شہید رائے احمد خان کھرل ۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی

1
  • 970
    Shares

تاریخ انسانی کے اس دوسرے معتبر سر کی کہانی جسے دس محرم کے دن نماز میں اتار کر نیزے پر سجایا گیا تھا۔

محرم کی آمد کے ساتھ ہی امامِ عالیشان کی لازوال داستانِ شجاعت کا پیغام بیان کیا جاتا ہے کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا حرام ہے، یہ کہنا آسان ہے اور اسپر عمل کرنا مشکل نہیں فقط جان لیوا ہے، اس بات کو علامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا تھا؛

چوں مے گوئم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لاالہ را

پھر جو اس مشکل پر قابو پالے اسے مرد کہا؛

قبائے لاالہ رنگیں قبا است
کہ بر بالائے نامرداں دراز است

امام حسین علیہ السلام کی سنت کو ہر کسی نے اپنی اپنی اہلیت کی بنیاد پر سمجھا اور قبول کیا لیکن کوئی ایسا نہ نکلا جو سید الشہداء کی مثل کربلا جیسے میدان میں کھڑا ہوتا بجز میرے اس ممدوح کے جس نے ٹھیک ایک سو اکسٹھ سال پہلے راوی کے کنارے اٹھنے والے طوفانِ جبر کے سامنے انکار کا ایسا علم بلند کیا کہ کارل مارکس بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا اور جب یہ داستان بہادر شاہ ظفر تک پہنچی تو اس نے بھی اسے خوب سراہا۔
(ڈیلی ٹریبیون، اکیڈمی آف پنجاب نارتھ امریکہ)

یہ کہانی اس دوسرے معتبر سر کی ہے جسے نماز میں اتار کر نیزے پر سجایا گیا، اس بہادر سپوت نے بیعت و نیابت قبول نہ کی اور لارڈ برکلے کے ساتھ ایک بھرپور جنگ کر کے راوی کے دائیں کنارے بستی جھامرہ میں ابدی نیند سو گیا، اس کے کئی سال بعد جب لارڈ برکلے کا بھائی گوگیرہ کا کمشنر بن کے آیا تو حالات ابھی بھی اچھے نہ تھے۔

لارڈ نے شہید کے بیٹے محمد خان کو ملاقات کا پیغام بھیجا جسے رد کر دیا گیا، پھر اس نے دوبارہ کہلا بھیجا، آؤ ہم راوی کو آباد کرنا چاہتے ہیں، اس کیلئے ایک ملاقات بہت ضروری ہے۔

محمد خان جب گوگیرہ بنگلہ پہنچے تو ایک سرکاری اہلکار نے ان کا رستہ روک کے کہا، آگ اور پانی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، شیر اور بھیڑیئے کی کوئی دوستی نہیں، پھر آپ کا کیونکر آنا ہوا؟

محمد خان نے بتایا کہ لاٹ صاحب نے صلح کا پیغام بھیجا ہے، ایک میرے پیش ہونے سے راوی کا امن بحال ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، دست درازی ہم نے نہیں ان کے بھائی نے شروع کی تھی، اب یہ امن چاہتے ہیں تو ان کی بات بھی سن لینی چاہئے۔

اہلکار نے کہا، ہم روزی روٹی کے چکر زدہ اور غلامی کے زخم خوردہ لوگ تمہارے وقار کو دیکھ کر اپنے زخم سی لیتے ہیں، کوشش کرنا، دو آبے کا سر نہ جھُکے، مجھے تم سے بس یہی ایک توقع ہے، محمد خان نے اپنے شملہ دار سر کو اثبات میں جنبش دی، دونوں مٹھیاں بھینچیں اور تمکنت کیساتھ چلتا ہوا کمشنر آفس میں داخل ہو گیا۔

لارڈ نے اپنے سامنے اس تنومند جوان کو دیکھا تو حیرت سے دیکھتا رہ گیا، بلکل اسی طرح جیسے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پہلی بار جب اس کے باپ کو دیکھا تھا تو وہ بھی اس کی نظروں میں اٹک گیا تھا۔

مہا راجہ رنجیت سنگھ ملتان کا دورہ کر کے واپس لاہور جا رہا تھا تو اس نے سیّدوالہ میں بھی ایک پڑاؤ ڈالا تا کہ وسطی علاقے کے عمائدین سے بھی ایک ملاقات کی جائے، رنجیت سنگھ نے عمائدین پر ایک طائرانہ نظر ڈالی تو دائیں طرف کھڑے سردار پر جا کے اس کی نظریں ٹھہر گئیں، مہا راجہ سب کے بارے میں پوچھتا جا رہا تھا، یہ کون ہے، وہ کون ہے اور معتمد اسے سب کا تعارف دیتا جا رہا تھا، پھر پوچھا یہ جوان کون ہے؟ اس کے بارے میں زرا تفصیل سے بیان کرو، معتمد نے بتایا کہ یہ اس علاقے کے حاکم اور اس پرگنہ کے والی صالح خان کھرل کا بھتیجا، رائے احمد خان کھرل ہے۔

رائے صاحب کے آبا ؤ اجداد سیاسی طور پہ مغل ڈائنیسٹی کیساتھ  وابستہ تھے، گوگیرہ کی جاگیر انہیں اورنگزیب عالمگیر نے آلاٹ کی تھی، گزشتہ ڈیڑھ صدی سے وہ اس علاقے کے رئیس اور سردار تھے، رنجیت سنگھ کو پنجاب میں زیادہ مزاحمت کا سامنا اس لئے نہیں تھا کہ اس کے پیش رو درانیوں کے دور سے اہل پنجاب بالخصوص اہل لاہور بہت تنگ تھے، رنجیت سنگھ ان پڑھ ہونے کے باوجود بہت معاملہ فہم انسان تھا، اس نے تلوار سے بھی کام نکالا لیکن بیشتر جگہ اس نے بات چیت، خوش اخلاقی اور دوستانہ طرز عمل سے فتح پائی تھی، ماضی میں رائے صاحب کے خاندان کی سکھوں کیساتھ بھی کچھ جھڑپیں ہوئی تھیں تاہم رنجیت سنگھ کی یہ بیٹھک اس حال میں برخواست ہوئی کہ اس مجلس میں اس نے رائے احمد خان کھرل کو اپنا پگڑی بدل بھائی بنا لیا تھا، یہ تعلق زبانی جمع خرچ نہیں رہا بلکہ مہا راجہ نے اس تعلق کو خوب اچھی طرح سے نبھایا تھا، سکھا شاہی دور کے مقامی اہلکار بھی اپنی نوکریاں بچانے کیلئے، زمین جائداد، مال مویشی اور لڑائی بھڑائی کے معاملات میں رائے صاحب کا عمل دخل اور فیصلہ مانتے تھے۔

سعید بھٹہ صاحب لکھتے ہیں کہ سکھا شاہی راج میں گائے کا ذبیحہ ممنوع تھا لیکن موضع کانڈیوال، تحصیل لالیاں، ضلع چنیوٹ، کے ایک رئیس گھرانے نے اپنی شادی کی دعوت میں سات گائے ایک ساتھ ذبح کر ڈالیں، یہ قوم کے “نسو آنے” کہلاتے تھے، سرکاری اہلکاروں نے پرچہ درج کر کے انہیں خوشاب کی جیل میں ڈال دیا، رنجیت سنگھ نے آرڈر کر دیا کہ تیل اور لکڑیاں اکٹھی کر کے ان سب کو تیلی دکھا دو، نسوآنے رحم کی اپیل کیلئے کوشاں تھے، کسی نے بتایا کہ رائے احمد خان کے علاوہ اتنا سخت آرڈر کوئی نہیں ٹال سکتا۔

متاثرین کی عورتوں نے آکے رائے صاحب کو گھیر لیا، کسی نے بھائی، کسی نے شوہر، کسی نے بیٹے کا رونا رویا تو رائے صاحب نے کہا، ٹھیک ہے پھر جلدی چلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ سکھڑے اتنے سارے بندوں کو ساڑ ہی دیں، اسوقت کی زبان میں یہ کل سات ویہاں آدمی تھے، یعنی ایک سو چالیس افراد۔

رائے صاحب کی عادت تھی کہ جب کسی سے کوئی خاص بات کہنی ہوتی تو بغلگیر ہو کر کہتے تھے، اسی انداز میں رتنو نام کے باہمن وزیر کو کہا کہ ہمارے یہ بندے چھوڑ دے، وزیر نے کہا، نہ جناب مہاراجہ کا بہت سخت آرڈر ہے کہ انہیں جلا دو۔

بنگلہ گوگیرہ ہیڈ کوارٹر

رائے صاحب نے جیل خانے کی چابیاں مانگیں تو بھی اس نے وہی بات دہرائی کہ مہاراجہ کا سخت آرڈر ہے، اس پر رائے صاحب نے سختی سے کہا تو اس نے چابیاں دے دیں، رائے صاحب نے جیل کا تالا کھلوا کر کہا جو نسوآنے ہیں وہ سب باہر آجاؤ، سب لوگ رہا ہو گئے، وہ موتیوں والا راجہ، موتیوں والا راجہ کا نعرہ لگاتے باہر چلے گئے، کسی نے کہا، ساٹھ کے قریب بندے ابھی بھی اندر ہیں، رائے صاحب نے کہا سب نکل جاؤ، ان قیدیوں نے کہا ہم دیگر جرائم کے تحت عمر قید میں ہیں اور نسوآنے نہیں، رائے صاحب نے کہا، جاؤ تم بھی نکل جاؤ، میں جانوں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ جانے، یوں ساری جیل خالی کر دی۔

رائے صاحب جب لاہور پہنچے تو مہاراجہ نے کہا، کھرل صاحب یہ بہت برا کیا جو آپ نے نسوآنے چھوڑ دئے، اب اس کا ڈن بھرنا پڑے گا، رائے صاحب نے کہا جو ڈن لگاتے ہو لگاؤ، مہاراجہ نے چار ہزار کا جرمانہ رکھا، اس وقت کے پانچ روپے لاکھ کے برابر تھے تو چار ہزار پورے علاقے سے اکٹھے نہیں ہو سکتے تھے، رائے صاحب نے رنجیت کے محل میں نوکر بھیجا اور کسی مہارانی سے چار ہزار روپے منگوائے۔

مہارانی نے رنجیت سنگھ کو بتایا کہ آج آپ کے بھائی کو پیسوں کی طلب تھی تو چار ہزار اسے بھجوا دئے تھے، صبح جب دربار میں جرمانہ پیش کیا گیا تو مہاراجہ نے کہا، یہ عجیب بات ہے کہ جرمانہ بھی اب میرے ہی گھر سے ادا ہو گا، رائے صاحب نے کہا تیرے میرے گھر کوئی دو تو نہیں، یہی تو اک سانجھ ہے، بس تمہارا حکم پورا ہونا چاہئے تھا، وہ جیسے تیسے پورا کر دیا ہے، مہاراجہ اس بات پر مسکرا دیا اور کہا، یہاں راج تو پھر کھرلوں کا ہی ہوا ناں، ہم تو ایسے ہی بیٹھے ہیں، مہاراجہ نے رائے صاحب کو رخصت کرتے وقت ان کے مصاحبوں کیلئے پچیس پچیس روپے نذرانے کا اعلان کیا اور رائے صاحب کو سونے کے کنگن اور اطلس کی پوشاک پیش کی۔

رنجیت سنگھ نے لاہوریوں کی ایماء پر 1799 میں لاہو پر قبضہ کر کے لوٹ مار کرنیوالوں سے پنجاب کی جان چھڑائی تھی، پھر 1802 میں امرتسر اور لدھیانہ پر قبضہ کیا تو انگریزوں کے ساتھ بھی اِٹ-کھڑّکا شروع ہو گیا، انگریزوں کیساتھ یہ ٹسل 25 اپریل 1809 کو عہد نامہ امرتسر کے تحت ختم ہو گئی، لیکن انگریزوں نے اس معاہدے کا پاس کم ہی کیا، 27 جون 1839 میں مہاراجہ کی وفات کے بعد کھڑک سنگھ تخت نشین ہوا، اس کے بعد نونہال سنگھ، شیر سنگھ اور دلیپ سنگھ وغیرہ، یہ سب رنجیت سنگھ کے بیٹے تھے مگر آپسی چشمک کی وجہ سے کوئی بھی پائدار حکومت نہ بنا سکا، پھر ان کے وزراء لال سنگھ، تیج سنگھ اور کشمیر بیچنے والے گلاب سنگھ جیسے غداروں کی وجہ سے 1849 میں پنجاب پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا۔

دریائے راوی لاہور سے ملتان کی طرف بہتا ہے اس لحاظ سے دریا کے بائیں کنارے پر نیلی بار کا علاقہ ہے جس میں اوکاڑہ، پاکپتن اور ساہیوال آتے ہیں، یہ علاقہ اس وقت ملتان ڈویژن میں تھا، اب یہ ساہیوال ڈویژن میں ہے، دریا کے دائیں کنارے پر اس وقت کا لائیلپور اور موجودہ فیصل آباد ڈویژن واقع ہے جس میں تھانہ باہلک، تاندلیانوالہ اور سمندری کا شہر قابل ذکر ہیں اسے ساندل بار اور پنجابی میں ساندڑ بار کہتے ہیں۔

اوکاڑہ سے فیصل آباد روڈ پر بیس کلومیٹر پہ بنگلہ گوگیرہ واقع ہے جو اسوقت انگریز سرکار کے ڈسٹرکٹ منٹگمری کا ہیڈکوارٹر تھا اور اس کے بالمقابل دریا کے اس پار موضع جھامرہ ہے جو رائے احمد خان اور کھرلوں کا آبائی مسکن تھا، انگریز یہاں آگئے تو پنجاب میں امن کا دور بھی لد گیا اور سب کچھ سر کے بل نیچے آگرا، اس دوران رائے صاحب اپنے قبیلے والوں سے مزاحمت کی صلاح کرتے رہے مگر بڑوں کا کہنا تھا کہ ابھی اس لڑائی کا وقت نہیں آیا، جب وقت آئے گا تو جم کر لڑیں گے۔

نارمن جی بیرئیر نے جان بمیز کے حوالے سے لکھا ہے:
“There was no law in the Punjab in those days. Our instructions were to decide all cases by the light of common sense and our own sense of what was just and right.”

پروفیسر سعید بُھٹہ صاحب لکھتے ہیں:

“گورے دی کامن سینس تے آزاد بندے دی سینس وچ لکھاں کوہاں دے پاڑے ہن، اوہدی کامن سینس ایہا ہا کہ ایس دیس وچوں دولتاں دے ڈھگ اکٹھے کیتے ونجن تے ایس کان غلاماں دی کنھی اتے گوڈا اینج منڈھیا ہا کہ ہر گل اتے آکھن جیہڑی نیت امام دی اوہا اساڈی”۔

اس مقصد کیلئے انگریز نے تحصیلداروں، پٹواریوں اور تھانیداروں کو اندھے اختیار دے رکھے تھے تاکہ لوگوں کو دبا کے رکھا جا سکے، ان کے اوپر انگریزوں کا ایک اسکاٹش افسر اسسٹنٹ کمشنر لارڈ لیوپولڈ اولیور فزرڈنگ برکلے اس علاقے میں خصوصی طور پر تعینات تھا تاکہ یہاں کے وسائل سے مرکز کو بھرپور فائدہ پہنچایا جاسکے، برکلے کا باپ ہنری جیمز بریلی کے کلکٹر آفس میں ہیڈ کلرک تھا، لارڈ برکلے 1829 میں بریلی میں ہی پیدا ہوا، 1830 میں اسے بپتسمہ ملا اور 1857 میں اٹھائیس سال کی عمر میں وہ گوگیرہ کا لارڈ متعین ہوا۔

رائے صاحب اور لارڈ برکلے کا پہلا ٹاکرا اس وقت ہوا جب برکلے ان کے روحانی پیشوا کی گھوڑی چھین کے لے آیا تھا، اس گھوڑی کی پھرتی اور رنگت بیمثال تھی، وہ صاحب گھوڑی بیچنے پر راضی نہ ہوئے تو اس نے چھین لی، رائے صاحب نے اس سے گزارش کی کہ ہمارے بزرگ کی گھوڑی واپس کر دیں، جب برکلے نہ مانا تو اسے چار ہزار روپے کے عوض خریدنے کی پیشکش بھی کی مگر وہ پھر بھی نہ مانا۔

لوک شاعر دادا پھوگی کے مطابق دوسرا ٹاکرا اس وقت ہوا جب دہلی اور میرٹھ میں بغاوت برپا ہوئی، اس موقع پر لارڈ برکلے نے رائے صاحب کو بلایا اور دہلی کی بغاوت کچلنے کیلئے درکار افرادی قوت اور اچھی نسل کے گھوڑے مہیا کرنے کا تقاضا کیا۔

سعید بُھٹہ صاحب لکھتے ہیں:
“اخیری کردیاں کردیاں احمد خان نوں وی جوش آیا بھئی ایس لڑائی اچ اساڈے ساندڑ بار دا حصہ وی ہونا چاہی دا، کیہ آکھسن، ایہہ نئیں لڑدے تے دوآ لوک لڑدا پیا ہے”۔

لارڈ برکلے نے کہا، رائے صاحب مجھے دہلی کیلئے بندے اور گھوڑے ہر صورت میں درکار ہیں، اس کے بدلے میں آپ کو لندن سے بڑا اہم سرکاری اعزاز لیکر دوں گا۔

رائے احمد خان نے جواب دیا:
“ہم کبھی بھی، کسی بھی حال میں اپنے گھوڑے، عورت اور زمین کسی کے حوالے نہیں کرتے”۔

رائے صاحب، ان کے دوست سارنگ فتیانہ اور دیگر ساتھی، لارڈ برکلے کو صاف جواب دے کر واپس اپنے گاؤں جھامرہ چلے آئے لیکن کچھ دنوں بعد ایک نئی اور ایسی گھمبیر صورتحال پیدا ہوگئی کہ رائے صاحب کو سرکار کے خلاف ہتھیار اٹھانا پڑ گیا۔

گوگیرہ کے ارد گرد نیلی بار اور ساندل بار میں لارڈ برکلے کی چیرہ دستیاں بڑھتی جا رہی تھیں، یہاں کے لوگوں کا روزگار دو تین بڑی حرفتوں کے ساتھ منسلک تھا جس میں زمیندار، کسان مزدور، خدمتگار طبقہ اور مال مویشی پال کر بیچنے والے شامل تھے، سیدوالہ اور گوگیرہ اسی اعتبار سے علاقے میں اناج، اجناس اور دیگر ضروریات کی مرکزی منڈی بھی تھا، یہ سارے طبقے ہی انگریز کے خلاف تھے لیکن اپنے عہد کی سپر پاور کے ساتھ ٹکر لینے کی ہمت کسی میں نہ تھی، ان میں لوہار بھی تھے جو زرعی آلات اور ہتھیار بنانے کے ماہر تھے، دیگر لوگ جنہیں عرف عام میں کمی کہا جاتا ہے وہ بھی ہتھیاروں کے استعمال سے بے بہرہ نہیں تھے، عام لوگ جو مال مویشی پال کر گزارا کرتے تھے لڑائی بھڑائی میں وہ بھی چست تھے جبکہ سردار طبقہ مالی اور دیگر وسائل سے مالا مال تھا، لیکن اس کے باوجود سرکاری تقاضوں کے سامنے انکار کی مجال یا مقابلے کا حوصلہ کسی میں نظر نہیں آتا تھا، اس سلسلے میں ہر کسی کی نظریں رائے صاحب کی طرف ہی اٹھتی تھیں۔

رائے صاحب جیسا آزاد منش شخص جس نے اپنے علاقے اور لوگوں کے مفاد کیلئے ہمیشہ دربار سرکار میں اپنی بات منوائی اب وہ تھانہ کچہری اور سرکاری نظام میں کافی بے بس نظر آتے تھے، ان مشکلات اور ملک میں انگریزوں کے خلاف اٹھتی ہوئی مزاحمت کو دیکھ کر رائے صاحب بھی مزاحمت کا فیصلہ کر چکے تھے۔

انگریز نے دس سال کے اندر پنجاب میں پچیس جیلیں اور تھانہ کلچر قائم کیا تاکہ جو سر اٹھائے اس کا سر نیہوڑایا جا سکے، اس کے عملی مظاہرے جا بجا ہو رہے تھے، نیلی بار میں اس کا بڑا مظاہرہ اس وقت ہوا جب تعلقہ سبوکا کی جوئیہ برادری نے مالیہ اور لگان وصول کرنے والے سرکاری عملے کو انگریز کی مرضی کا بھاری معاملہ دینے سے انکار کر دیا، اس کی پاداش میں انہیں “نابر” یعنی باغی قرار دے کر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مقبرہ شہید رائے احمد خان کھرل

جنرل منٹگمری نے لارڈ برکلے کو خصوصی ہدایات بھیجیں:
“اس سے پہلے کہ یہ بغاوت پنجاب بھر میں سرایت کر جائے اسے وہیں کچل دو”۔

اس حکمنامے کے بعد اہلکاروں کے ہاتھ جو کچھ بھی لگا، ان سب عورتوں، بچوں اور مال مویشیوں کو ہانک کر وہ بنگلہ گوگیرہ لے گئے اور جیل بند کر دیا۔

اس موقع پر جھامرے کے قریب پتن پر ایک اجلاس ہوا جس میں وٹو برادری نے سیّدوالہ پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا لیکن رائے صاحب نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہاں پیٹ کی خاطر نوکری کرنیوالے چند اپنے ہی لوگ ہوں گے جو مارے جائیں گے، اس میں انگریز کا کیا جائے گا؟
کام وہ کرو جو انگریز کے تابوت ثابت ہو…!۔

پھر 26 جولائی 1857 کی رات رائے صاحب نے ایک بھاری دستے کیساتھ گوگیرہ جیل پر حملہ کیا اور تمام باغیوں کو رہا کرکے لے گئے، ان مجاہدین کے علاوہ قیدی بھی بے جگری سے لڑے، اس مقابلے میں انگریز کے پونے چار سو سپاہی مارے گئے اور رائے صاحب خود بھی زخمی ہوئے، اس معرکے کے بعد سب لوگ راوی کے جنگلات میں روپوش ہو گئے۔

لارڈ برکلے نے ایک چال چلی اور رائے صاحب کے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گوگیرہ لے گیا، یہ اطلاع ملنے پر رائے صاحب نے گرفتاری دیدی لیکن وٹووں اور دیگر قوموں کے کُوبکو احتجاج سے عام سماج میں بھی شورش بلند ہونا شروع ہو گئی، ڈر تھا کہ بغاوت ایک نیا رخ اختیار کر جائے گی اور بات گلی محلوں تک بڑھ جائے گی اس لئے رائے صاحب کو رہا کر دیا گیا، رہائی کے بعد رائے صاحب اور ان کے مجاہدین نے کمالیہ، چیچہ وطنی اور ساہیوال تک کا سارا علاقہ گوریلا کاروائیوں سے تین ماہ تک متاثر کئے رکھا، پھر ایک فیصلہ کن جنگ کا منصوبہ ترتیب دیا۔

کارل مارکس برصغیر میں برطانیہ کی پالیسیوں اور نظام پر امریکی اخبار “نیویارک ڈیلی ٹریبیون” میں مسلسل مضامین لکھ رہا تھا جو مارکسزم کے نیٹ آرکائیو پر بھی موجود ہیں، مارکس 1857 کی جنگ آزادی پر بھی نظر رکھے ہوئے تھا، رائے صاحب کی اس جدوجہد کو مارکس بھی نظر انداز نہیں کر سکا، اس نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ “پنجاب میں انگریزوں کے لئے مجاہدین کی طرف سے ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے جس سے پچھلے آٹھ دنوں سے ملتان سے لاہور تک آمدورفت کا راستہ بند ہوگیا ہے اور ان لوگوں نے انگریز کے سارے رابطے ختم کر دئے ہیں جو انگریزوں کیلئے سخت تشویش کا باعث بن چکے ہیں”۔

لارڈ برکلے، جو کل تک دہلی کی مدد کرنے میں جانفشانی سے جتا ہوا تھا، اب اسے اپنا علاقہ قائم رکھنے کیلئے مدد کی سخت ضرورت پڑ چکی تھی، برکلے کی درخواست اور علاقے کی صورتحال دیکھ کر ملتان اور لاہور سے دس عدد فوجی دستے گوگیرہ روانہ ہوئے جن کی کمان یہ افسران کر رہے تھے۔

Col. John Paton, Capt. Blake, Capt. Chamberlaine, Capt. McAndrew, Capt. Snow, Lt. Chichester, Lt. Neville, Lt. Mitchel & Assisstant Commissioner Lord Berkley
جبکہ ان کی پشت پر یہ چار بڑے افسران بھی موجود تھے۔
General Montgomery
Maj. G. W. Hamilton, Commissioner of Multan
Maj. A. A. Roberts, Commissioner Lahore
Mr. Elphinstone, DC Montgomery/Gogera

اتنی بڑی کاروائی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ان تین ماہ میں یہ بغاوت کمالیہ، پنڈی شیخ موسٰی، سیدوالہ، ہڑپہ، چیچہ وطنی، تلمبہ، سرائے سدھو، شورکوٹ، جھملیرا، ساہوکا، پاکپتن، قبولہ اور بہاولنگر کے پاس بہتے ہوئے دریائے ستلج کے کناروں تک پھیل گئی تھی، جس میں کم و بیش سوا لاکھ مجاہدین شامل تھے، گوگیرہ کی اپنی آبادی تقریباً تین لاکھ تھی اور ملتان تک کی کل آبادی تقریباً دس لاکھ کے قریب تھی، جس میں سے بڑی تعداد میں مجاہدین نکل کر سامنے آرہے تھے اور تحریک دن بدن زور پکڑتی جا رہی تھی۔

جولائی کے بعد اگست اور ستمبر میں بھی یہ چھاپہ مار کاروائیاں جاری تھیں، اس دروان لڑائی کا دائرہ مؤثر بنانے کیلئے علاقے کے سرداروں سے رابطے بھی جاری تھے، اس سلسلے میں مراد فتیانہ کے بھائی بہاول فتیانہ نے بہاولپور کے ایک معروف نواب کو ایک لاکھ مجاہدین کیلئے اسلحہ اور مالی امداد کیلئے خط لکھا، نواب نے امداد کیا کرنی تھی، الٹا وہ خط لیجا کر گورنر کو دے دیا جو پنجاب سیکریٹیریٹ کے آرکائیو ڈیپارٹمنٹ میں محفوظ ہے۔
(اکیڈمی آف پنجاب، نارتھ امریکہ)

انگریزوں کی تازہ جمع شدہ فوجی طاقت کو دیکھتے ہوئے جس مجلس میں انگریزوں کے ساتھ باقائدہ فیس ٹو فیس میچ۔لاک شروع کرنے فیصلہ ہوا اس میں کمالیہ کے سرفراز کھرل اور دیگر بہت سے سردار شامل تھے، رائے صاحب واپس جھامرے آئے اور حملے کیلئے دریا پار اترنے کی تیاری کرنے لگے جبکہ سرفراز کھرل اور جیوے خان مخبری کرنے رات گئے بنگلہ گوگیرہ میں ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچ گئے۔

ڈپٹی کمشنر گوگیرہ الفنسٹون نے کمشنر ملتان میجر ہملٹن کو لکھا:

“جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں، احمد خان کی سربراہی میں گوگیرہ جیل توڑی گئی ہے، اس موقع پر قیدیوں کی جانوں کا خاطرخواہ نقصان ہوا، میں نے برکلے کو بیس گھڑسواروں کے ساتھ احمد خان کے پیچھے روانہ کیا تھا تاکہ وہ اسے راوی پار کرنے سے پہلے پکڑ لائے لیکن برکلے کا جواب آیا کہ وہ راوی پار کرچکا ہے، پھر اس نے خود گرفتاری دی اور کہا کہ وہ تاج برطانیہ کا وفادار نہیں بلکہ اس کی وفاداری مغل شہنشاہ کے ساتھ ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید لکھا کہ کمالیہ کے سرفراز کھرل رات گئے مجھ سے ملنا چاہتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ انتہائی اہم اطلاع دینا مقصود ہے، ملنے پر اس نے بتایا کہ راوی کے سب سردار میرے پاس مدد حاصل کرنے کیلئے جمع ہیں اور وہ ایک جم غفیرکے ساتھ ایک بڑی بغاوت برپا کرنیوالے ہیں۔

ادھر رائے صاحب نے ملاحوں سے کہا، ساری بیڑیاں ملنگ والے پتن پہ کھینچ لاؤ، سارنگ نے کہا، راء جی سامنے توپیں ہیں، انگریز جھامرے کو مونج کی طرح کوٹ کر پھوگ بنا دیں گے، ایسے ہی تحفظات چند دیگر ساتھیوں کے بھی تھے، آدھی رات کا وقت تھا، سارنگ کے جواب میں رائے صاحب نے مجاہدین سے کہا، سب سے پہلے میرا بیٹا اللہ داد کشتی پر سوار ہوگا، پھر میں، تاکہ کل کو تم یہ نہ کہو کہ راء جی نے بیکار میں سب کو مروا دیا اور خود کنارہ کرگئے، لائیلپور کے قریب سے رڑانے گاؤں کی جج قوم بھی ان کی حلیف تھی، شیرخان جج نے کہا، راء جی ایہہ لڑکا کوئی لوہے کا تو ہے نہیں جو توپ کا وار روک لے گا، ہم سارے جج اس پتن پر لڑ مریں گے اور زندگی بھر یہ ججاں والا پتن کہلائے گا، یہ کہہ کے شیرے جج نے اللہ داد کو کشتی سے اتار دیا۔

محرم الحرام کی پانچ تاریخ اور 16 ستمبر 1857 کی رات جب بنگلہ پہنچ کر مجاہدین نے حملہ کیا تو انگریز بھی مقابلے کیلئے تیار بیٹھا ہوا ملا، گوگیرہ جیل بریک کے بعد وہ ہمیشہ الرٹ رہتا تھا، اس نے سامنے سے توپ چلوا دی، سو گولیوں کا بارود اس میں سے ایک ساتھ نکلتا تھا، توپ چلانے والا بھی مسلمان تھا، اس نے رخ زرا اونچا رکھا اور بارود سروں کے اوپر سے درختوں پر جاپڑا، کہتے ہیں کہ درختوں میں آگ لگ گئی۔

بُھٹہ صاحب لکھتے ہیں:

“مڑ انگریجاں سیٹی کیتی بھئی نیویں کر، جیس ایلے اوس نیویں کیتی تے مڑ اوس بھوئیں دے نال رلا دتی، چار بندے اوتھے مرا کے، وٹو تے کھرل چل پئے، کسے آکھیا او دھی یاویوں تسیں تاں کُوڑے ہو، تسیں آہدے ہائے اسیں سارنگ، وریام بھروانے مارے، لعل کمیر فتیانے مارے، ہک تُپکڑی چھٹی ہے تے اوس توں چل پئے ہو”۔

توپچی کا احسان تھا کہ اس نے دو مس فائر کرکے سنبھلنے کا بہترین موقع دے دیا لیکن جب فائر راست ہوا تو چار بندے شہید ہوگئے، اس صورتحال میں جب وٹو اور کھرل پیچھے ہٹنے لگے تو کسی نے انہیں للکارا، اس میں دو الفاظ ایسے ہیں جو غیرت دلانے کیلئے چابک کا کام کرتے ہیں اس لئے سنسر نہیں کئے۔

“اوہناں آکھیا، راء جی تھانیاں تے ضلعیاں تے لڑائیاں نئیں ہوندیاں، توں اسانوں بار اچ کڈ دے، رب دا حکم ہویا تے وٹو باہلک اکھیا، تلوارِیں اساں بڑیاں مرسائیں”۔
(سعید بھٹہ صاحب)

وٹو، کھرل، جوئیے، فتیانے، ترہانے، وہیوان، جج، جنجوعے، سیال اور کئی قومیں ان کے ساتھ کھڑی تھیں مگر ان کا کہنا یہ تھا کہ ضلعی ہیڈکوارٹر میں لڑائی مشکل ہے، لہذا ان کو کسی میدان میں نکالو، ایک بار کسی طرح ان کو کھلی جگہ پر لے آئیں تو پھر ہماری تلوار زنی بھی دیکھ لینا۔

وٹو اور کھرل پیچھے ہٹ کر “نورے کی ڈل” نامی جگہ پر چلے گئے، باقی سپاہ بھی وہیں پہنچ گئی، پرانے دور میں دیسی بیج کی بدولت فصلوں کے قد انسانی قد سے اونچے ہوتے تھے، باجرہ جوار گنا چھ سے سات فٹ اور گندم چار فٹ تک اونچی ہوتی تھی جبکہ اس علاقے کی جنگلی جھاڑیاں جنہیں “ون” کہتے تھے، وہ بھی انسان کے چھپنے کیلئے کافی ہوتی تھیں۔

لارڈ برکلے کی فوجیں ان کا پیچھا کرتے ہوئے کھگھراں والے پل تک جا پہنچیں لیکن انہیں کوئی مزاحمت کار کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا، کوئی مسافر وہاں سے گزرا تو اسے کھرل سمجھ کے پکڑلیا گیا، دوران تفتیش اس نے بتایا کہ ہماری تو خود کھرلوں کے ساتھ دشمنی ہے، آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں انہیں تلاش کرکے دے سکتا ہوں لیکن اس کیلئے مجھے گھر سے پھرتیلی گھوڑی لینی ہوگی، یہ گھوڑی بھاگنے میں سست ہے، ورنہ میں ان کی نظر میں آگیا تو ان کے ہاتھوں مارا جاؤں گا۔

برکلے کی اجازت ملنے پر مُستا نام کا یہ بندہ سیدھا نورے کی ڈل پہنچا او رائے صاحب کو انگریزی فوج کی ساری پوزیشن سمجھا کر واپس نکل گیا، رائے صاحب کے حکم پر مجاہدین نے فصلوں اور جھاڑیوں سے چھپتے چھپاتے برکلے کی فوج کا گھیراؤ کر لیا، اس موقع پر رائے صاحب نے کہا، بے جگری سے لڑنا شیرو، انگریز کی گولی کسی کو نہیں لگے گی، اگر کسی کو لگے گی تو صرف مجھے، رائے احمد خان کھرل کو، پھر کہا، جیہڑیاں گولیاں انگریجاں دیاں ہین او واء ورولیاں ہین۔”

سترہ یا اٹھارہ ستمبر کے اس معرکے میں برکلے کے چار کرانی، پانچ رسالدر اور اسی سپاہی مارے گئے تو وہ پیچھے ہٹ گیا، اس کے بعد اگلا معرکہ تین دن مسلسل چلا، برکلے نے اپنی بھاگتی ہوئی فوج کو کئی بار دوبارہ لڑنے پر آمادہ کیا مگر ہر بار منہ کی کھائی، مجاہدین توپوں کے سامنے آئے بغیر پیادہ فوج اور گھوڑ سواروں کو گھات لگا کر مار رہے تھے، اس صورتحال میں انگریزی فوج نے دستی بموں کا استعمال شروع کیا مگر مجاہدین اچانک وار کرکے سرعت کے ساتھ جگہ بدل لیتے تھے، یہ جنگ نورے کی ڈل تک موقوف نہیں رہی بلکہ گشکوری کے جنگل سمیت ہڑپہ تک میدان جنگ بنا ہوا تھا، جہاں جہاں تک لڑائی کی خبر پہنچتی وہاں وہاں سے لوگ میدان میں اترتے چلے گئے اور فوجی چوکیوں پر حملے کرتے گئے، انگریزی فوج علاقائی نزاکتوں کے حساب سے مختلف جگہوں پر ڈیپلوئیڈ تھی جن کے ساتھ میچ۔لاک شروع ہوتا چلا گیا۔

اس میدان جنگ کی صورتحال کو سمجھنا ہو تو اسے تین دائروں میں دیکھنا ہوگا، پہلا یہ کہ لاہور، سے پاکپتن، قبولہ، ملتان، کمالیہ، جھامرہ سے واپس لاہور تک ایک بڑا دائرہ کھینچا جائے تو یہ لڑائی کا بڑا میدان تھا جس میں سوالاکھ مجاہدین اور انگریزی فوج کی دس کمپنیاں مختلف جگہوں پر موجود تھیں، جیسے کہ لیفٹیننٹ نیوائل دریائے ستلج کے پاس کھڑا تھا اور لیفٹیننٹ چیشٹر گشکوری کے جنگل کی طرف تھا۔

اس بڑے دائرے کے اندر ایک چھوٹا دائرہ اور بنا لیں جو گوگیرہ، چیچہ وطنی، کمالیہ اور گوگیرہ کے گرد بنتا ہے اس پچاس میل اسکوائر میں تیس ہزار مجاہدین اور سرکاری نفری موجود تھی، اس کے اندر ایک تیسرا چھوٹا دائرہ بھی لگائیں جو گوگیرہ، گشکوری اور نورے کی ڈل کے گرد بنتا ہے، اس مرکزی دائرے میں تین ہزار سے زائد مجاہدین اور سرکاری نفری موجود تھی اور اصل جنگ شدت کے ساتھ اس مرکزی دائرے میں ہی برپا تھی پھر باہر کے دائرے میں زرا کم اور اس سے باہر کے بڑے دائرے میں مزید کم، تاہم لڑائی تینوں دائروں میں شروع ہو چکی تھی جو 16 ستمبر سے رائے صاحب کی شہادت کے بعد بھی جاری رہی تاہم مرکزی دائرے کی جنگ 21 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی۔

فنانشل کمشنر تھابرن کے بقول “احمدخاں کھرل اور اس کے ساتھی ایک مہینہ تک کوٹ کمالیہ پر قابض رہے اور تین ماہ تک ساہیوال سے ملتان تک کا راستہ روکے رکھا”۔

پنجاب میوٹنی گزٹ میں ہے کہ “یہ لوگ ڈھول پیٹتے ہوئے حملہ آور ہوتے ہیں اور بڑی بہادری کے ساتھ انگریزی کمک پہنچنے سے پہلے انگریز فوجوں سے ہتھیار چھین کر غائب ہوجاتے ہیں”۔

تھابرن لکھتا ہے کہ “یہ لوگ نڈر اور چالاک گوریلوں کی طرح کاروائیاں کرکے سرعت کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں”۔

میجر رابرٹس منٹگمری لکھتا ہے

“جب ہم دریا کے کنارے پر پہنچے تو باغی نے دوسری جانب کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ وہ انگریزوں کا وفادار نہیں صرف دلی کے مغل بادشاہ کے تابع ہے، جب انگریزی فوج دریا سے گزر کر دوسری طرف پہنچی تو احمد کھرل چھاپہ مارکمانڈر کی طرح غائب ہوچکا تھا”۔

منٹگمری گزیٹئیر لکھتا ہے کہ “احمد خان ایک قدآور، بہادر، ذہین اور حیرت انگیز شخص تھا جس کی قیادت میں گوگیرہ جو ڈسٹرکٹ منٹگمری کا ہیڈ کوارٹر تھا جس میں پاکپتن، ساہیوال اور اوکاڑہ کے علاقے شامل تھے اس کی عوام انگریز کے خلاف جمع ہوگئی تھی”۔

ہسٹورئین کیوو براؤن Cave Browne کے مطابق معرکہ گشکوری میں تین سے پانچ ہزار لوگ شامل تھے، جو قدآدم جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے، چیف کمشنر پنجاب کے سیکریٹری برانڈرتھ نے لکھا ہے کہ چالیس سے پچاس میل کے ایریا میں بیس سے تیس ہزار باغی پھیلے ہوئے تھے، ایک دوسرے سیکریٹری رچرڈ ٹمپل نے لکھا ہے کہ لاہور سے ملتان تک سوالاکھ باغی سرگرم عمل تھے، اوپر کے تین دائرے میں نے اسی بنیاد پر بیان کئے ہیں۔

تراب الحسن سرگانہ نے اس پانچ روزہ معرکے کو یوں بیان کیا ہے کہ “انگریزی فوجیں اس علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں جو مجاہدین کی تلاش میں ہر گاؤں کو جلاتی جا رہی تھیں، مجاہدین اچانک نمودار ہوتے، ان پر حملے کرتے اور چھپ جاتے”۔

مجاہدین کے پاس، نیزے بھالے، تلواریں اور چند سو بندوقیں بھی موجود تھیں، انگریزوں کا زیادہ نقصان اس وقت شروع ہوا جب مرنے والی فوج کی بندوقیں اور اسلحہ بھی مجاہدین کے ہاتھ لگنا شروع ہوا، دست بدست لڑائی میں مجاہدین بھی شہید ہوئے لیکن رائے صاحب کے علاوہ کوئی مجاہد انگریز کی گولی سے شہید نہیں ہوا، انگریزوں کے بارے میں حنیف رامے صاحب نے لکھا ہے کہ اس وسیع و عریض علاقے یعنی ان تینوں دائروں سے انگریزی فوج کی تین ہزار لاشیں اٹھائی گئی تھیں۔

دس محرم الحرام بروز جمعہ 21 ستمبر 1857 کو گشکوری کی جنگ رائے صاحب کی شہادت کے ساتھ ختم ہوگئی، رائے صاحب اپنی گھوڑی “ساوی” پر چڑھ کر لڑتے تھے، یہ گھوڑی اٹھارہ بیس فٹ لمبی چھلانگیں لگاتی ہوئی دشمن کے سروں پر سے گزر جاتی اور رائے صاحب وار کرتے جاتے تھے، رائے صاحب نے دوپہر کے وقت آخری بار انگریزوں کو للکارا لیکن میدان میں کوئی حرکت نہ ہوئی، انگریزی فوج بڑی تعداد میں ماری جا چکی تھی اور باقی سہم کر ڈیڑھ کوس پیچھے ہٹ چکی تھی، مجاہدین کے دستے اپنے اپنے علاقے سے سرکاری فوج کا صفایا کرکے واپس پلٹتے گئے، رائے صاحب نے کہا ہم نماز کے بعد نکلیں گے اور شام تک جھامرے کی طرف اپنے خفیہ ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے، رائے صاحب نے وضو کیا اور ظہر کی نماز شروع کر دی، ان کے ساتھ سردار سارنگ اور پانچ چھ دیگر مجاہدین بھی موجود تھے۔

لارڈ برکلے آٹھ دس سپاہیوں کے ساتھ علاقے کا جائزہ لینے ایک بار پھر آگے بڑھا تو ایک سپاہی نے رائے صاحب کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا، برکلے نے گولی چلانے کا آرڈر دے دیا، دھاڑے سنگھ، گلاب سنگھ بیدی اور کھیم سنگھ بیدی نے گولیاں چلائیں، نماز کی دوسری رکعت چل رہی تھی جب رائے صاحب کو دو گولیاں لگیں اور وہ زمین پر آرہے، پھر سردار سارنگ صاحب کو بھی گولی آلگی، باقی ساتھی بھی سنبھل نہ سکے اور برکلے سر پہ آپہنچا، اس نے رائے صاحب کا سر اتروا کے نیزے پر رکھا اور اپنے ساتھ لے گیا۔

“”مڑ نماز پڑھدا ہویا ہی مصلے دے اتے شہید ہوگیا، کافر جیویں پیر امام حسینؑ دا سر اتار کے لے گئے ہان نا ایویں احمد خان دا سر نیزے اتے ٹنگ کے انگریج لے گئے ہان”۔
(سعید بھٹہ صاحب)

سن 1776میں رائے نتھو کے گھر پیدا ہونے والا یہ لعل 81 سال کی عمر میں انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا کر ایمان افروز شان کیساتھ نماز ادا کرتے ہوئے اس دنیا سے چلا گیا، کہتے ہیں وہ دنیا سے نہیں گیا بلکہ امام حسینؑ کی دنیا میں چلا گیا۔

رائے صاحب کی شہادت کا سن کر ان کی زوجہ محترمہ نے فوراً دونوں بچوں، اللہ داد اور محمد خان، کو مہر مراد خان فتیانہ کے گاؤں روانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ تمہارا بھائی شہید ہوگیا ہے، یہ خبر سن کر مراد فتیانہ پر غضب طاری ہوگیا، اس نے دونوں بچوں کو اپنی بیوی کے حوالے کرکے کہا، اگر میں واپس آگیا تو ان کو خود پال لوں گا، اگر مارا گیا تو جہاں چار بچوں کا چوگا اکٹھا کرو گی وہاں ان دونوں کا بھی کرلینا۔

انگریزی فوج نے جھامرہ سے پنڈی شیخ موسٰی تک مجاہدین کی تلاش و عداوت میں راوی کے ارد گرد کھرلوں اور وٹووں کے کئی دیہاتوں کو آگ تو ویسے بھی لگا رکھی تھی، کچھ آگ وہ فتح کے جشن میں بھی لگاتے گئے، ایک راستے پر فقیر مستانہ کی جھونپڑی کے پاس پہنچے تو برکلے نے کہا اسے بھی جلا دو، کسی نے کہا یہ باغی نہیں فقیر ہے، برکلے نے پوچھا فقیر کیا ہوتا ہے؟
اسے بتایا کہ اللہ والا عبادت گزار بندہ ہے جو دنیا سے الگ تھلگ رہتا ہے، برکلے نے کہا، جو کچھ بھی ہے تم جھونپڑی جلا دو، اس پر درویش نے کہا،
“بڑی چھیتی داتری نے تیرا سر لے جانا”۔

اگلے دن لوگوں کی عبرت کیلئے پکڑے جانے والے باغیوں کو پھانسی دے کر ان کی لاشیں درختوں کے ساتھ لٹکا دی گئیں، اس بدسلوکی پر اہل علاقہ مشتعل ہو رہے تھے مگر اسوقت کچھ کر سکتے تھے نہ ہی کچھ سجھائی دے رہا تھا، مہر مراد فتیانہ جب پہنچے تو کھرلوں کیساتھ ایک جگہ منصوبہ بندی کی اور دریا پر گھات لگا لی، برکلے کے خیال میں احمد خان کے بعد کوئی خطرہ باقی نہ تھا، جلتے ہوئے دیہاتوں میں، سوائے درد سے کراہنے والوں کے، اور کوئی آواز نہ تھی، دھوئیں کے علاوہ مخالفت کی کوئی بو نہیں تھی، لیکن جب اسے خفیہ گٹھ جوڑ کی خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہوگیا اور کچھ سپاہیوں کے ساتھ راوی کی گشت کیلئے نکل گیا، شائد یہ خبر اسے جان بوجھ کر پہنچائی گئی تھی۔

بروز 22 ستمبر کو راوی کے اطراف میں ہُو کا عالم دیکھ کر اسے اطمینان ہو گیا اور اسی سُکھ میں شام کے وقت واپسی پر وہ اپنے ساتھیوں کی پرواہ کئے بغیر کچھ آگے نکل گیا، پہلے اس کا گھوڑا دُلکی، ٹراؤٹ، چال پر تھا لیکن جب اسے خطرے کا احساس ہوا تو اس نے گیلپ لگانے کی کوشش کی، شائد اسے پتا نہیں تھا یا اندازہ نہ رہا کہ دریا کے کیچڑ میں گیلپ نہیں ہو سکتی کیونکہ گھوڑے کے پاؤں بار بار گیلی زمین میں دھنس رہے تھے۔

اس سے قبل کہ وہ سنبھلتا مراد خان فتیانہ اور سوجھا بھدرو گھات سے نکل کر اس کے پیچھے پہنچ گئے، مراد اپنے گھوڑے پر نیزہ تولتا ہوا آرہا تھا اور برکلے کے سینے سے پار کرتا ہوا آگے نکل گیا، برکلے نیچے گرا تو سوجھے بھدرو نے گھوڑے سے اتر کر اسے قابو کر لیا، ایک جگہ لکھا ہے، پھر اسے لاٹھیاں مار مار کے جان سے مار گئے، دوسری جگہ لکھا ہے، اس کا سر بھی کاٹ کر لے گئے۔

انگریزوں نے رائے صاحب کا سر چھ دن تک نیزے پر لٹکائے رکھا، ارد گرد ننگی تلواروں کا سخت پہرہ تھا، رات کو جہاں رکھا جاتا وہاں بھی سخت پہرہ ہوتا، ایک سپاہی اسی علاقے کا تھا، وہ رائے صاحب کے پاس بھی آتا جاتا تھا، رائے صاحب اس کی خواب میں آئے اور کہا “میں اس مٹی کا بیٹا ہوں لیکن انگریز میرا سر دنیا کو دکھانے کیلئے برطانیہ بھیجنا چاہتے ہیں، تم میرا سر مجھے واپس کر جاؤ، سپاہی سخت اضطراب میں تھا، دوسرے اور تیسرے دن بھی یہی خواب آیا تو اس نے یہ خدمت بجا لانے کا فیصلہ کرلیا۔

سپاہی نے ایک پکا مٹکا لے کر اس کا منہ کھلا کیا اور سرمبارک مٹکے میں رکھ کے اوپر کپڑا باندھ کے رائے صاحب کی قبر شریف کے پاس دفن کر آیا، یہ بات اس نے رائے صاحب کے اہل خانہ تک کو بھی نہ پہنچائی تاکہ بات سے بات آگے نہ چلی جائے اور اس کیلئے کسی مشکل کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو۔

سعید بھٹا صاحب نے یہی بات فقیر کے حوالے سے لکھی ہے کہ اسے خواب میں پیغام ملا تو وہ کسی چوپائے کی شکل میں آکے سرمبارک چھین کے لے گیا اور دفنا دیا، ممکن ہے فقیر والی بات ہی سچ ہو لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ سپاہی نے جب اپنے ساتھیوں کو یہ پیغام سنایا ہوگا تو جو بھی دو تین رات کی ڈیوٹی پر تھے وہ اس خدمت پر راضی ہو گئے ہوں گے، نوکری اپنی جگہ عقیدت اپنی جگہ، اس لئے کوئی حیرت کی بات نہیں، پھر تفتیش کی سختی سے بچنے کیلئے فقیر کی کہانی گھڑ کے سنا دی ہوگی کہ برکلے نے اس کی جھونپڑی جلائی تھی اور وہ بدلہ لینے کیلئے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سر اٹھا کے لے گیا اور ہم کچھ بھی نہ کر سکے کیونکہ وہ روحانی طاقت والا بندہ تھا۔

رائے صاحب کے پوتے کو ان کے روحانی پیشوا نواب کہہ کے بلاتے تھے، ان کا کہنا تھا، اصلی نواب تو یہی ہیں، راوی کے باقی نواب غدار ہیں اور نواب کہلانے کے حقدار نہیں، اس لئے نواب ان کے نام کا حصہ بن گیا تھا، 1968 میں نواب علی محمد خان نے اپنے دادا کے روضے کی تعمیر شروع کی، قبر شریف کے ارد گرد پکا چوکھٹا کھڑا کرنے کیلئے جب کھدائی شروع ہوئی تو کدال ایک مٹکے پر جا لگی، اس مٹکے کو احتیاط سے باہر نکالا گیا تو اس میں حضرت شہیدؒ کا سر مبارک تھا جو 110 سال گزرنے کے بعد بھی آنکھیں، داڑھی، چہرہ سمیت صحیح سلامت اور تروتازہ تھا، لوگوں نے بھرپور زیارت کی، نواب علی محمد خان نے دوبارہ اپنے دادا کا جنازہ خود پڑھایا اور سر کو جسم کے ساتھ دفن کر دیا، کھرل صاحب کا پرشکوہ روضہ تعمیر کرنے اور سالانہ عرس شروع کرنے کا سہرا بھی نواب علی محمد خان کے سر ہے، ان کا انتقال 1979 میں ہوا تھا۔

جہاں برکلے دفن ہے

گوگیرہ سے فیصل آباد روڈ پر ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر تاندلیانوالہ کے قریب رائے صاحب کا گاؤں جھامرہ واقع ہے، اسی روڈ پر راوی کراس کرکے دائیں ہاتھ پر کچی پکی دیہاتی سڑک پر کچھ دور جائیں تو “پناہ دا کُھوہ” سے زرا آگے کھرل صاحب کا مقبرہ ہے جو جھامرہ سے پانچ کلومیٹر پہلے آتا ہے۔

انڈیا آفس لائبریری کے مطابق برکلے اگلے دن دریا کے ساتھ ساتھ محمدپور کی جانب رواں دواں تھا کہ کوڑی شاہ کے قریب جنگل سے اچانک اس پر حملہ ہوا، برکلے کیساتھ پچاس سپاہی بھی ہلاک ہوئے لیکن وہ بہادر تھا اس لئے مرنے سے پہلے چھ حملہ آوروں کو بھی مار کر مرا، ایک جگہ یوں لکھا ہے کہ اس کا گھوڑا دریا میں دھنس گیا تھا اس لئے ہلاک ہوا۔
ایلنز میل allen’s mail میں یہی بات لیفٹیننٹ نیوائل کے بارے میں بھی کہی گئی ہے جو اپنی کمپنی لیکر ستلج کی طرف لڑ رہا تھا کہ جب اس کی کشتی پر حملہ ہوا تو اس نے مرنے سے پہلے تین باغیوں کو ہلاک کیا تھا۔

لارڈ برکلے گوگیرہ سے شیخو شریف روڈ پر واقع ایک عیسائی قبرستان میں دفن ہے، اس قبرستان کے متولی کو دو ہیکٹر اراضی دی گئی تھی تاکہ قبرستان کی دیکھ بھال کرتا رہے مگر اس کی حالت نہایت خراب ہے، قبرستان کے اندر دو قدیم قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک لارڈ برکلے کی ہے، مگر کونسی ہے، یہ پتا نہیں، کیونکہ ان دونوں پر کوئی تختی موجود نہیں۔

انگریز کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر بعد میں جب منٹگمری، موجودہ ساہیوال شہر، منتقل ہوا تو انہوں نے چرچ باغ میں چرچ کے قریب ایک چورستے پر کسی انگریز کی یادگار بنائی تھی جس پر اس کیلئے خراج تحسین لکھا ہوا ہے، وہ عبارت میری پڑھی ہوئی ہے، اگر میں بھول نہیں رہا تو وہ برکلے ہی کی یادگار ہے۔

یہ معرکہ نورے کی ڈل اور گشکوری کے جنگلات میں ہوا تھا اس لئے اسے گشکوری کی جنگ بھی کہتے ہیں، معرکہ گشکوری، دہلی کا سقوط اور بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری یہ سب کچھ ستمبر کے آخری ہفتے میں ایک ساتھ ہی رونما ہوا تھا تاہم لڑنے والے 1859 تک بھی لڑتے رہے جن میں سے کسی کو پھانسی دے دی گئی کسی کو توپ سے اڑا دیا گیا اور کسی کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔

مجاہدین جس زمین کیلئے لڑے، وہی زمین غداروں میں تحفے کے طور پر بانٹ دی گئی، مجاہدین جس دھرتی کی آبرو کیلئے لڑتے رہے وہی دھرتی ان پر تنگ کر دی گئی، برکلے کے قاتل مراد فتیانہ اور سوجھے بھدرو کو گرفتار کرکے بدنام زمانہ جزائر انڈیمان بھیج دیا گیا، یہ ایک الگ کہانی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، رائے احمد خان شہید کے بعد لاہور سے ملتان تک انگریزوں کے سامنے کوئی اس طرح جم کے کھڑا نہ ہو سکا تاہم کھرل، وٹو اور فتیانے کئی سال تک اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہے اور گھر سے بے گھر رہے، ان میں رائے صاحب کا چھوٹا بیٹا محمد خان بھی تھا، جسے لارڈ نے صلح کا پیغام بھیجا تھا۔

محمد خان لارڈ کے سامنے کھڑا تھا، برکلے کے بھائی نے ایک بھرپور نظر ڈال کر پوچھا کون ہو اور کیسے آئے ہو؟

محمد خان نے کہا، میں رائے احمد خان کا بیٹا ہوں، تم نے بلوایا تھا۔
لارڈ نے کہا، ہاں، میں چاہتا ہوں تم اپنے باپ کا خون معاف کردو اور راوی میں امن ہونے دو۔

محمد خان نے کہا، میں بیٹا ہوں اور وہ باپ تھا، میں اس کا خون کیسے معاف کر سکتا ہوں؟

لارڈ نے کہا، بہت تباہی ہو چکی ہے، اب بسانے کی بات کرتے ہیں۔
محمد خان نے کہا، ہم تو گھر سے بے گھر تمہاری وجہ سے ہیں، ہم بسنا چاہتے ہیں لیکن تم لوگ ہی آڑے آتے ہو۔

لارڈ نے کہا، ٹھیک ہے، اب جنگ بند۔
میں اپنے بھائی کا خون معاف کرتا ہوں اور کھرلوں کو امان دیتا ہوں۔

محمد خان نے کہا، اور وٹووں کو…..؟
لارڈ نے کہا، انہیں بھی امان ہے، آؤ…..! راوی کو ایک بار پھر سے بساتے ہیں۔
لکھنے کو اور بھی بہت کچھ ہے جو اس سے بھی طویل ہے، یہ سب کچھ ملتان گزٹ، منٹگمری گزٹ، پنجاب اینڈ دہلی بائی کیوو۔براؤن، پنجاب میوٹنی رپورٹس، میوٹنی کارسپونڈنس، پنجاب سینسس رپورٹ اور دیگر حوالوں کے ساتھ موجود ہے، اس کے علاوہ “جنگ آزادی وچ وٹوواں دا حصہ تحقیقی مقالہ بائی ظہیر حسن وٹو، ایم اے پنجابی” وٹو برادی کے حوالے سے موجود ہے، لیکن اب اختتام کی طرف چلتے ہیں۔

دادا پھوگی رائے صاحب کا ہم عمر، قریبی ہرکارہ اور ان کی رعیت کا ایک میراثی تھا جو اس جنگ میں بھی ان کے ہمراہ یا ارد گرد موجود تھا، رائے صاحب کی برٹش راج سے بغاوت اور بعد کی ساری کہانی دادا پھوگی کے رزمیہ دوہڑوں کی رہین منت ہے جو اس نے منظوم کئے، انہیں “واہریں” بھی کہا جاتا ہے، یہ دوہڑے پنجاب کی مجلسوں، چوپالوں اور لوک داستانوں میں نہایت عقیدت اور قلبی جذبات کے ساتھ پڑھے جاتے تھے لیکن آزادی اظہار کے داعی انگریز کی طرف سے “واہریں” سننے اور سنانے پر بھی سخت پابندی عائد تھی۔

رائے احمد آکھے جمنا تے مر ونجنا
ایہہ نال ٹھوکر دے بھج جاونا
کنگن اے کچی ونگ دا
آکھے لڑساں نال انگریز دے
جیویں بلدی شمع تے جوش پتنگ دا

دادا پھوگی کے مطابق رائے صاحب کہتے تھے، پیدا ہونے سے مرنے تک یہ جیون ایسا ہی ناپائدار ہے جیسا ٹھوکر لگنے سے کانچ کی چُوڑی کا ٹوٹ جانا، اسلئے زندگی کسی مقصد پر قربان کرنی چاہئے، میں بھی انگریز کیساتھ ایکدن ایسے بِھڑ جاؤں گا، جیسے شمع پر پروانہ جوش مارتا ہے، رائے صاحب اپنا کہا ہوا خوب نبھا گئے، لیکن انکار کی اس داستان کا کم ہی لوگوں کو پتا ہے۔

بھگت سنگھ کی شہادت کا دن سب کو یاد رہ جاتا ہے، لیکن 21 ستمبر کو رائے احمد خاں شہیدؒ کی برسی خاموشی سے گزر جاتی ہے، اس کی وجہ تلاش کرنا چاہیں گے تو ایوان اقتدار میں آپ کو جابجا ان دس نوابوں کی اولادیں کھڑی ملیں گی، جنہوں نے معرکہ گشکوری میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، اسلئے قومی سطح کا کوئی پروگرام تو کیا ہوگا، آج اگر آپ رائے احمد خان کھرل کے نام سے بھی واقف نہیں تو اس کی وجہ وہی لوگ ہیں جن میں انگریزوں نے وہ زمین بانٹی تھی جس کی خاطر رائے صاحب نے اپنی شہادت پیش کی۔

کئی دوستوں نے اپنے آرٹیکلز دادا پھوگی کے اس شعر پر ختم کئے ہیں جو سعید بھٹہ صاحب کی کتاب کے ماتھے پر درج ہے۔

خلقت نوں تلیوں لگی، چوٹیوں نکلی ہے، مار بھڑکارے
اوہنوں انکھی نہیں سمجھدا جیہڑا احمد خان دا دکھ وسارے

“اس کہانی کے درد کی آگ پاؤں کے تلوے سے لگتی ہے اور سر کی چوٹی تک جاتی ہے، مگر جو احمد خان کا درد اور حریت کا یہ پیغام محسوس نہ کرسکے، میں اسے غیرتمند نہیں گردانتا”۔

لیکن اپنے اس بیان کو میں ان الفاظ پر ختم کرنا چاہتا ہوں جو سعید بھٹہ صاحب کے ایک بیان سے اخذ کئے ہیں، فرماتے ہیں، یہ مغرب کی روشن دنیا سے جو روشن خیالی کا پیغام منجن بن کے بکتا ہے کہ انسانیت سے بڑا مذہب کوئی نہیں ان کی رپورٹوں میں درج ہے کہ برکلے سمیت ان سب نے درپردہ اپنی جیت کو مذہب کی جیت سمجھ کے لڑا ہے، تقسیم کرو اور حکومت کرو کے پیچھے بھی مذہبی جیت کے سوا کوئی دوسرا جذبہ پہلے تھا نہ اب ہے۔

رائے صاحب کے بعد پنجاب میں ملی حمیت و غیرت کی ڈوبتی ہوئی نبضیں دیکھ کر دادا پھوگی نے ایک اور دوہڑا بھی کہا تھا۔

تینوں ڈھوکاں یاد کریندیاں ہن
ہک واری مڑ آویں ہا رائے نتھو دیا احمد خاناں
وے راوی دیا لاہڑیا

یہ دوہڑا آج بھی حسب حال دکھائی دیتا ہے۔


بنیادی حوالہ:
نابر کہانی، پنجابی تصنیف، ڈاکٹر سعید بھٹہ صاحب، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ پنجابی، جامعہ پنجاب، لاھور

ثانوی حوالہ جات:
پنجاب کا مقدمہ از حنیف رامے سابق وزیراعلٰی پنجاب، دی ڈے احمد خان فال بائی شفقت تنویر مرزا، گوگیرہ موومنٹ بائی تراب الحسن سرگانہ، ریسرچ پیپرز آف اکیڈمی آف دی پنجاب، نارتھ امریکہ۔

تصاویر بشکریہ: بلاگر طارق امیر صاحب
پاک جیو ٹیگنگ ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کوم۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: