نواز شریف: بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟ — عطا محمد تبسم

0
  • 37
    Shares

میاں نواز شریف ایک بار پھرسارے چینل اور اخبارات کی سرخیوں کا موضوع بن گئے ہیں۔ کل جو عدالتیں کو ناانصافی کا مرکزاور فیصلوں کو خلائی مخلوق کی کارفرمائی کہتے تھے۔ آج عدالتوں کو انصاف اور عدل کا مرکز و محور قرار دے رہے ہیں۔ نواز شریف رہا ہوکر اپنے گھر جاتی عمرہ پہنچ چکے ہیں۔ مٹھائیاں اور خوشیوں میں میاں کے نعرے وجن گے، پھر سے بجنے لگے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں آسمان نے اتنے رنگ بدلے ہیں کہ اب اس کے اصلی رنگ ہی کو بھول گئے ہیں۔ میاں نواز نے اپنی برطرفی اور سازش کی تھیوری پر عمرہ سے والپسی پر ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اظہار کیا ہے تھاکہ نادیدہ ہاتھ اپنے من پسندیدہ افراد کو تھپکی دے کر قوم پر مسلط کرنے کے منصوبے نہ بنائیں، اگر پردے کے پیچھے یہ کاروائی نہ رکی تو میں سارے شواہد اور ثبوت عوام کے سامنے لے آؤں گا۔

نواز شریف 1998 میں وزیر اعظم تھے۔ اکتوبر کے مہینے میں وہ کراچی میں کینٹ اسٹیشن کے قریب للی برج کی افتتاحی تقریب میں تشریف لائے۔ اگلے دن تمام اخبارات مین سرخی لگی تھی۔ ایجنسیاں میرے پیچھے پڑی ہوئی ہیں: نواز شریف۔ خبر ایک معتبر خبر رساں ایجنسی نے جاری کی تھی۔ اتفاق سے میں اس دن اسلام آباد میں تھا۔ اس خبر رساں ایجنسی کے دفتر جانا ہوا تو اس کے مالک ایڈیٹر پریشان بیٹھے تھے۔ میں نے حال پوچھا تو کہنے لگے، ہمارے رپورٹر نے یہ خبر دی ہے، جو اخبارات کی ہیڈ لائین ہے۔ اب پی آئی ڈی سے بار بار فون آرہا ہے کہ اس کی تردید کردو۔ انھوں نے مجھ سے اس خبر اور اپنے رپورٹر جن سے میں واقف تھا کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ جناب یہ بہت سنیئر رپورٹر ہیں۔ ان کے پاس اس خبر کی وائس ریکارڈ موجود ہوگی۔ وہ ٹیپ ریکارڈ کے ذریعہ تقریر ریکارڈ کرتے ہیں۔ اس کے بغیر خبر نہیں دیتے ہیں۔ یہ سنتے ہی ان کا چہرہ کھل اٹھا۔ اگلے لمحے جو فون آیا اس پر انھوں نے ڈٹ کر کہا کہ اس کی تردید نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم نے جو کچھ کہا ہے، اس کے الفاظ ہمارے پاس ریکارڈ ہیں۔

نواز شریف جب سازشوں اور ایجنسیوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اپنے دور کے تمام واقعات، اور اپنے صوبائی وزیر ہونے سے وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کی تمام وارداتیں بھول جاتے ہیں۔ انھیں بے نظیر دور میں چھانگا مانگا میں پکنک کے بہانے ایم این اے کی ہارس ٹریڈنگ بھی یاد نہیں اور راتوں رات آتی اور آئی جے آئی کے اتحاد کی تشکیل اور بے نظیر کے مینڈیٹ کو انجینئرڈ طور پر اغوا کرتے ہوئے اس بات کا خیال کیوں نہیں آیا۔ جب 1990 میں غلام اسحق خان نے بے نظیر کی مینڈیٹ والی حکومت کو برطرف کیا تھا، تو میاں صاحب، کیوں خاموش تھے۔ اور اپنی باری کے لیئے کس کی سرپرستی اختیار کیئے ہوئے تھے۔

پردے کے پیچھے کی اس کاروائی کو روکنے کی دھمکی نے، بھٹو صاحب کی یاد دلادی۔ 1965کی جنگ کے بعد ذولفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف ایک عوامی تحریک شروع کردی تھی۔ وہ ہر جلسے میں، مجھے کیوں نکالا، کی طرح ایک بات کہتے تھے۔ جاؤ ایوب خان سے پوچھو کہ، تاشقند میں وہ کیا کرکے آئے ہیں۔ اگر وہ نہیں بتائیں گے تو میں عنقریب لیاقت باغ راولپنڈی میں، میں خو د بتا و¿ں گا، ایک عر صہ اس قسم کی چو نکا دینے وا لے معاملات چلتے رہے۔ ایوب خان تنگ آگئے۔ آخر کا ر انھوں نے سیاست دانوں کی گو ل میز کا نفر نس بلو ائی تا کہ آمنے سا منے بیٹھ کر با ت کی جا ئے۔ بھٹو صاحب یہاں بھی کنی کاٹ گئے۔ دعو ت کے باوجود ذوالفقا ر علی بھٹو اس گو ل میز کا نفر نس میں نہیں گئے، جس دن گو ل میز کا نفر نس تھی اس رو ز انھوں نے راولپنڈی کے لیا قت با غ میںایک جلسہ کیا۔ انھوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ اس جلسہ میں تا شقند کے راز سے پر دہ اٹھاؤں گا۔ عوام کا بہت بڑا مجمع تھا جو سننے کے لیے موجود تھا۔ بھٹو نے جب خطا ب شروع کیا تو ہر چھو ٹے بڑے، بچے، بو ڑھے کو یہ توقع تھی کہ آج ذو الفقار علی بھٹو تا شقند کے راز سے پردہ اٹھا دیں گے۔ جلسے میں بھٹو صاحب ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے، جب لوگ تنگ آگئے تو انھوں نے نعرے لگائے، تاشقند تاشقند، تو بھٹو صاحب نے کہا کہ، میری بھی یہی خواہش ہے کہ تاشقند کی بلی تھیلے سے باہر آجائے۔ لیکن کیا کروں، کہ جب میں لیاقت باغ کی طرف آرہا تھا تو ایئر پورٹ پر فوج کا ایک کرنل ملا۔ جس نے کہا کہ، تاشقند کی بات نہ کرنا، قوم کے کے مفاد میں نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: