں حضرت حسین کے اقدام کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت حسین کو بیعت کے لیے مجبور کیا جا رہا تھا اور بیعت نہ کرنے کی صورت میں آپ کی جان کو خطر ہ لاحق تھا۔ لکھتے ہیں:”آپ صرف بیعت سے بچنا چاہتے تھے”۔ ۔ ۔ اگر آپ سے زبردستی بیعت نہ لی جاتی تو شاید حالات ایسا رخ اختیار نہ کرتے۔ ” آپ بیعت سے بچنے کے لیے مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے، مگر وہاں بھی آپ کو نہ چھوڑا گیا۔ پھر ہم خیال لوگ آپ کو ملے اور آپ نے یزید کے خلاف اقدام کا فیصلہ کیا۔

یہ موقف گزشتہ تمام مواقف سے مختلف ہے۔ گویا اگر بیعت زبردستی نہ لی جاتی تو ‘اسلام کے نظامِ سیاست و ریاست میں داخل ہونے والی ملوکیت کو روکنے کے لیے امام حسین اقدام نہ کرتے، اور مقاصدِ شریعت کی پامالی اور روحِ دین کو مٹتا دیکھ کر بھی حضرت حسین اقدام نہ کرتے۔ پھر شاید آپ ہم خیال لوگوں کی آواز پر لبیک بھی نہ کہتے، تو پھر گویا ایسی کسی کربلا کی ضرورت بھی نہ تھی جس کے بعد اسلام نے زندہ ہونا تھا۔ اس موقف کے مطابق حضرت حسین کا معاملہ انفرادی سطح پر اپنے اصولوں کی بقا کا بنتا ہے۔ جب آپ کو اپنی بقا کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو آپ نے اپنی بقا اور امت کی اصلاح دونوں کا بیڑا اٹھا لیا اور اس راہ میں آپ کی جان گئ۔ یہ حضرت حسین کی کوئی قابل رشک تصویر نہیں بنتی۔ یعنی آپ نے تنگ آمد بجنگ آمد کے اصول پر صرف اپنی جان دینے کی بجائے دوسرے بہت سے لوگوں کی جان بھی داؤ پر لگا دی۔

اس رسالے میں ڈاکٹر محمد مشتاق کا مضمون، “ظالم، یا غاصب حکمران کے خلاف خروج کا مسئلہ” کے عنوان سے فقہی اور قانونی نقطہ نظر سے فقہ حنفی کا موقف واضح کرتا ہے۔ اس میں براہ راست حضرت حسین کے اقدام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ تاہم اس شمارے میں اس مضمون کی اشاعت مدیرِ محترم کے نزدیک حضرت حسین کے اقدام کو فقہ حنفی کی اس تشریح کی روشنی میں جواز فراہم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر مشتاق نے لکھا ہے کہ ظالم اور فاسق حکمران کے خلاف خروج کرنا اس صورت میں جائز ہے کہ حالات کامیابی کا امکان بتا رہے ہوں۔ تاہم مختلف افراد کا کامیابی کے امکانات کا یہ اندازہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لحاظ سے اقدام کرنے یا نہ کرنے والے دونوں قسم کے افراد یا جماعت کو اجتھادی گنجایش مل جاتی ہے۔ یہ موقف مولانا مودودی کے موقف سے مختلف ہے جو اکیلے شخص پر بھی یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ حکومت میں آنے والے بگاڑ کے لیے اٹھ کھڑا ہو، انجام خواہ کچھ بھی ہو۔ اب اس بات کا فیصلہ بھی اقدام کرنے والا فرد یا جماعت ہی کر سکتی ہے کہ حکمران اتنا ظالم اور فاسق ہو گیا ہے کہ اس کے خلاف خروج کیا جائے، اور دوسرے یہ کہ وہ خروج کی طاقت اور کامیابی کے امکانات بھی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر مشتا ق اور مولانا مودودی کے مواقف میں بس یہ فرق ہے کہ وہ مولانا مودودی اقدام کا یہ حق فرد کو بھی دیتے ہیں اور ڈاکٹر مشتاق ایک گروہ ہو۔ ڈاکٹر مشتاق نے اپنی ان فقہی آرا کے لیے انھون نے قرآن و حدیث کی نصوص سے کوئی استدلال البتہ پیش نہیں کیا۔

اس لحاظ سے آج کے دور میں خروج کی جرات مندانہ راہ اختیار کرنے والے عسکری گروہوں کو مکمل فقہی جواز مل جاتا ہے۔ یہی جواب ہے ڈاکٹر شھباز منج کے اس اعتراض کا جو انھوں نے اسی رسالے میں اپنے مضمون، ‘اقدام امام حسین، موجودہ بغاوتیں اور ہمارے دانشور’ میں اٹھایا ہے کہ موجودہ عسکریت پسندوں کے لیے حضرت حسین اسوہ نہیں ہیں۔ تاہم، انھوں نے اس معاملے کو اصول کی بجائے گروہوں کے طرزِ عمل اور عقائد کی رو سے دیکھا ہے۔ اصولی موقف پر کوئی بات ان کے مضمون میں مل نہیں سکی، جب کہ مسئلہ اصولی موقف کا ہے۔ طرز عمل اور عقائد کا اختلاف الگ چیز ہے۔ ہر گروہ خود کو اپنے عقائد میں حق بجانب ہی سمجھتا ہے۔ چنانچہ محض عقیدے کے مختلف ہونے سے کسی اصولی موقف کے جواز یا عدم جواز کو طے نہیں کیا جا سکتا۔ رد اگر مقصود ہے تو اصولی طور پر کیا جائے۔ جس اصول کے تحت مسلم حکومت کے خلاف خروج کا اقدام حضرت حسین کے لیے درست ہے، وہ دیگر لوگوں کے لیے درست کیوں نہیں؟

ڈاکٹر منج مزید لکھتے ہیں: “امام صاحب کا اقدام حکومت وقت کے خلاف مسلح تصادم کا ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ میں کوئی شھادت ایسی نہیں، جس سے ثابت ہو سکے کہ آپ یزید یا اس کے عامل سے جنگ کرنے نکلے تھے۔ ” لیکن ایک ہی سطر آگے آپ لکھتے ہیں: “آپ اہل کوفہ کے اصرار پر نکلے، اور اس پر بنا پر کہ امت کی ایک بہت بڑی تعداد یزید کے فسق و فجور اور ظلم کی بنا پر اسے مسلمانوں کا جائز حاکم نہیں سمجھتی اور چاہتی ہے کہ میں اس ذمہ داری کو اٹھاؤں تو میرا اس سے گریز شریعت اور نانا کے مشن کے خلاف ہوگا۔ “اس دوسری سطر میں ڈاکٹر صاحب نے خود ہی اس بدیہی نتیجے کی طرف رہنمائی کر دی ہےجو جنگ کے علاوہ کسی اور صورت پر منتج نہیں ہو سکتا تھا۔ بدیہی امرہے کہ یزید کے مملکت کے ایک بڑے حصے کا حاکم ہوتے ہوئے امت کی ایک بڑی تعداد اگر حضرت حسین کو اپنا حاکم بنا لیتی اور اموی حکومت کے متوازی ایک دوسری حکومت قائم ہو جاتی تو یزید نے نچلا تو نہیں بیٹھنا تھا۔ اس نے وہی کرنا تھا جو عبد اللہ بن زبیر کے امت کے ایک گروہ کے حاکم بن جانے بعد اموی حکمرانوں کیا۔ جنگ تو ناگزیر طور پر ہو کر ہی رہتی، پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت حسین کا مسلح تصادم کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ یہ ارادہ اور امکان کسی صورت ان کے اقدام سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت حسین کا ایسا کوئی ارادہ ہوتا تو اپنے حامیوں کے ساتھ نکلتے نہ کہ اپنے خاندان کی خواتین اور بچوں کے ساتھ، تو معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت حسین کو اہل کوفہ نے بلایا تھا۔ آپ کے لیے یہی مناسب تھا کہ اپنے خاندان کو بھی عراق ہی میں منتقل کر دیں۔ اہل عراق کے ساتھ یزید کے خلاف مسلح تصادم کی صورت میں مکہ یا مدینہ جیسے کمزور عسکری مقامات میں حضرت حسین کے اہل و عیال کا دفاع ممکن نہ ہوتا اور یہ ان کے لیے بڑی پریشانی کا سبب بنتا۔ دوسرا یہ کہ جب لیڈر اپنے خاندان کے ساتھ کسی جگہ موجود ہو تو یہ بات اس کے پیروکاروں کے لیے اس پر اعتماد کی بڑی وجہ بن جاتی ہے، اسی بنا پرآج کے دور میں بھی عوا م کی طرف سے لیڈروں سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ اگر ان کے بیرون ملک رہ رہے ہوں تو وہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ملک میں لا کر بسائیں۔ یہ تو بیچ میں شامی فوج نے آپ کی راہ روک لی اور آپ عراق نہ پہنچ سکے اور نہ اہل عراق، حکومتی جبر کی بنا پر آپ کی مدد کو پہنچ سکے، ورنہ وہ تصادم جو کربلا میں پیش آیا، وہ اہل عراق کے ہمراہ شامی فوج خلاف کے بڑے پیمانے پر پیش آ کر رہتا۔

بگڑے معاشرے میں صالح حکمران کے آنے سے کیا تبدیلی آتی ہے اور وہ کتنی دیرپا ہوتی ہے، عمر بن عبد العزیز اس کی بہترین مثال ہیں۔ ان کا دور بہترین طرزِ حکمرانی کا دور تھا، جس کی صالحیت پر عموماً اتفاق پایا جاتا ہے۔ لیکن ان کے اصلاحی اقدامات محض عارضی ثابت ہوئے۔

دوسری بات یہ کہ حضرت حسین نے کسی اور کو اپنے ہمراہ جانے کے لیے کی دعوت بھی نہیں دی۔ جو لوگ عبد اللہ بن زیبر کے ہمراہ اموی حکومت کے خلاف آٹھ سال کھڑے رہ سکتے تھے وہ حضرت حسین کے ساتھ بھی کھڑے ہو سکتے تھے، مگر حضرت حسین نے خود ہی کسی کو اپنے ساتھ چلنے کا نہیں کہا۔ بہرحال، حضرت حسین کے اقدام کا جواز فراہم کرنے کے لیے اسے غیر مسلح اقدام باور کرنا ایک غیر حقیقت پسندانہ معذرت خواہانہ رویہ ہے۔

اس معاملے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ جنگ دراصل اہل عراق اور اہل شام کی سیاسی عصبیت (پارٹی) کے درمیان اقتدار کی جنگ تھی۔ بنو امیہ کی صورت میں اہل شام کو ایک طاقت ور قیادت حاصل تھی۔ ادھر اہل عراق کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ ایک بار اقتدار کا مزہ چکھنے کے بعد اہل عراق اس سے دست برادر ہونے کو تیار نہ تھے۔ اسی بنا پر انھوں نے حضرت حسن کی تختِ حکومت سے دست برداری کی سخت مخالفت اور اس وجہ سے ان کے ساتھ بد سلوکی بھی کی تھی۔ حضرت حسین بھی حضرت حسن کی خلافت سے دست برادری سے متفق نہ تھے۔ اب حضرت حسین کی صورت میں اہل عراق کو اقتدار میں واپسی کی سبیل نظر آ رہی تھی۔ اس خدشے کا ادراک حضرت امیر معاویہ اور حضرت حسن دونوں کو تھا۔ چنانچہ اپنی وصیت میں حضرت امیر معاویہ نے یزید سے کہا تھا کہ اہل عراق حضرت حسین کو اس کے مقابلے پر نکال لائیں گے۔ اور حضرت حسن نے بھی حضرت حسین کو وصیت کی تھی کہ اہل عراق کے کہنے پر کوئی اقدام مت کرنا، یہ قابل بھروسہ لوگ نہیں۔ ادھر حضرت حسین کے اپنے نظریات تھے کہ سماج میں آنے والے بگاڑ کو سیاست و حکومت کے زور سے دور کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست و حکومت کے ایوانوں میں آنے والا بگاڑ جہاں دوسروں کے لیے ایک قابل افسوس مظہر تھا، حضرت حسین کے لیے ناقابل برداشت تھا، وہ اسے بدی کی جڑ سمجھتے تھے اور وہ اس کی درستی کو بنیادی اہمیت دے رہے تھے۔ جب کہ دیگر لوگوں کی نظر میں یہ سیاست و حکومت میں در آنے والا ناگزیر بگاڑ تھا اور اس کی فوری اصلاح کسی صورت ممکن نہ تھی۔ حضرت حسین اور دیگر لوگوں کے طرز عمل میں فرق کی یہ بنیادی وجہ تھی۔

یہ باور کرنا مشکل ہے کہ اہل عراق کسی صالح نظام کے قیام کے لیے حضرت حسین کو پکار رہے تھے۔ حضرت حسین البتہ ان کی ہوس اقتدار کو ایک صالح حکومت کے قیام کے لیے استعمال کرنا چاہ رہے تھے۔ گویا حضرت حسین اور اہل عراق دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہے تھے۔

سیاست و حکومت اور سماج کے بگاڑ کو درست کرنے کے ہمیشہ دو نظریے رہے ہیں۔ ایک کے مطابق اس بگاڑ کو درست کرنے کے لیے قیادت کسی صالح شخص یا جماعت کو سونپ دینی چاہیے۔ باقی سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے تو وہ بھی گوارا کر لینا چاہیے۔ حضرت حسین کا نظریہ یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس نظریے کے لیے لیکن کسی نبی کا اسوہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس ایک دوسرا نقطہ نظر یہ رہا ہے کہ سیاست کا بگاڑ یا سدھار سماج کے بگاڑ اور سدھار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس لیے اصلاح مقصود ہے تو سماج کی جائے جس کا لازمی نتیجہ سیاسی نظام کی اصلاح کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔ یہی انبیا کا اسوہ ہے۔ عوام کی اصلاح نہ ہو تو حضرت علی جیسا حکمران بھی اہل عراق جیسی عوام کے آگے بے بس ہو جاتا ہے، لیکن اگر عوام میں شعور بیدار ہو تو حضرت عمر جیسے حکمران سے بھی ایک کی بجائے دو چادریں اوڑھنے پر حساب مانگا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسی بنا پر فرزندِ علی، محمد بن حنیفیہ سمیت دیگر صحابہ نے یزید کی بیعت کر لی تھی کہ اس وقت کی سیاست میں در آنے والا وہ ناگزیر بگاڑ تھا جسے روکنا ممکن نہیں تھا۔ یہ کفر و اسلام کا معاملہ نہیں تھا۔ سماج کی اصلاح کا میدان البتہ مصلحین کے لیے کھلا ہوا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اُس مزعومہ بگاڑ کے سدھار کے لیے جنگ کی راہ محض خون خرابے کی راہ تھی۔ حقیقتاً ہوا بھی یہی۔ کربلا کے بعد اہل حجاز اور بعد ازاں اہل عراق کی بغاوت بھی بہت خون خرابے کے بعد کچلی گئی اور بنو امیہ نے سیاست کے میدان میں اپنی طبعی عمر پوری کی۔ پھر بنو عباس آئے۔ ان کے خلاف ہونے والی بغاوتوں کا انجام بھی گزشتہ بغاوتوں سے مختلف نہ ہوا اور سماج اپنی ڈگر پر چلتا رہا۔ بیچ میں اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز، اچانک اتفاقاً تختِ سلطنت پر براجمان ہو گئے۔

بگڑے معاشرے میں صالح حکمران کے آنے سے کیا تبدیلی آتی ہے اور وہ کتنی دیرپا ہوتی ہے، عمر بن عبد العزیز اس کی بہترین مثال ہیں۔ ان کا دور بہترین طرزِ حکمرانی کا دور تھا، جس کی صالحیت پر عموماً اتفاق پایا جاتا ہے۔ لیکن ان کے اصلاحی اقدامات محض عارضی ثابت ہوئے۔ جیسے ہی ان کا اقتدار اختتام پذیر ہوا، معاشرہ واپس اپنی پرانی ڈگر پر آگیا۔ وجہ یہی تھی کہ یہ اصلاح بنیاد سے اوپر نہیں اٹھی تھی، بلکہ اوپر سے نافذ ہوئی تھی۔ یہ اصلاح ایک شخصیت کے بل بوتے پر قائم تھی، اس کے رخصت ہوتے ہی یہ بھی رخصت ہوگئی۔ دیرپا اصلاح وہی ہوتی ہے جس کی جڑیں عوام کی تربیت میں پیوست ہوں۔ وہ بگاڑ کو اندر داخل ہی نہیں ہونے دیتیں۔ دور حاضر کی مہذب اقوام کو دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے امن و خوش حالی، اعلٰی معیارِ زندگی اور اپنی مفید سماجی اقدار اور نظام کی بقا، یہ سب ان کی شعوری، اخلاقی اور سیاسی و سماجی تربیت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ وہ اپنے سیاست و سماج میں کسی زیادتی اور بدیانتی کو اجتماعی سطح پر برداشت نہیں کرتے۔ ان کی اسی حساسیت کی وجہ سے ان کے حکمرانوں کو بھی اپنا معیارِ سیاست و حکومت اور ذاتی اخلاق و کردار بلند رکھنا پڑتا ہے۔ ان کے سماج کی صالحیت و افادیت شخصیات پر منحصر نہیں رہی۔ شخصیات کے آنے جانے سے ان کے سماج اور سیاست کے اخلاق و کردار پر بحیثیتِ مجموعی کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔ اصلاح وہی کارآمد ہے جو عوام سے سیاست کے ایوانوں میں پہنچے۔ اصلاح نفاذ سے نہیں نفوذ سے آتی ہے، اس کے لیے البتہ طویل محنت اور تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیاست کے بگاڑ کو عسکریت کی راہ سے درست کرنے کی کوشش میں ہونے والے ممکنہ خون خرابے کو گوارا کر لینا کس حد تک درست ہو سکتا ہے؟ اس پر ہم اپنے ایک مضمون کا اقتباس پیش کرنا چاہیں گے:

“کوئی مصلح اگر یہ سمجھتا ہے کہ عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے کے لیے خود اس کا حکومت حاصل کرنا ضروری ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ حق و انصاف اور دین کے تقاضوں کے معیارِ مطلوب کے مطابق حکومت چلا پائے گا، سوائے یہ کہ اس مصلح کو معصوم مان لیا جائے۔ بالفرض، وہ مصلح اگر خود اچھے طریقے سے حکومت چلا بھی لے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس کی ذریت یا پیروکار اسی معیارِ مطلوب کے مطابق حکومت چلا پائیں گے۔ جب اس سب کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی تو حصولِ حکومت کے لیے آمادہ پیکار ہو جانا ایک مقصدِ موہوم کے لیے کمر بستہ ہو جانا ہے، اس کے لیے عوام کے دو گرہوں کو آپس میں لڑا دینا کس برتے پر درست اقدام ہو سکتا ہے؟” (مصلحین کا دائرہ کار اور حکومت کے خلاف قیام کا مسئلہ)

دین کی رو سے سماج و سیاست میں آنے والا بگاڑ انفرادی ہو یا اجتماعی، اسے تعلیم و تربیت، وعظ و تلقین اور جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنے تک محدود رکھا گیا ہے۔ اصلاح کے لیے ہتھیار اٹھانا اپنے فرائض اور دائرہ کار سے تجاوز کرنا ہے۔ پورے قران میں کہیں ایسا حکم موجود نہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا اپنے مخالفین سے قتال، ریاست کے دفاع کے علاوہ، برسوں کی دعوتِ ایمان اور اتمام حجت کے بعد ان لوگوں کے خلاف رہا جو دعوتِ توحید و رسالت کے منکر اور لوگوں کو عقیدہ اختیار کرنے کی آزادی دینے میں جبر کی راہ سے رکاوٹ ڈالے ہوئے تھے۔ مسلم معاشرے کے سماجی و سیاسی بگاڑ کے سدھار کی خاطر قتل و قتال کے جواز کے لیے کسی نبی و رسول کی نظیر مہیا نہیں کی جا سکتی۔ یہ تفرد بعد کے دور کی پیداوار ہے۔

وہ اصلاح یا انقلاب جو تلوار کے زور پر، خون بہا کر آئے، اوّل تو اس کے صالح ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس کی ضمانت خدا کا کوئی فرستادہ ہی دے سکتا۔ دوسرا یہ کہ یہ اصلاح یا انقلاب صالح ہو بھی تو اس کے صالح رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ظلم کے نظامِ حکومت میں کب رحمت کی بارش بن کر کوئی عمر بن عبد العزیز آ جائے یا کب صالحین کی حکومت یزید جیسوں کے ہاتھ میں آ جائے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سماج کی تو بس اصلاح ہی کی جانی چاہیے اور اصلاح کا معقول راستہ دعوت، تذکیر و تلقین کا راستہ ہے جس پر اپنی جان کی قیمت پر بھی عمل کرنا ضروری ہے، انبیا کا اسوہ اسی طریقہ کا شاہد ہے۔ اس کے سوا کوئی راستہ درست نہیں، نہ اس سے بڑھ کر مصلحین کو کوئی ذمہ داری دین میں بتائی گئی ہے۔ اس سے تجاوز خدا کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: