کیسی تھی مدینہ کی ریاست —– عطا محمد تبسم

0
  • 31
    Shares

کیسی تھی مدینہ کی ریاست؟ کیسے تھے اس کے حکمران؟ سوچتا ہوں تو تاریخ مہر بلب نظر آتی ہے۔ کوئی ایسی مثال نہیں ملتی۔ ریاست مدینہ کا پہلا خلیفہ، یار غار، عمر بھر کا رفیق، مال و دولت سے مالا مال، شرافت اور نجابت اور حسب و نسب میں معزز ترین، وجاہت اور عزت میں بے مثل، مکہ میں تلاوت کرتے تو مشرک عورتوں اور بچوں کا مجمع لگ جاتا، رسول اللہ ﷺ کی گواہی ہے کہ، سوائے ابوبکرؓ کے کوئی اور نہیں جس کو میں نے اسلام کی دعوت دی ہو اور اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے قبول کرلیا ہو، کیسا رفیق تھا، کیسا دوست اور غمگسار تھا، رات کی تنہائی اور سناٹا۔ اللہ کا رسولﷺ ہجرت کے سفر میں غار میں تنہائی، اندھیرا۔ اپنے محبوبﷺ کا سر گود میں ہے، غار کے تمام کونے اور روزن اور سوراخ بند کردیئے ہیں، لیکن پھر بھی ایک سوراخ نظر آرہا ہے، اسے اپنے ہاتھ سے بند کردیا ہے۔ ایک سانپ بار بار ہتھیلی پر ڈستا ہے، لیکن ہاتھ نہیں ہٹاتے، تکلیف کی شدت سے چشم سے موتی کے قطرے بہہ کر موئے مبارکﷺ پر گرتے ہیں تو استسفار ہوتا ہے، کیا ہوا صدیق ؓ؟ کچھ نہیں یا رسول اللہﷺ کسی موذی نے کاٹ لیا ہے۔ راستے میں سفر کر رہے ہیں۔ رسول اللہﷺ کے گرد پروانے کی طرح چاروں اطراف پھر رہے ہیں، کبھی دائیں جانب، کبھی بائیں جانب، کبھی پیچھے، کبھی آگے اس اضطراب کو دیکھ کر متبسم ہوکر پوچھتے ہیں، کیا بات ہے صدیقؓ ؟ ابوبکرؓ کوئی جواب نہیں دیتے دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ کہیں دائیں سے حملہ نہ ہوجائے، اس لیے دائیں طرف ہوجاتے ہیں، پھر سوچتے ہیں کہیں آگے سے کوئی حملہ نہ ہوجائے اس لیے آگے آجاتے ہیں، شمع رسالت کے گرد یہ پروانہ، جانثاری اور دل و جان فدا کرنے اور وارفتگی شوق لیے یوں ہی چلتا رہتا ہے۔

مدینہ کی ریاست کے پہلے خلیفہ نے مدینہ کی ریاست میں جو پہلا خطبہ دیا، وہ بھی تاریخ کے اوراق میں امر ہے۔ فرمایا اے لوگو مجھے تم پر حاکم بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں ٹھیک رستے پر چلوں تو میری مدد کرو۔ اور اگر دیکھو میں غلط راستے پر جارہا ہوں، تو مجھے سیدھا کردو۔ یہ صدق امانت ہے اور کذب خیانت ہے، ہر ضعیف اور کمزور میرے نزدیک اس وقت تک طاقت ور ہے، جب تک میں اس کا حق نہ دلوا دوں اور ہر طاقت ور میرے نزدیک اس وقت تک ضعیف اور کمزور ہے جب تک میں اس سے مظلوم کا حق نہ لے لوں۔ تم میں سے کوئی جہاد ترک نہ کرے۔ کیوں کہ جو قوم جہاد کو ترک کردیتی ہیں۔ اللہ اس قوم پر ذلت طاری کردیتا ہے۔ جب تک میں اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں۔ میری اطاعت کرو اور جب میں اللہ کے احکام کے خلاف جاﺅں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔ نماز کے لیے اٹھو، اللہ تم پر رحم کرے گا۔ یہ ہے ریاست مدینہ کے پہلے حکمراں کا سیاسی ایجنڈہ، مدینہ کی ریاست کا یہ خلیفہ بازاروں میں بغیر کسی پہرہ کے اس حالت میں پھرتا تھا کہ اس کے بدن پر بھٹی ہوئی قمیض اور پاﺅں میں ٹوٹا ہوا جوتا ہوتا تھا۔ جب وہ مجلس میں بیٹھتا تو اس کے لیے کوئی اہتمام نہ ہوتا، اس کا کھانا عام لوگوں کی طرح نہایت سادہ ہوتا، مدینہ کی ریاست کے اس خلیفہ کا پہلا مقابلہ ہی جھوٹے نبیوں اور مدعیان بنوت سے ہوا، بدوی قبائل نے ارتداد اختیار کیا تو بعض صحابہؓ نے عرض کیا، کہ مناسب ہوگا کہ فی الحال اس محاذ پر لشکر نہ بھیجے جائیں، لیکن آپ نے فرمایا، ، نتیجہ کچھ ہی ہو یہ لشکر شام ضرور جائے گا۔ لشکر کو رخصت کرنے کے لیے ریاست مدینہ کا والی خلیفہ وقت مدینہ کے باہر حضرت اسامہؓ کے گھوڑے کی نکیل پکڑے پیدل چل رہا ہے۔ اسامہؓ کم عمر ہیں۔ گھوڑے سے اترنے کی کوشش کرتے ہیں، خلیفہ حضرت ابوبکرؓ سے عرض کرتے ہیں، یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں گھوڑے سے اترتا ہوں، حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں، خدا کی قسم نہ تم اتروگے اور نہ میں سوار ہوں گا، کیا ہوا اگر میرے پاﺅں اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوگئے؟ مرتدین اور منکرین زکواة سے واسطہ پڑا، اور انھوں نے زکواة دینے سے انکار کیا تو مرتدین کے مطالبات پر جھکنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا، ، خدا کی قسم اگر وہ مجھے ایک اونٹ کی رسی جسے وہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ادا کیاکرتے تھے، دینے سے انکار کردیں گے تو میں اس رسی کے ٹکڑے کے لیے بھی میں ان سے لڑوں گا، ، مدینہ کی ریاست کا والی جس جرات، دلیری اور سختی سے مرتدین کے مقابلے پر کھڑا ہوا وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب مدینہ کا متنفس یہ کہہ رہا تھا کہ ان لوگوں سے نرمی کا برتاﺅ کرنا چاہیئے۔ شائد اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔ اور وہ اسلام قبول کرلیں۔ لیکن مدینہ کی ریاست کے اولین خلیفہ نے اس فتنہ اور فساد کو جڑ سے ختم کرکے دم لیا، مدینہ کی ریاست کا حکمران خلیفہ اول اپنے ساتھیوں کو ہدایت اور تلقین کرتا ہے تو کہتا ہے، ، پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنا، اس طرح تماری رعایا بھی تم سے ٹھیک ہوجائے گی۔ جب اپنے دشمن کو دیکھو تو آگے بڑھنا، پیچھے نہ ہٹنا، یہ تمارے لیے فخر کا باعث ہوگا، اپنے ساتھیوں کو قران پڑھنے کی تاکید کرنا، اور جاہلیت کے ذکر سے منع کرنا، اگر جاہلیت کا کچھ اثر باقی رہا تو یہ ان کے درمیان عداوت کا بیج بو دے گا۔ دنیا کی خوب صورتی سے اعراض برتنا، لوگوں سے بھلائی سے پیش آنا، مخلص اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ میل جول رکھنا، بزدلی نہ دکھانا۔ ریاست مدینہ کا پہلا خلیفہ ایک کامیاب تاجر تھا۔ پہلے چھہ ماہ گھر کا خرچ اپنی آمدنی سے کرتے رہے، بیت المال سے ایک پائی وصول نہ کی، کپڑوں کے تاجر تھے۔ ایک دن اپنے کندھوں پر کمبلوں کی گٹھڑی اٹھائی اور بازار کی طرف چل دیئے، راستے میں حضرت عمرؓ مل گئے، پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں، بازار جار رہا ہوں، حضرت عمر بولے، ، یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ آپ کو تو خلیفہ بنایا گیا ہے۔ خلیفہ وقت فرماتے ہیں، ، ، آخر میں اپنے بال بچوں کو کہا ں سے کھلاﺅں؟

حضرت عمر ؓ ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں آپ میرے ساتھ چلئے ابو عبیدہؓ (امین بیت المال) آپ کو کچھ وظیفہ مقرر کردیں گے، ، آپ نے اپنا اتنا ہی وظیفہ مقرر فرمایا جتنا باقی مہاجرین کو ملتا تھا۔ وقت آخر آیا تو اپنی تمام زمین بیچ کر وہ رقم بھی جو خلافت کے دوران وظیفہ کے طور پر لی تھی، بیت المال میں واپس جمع کرادی۔ بہت آسان ہے، مدینہ کی ریاست کا تقریروں میں ذکر کردینا، فلاحی ریاست بنانے کا دن رات ورد کرنا، اے اللہ ہم تیرے بندے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، پڑھ کر تقریر شروع کرنا، ایسا آسان بھی نہیں ہے، الفت کے یہ تقاضے بہت بھاری ہیں، اسی لیے تو اقبال نے کہا تھا کہ یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: