امام حسین رض کی جدوجہد کے کچھ سبق‎ — راجہ قاسم محمود

0
  • 46
    Shares

سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ جہاں پر بے پناہ فضائل کے مالک ہیں وہاں ان کا نام ایک مزاحمت، جدوجہد اور وفاداری کا بھی استعارہ بن چکا ہے،سیدنا امام عالی مقام کی شخصیت کا یہ پہلو ان کا آفاقی تعارف بن کر سامنے آتا ہے۔امام عالی مقام کی یہ دلیری اور ثابت قدمی ہر فرد بشر کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔جب انسان راہ راست کا مسافر ہو تو اللہ تعالی کی خصوصی توفیق اس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔

مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں:

“اللہ تعالی جب کسی انسان کے اندر استعداد دیکھتا ہے تو وہ اس کو توفیق عطا کرتا ہے۔پھر وہ اللہ کی توفیق سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔یہ لوگ اگر اقلیت میں ہوں تب بھی وہ اپنی خصوصی منصوبہ بندی سے کامیاب ہوتے ہیں۔کیوں کہ ان کے حالات ان کے ذہن کے بند دروازے کھولتے ہیں۔وہ اپنے غیر معمولی حالات میں بھی ایسی بات دریافت کر لیتے ہیں،جو لوگ عام حالات میں دریافت نہیں کر پاتے” (الرسالہ: نومبر 2017)

امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی جدوجہد میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے مد مقابل کے لحاظ سے عددی طور اقلیت میں تھے اور کربلا میں آپ کے مد مقابل میدان کے فاتح تھے مگر جب بات اخلاقی میدان اور برتری کی آتی ہے تو جیسا کہ مولانا وحید الدین خان نے لکھا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ اقلیت (عددی) میں ہونے کے باوجود کامیاب قرار پاتے ہیں۔ایک سب سے بڑی کامیابی جو کہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے اس اقدام سے ملتی ہے کہ موروثیت کو ایک اسلام کا حصہ نہیں قرار دیا گیا، گو کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت سے لے کر آج تک موروثیت مسلم سیاسی تاریخ کا حصہ رہی ہے مگر آپ رضی اللہ عنہ کا یہ قدم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی پسندیدہ عمل نہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے قدم کی روشنی میں ہی کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ موروثیت پر اسلامی چھاپ لگا کر اس کو مستحسن عمل قرار دے۔

آپ ﷺ نے فرمایا

” آسمان والوں کا سکون ستارے ہیں اور میری امت کا سکون میری اہل بیت ہین”
(احیاء فضائل اہل بیت از امام جلال الدین سیوطیؒ)

بے شک آپ ﷺ نے سچ فرمایا اور اسی اہل بیت اطہار کے ایک نمایاں فرد سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ ہیں اور آپ کا ذکر ہر مسلمان کے دل میں سکون و اطمینان پیدا کرتا یے۔یوں ہی آپ کی جدوجہد آپ کی عظمت کا ایک عظیم پہلو ہے، میدان جنگ میں مخالف کی کامیابی بھی آپ کو مغلوب نہ کر سکی۔ شیخ فتح اللہ گولن سچائی کی فتح کے بارے میں لکھتے ہیں لگتا ہے شاید ان کے پیش نظر آپ کی ذات ہو گی۔

“برحق انسان پیارا بھی ہوتا ہے اور مقبول بھی،خواہ وہ مغلوب ہی کیوں نہ ہو۔ناحق انسان کو لوگ چاہتے بھی نہیں اور اس سے نفرت بھی کرتے ہیں خواہ وہ غالب ہی کیوں نہ ہو”

گولن کی اس بات کو اگر ہم سانحہ کربلا میں دیکھیں تو شمر و ابن زیاد کا لشکر غالب آکر بھی قابل نفرت قرار پاتا ہے کیونکہ نظر آتا ہے کہ مقابلہ ان کا سچائی اور حق پسند گروہ کے ساتھ تھا جہاں پر ظاہری فتح کچھ معانی ہی نہیں رکھتی جبکہ امام عالی مقام اور ان کے جانثاران ہر مسلمان کے دل میں زندہ ہیں، وقتی مغلوبیت نے ان کے رتبے میں زرہ برابر کمی نہیں کی بلکہ ان کی حق گوئی اور ثابت قدمی سے دنیا کو ایک اور پیغام ملا کہ جب آپ کو اپنی حقانیت کا یقین تو مصائب و آلام اس سلسلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے پھر امتحان جب آ جاتا ہے تو یہ چیزیں معمولی حیثیت رکھتی ہیں پھر آپ کی استقامت اور ثابت قدمی ہی قابل توجہ ہو جاتی ہے پھر امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا میدان کربلا میں تقوی اور ضبط نفس بھی قابل غور ہے جس کا ہم قدم قدم پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ سیدی مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

“جو عمل تقوی کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھورا نہیں سمجھا جا سکتا اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑا کیونکر ہو سکتا ہے”

اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ رب کریم کے ہاں امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے اس تقوی کے عوض جو میدان کربلا میں نظر آتا ہے کیا کیا اجر پایا ہو گا کیونکہ وہ بے حساب دینے والا ہے اور جب وہ عطا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کو کرے گا تو پھر کس حساب سے عطا کرے گا عام انسانی عقل کی حدود سے یہ بات ویسے بھی ماوراء ہے۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ اپنے آخری وقت میں بھی اپنے رب کر اعتماد اور یقین کرتے ہوئے اس کی طرف سے دی گئی ہر آزمائش کو بخوشی قبول کرتے ہیں۔یہ آپ رضی اللہ عنہ کی توحید پر ثابت قدمی ہے اور اس کی بارگاہ میں کیے گئے سجدے آپ کے غیر متزلزل یقین کا ثبوت ہیں۔اس پر پیر کرم شاہ ازہری کے لکھے کچھ جملے لکھ کر اختتام کرتا ہوں:

” اسلام کا حاصل اور توحید کا سب سے اونچا مرتبہ یہ ہے،جہاں انسان کھڑا ہو کر یہ اعلان کرتا ہے کہ میری سجدہ ریزیوں کا مقصد اور میری ہر طرح کی نیازمندیوں کا مدعا صرف اللہ تعالی ہے۔میری زندگی اور میری موت اسی کی رضا جوئی کے لیے ہے۔میں اس کے ہر حکم کے سر آفگندہ ہوں اور اس کے ہر فیصلے پر راضی ہوں۔ اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کی ذات میں اور نہ صفات میں”
(تفسیر ٖضیاء القرآن جلد اول ص 619)

ایک دفعہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے آخری سجدے کو مد نظر رکھ کر یہ سطور دوبارہ پڑھیے گا،کربلا سے نکلتا درس توحید بہت واضح ہو کر نظر آئے گا۔

تحریر میں کوئی مضبوطی ہے تو یہ میرے اللہ اور آپ ﷺ کا کرم ہے اگر کچھ کمزوری ہے تو میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: