چیف جسٹس صاحب! اک نوٹس ادھر بھی —- خرم شہزاد

0
  • 47
    Shares

۔۔۔ اور ایون فیلڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے تینوں مجرموں کی سزا معطل کر دی۔ پاکستان بھارت میچ سے گھنٹہ پہلے آنے والی یہی بڑی خبر تھی اور اسے سننے کے لیے پورا ملک ٹی وی اسکرینوں کے سامنے جمع تھا۔ بہت سے نون لیگ والوں کو ہوا کا اندازہ ہو چکا تھا اسی لیے وہ عدالت کے باہر پہنچ گئے اور فیصلے کے بعد ساتھ لائی مٹھائی بانٹنے لگے حالانکہ احتساب عدالت میں لوگ اور میڈیا انہی نون لیگی رہنماوں کو ڈھونڈتے رہ گے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مجھے بہت شدت سے وہ شخص یاد آیا جو آجکل کسی پاگل خانے میں سارا دن، کٹوا لو۔۔۔ پھر نہ کٹواو، کہتا رہتا ہے۔ واقعہ آپ کے ساتھ بھی بانٹتے ہیں کہ بات کچھ یوں ہے کہ بیوی نے پوچھا کیا میں اپنے بال کٹوا لوں۔ شوہر نے اجازت دے دی کہ کٹوا لو۔

بیوی: لیکن اتنی مشکل سے لمبے کئے ہیں۔
شوہر: تو پھر نہ کٹواو۔
بیوی : لیکن آجکل چھوٹے بالوں کا فیشن ہے۔
شوہر: تو پھر کٹوا لو۔
بیوی: لیکن آپ کو لمبے بال پسند ہیں۔
شوہر: تو پھر نہ کٹواو
بیوی: لیکن میری سہیلی کہتی ہے کہ میرے چہرے پر چھوٹے بال اچھے لگیں گے۔
شوہر: تو پھر کٹوا لو
بیوی: لیکن چھوٹے بالوں کی چٹیا نہیں بنتی
شوہر: تو پھر نہ کٹواو
بیوی: سوچ رہی ہوں تجربہ کر کے ہی دیکھ لوں۔
شوہر: تو پھر کٹوا لو
بیوی: لیکن اگر خراب ہو گئے تو؟
شوہر: تو پھر نہ کٹواو
بیوی: لیکن چھوٹے بال سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔
شوہر: تو پھر کٹوا لو
بیوی: ڈر لگتا ہے کہ کہیں برے نہ لگیں۔
شوہر: تو پھر نہ کٹواو۔
بیوی: اچھا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں بال کٹوا لیتی ہوں
شوہر: تو پھر کٹوا لو۔
بیوی: ٹھیک ہے تو کب چلنا ہے۔
شوہر: تو پھر نہ کٹواو۔
بیوی: اوہ ہو میں امی کی طرف چلنے کی بات کر رہی ہوں
شوہر: تو پھر کٹوا لو۔
بیوی: آپ کیا کہہ رہے ہیں، لگتا ہے آپ کا دھیان میری باتوں کی طرف نہیں ہے۔
شوہر: تو پھر نہ کٹواو۔
بیوی: لگتا ہے آپ کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔
شوہر: تو پھر کٹوا لو۔۔۔ تو پھر نہ کٹواو۔۔۔ تو پھر کٹوا لو۔۔۔ تو پھر نہ کٹواو

وہ شوہر آج بھی کسی پاگل خانے میں بیٹھا یہی کہتا رہتا ہے اور سبھی اس کی اس حالت پر ہنستے ہیں۔ محترم چیف جسٹس صاحب یہ کوئی لطیفہ نہیں بلکہ ہماری ازواجی زندگیوں کا ایک واقعہ ہے جسے اس وقت میڈیا، سیاست دانوں اور آپ کی عدالتوں نے سارے معاشرے پر نافذ کرنے کی کوشش کی ہوئی ہے۔ توہین عدالت کا ڈر نہ ہوتا تو یقینا اس گفتگو کو سیشن کورٹ سے سپریم کورٹ تک مجرم ہے۔۔۔ مجرم نہیں ہے،کی صورت لکھا جا سکتا تھا۔ پکڑ لو۔۔ چھوڑ دوکا یہ کھیل جسے انصاف کے نام پر ہمارے ملک کی عدالتوں میں کھیلا جا رہا ہے اس کے نتائج میں قوم بڑی حد تک ذہنی عذاب اور مایوسی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ ہم آج تک کسی بھی بڑے شخص کے لیے یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ وہ مجرم ہے یا معصوم۔ برسوں کی عدالتی کاروائی کے بعد کسی ایک عدالت سے سزا پانے والا فورا دوسری عدالت میں اپیل دائر کر دیتا ہے اور وہاں سے دود ھ کا دھلا ثابت ہو جاتاہے۔ہمارے ہاں کسی شخص کو ایک عدالت سے مجرم قرار دے کر حق اور سچ کی فتح کا اعلان کیا جاتا ہے تو دوسری عدالت اس حق اور سچ کو جھوٹ قرار دے دیتی ہے لیکن اس عدالت سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ پہلی عدالت کے فیصلے میں کون سی خامی کی بدولت ایک صادق کذاب میں بدل گیا۔ عدالتی نظام میں ایسا کوئی طریقہ کار بھی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے دو عدالتوں کے متضاد فیصلوں کو پرکھا جائے اور ان میں سے غلط فیصلہ کرنے والے جج کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔ وکلا یقینا قانون میں موجود سقم،اپنی چالاکیوں اور پھرتیوں کی وجہ سے اپنے مجرموں کو بچانے میں کامیاب رہتے ہیں لیکن یہ کوئی آج کی تو بات نہیں، یہ کوئی ایک آدھ کیس کی بات تو نہیں۔ عدلیہ کیوں قانون میں موجود سقم ختم کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔ چیف جسٹس صاحب آپ وقت کے وزیر اعظم کو عدالت میں بلا لیتے ہیں اور ایک حکم پر جیل بھیج دیتے ہیں۔ آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان کو ایک حکم پر پسینوں پسینی کر دیتے ہیں لیکن قانون میں موجود سقم پھر بھی موجود رہتے ہیں اور کروڑوں میں فیس وصولنے والے وکلا اپنے مجرموں کو ایک عدالت میں سزا ہونے پر بھی تھپکی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ہوں ناں، اور وہ اپنے مجرموں کے اپنے اوپر اعتماد پر پورا اترتے ہیں۔

ہمیں نواز شریف کی قید اور رہائی سے کوئی مطلب نہیں، ہمیں اس ذہنی پریشانی سے پریشانی ہے جو ہر دوسرے تیسرے ماہ ٹی وی کی سکرینوں پر ہماری منتظر ہوتی ہے۔ احتساب عدالتوں کے مجرم چھوٹنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں سے سزا پانے والوں کو بھی ان کے وکلاء اعلیٰ عدلیہ کی راہ داریوں میں سے یوں ہی نکال لے جاتے رہے ہیں جیسے مکھن سے بال نکالتے ہوں۔ بائیس کروڑ عوام صرف آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہے کہ اس مجرم ہے۔۔۔ مجرم نہیں ہے والے ہیجان سے عدلیہ کیا حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ ریاستی ستونوں میں صرف آپ کی طرف انصاف کے لیے دیکھا جاتا ہے لیکن اگر یہاں بھی ایک جج کے کئے ہوئے انصاف کی دھجیاں دوسرے جج نے اڑانی ہیں تو ہمیں بتایا جائے کہ عوام انصاف کے لیے کس طرف دیکھے۔ حق سچ کے علمبردار صحافیوں نے جب لفافے لینے شروع کئے تو ان کی عزت اخباری کاغذ سے بھی ہلکی ہو گئی۔ ملک میں قانون کے رکھوالے ہونے کا نعرہ لگانے والی پولیس نے جب رشوت کا بازار گرم کیا تو اس کی عزت اور وقار بھی آپ کے سامنے ہے۔ ایسے ہی عدالتیں اب مجرم ہے اور مجرم نہیں ہے کا کام شروع کر چکی ہیں۔انصاف کے نام پر لوگوں کو ٹرکوں کی بتیوں کے پیچھے لگایا جا رہا ہے، ایک کیس کے اندر سے دس اور کیس نکال لیے جاتے ہیں اور اصل کیس اور مجرم برسوں آزاد پھرتے ہیں یا پھر برسوں بعد ہی سہی لیکن دودھ کے دھلے ثابت ہو جاتے ہیں اور اس سارے عرصے میں ایک عام آدمی بد ترین ذہنی پریشانی اور ہیجان کا شکار رہتا ہے۔ اس کے لیے کوئی سچ اب سچ نہیں ہے کوئی صادق اب صادق نہیں ہے کیونکہ کوئی پتہ نہیں کہ اگلی صبح دوسرے عدالت سے سچ کو جھوٹ قرار دے کر جیل نہ بھیج دیا جائے۔ ایک صادق کذاب نہ قرار دے دیا جائے۔ ایسے میں کوئی بولے گا تو یہ توہین عدالت ہو گی، لیکن کوئی کب تک نہیں بولے گا۔ چیف جسٹس صاحب، قانون کو آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں، اس میں موجود سقم بھی آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں اور ان کا استعمال بھی آپ سے سامنے بہت بہتر انداز میں ہوتا آپ روز دیکھتے ہیں۔ اس سارے معاملے پر توجہ دیںکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ چاہیے کچھ بھی ہو لیکن فیصلہ صرف ایک ہونا چاہیے، وہ فیصلہ جس پر ہر کوئی اعتبار بھی کر سکے ورنہ کوئی کب تک خاموش رہے گا۔ اس لیے چیف جسٹس صاحب آپ کچھ کریںاور خدارا ہم عوام کو توہین عدالت پر مجبور نہ کریں۔


مصنف بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز ہیں۔ ریسرچ ورک کے شوقین ہیں۔ اسلامی بینکنگ، وینچر کیپیٹل اور نفسیات سمیت مختلف موضوعات پر ریسرچ ورک شائع ہو چکا ہے۔ مختلف سماجی مسائل پر لکھتے ہیں۔ لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کوشاں ہیں اور حوصلہ رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔ مصنف سے khurram.nocomments@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔  

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: