کربلا: اسلامی تاریخ کا سیکولر مخالف حوالہ — عزیز ابن الحسن

0
  • 223
    Shares

آج سے چودہ پندرہ سو برس قبل تاریخ میں ایک واقعہ ایسا ہوا کہ اس کے بعد کی تمام تاریخ اس کے خون سے شفق رنگ ہوگئی اور وہ ہے واقعہ کربلا۔ تاریخِ اسلام کے کسی اور واقعے نے لوگوں کی عظیم اکثریت کو متاثر کرنے کی حد تک وہ اہمیت حاصل نہ کی جو اس واقعے کو ہوئی ہے۔ اس کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ واقعاتِ کربلا کی جزیات کی صحت و عدمِ صحت میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کے بیان میں جو رنگ آمیزی ہوئی اس پر بھی دو رائیں ہو سکتی ہیں، مگر اس واقعے نے مسلمانوں کو بلا لحاظ مسلک اور دنیا کی مختلف زبانوں کو بالعموم اور اسلامی زبانوں کو بالخصوص جسطرح متاثر کیا اور ان زبانوں میں اس کے سبب جو سرمایۂ تہذیب و ادب پیدا ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔  مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ’’کسی تاریخی واقعے کی عظمت کی ایک نشانی یہ ہے کہ واقعہ، واقعہ نہ رہے، افسانہ بن جائے۔‘‘ اور حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو بعض اوقات، واقعات سے زیادہ افسانوں نے متاثر کیا ہے۔ شبلی کہتا ہے کہ ’’فلسفہ تاریخ کا ایک راز یہ ہے کہ جو واقعات جس قدر زیادہ شہرت پکڑتے جاتے ہیں اسی قدر ان کی صحت زیادہ مشتبہ ہو جاتی ہے۔‘‘ مؤرّخین کے لیے یہ مظہر ایک المیہ ہے کیونکہ تاریخی واقعات پر جس قدر زمانی و مکانی فاصلوں کی گرد زیادہ پڑتی جاتی ہے اسی قدر ان کے گرد انسان کے کہانی ساز تخیل کی کرشمہ کاریاں اپنا ہالہ بنتی جاتی ہیں۔ شبلی تاریخ نگار تھے، ان کی مشکلیں اپنی جگہ لیکن خلقت کے اجتماعی کی تخلیقی قوت کو انتظار حسین کسی اور رنگ میں دیکھتے ہیں:

’’میں خلقت کے حافظوں کو محققوں کی تحقیق سے بڑی سچائی جانتا ہوں۔ خلقت کا حافظہ جھوٹ نہیں بولتا، اضافہ اور رنگ آمیزی البتہ کر دیتا ہے۔ اس عمل میں شکلیں مسخ نہیں ہوتیں، نکھر آتی ہیں۔‘‘

سانحہ کربلا کو واقعاتی صداقتوں پر پرکھنے اور ان کی شدت کی ایک اور تعبیر کرنے والے مسلک تسنن اور ان واقعات میں ایک تخیلی رنگ بھر کر بھرپور کلچرل فضا پیدا کرنے والے مسلک تشیع میں ایک فرق یہ بھی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں واقعہ کربلا سے تأثر پذیری کے حوالے سے دو بڑے فرقوں کے رویے ان دو قطبین کے درمیان جھولتے ہیں۔ ایک واقعیت کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔ دوسرا تخیل و وارفتگی پر جان دیتا ہے۔  بہرکیف واقعاتی صحت کی ضرورت پر اصرار اپنی جگہ لیکن کسی واقعے کی شہرت و اثراندازی محض اس کی واقعیت کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ اس میں انسانی تخیل کی کارفرمائیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ اگر واقعاتی صحت پراصرار نہ ہو تو ایک تاریخی واقعہ پایہ استناد سے گر جاتا ہے اور اگر اس میں تخیل کی گل کاریاں نہ ہوں تو وہ تاریخ کے سرد مدفن میں ٹھٹھر کر رہ جاتا ہے خون گرم کا حصہ بن کر انسان کے رگ و ریشے میں نہیں اترتا اور پھر واقعہ کربلا کوئی عام واقعہ نہیں ہے۔ بقول سلیم احمد

’’یہ وہ واقعہ ہے جو چودہ سو سال پہلے ہوا اور ہو کر قائم رہا۔ واقعات کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ہو کر ماضی کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ ایسے واقعات خواہ کتنے ہی لرزہ خیز اور درد ناک ہوں وقت گزرنے پر کسی کو یاد بھی نہیں رہتے۔ دوسرا وقعہ وہ ہوتا ہے جو ہو کر حال اور مستقبل میں سفر کرتا رہتا ہے۔‘‘

ایسا واقعہ کبھی ماضی نہیں بنتا۔ ہر زمانے اور زمین کے لوگ اپنے اپنے انداز میں اس سے متاثر رہتے ہیں کیونکہ اس میں ایک عنصر ایسا ہوتا ہے جو لازمانی ہوتا ہے، وہ زمان و مکان کی ہیئات اور مقولات میں سے نہیں ہوتا۔ اس کے مضمرات فوق انسانی ہوتے ہیں۔ واقعہ کربلا ایک ایسا ہی واقعہ تھا جو ہوا اور امر ہوگیا۔ ایک علامت اور استعارہ بن گیا۔ علامت کے بارے میں ایک بات واضح رہے کہ وہ اپنی فوری ظاہری صورت کو چھوڑے بغیر اپنے سے برتر کسی مظہر کا آئینہ ہوا کرتی ہے۔ واقعہ کربلا وہ علامت ہے جس کی ظاہری صورت نواسۂ رسول کا عمل اور جس کا برتر مظہر ’’حق‘‘ ہے: حق اور باطل کی آویزش، خواہ حق کتنا ہی کمزور ہو اور باطل کتنا ہی مضبوط ہو۔  واقعہ کربلا کا یہی وہ لازمانی اور فوق انسانی عنصر ہے جو اسے قصہ پارینہ نہیں بننے دیتا کیونکہ حق اور باطل کی آویزش کی کوئی وقتی شے نہیں۔ چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی کی ستیزہ کاری ہر زمان اور ہر زمین پر جاری رہی ہے اور رہے گی اور جہاں جہاں ایسا وقت آئے گا، کربلا اپنی پوری معنویت و مضمرات کے ساتھ موجود ہوگی۔

دشتِ کربلا میں حضرت امام حسینؓ نے ایک بات کی گواہی دی، نہ صرف گواہی دی بلکہ گواہی کا اتمام کر دیا اور اپنے وقت کے سب سے بڑے اور معتبر گواہ ٹھہرے۔ شہادت گواہی ہی تو ہے، اس بات کی گواہی کہ حق کو حق کی صورت میں ہی باقی رہنا چاہیے، اس میں کوئی تبدیلی، کسی باطل کی آمیزش نہیں ہونی چاہیے مگر اس نکتے پر ہم ذرا ٹھہر کر آتے ہیں۔  حضرت حسینؓ شہید ہوگئے، یعنی حق کی گواہی دیتے ہوئے انہوں نے اپنی جان، آل اولاد، مال و متاع اور ہر وہ شے جو دنیا میں انسان کو مرغوب ہوتی ہے اللہ کی راہ میں قربان کر دی۔ لیکن شہید کا لغوی معنی جان قربان کرنا نہیں۔ جان دینا شہید کا معنی نہیں بلکہ عملِ شہادت کی انتہا ہے۔  لفظ شہید عربی میں دوہرے مفہوم کا حامل ہے۔ فاعلی جہت سے اس کے معنی ’’شاہد‘‘ کے ہیں اور مفعولی جہت سے ’’مشہود‘‘ کے۔ ایک اعتبار سے شہید ’’شاہد‘‘ ہوتا ہے۔ دوسرے اعتبار سے مشہود۔ شاہد کا مرتبہ مشہود پر پہنچنا اس کے مشاہدے کے درجات پر منحصر ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مشاہدہ کس درجہ کا ہے۔ کامل درجے کا مشاہدہ وہ ہے جس میں شاہد و مشہود ایک ہو جائیں۔ جس شے کو حقیقت میں دیکھنا کہتے ہیں وہ یہی ہے۔ یقین کے جو تین درجے علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین بیان کیے جاتے ہیں ان میں سے پہلے درجے کا یقین آگ کے متعلق سننا ہے۔ دوسرا درجہ آگ کو دیکھنا ہے اور تیسرا درجہ آگ کے اندر جل کر اس کا حصہ بن جانا ہے۔  اس کو رومی نے یوں کہا ہے:

پس قیامت شو قیامت را بہ بیں
دیدن ہر چیز را شرط است ایں

یہاں دیکھنے سے پہلے دیکھنے کا طریقہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ جس شے کو آج کل سائنسی معروضیت کہتے ہیں اس کی حقیقت آرتھر ایڈنگٹن کے مفہوم میں یہ ہے کہ جو شے جدید سائنس کے جال کی گرفت میں نہیں آتی اس کا کاملاً انکار کر دیا جاتا ہے۔ برٹرنڈرسل نے اس کی مثال “ABC of Reactivity” میں یوں دی ہے کہ فرض کریں کہ کوئی مچھیرا تالاب سے مچھلیاں پکڑنے کے لیے ایک جال استعمال کرتا ہے جس کا ہر خانہ دو مربع انچ کا ہے۔ اب اس جال سے جو مچھلیاں پکڑی گئیں ان کی موٹائی دو انچ سے زیادہ تھی۔ اس سے مچھیرا یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ تالاب میں کوئی مچھلی دو انچ سے چھوٹی نہیں ہے، یہ اس کی معروضیت ہے، اسے یہ نہیں معلوم کہ تالاب میں دو انچ سے چھوٹی مچھلیاں ہیں مگر وہ اس جال کی پکڑ سے باہر ہیں۔ یہ معروضیت نہیں بلکہ ایک خاص مزاج کی ‘‘اجتماعی موضوعیت’’ ہے جو ایک خاص حد سے آگے پیچھے اور اوپر نیچے دیکھنے سے محروم ہے۔

ارسطو یا ٹامس ایکویناس کا قول ہے کہ knowledge depends on the mode of the knower یعنی کسی شے کا علم جاننے والے کی فکر و نظر کے میلان کے مطابق ہی ہوتا ہے لہٰذا دیکھنے سے پہلے دیکھنے کی استعداد پیدا کرنا ضروری ہے۔ قیامت کو دیکھنے کے لیے خود قیامت ہونے کی شرط ہے۔ یعنی شہود و شاہد و مشہود کا ایک ہوجانا۔ تب ہی مشاہدہ کامل درجے کا ہوگا۔  اللہ تعالیٰ کا ایک اسم صفت ’’الشہید‘‘ ہے۔ علما نے اس کی تفصیل یوں لکھی ہے کہ اشیا خلعت وجود سے آراستہ ہونے سے قبل علمِ الہٰی میں بصورتِ معلومات حق موجود تھیں۔ یعنی عالم، معلم اور معلوم ایک ہی تھے۔ علمِ الہٰی میں جاننا اور دیکھنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے۔ جو شہید ہے وہی علیم ہے۔ ازل میں وہ کائنات کا خود ہی شاہد تھا، خود ہی مشہود۔ یہاں مشاہدہ کمال درجے کا تھا۔ اس لیے لفظ شہید کا کامل ترین مصداق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ باقی سب اعتباری و نسبتی ہیں۔ اسی لیے اللہ کے وجود پر کامل ترین گواہی خود اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اشھد اللہ انہ لا اللہ الا ھو۔ ( آلِ عمران) ترجمہ: اللہ نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔  کیونکہ مشاہدے کے کمال سے شہادت کا اعتبار متعین ہوتا ہے۔ درجات شہادت میں فرق شاہد کی استعداد اور اللہ کی عطا کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ کی عطا اور بندے کی استعداد جوں جوں بڑھتی جائے گی توں توں شہید کے دونوں مقامات ــ شاہد و مشہود ــ میں قربت و یگانگت پیدا ہوتی جائے گی۔  کلمۂ شہادت میں ہر مسلمان ایک گواہی دیتا ہے، اللہ کے ایک ہونے کی گواہی۔ محمد ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی اور پھر ہر اس شے کی گواہی جس کے کرنے کا حکم اور جس سے منع کیا گیا ہے۔ مگر یہ گواہی ایمان کے زور پر ہے۔ ایک مخبرِ صادق کی خبر پر ہے۔ جس کی خبر پر صحابہ کو ایسا یقین تھا کہ حضرت علیؓ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر میں جنت و جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تب بھی میرا یقین ان مغیبات پر پہلے سے زیادہ نہیں ہوگا یعنی ان کا ایمان مشاہدۂ کامل کے درجے کو پہنچ گیا تھا۔ ہر کلمہ گو کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو مشاہدے کے درجے تک پہنچائے۔ جو لوگ اس راہ میں کوشش کرتے ہیں اللہ ان کی دست گیری کرتا ہے۔ ان کی آنکھیں وہ کچھ دیکھ لیتی ہیں جو گرفتاران خم و پیچ خیال کے تصور میں نہیں آسکتا۔ اللہ کے پاک باز بندے اس دنیا میں ہی وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں شاہد و مشہود و مشاہدہ ایک ہوجاتے ہیں۔  شہادت کا حقیقی مفہوم یہی ہے۔

باقی رہی حق کی گواہی میں اپنی جان قربان کر دینا تو یہ شہادت کا عرفی مفہوم ہے کہ انسان کے پاس دنیا میں اس کی عزیز ترین متاع اس کی جان ہوتی ہے۔ حق اتنا عظیم ہے کہ اس کے اثبات و احقاق کے لیے دی جانے والی شہادت کی راہ میں اس متاعِ عزیز کی پرواہ نہ کرنا۔ یہ ہے شہید کا وہ مفہوم جو اس لفظ کو اتمامِ شہادت کے آخری درجے کے طور پر حاصل ہوگیا ہے۔ لیکن کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے؟ ہر زندہ چیز اپنی زندگی کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ زندگی کا فطری وظیفہ ہے۔ انسان دنیا میں جو کچھ کرتا ہے وہ زندگی کے اسی تقاضے کے ہاتھوں مجبور ہر کر کرتا ہے۔ غذا، لباس، مکان، صحت، بقا، موت سے فرار و گریز اور دیگر ہزار طرح کی خواہشات سب زندگی سے محبت کی وجہ سے ہیں۔ اب تحفظِ حیات کے دو پہلو ہیں۔ ایک مادی تحفّظ، ایک روحانی تحفّظ۔ دنیا میں انسان ہمیشہ نہیں رہ سکتا، آخر کو اس کو مرنا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ دنیا میں خدا کے منکر تو بہت گزرے ہیں، موت کا منکر کوئی نہیں ہوا۔ موت روزمرہ کا مشاہدہ ہے۔ اس کا انکار کیسے ہو۔ ہاں انسان کے دل میں موت پر فتح پانے کی آرزو ضرور ہے۔ اس آرزو کی تکمیل روحانی تحفّظ ہی سے ہوتی ہے۔ یہ روحانی تحفّظ عملِ شہادت کے انعام کے طور پر ملتا ہے۔ شہید وہ ہے جو زندگی کے مادی تحفّظ کو ٹھوکر مار کر روحانی تحفّظ حاصل کرتا ہے۔ ہماری زندگیوں کا انجام موت ہے۔ شہید کی موت کا انجام زندگی ہے۔ اللہ نے اپنی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو مردہ کہنے سے منع کیا ہے، وہ زندہ ہیں، وہ ایسی زندگی سے سرفراز ہیں کہ ہمارے حیطۂ شعور میں جس کی سمائی نہیں۔  حضرت امام حسینؓ نے بھی میدانِ کربلا میں ایسی زندگی پائی۔ واقعۂ کربلا موت کی کہانی نہیں، وہ زندگی کا قصّہ ہے۔ فانی زندگی کے مقابلے میں ابدالآباد تک کی زندگی پانے کا فسانہ۔ یہ مقامِ گریہ نہیں ہے بلکہ جائے فخر ہے۔ ہزاروں سلام ہیں ان شہداء پر جو حیاتِ ارضی کی محبت سے نکلے اور اخروی زندگی کی آرزو میں بقائے دوام پاگئے۔

یہ بھی پڑھئے:  حسینی، کبھی سیکولر نہیں ہو سکتا —- اطہر وقار عظیم

 

شہدائے کربلا کی موت وہ زندگی ہے جس کو موت کا کوئی خطرہ نہیں۔ وہ ہر قسم کے نقصان اور خسران سے محفوظ ہے۔ مشاہدۂ کامل کے مرتبے پر پہنچ کر جب انسان حق شناس ہو جاتا ہے تو پھر اس کا سر اس کے لیے وبالِ دوش ہو جاتا ہے۔ وہ حق میں کسی طرح کی آمیزش برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے سیّدنا حسینؓ نے میدانِ کربلا میں حق کی سربلندی اور اسے خالص ترین صورت میں باقی رکھنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ہر اعتبار سے اتمامِ حجت کر دیا۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ باطل اپنی خالص صورت میں کبھی قائم نہیں رہ سکتا، اپنے آپ کو برقرار رکھنے کے لیے وہ ہمیشہ اپنے اندر حق کی کچھ آمیزش کیے رکھتا ہے۔ یزید کا معاملہ بھی یہی تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ الحاد و زندقہ پر اتر آیا تھا اور اس کے جلیل القدر اسلاف قافلہ ملت کو جس رخ پر گامزن کیے ہوئے تھے یزید یکسر اس کے مخالف رخ پر چل پڑا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اُس معیارِ فضیلت و تقویٰ پر پورا نہ اترتا تھا جو اس کے پیشروؤں نے قائم کر دیا تھا۔ اس میں فسق و فجور آ گیا۔ ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ: ’’یزید میں اچھی عادتیں بھی تھیں، سخاوت، مروت، فصاحت، شعرگوئی، بہادری، ملکی معاملات میں صحیح رائے دینا(یہ سب اس میں موجود تھیں)‘‘، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی شراب نوشی، غیراخلاقی طرزِعمل، راگ رنگ کی شوقینی اور بعض اوقات ترکِ نماز کی بھی شہرت تھی۔ ان عادتوں کے ساتھ جب وہ مسندِ اقتدار پر آیا تو اس وقت کے حالات میں یہ کوئی چھوٹا واقعہ نہ تھا۔ یزید اگر خلافتِ راشدہ کے فوراً بعد حکمران نہ بنتا تو اس پر شاید یہ نفسیاتی رد عمل نہ ہوتا جیسا کہ بعد کے واقعات نے (جو خلافتِ اموی و عباسی میں پیش آئے) یہ ثابت بھی کردیا۔

بہرکیف اس وقت عظیم المرتبت صحابہ کی موجودگی میں یزید کی یہ گراوٹ گوارا نہ تھی جیسا کہ اصول ہے کہ کسی عمل کے ارتکاب پر وقت کا نبی اگر خاموش رہے تو یہ اس عمل کے جواز کی دلیل بن جاتی ہے۔ اس طرح یزید کی اس اخلاقی حالت کے باوجود حضرت حسینؓ جیسے صحابی اگر اس کی بیعت کر لیتے تو یزید کا یہ عمل آئندہ کے لیے باجواز مثال بن جاتا لہٰذا سیّدنا حسینؓ کو حق کے چشمہ مصفٰی میں اتنی سی گدلاہٹ بھی گوارا نہ تھی، اس لیے وہ خم ٹھونک کر دشتِ کرب و بلا میں اُتر آئے۔ سطورِ ماسبق میں لفظ شہید کی بحث میں جیسا کہ معلوم ہوا کہ مشاہدہ کامل تب ہوتا ہے جب شاہد، شہود اور مشہود ایک ہوجائیں تو سیّدنا حسینؓ اپنے جدِامجد ﷺ کے وارثِ کامل کی حیثیت سے شہادت کے اس مرتبۂ کامل پر فائز تھے لہٰذا وہاں دین کے معاملے میں بھی ذرا سی بھی مداہنت بہت بڑا جرم ہوتی، اس لیے انہوں نے شہادت کلمۃ الحق کا حق ادا کر دیا۔ جس طرح حق کو باطل کا وجود کسی طرح بھی گوارا نہیں ہوتا اسی طرح باطل بھی حق کو گوارا نہیں کرتا کیونکہ حق اگر خاموش بھی رہے تب بھی باطل اسے اپنے استمرار و بقا کے لیے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ سیّدنا حسینؓ نے شروع میں یزید کی صرف بیعت سے انکار کیا تھا اس کے خلاف کوئی خروج نہیں کیا تھا۔ خاموش مدینہ کے اندر قربِ نبوی میں مقیم رہے مگر یزید کے عمّال مسلسل بیعت پر مصر رہے۔ تنگ آ کر آپ مکہ جا کر پناہ گزین ہوئے، وہاں بھی بیعت کا اصرار جاری رہا۔ آخر کو جب سیّدنا حسینؓ کربلا میں ہر طرف سے غنیموں میں گھر گئے تب انہوں نے اپنی دو تین مشہور شرائط پیش کیں کہ مجھے واپس مدینہ جانے دو، یا مجھے یزید کے پاس لے چلو یا پھر سرحدوں پر جہاد کے لیے نکل جانے دو، مگر ایک نہ مانی گئ۔ دراصل حضرت حسینؓ بتا دینا چاہتے تھے کہ شر ان کے کسی عمل کی وجہ سے ان سے خفا نہیں ہے بلکہ شر کے لیے خیر کا وجود ہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یوں امام حسینؓ نے یہ شرائط پیش کر کے باطل کی نیت کو قیامت تک کے لیے ننگا کر دیا۔ وہ باطل جو حق کے لبادے میں چھپا ہوا تھا۔ وہ نمازیں بھی پڑھتا تھا، اس کی وضع قطع بھی مسلمانوں جیسی تھی مگر اس کے باوجود وہ باطل تھا۔ ان شرائطِ صلح کے پیش کرنے میں حضرت حسینؓ کے اندر اپنے برادرِ مکرم امام حسنؓ کی ایک شان بھی نظر آتی ہے جن کے بارے میں بیّن حدیث ہے کہ ’’میرا یہ فرزند سیّد ہے، امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا۔‘‘ حضرت امام حسنؓ نے رفعِ فتنہ کے لیے حضرت امیرمعاویہؓ سے صلح کی۔ حضرت حسینؓ نے اسوۂ حسنی پر عمل کرتے ہوئے اور مسلمانوں کو آپس میں خون خرابے سے بچانے کے لیے ابنِ زیاد کے سامنے صلح کی شرائط پیش کیں مگر باطل کو کسی طور حق کا وجود گوارا نہ تھا۔ (ایسے میں سیّدنا حسینؓ نے اسوۂ حسنی پر شاید اس لیے بھی عمل کیا کہ بعد میں ان کی اور ان کے اہلِ خاندان کی محبت کا دم بھرنے والے کچھ لوگ ان کے بھائی کے اس عمل کو شاید معتبر نہ جانیں۔ لہٰذا انہوں نے اس پر مہرِتصدیق ثبت کر دی۔ وہ لوگ جو آج امام حسنؓ کا ذکر محض برائے وزن بیت کرتے ہیں، حضرت حسینؓ کا تصدیقی عمل ان کے لیے صحتِ نیت کا سامان بننا چاہیے۔) لیکن حق حق ہے، باطل کا کوئی حربہ کوئی نشانہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ حق کا ہر عمل خیر ہوتا ہے۔ سیّدنا حسینؓ بیعتِ یزید سے منہ موڑ کر جب مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کا یہ عمل بھی خیر تھا، وہ جب کوفہ کے راستے میں تھے اور مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر سن کر اپنے ساتھیوں کو واپس لوٹنے کی اجازت دے رہے تب بھی حق پر تھے۔ دشتِ کربلا میں جب وہ اپنی تین شرائط پیش کر رہے تھے ان کا یہ عمل بھی خیر تھا۔ وہ سراپا خیر تھے، حق تھے۔ ان کے لیے جو شہادت جو سعادت لکھی جاچکی تھی باطل اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور پھر آنجناب نے شہادتِ حق کی آخری منزل کو پا لیا، وہ جس کام کا آغاز صبحِ ہجرت سے ہوا تھا، شامِ کربلا پر اس کا اختتام ہوگیا۔

ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا

یہ تماشا حق کی فتح کا آخری قدم تھا جو باطل کو ذلیل و رسوا کر گیا۔ یوں تو اسلام کی تاریخ میں ہجرت، صلح حدیبیہ، فتح مکہ، ریاستِ مدینہ اور سانحۂ کربلا ایک ہی سلسلے کی لڑیاں ہیں اور ان میں کسی بھی مرحلے پر عملِ شہادت میں انقطاع واقع نہیں ہوا، مگر ہجرت اور صلح حدیبیہ سے واقعہ کربلا کو عجیب مماثلت ہے۔ ہجرت وہ عظیم واقعہ ہے جس میں بظاہر مسلمانوں کا فرار نظر آتا ہے۔ اپنے پرکھوں کی سرزمین کو چھوڑ کر بے سروسامانی کے عالم میں گھر سے نکلنا اور غریب الوطنی اختیار کرنا، ہجرت یہی تو ہے۔ دشمن اس پر خوش تھا کہ جس دین کے نام لیواؤں نے ان کی سرداریاں خطرے میں ڈال دی تھیں وہ سرنگوں ہو گیا، مگر پھر کیا ہوا؟ کیا ہجرت آنے والی فتح مندیوں کا قدمِ اول ثابت نہیں ہوئی؟ اسی طرح صلح حدیبیہ پر ایک بار پھر کفار نے خوب بغلیں بجائیں کہ مسلمانوں کو دب کر صلح کرنی پڑ رہی ہے۔ خود مسلمانوں کو اس پر جو سبکی محسوس ہوئی وہ ظاہر ہے مگر دنیا کی نظر میں جو عمل پس پائی کا تھا، اللہ نے اسے فتحِ مبین جیسے عظیم الشان نام سے سرفراز کیا۔

آج کے عہد میں کربلا کی ہمارے لیے معنویت:
خلافتِ راشدہ کے اختتام پر اسلام مسلمانوں کی انفرادی زندگی اور انکے اجتماعی اداروں کی تشکیل مکمل کر چکا تھا اور بظاہر انفرادی و معاشرتی زندگی کے ساتھ ہیئتِ اجتماعی کی عمارت بھی تکمیل پاچکی تھی۔ اس پس منظر میں اسلامی تاریخ کے اس دور آخر میں آنحضرتﷺ کے نواسوں کا کردار اور واقعہ کربلا بعد کی تاریخ کیلیے بالعموم اور آج کے عہد میں ہمارے لیے خاص معنویت کا حامل ہے۔

مغرب میں پچھلی چند صدیوں کی مذہبی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کی کشمکش کے بعد جو ایک مخصوص تصورِ انسان پیدا ہوا ہے جو اپنی نہاد میں سیکولر (یعنی دنیاویت رُخ) ہے۔ سیکولر مزاج کی یہ خاص عادت ہے کہ زمین پر ہونے والے ہر وقوعے کو یہ صرف “دنیاویت” کے عدسے سے دیکھتا ہے اور اسمیں کسی ماورائی مداخلت کے تصور سے بالعموم اِبا کرتا ہے۔ مغرب کے تعلیمی و تہذیبی اثرات کے نتیجے میں یہ لبرل سیکولر مزاج مسلمانوں کے بعض مذہبی طبقات پر شدت سے اثر انداز ہوا ہے۔ اس مزاج کا پہلا بڑا ایجنڈا مذہب کو ریاست سے جدا بتلانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ واقعہ کربلا کی تعبیر بھی سیکولر انداز میں کرتے ہیں جس کے لیے یہ مختلف طریقہ ہائے واردات پرتتے ہیں۔

ان میں سے کچھ کا خیال ہوتا ہے کہ واقعہ کربلا محض اقتداری جنگ تھی، یہ لوگ بھی سیکولر سیاست گردی کے پروردہ ہیں۔ ان کے ذہنوں میں حکومت و اقتدار کے سوا اور کسی شے کی سمائی ہی نہیں۔ لیکن اگر امام حسینؓ کی یزید سے جنگ اقتداری خاطر بھی تھی تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہر عمل کی ایک نیّت ہوتی ہے، ایک محرک ہوتا ہے۔ جان دینا ایک عمل ہے، مگر شہادت صرف جان دینے کا عمل نہیں۔ لوگ جان تو بہت سی چیزوں کے لیے دے دیتے ہیں۔ دولت، شہرت اور حکومت، یہاں تک کہ خودکشی کرنے والا بھی جان دیتا ہے۔ مگر شہید ایک خاص نیّت، خاص محرک کے ساتھ اور ایک خاص مقصد کے لیے جان دینا ہے، اور یہی اس کی نیّت ہے۔ عمل کا دار و مدار نیّت پر ہے۔ آخرت میں نتائج نیّت کے مطابق ظاہر ہوں گے، دنیا میں اس کا نتیجہ خواہ محکومی و مجبوری ہی کیوں نہ ہو۔ ’’جو لوگ کربلا کو اقتدار کی جنگ قرار دیتے ہیں وہ نیّت کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ کربلا اگر اقتدار کی جنگ تھی تو کیا بدر اور خیبر و خندق کی جنگیں اقتدار کے لیے نہیں تھا؟ بے شک کربلا اقتدار کی جنگ تھی مگر اسی اقتدار کے لیے جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے جنگیں کیں۔ یہ اقتدار کس کے لیے تھا؟ کیا اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے نہیں تھا؟ وہ جنگ جو غلبۂ حق کے لیے ہوتی ہے، وہ اقتدار جو نفاذِ حق کے لیے ہوتا ہے اسے حق کی جنگ کہتے ہیں‘‘۔ بے شک کربلا انہی معنوں میں اقتدار کی جنگ تھی۔  نیت، محرکِ عمل اور حق کا یہ تصور جو کہ امام حسین کی اصل متاعِ ایمان و عمل تھی، واقعۂ کربلا اور یزید سے امام حسین کے اختلاف کو محض “سیاسی اختلاف” اور “اقتدار کی جنگ” قرار دینے والوں کو کبھی قبول نہیں ہوتا کیونکہ یہ شے اور دین کا سیکولرائزڈ ورژن تیار کرنے والوں کی ساری عمارت کو گرا دیتی ہے۔

کچھ ایسی ہی ذہنیت ان لوگوں کی بھی ہے جو معذرت خواہانہ انداز میں کہا کرتے ہیں کہ ’’اسلام بزور شمشیر نہیں بلکہ بذریعہ اخلاق پھیلا ہے‘‘۔ بیشک اسلام اخلاق سے بھی پھیلا ہے مگر وقت آنے پر حق بزورِ شمشیر بھی پھیلا ہے کیونکہ حق بالطبع اپنا نفاذ چاہتا ہے۔ حق اگر حق ہے تو پھر اس کا غلبہ ضروری ہے۔ اب باطل اتنا نرم ملائم تو ہے نہیں کہ جوں ہی حق آئے وہ اپنی کرسیٔ صدارت چھوڑ کر دست بستہ ایک طرف کو کھڑا ہو جائے۔ باطل تو پُرزور مزاحمت کرتا ہے اور خود کو بچانے کے لیے جان تک لڑا دیتا ہے۔ نتیجتاً حق کو شمشیر بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ حق کے نفاذ کے لیے اقتدار مقصود نہیں بلکہ ذریعہ ہے، ایک وسیلہ جو عدل و احسان کے قیام، معروف کے حکم اور کفر کی بیخ کنی کے لیے ہے۔ ایسا اقتدار مطلوب ہے، محمود ہے۔ اصحابِ سعادت ہیں وہ لوگ جو اللہ کی زمین پر ایسا اقتدار قائم کرنے کی کسی بھی درجے سعی کرتے ہیں اور اس کی نیّت رکھتے ہیں۔ شہادت محض جان دینے ہی کا نام نہیں، قدم قدم پر حق کی حقّانیت کی گواہی دینے اور دیتے رہنے کا بھی نام ہے۔ اگر بنظر غور دیکھیں تو دنیا میں آج بھی یہی طریقِ جدلیات کارفرما ہے۔ حق اگر یہ کام خود نہیں کریگا تو اسی مطالبے اور طریقِ شمشیر زنی کے ساتھ باطل اسکے خلاف آ کھڑا ہوتا ہے۔ باطل آج بھی، یزید کیطرح، حق سے بیعت طلبی چاہ کر اسے اپنا مطیع رکھنے پر مصر ہوتا ہے۔ جدید سیاسی جدلیات اس کے سوا کچھ اور ہو کہیے!  لہٰذا حق اور حق کے نفاذ کا یہ تصور جس پر امام حسین کاربند رہے اس لبرل سیکولر فکر کی بھی جڑ کاٹنے والا ہے جو محض ہاتھ جوڑ کر تبلیغِ کرتے رہنے پر قانع رہ کر باطل کیلیے زندگی کے ہر شعبے میں دراندازی کرتے رہنے کی سہولت کاری کا مرتکب ہوتا ہے۔

امام حسین اپنا اپنا کردار ادا کر کے دین اور ریاست کو جدا اور اسلام اور سیکولرازم کو ایک سمجھنے والوں کے سامنے قیامت تک سدِ سکندری کھڑی کر گئے ہیں۔ اور خاص طور پہ شیعت کا تو پورا مذہبی کلامیہ ہی واقعۂ کربلا کے طفیل اپنی نہاد میں اینٹی سیکولر ہے۔ 

یاد رکھئے کہ حضرت امام حسن امیر معاویہ کے دور میں حق کی جس دینی مصلحت کے پیشِ نظر ریاست سے الگ رہے تھے، یزید کے دور میں امام حسین اسی دینی مصلحت کی بنا پر ریاست سے ٹکرا گئے تھے۔ پہلے دور میں امام حسن اور دوسرے دور میں امام حسین اپنا اپنا کردار ادا کر کے دین اور ریاست کو جدا اور اسلام اور سیکولرازم کو ایک سمجھنے والوں کے سامنے قیامت تک سدِ سکندری کھڑی کر گئے ہیں۔  اسی لیے ہم نے کہا تھا کہ واقعہ کربلا آج کے اس دور کی جدید فکر ـــ مذہب اور ریاست کی علیحدگی ـــ کیلیے بھی انتہائی معنی خیز ہے۔ سنیّت اگر اس دوئی کے ساتھ زندہ رہے تو اسکے تو شاید پھر بھی گنجائش کی کوئی صورت بن جائے، مگر شیعت کا تو پورا مذہبی کلامیہ ہی واقعۂ کربلا کے طفیل اپنی نہاد میں اینٹی سیکولر ہے۔ ایران کی مذہبی ہیئت حاکمیہ کی پوری ترکیب بھی اسی کی شاہد ہے۔

سانحہ کربلا میں دشتِ غربت کے مقتول حضرت امام حسین نے دین کو اپنی مرضی کے تابع بنانے والے مسند نشینانِ اقتدار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عبرت سرائے تاریخ میں جس طرح حنوط شدہ لاش بنا کر لٹکا دیا ہے کیا اسکی بدبو سے آج چودہ صدیوں بعد بھی حق اور باطل کا امتیاز مٹانے والی دین اور ریاست کی علیحدگی کی قائل “دنیاویت پسندی/ سیکولرازم کے دماغ کو متعفّن رکھنے کیلیے کافی نہیں؟

غیر نے ہم کو ذبح کیا نہ طاقت ہے نا یارا ہے
اس کتے نے کر کے دلیری صیدِ حرم کو مارا ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: