بیویوں کی اقسام —– غزالہ خالد

0
  • 78
    Shares

آئیے آج آپ کو “بیویوں کی اقسام” کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ ان میں سے اکثر بیو یوں کو ہم جانتے ہیں، دیکھتے بھی رہتے ہیں اور بعض تو ٹو ان ون بھی ہوتی ہیں عقب میں ان کے سرتاج بھی نظر آئیں گے صرف اس وقت ان کو پہچاننے کی ضرورت ہوگی، ہاں ایک بات اور کسی سے مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی مقصد کسی کی تحقیر یا تذلیل نہیں صرف تھوڑی سی مسکراہٹ ہے۔ شادی شدہ خواتین پڑھتے وقت احتیاط رکھیں کیو نکہ ان کا چہرہ کسی بھی وقت نظر آسکتا ہے اور شادی شدہ مرد زیادہ خوش ہو کر نہ پڑھیں کیونکہ اگلی باری ان کی ہی ہے “شوہروں کی اقسام” بھی لکھی رکھی ہیں البتہ پڑھنے کے بعد یہ ضرور بتائیں کہ “ان کی والی کونسی ہیں؟”

ملکہ بیوی :-
ان کی تو جناب کیا ہی بات ہے، یہ بات نہیں کرتیں صرف حکم دیتی ہیں بلکہ کبھی کبھی تو حکم دینے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی آنکھ کا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور ھکم کے غلام ایک انکساری و عاجزی سے بھرپور غلامانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا ئے حکم بجا لانے میں مصروف نظر آتے ہیں کبھی پانی پلاتے، کبھی سامان اٹھائے پیچھے پیچھے چلتے، کبھی “کیا حکم ہے میری آقا” کی گردان کرتے آپ انہیں بآسانی دیکھ سکتے ہیں، انہیں اگر پانی بھی پینا ہو تو بیوی کی اجازت کا انتظار کرتے ہیں اور اگر عقیدت حد سے بڑھ جائے تو گلے میں رسی باندھ کر اسکا اگلا سرا ملکہ عالیہ کو پکڑا دیتے ہیں اور پھر ساری عمر چین کی بانسری بجاتے رہتے ہیں۔

بقراط بیوی :-
بڑی عالم فاضل ہوتی ہیں، ان کی پوری زندگی کتابوں کے درمیان گذرتی ہے پانچ دس کلو سے کم وزن کی کتاب نہیں پڑھتیں، ہر موضوع پر ایسی مدلل اور مفصل گفتگو کرتی ہیں کہ شوہر کا دماغ ٹھکانے پر نہیں رہتا اس لئے شوہر کے ساتھ گذارا ذرا مشکل سے ہی ہوتا ہے اکثر تو ان کے علم کی تاب نہ لاکر پتلی گلی سے نکل لیتے ہیں جو مرد مجاہد ٹک جاتے ہیں وہ ساری عمر ان کے علم کی مار کھا کھا کر ادھ موئے ہوجاتے ہیں اور خالی دماغ اور خالی آنکھوں کے ساتھ مہمانوں کو چائے پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

پہلوان بیوی:-
لحیم شحیم، لمبی چوڑی, موٹی تازی، موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ جائیں تو اگلا پہیہ ہوا میں اٹھ جاتا ہے۔ ان کے شوہر زیادہ تر منحنی، کمزور، “ناک پکڑو تو دم غائب” قسم کے ہوتے ہیں بیوی کے ساتھ چلتے ہوئے شرماتے ہیں، خوب پھیل پھیل کر چلتے ہیں پھر بھی بمشکل نظر آتے ہیں، لال بیگ یا چھپکلی مارنے کے لئے زوردار چیخ کے ساتھ بیگم کو بلاتے ہیں جو جھاڑو کے ایک ہی وار میں دشمن کا خاتمہ کرنے کے بعد سہمے ہوئے میاں کو خونخوار نظروں سے گھورتی واپس جاتی ہیں۔

بچہ بیوی:-
یہ ابنے شوہر کی نصف بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ عمر میں بھی نصف ہوتی ہیں، ان کے شوہر کو یا تو ڈھلتی عمر میں شادی کا خیال آتا ہے یا پھر یہ سوچ کر اپنے سے بہت چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں کہ مرد تو سا ٹھا پاٹھا ہوتا ہے بیؤی جلد بوڑھی ہوجاتی ہے اور پھر بے چارے ساری عمر اپنی اس سوچ کا خمیازہ بھگتتے ہیں بیگم ساری عمر کمسن، نادان، بھولی بھالی بن کر آرام سے گذاررتی ہیں، شوہروں سے بڑے لاڈ بھرے لہجے میں تتلا تتلا کر بات کرتی ہیں اور پدرانہ شفقت سے جواب پاتی ہیں۔

اپسرا بیوی:-
بڑی حسین ہوتی ہیں بھئی لیکن شوہر عموماً گہرے سانولے (بلکہ تکلف کیا کرنا کالے کلوٹے ہی کہہ لیتے ہیں) ہوتے ہیں، “خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے” اس لئے نک چڑھی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے نخرے بھی دکھاتی ہیں، ان کے شوہر تمام عمر ان کے اسی احسان تلے دبے رہتے ہیں کہ انہوں نے اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود ان جیسےبد صورت سے شادی کرلی۔ میاں شادی کے شروع میں یہ سن کرشکر اور ڈھلتی عمر میں صبر کرتے ہیں اور یوں صبر شکر کے سہارےگذارا ہو ہی جاتا ہے۔

آپا بیوی:-
شوہر سے عمر میں بڑی اور نہائت شفقت و محبت کا برتاؤ کرنے والی ہوتی ہیں میاں بھی ہر کام کرنے کےبعد ان کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اکثر شوہر کا منہ ہاتھ دھلا کر، کنگھی پٹی کرکے، جوتے موزے پہنا کر آفس بھیجتی ہیں۔ آئس کریم اور کولڈ ڈرنک کا پرہیز کرواتی ہیں تاکہ منے میاں کا گلا خراب نہ ہوجائے، شوہر کے چہرے کا بھول پن اور معصومیت ساری عمر ختم نہیں ہوتی البتہ دم گھٹنے کی شکائت اکثر ہوتی رہتی ہے۔

شکی بیوی:-
شوہر اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے ہنسنا مسکرانا تو دور کی بات کام کی بات بھی نہیں کرسکتے، رشتے داروں، پڑوسیوں، دوستوں کی خوبصورت بیویوں کا گھر میں آنا ممنوع ہوتا ہے ہر وقت کسی چوکس سپاہی کی طرح شوہر کی نگرانی کرتی ہیں۔ وہ اگر دن میں دو مرتبہ بال بنالیں تو قیامت آجاتی ہےان کے شوہر کو اپنا موبائل ان سے چھپا کر رکھنا پڑتا ہے اور ایک فیس بک آئی ڈی بھی کسی فرضی نام سے بنانی پڑتی ہے۔

مذ ہبی بیوی؛-
اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے کہ ایک مسلمان کو مذہب پر عمل کرنے والی بیوی مل جا ئے اور اس کی دنیا و آخرت سنور جائیں لیکن معاملہ تب خراب ہوتا ہے جب دنیا دار میاں کو ذبردستی دین پر عمل کرو ا یا جائے اور بغیر انتظار کئے انہیں ہر وقت گناہ و ثواب کے ڈراوے دے دے کر سچا مسلمان بنانے کی کوششیں کی جائیں، یہ جنت کا ذکر حوروں کے ڈر سے ذرا کم ہی کرتی ہیں ان کے شوہر صرف جہنم کے نظارے سن سن کر اپنے آپ کو وہیں محسوس کرنے لگتے ہیں، سانپ، بچھو ہر وقت انہیں اپنے اوپر رینگتے محسوس ہوتے ہیں، موسیقی کی آواز سنتے ہی کانوں میں سیسہ جاتا محسوس ہوتا ہے، آنکھیں ہر وقت پھٹی پھٹی رہنے لگتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہےکہ زبان سے زوردار “استغفراللہ” کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔

دوسری بیوی:-
یہ وہ دوسری بیوی ہے جس کی سوکن اس کے سینے پر مونگ دلنے زندہ سلامت موجود ہوتی ہے، ان کی ساری زندگی جوڑ توڑ، لڑائی جھگڑے، جلنے کڑھنے اور مقابلہ بازی میں گذرتی ہے، اگر شادی اپنی مرضی سے کی ہوتی ہے تو ساری زندگی پچھتاتی ہیں اور اگر والدین نے کی ہوتی ہے تو انہیں بھی برا بھلا کہہ رہی ہوتی ہیں ان کے میاں بھی پوری عمر کھینچا تانی کا شکار رہتے ہیں لیکن پھر بھی دوسرے مرد امنہیں رشک و حسد کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔

چکنا گھڑا بیوی:-
مست ملنگ، نو ٹینشن، زندگی ایک بار ملتی ہے کھاؤ پیو موج اڑاؤ پر یقین کامل رکھتی ہیں، شوہر کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی ہیں، جو کرتی ہیں اپنی مرضی سے کرتی ہیں اور دنیا کے ان چند خوش قسمت افراد میں سے ہوتی ہیں جو کوئی بات دل پر نہیں لیتے ان کے شوہر پانی نہیں پیتے بلکہ خون کے گھونٹ پیتے ہیں۔

ماڈرن بیوی:-
ایک ہاتھ میں مہنگا ترین موبائل فون، دوسرے ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل اور کندھے پر برانڈڈ بیگ کے ساتھ بآسانی پہچانی جاتی ہیں، لباس ایسا ہوتا ہے کہ گھریلو خواتین استغفار پڑھ کر منہ پھیر لیتی ہیں اور مرد ایک بار نگاہ ڈالنے کے بعد ہٹاتے ہی نہیں تاکہ دوسری نگاہ کے گناہ سے بچ سکیں، انہیں نہ اپنا ملک پسند ہوتا ہے اور نہ اپنی زبان، انگریزی میں بات کرتی ہیں اور ہر وقت شوہر کی جان کھاتی ہیں کہ کسی طرح امریکہ کا ویزہ حاصل کرلے تاکہ موقع ملتے ہی پاکستان چھوڑ کر جا سکیں۔

کام چور بیوی:-
یہ باتیں بنانے مین نمبر ون، اپنا خیال رکھنے میں ماہراور کام کے معاملےمیں زیرو ہوتی ہیں، مہمانوں کے آنے کا سن کر ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے، محفلوں میں کام کے وقت بھی ان کی یہی کیفیت ہوتی ہےڈاکٹر ان کا مرض سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں پرانے زمانے میں سر پر بندھی پٹی کے سبب آسانی سے پہچانی جاتی تھیں لیکن اب اسٹائل کا زمانہ ہےاس لئےپٹی باندھنا چھوڑ دی ہے، ان کے شوہر اوربچے عموماً سگھڑ نکلتے ہیں۔

غصیلی بیوی؛-
باپ رے باپ اتنا غصہ۔۔ کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی والا معا ملہ ہوتا ہے اور شوہر بے چارے کی پوری عمر معاملات سلجھاتے ہی گذرتی ہے، شوہروں کا خون ان کی دانٹیں سن سن کر خشک ہو جاتا ہے بیوی کی ایک دحاڑ سے پلنگ کے نیچے گھس جاتے ہیں اور پھر بچوں کے ہاتھ پیر جوڑنے کے بعد بڑی مشکل سے بر آمد ہوتے ہیں ان کے گھر میں چمٹا، بیلن چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

کماؤ بیوی:-
گھر اور آفس سنبھالنے میں چاہے مشکل اٹھائیں لیکن گھروں میں آرام سے رہتی ہیں ان کے بہت سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ “دودھ دینے والی بھینس کی لات بھی اچھی لگتی ہے، گھر صاف نہیں ہے کوئی بات نہیں جاب کرتی ہے، بچے نظر انداز ہورہے ہیں کوئی بات نہیں جاب کرتی ہے، کھانا بنانا نہیں آتا کوئی بات نہیں جاب کرتی ہے وغیرہ وغیرہ اگر شوہر کو کبھی غصہ آبھی جائے تو ہر پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔

باتونی بیوی:-
بہت بولتی ہیں بھئی، آپ لاکھ کسمسائیں، انگڑائیاں لیں، جمائیاں لیں بے شک ایک نیند لے کر اٹھ جائیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، باتونی ہونے کو ساتھ ساتھ منہ پھٹ بھی ہوتی ہیں ہر بات کا جواب دینا اپنا فرض سمجھتی ہیں اپنی عمر کے راز کے سوا کوئی راز محفوظ نہیں رکھ سکتیں، غور سے دیکھنے پران کے شوہر کے کانوں میں روئی کے پھا ئے آسانی سے نظر آجاتے ہیں۔

چھپی رستم بیوی:-
یہ پوری زندگی اس چالاکی سے گذارتی ہیں کہ ان کے شوہر انہیں اپنا مطیع اور فرمانبردار سمجھتے ہیں، اپنی شوہر پرستی کے قصے محفلوں میں بھی بڑے ذوق و شوق سے سناتی ہیں کیونکہ بظاہر یہ شوہر کے ہر حکم پر اپنا سر جھکانے والی ہوتی ہیں پر “ہیں کوکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ” والا معاملہ ہوتا ہے، ان کےشوہر کے منہ میں ان کی زبان ہوتی ہے کچھ ایسا چکر چلاتی ہیں کہ میاں عقل و خرد سے بیگانہ ہو کر ان کی ہی زبان بولنے لگتے ہیں مٹھو میاں کی طرح وہی کہتے ہیں جو سکھایا جاتا ہے بصورت دیگر نتائج اچھے نہیں نکلتے۔

وہمی بیوی:-
یہ ہر وقت کسی نہ کسی وہم میں گرفتار رہتی ہیں، ان دیکھے واہموں کی فکر ان کے شوہروں کو بھی چین نہیں لینے دیتی، صفائی کا وہم ہو تو پورا گھر ہر وقت چمکتا تورہتا ہے لیکن گھر والوں کو بھی اپنے ہی گھر میں مہمانوں کی طرح رہنا پڑتا ہے، کبھی بیماری کا وہم ہو جائے تو جس بیمار کو بھی دیکھ لیں وہی بیماری خیالوں ہی خیالوں میں ان کو بھی ہوجاتی ہے فوراً اٹواٹی کھٹواٹی لیکر پڑجاتی ہیں اور میاں سے کہتی رہتی ہیں ” بس اب میں چار دن کی مہمان ہوں” یہ سن سن کر میاں کے دل میں لڈ و پھوٹتے رہتے ہیں لیکن یہ چار دن اتنے طویل ہوجاتے ہیں کہ میاں کی جوانی ہی چار دن کی رہ جاتی ہے اور گوہر مقصودہاتھ نہیں آتا، بے چارےٹھنڈی آہیں بھرتے پائے جاتے ہیں۔

ناشکری بیوی:-
شوہر چاہے آسمان سے تارے توڑ کر بھی لے آئے یہ کبھی خوش نہیں ہوتیں، ہر وقت شکوے شکایات کا ایک انبار لئے تھکے ہارے شوہر کا استقبال کرتی ہیں یا پھر میاں کو دوسری خواتین کے شوہروں کی بے پناہ تعریفیں سننا پڑتی ہیں کہ وہ اپنی بیویوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں اسی لئے شوہروں کا زیادہ وقت گھر سے باہرہی گذرتا ہے ایک مشہور لطیفہ جس میں شوہر آسمان پر اڑ کے دکھا دیتا ہے لیکن بیوی پھر بھی کہتی ہے کہ “اچھا وہ تم تھے، جبھی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے” ان ہی بیویوں کے لئے بنایا گیا ہوگا،

بے چاری بیوی:-
یہ پاکستان میں سب سے زیادہ پائی جانے والی بیوی کی قسم ہے، ان کے شوہر امیر بھی ہوتے ہیں اور غریب بھی، بے چاری کی عزت نفس کا گلا شادی ہوتے ہی گھونٹ دیا جاتا ہےلہذا محفل میں یا اکیلے میں اس کی کتنی بھی بے عزتی کردی جائے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اکثر و بیشتر روئی کی طرح دھنک بھی دی جاتی ہے، زیادہ غصہ آئے تو جلا بھی دیا جاتا ہے اس کی خوشی، آرام، سکھ، چین کا کوئی خیال نہیں رکھتا بس زندگی کی گاڑی دھکیلنی ہوتی ہے سو دھکیلے جاتی ہےہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ للہ بے چاری کے حال پر رحم کرے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: