سرور بھائی اور کرامات کی تلاش —– فرحان کامرانی

0
  • 67
    Shares

سرور بھائی فطرتاً متجسس واقع ہوئے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے مافوق الفطرت کی تلاش میں بھی ہیں اور اولیاء اللہ کی تلاش میں بھی۔ اشفاق احمد اور قدرت اللہ شہاب کے’’روحانی جاسوسی‘‘ مطالعات کو پڑھ پڑھ کر ان کو یہ لگتا ہے کہ بالکل کسی سیکرٹ ایجنسی کے اہلکار کی طرح انہیں اچانک کہیں کوئی قطب، کوئی ابدال مل جائیگا۔ مگر اہل اللہ سے اُن کے مطالبات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ مثلاً ایک بزرگ جو کسی مسجد میں گوشہ نشین تھے سے سر ور بھائی نے پہلا سوا ل یہ کیا:’’حضور! آپ نے کبھی جن دیکھا ہے؟‘‘ سرور بھائی نے ایک دن اپنے دوست سے سوال کیا : ’’یار اولیاء اللہ ایسا کیوں نہیں کرتے تھے کہ جیسے بھوسا وغیرہ جمع کیا اور کسی ’’ذکر‘‘ سے اسے بکرا وغیرہ بنا دیا؟‘‘۔ دوست کے حیرت سے کھلے منہ کو دیکھ کر سرور بھائی نے وضاحت کی: ’’یار خلق خدا کھاتی ناں وہ گوشت، خلق خدا کو فائدہ ہوتا۔‘‘ کیونکہ سرور بھائی کا یہ ٓائیڈیا ’’روحانیت کے شرلاک ہومز‘‘ یعنی بابا محمد یحییٰ کے ادبی ظہور سے پہلے کا ہے، اس لئے قرین قیاس یہی ہے کہ بھوسے کے ڈھیر سے بکری بنانے والی ’’افادی روحانیت‘‘ کی طلب یقینی طور پر ’’وزرڈ آف دی آز‘‘ یا ’’سینڈریلا‘‘ سے متاثرہ ہے۔ اس لئے کہ ان دونوں ہی کہانیوں میں ایسے جادوگروں جادوگرنیوں کا تصور پیش کیا گیا ہے جو بینگن کو بگھی، چوہے کو گھوڑا، بگلے کو کوچوان بنا دیتے ہیں۔ سرور بھائی گھر میں، دوستوں احباب میں ہر جگہ ہر وقت روحانیت، مافوق الفطرت اور مخیر العقول واقعات بیان کرتے اور سنتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی انہیں روحانی واقعات یاجن بھوت کا قصہ سنائے تو وہ بہت پرجوش ہو جاتے ہیں۔ وہ اکثر لوگوں سے یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کوئی جن دیکھا، کسی بزرگ کو اڑتے ہوئے دیکھا، کوئی بھوت دیکھا، کچھ ایسا دیکھا جو ایسی مافوق الفطرت دنیا سے منسلک ہو۔

مگر سرور بھائی کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟ آخر سرور بھائی اور اس معاشرے کے دیگر ’’سروروں‘‘ کو تلاش کس چیز کی ہے؟ یہ محنت، یہ سعی ہے کس لئے؟

یہ لوگ دراصل معجزے کی تلاش میں ہیں۔ یہ دور جدید جس میں ہم زندہ ہیں، یہ دراصل پچھلی دو صدیوں کے ان فلسفیوں، سائنسدانوں، ادیبوں، شاعروں، مفکروں کا تخلیق کردہ ہے جنہوں نے انکار مذہب کو اپنا شعار بنایا۔ ان کے فکر و عمل سے جو دنیا خلق ہوئی اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مذہب بس ایک لیبل بن کر رہ گیا۔ مذہب کو بڑی حد تک اجتماعی اور انفرادی زندگی کی صورت گری کرنے والی قوت رہنے ہی نہ دیا گیا۔ انسانی رشتے ٹوٹ گئے تو زندگی بے بس ہو گئی۔ بعض صورتوں میں مذہب کے بعض حصوں کا اظہار تو بڑھ گیا مگر روحانی تجربہ بہت کمزور ہو گیا اور اخلاقی نظام بالکل ہی ڈھے گیا۔ غور کیجئے کہ ایک اسکول، جو ایک چھوٹا سا تربیت کا ادارہ ہے، اس کا شخصیت اور کردار پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ ایک سے دوسرے اسکول کے بچوں کے رویوں کے فرق کو پہچان لیا جاتا ہے مگر مذہب جو روحانی، اخلاقی، سماجی بلکہ ہر ہر قسم کی تربیت کا سب سے عظیم ترین ادارہ ہے، وہ اس قدر کمزور ہو گیا کہ الگ الگ مذاہب کے ماننے والوں کی سوچ، فکر و فلسفے، زندگی کے مقصد وغیرہ بلکہ اخلاقیات میں بھی دور جدید میں کوئی خاص فرق رہ نہیں گیا۔ لباس، وضع قطع، پنشن، گریجویٹی، کریڈٹ کارڈ، خواہشات، غم، دکھ درد، الغرض سب تو ایک ہی جیسا ہے۔ بس فرق تو نام کا ہی ہے۔ جدید زندگی کچھ اس نوع کی ہے کہ انسان معاشی کولہو کابیل ہے، اس کی وقعت اس کی جیب میں پڑے نوٹوں سے ہے۔ اب وہ رام چند ہے، ابراہیم ہے یا کم، ٹم، جم۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، اب اس جدید زندگی کے تجربے میں مذہب ایک اضافی بوجھ ہے، اخلاقیات کمزوری ہے، جذبات رکاوٹ ہیں۔ اس معاشیات کی اندھی دوڑ (Rat Race) میں دوڑتے ہوئے صرف عبادات اور مذہبی رسوم کا بوجھ بھی لوگوں کو بیگار معلوم ہونے لگتا ہے، اسی لئے یاس یگانہ چنگیزی اس دوڑ زندگی میں دوہرے بوجھ سےبلبلا کر پوچھتا ہے۔۔

کار دنیا پہ دین کی بیگار؟

واقعی اگر محبت کو نکال دیجئے تو ہر کام ہی بیگار ہے۔ ماں بچے کے لئے جان دے دیتی ہے، اس لئے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے مگر آیا تو تنگ آ کر بچے کی جان لے بھی سکتی ہے (اور ایسے بہت سے واقعات ریکارڈ پر بھی موجود ہیں)۔ ماں اور آیا میں فرق تو محبت کا ہی ہے، خدا اور انسان کا تعلق بھی سب سے پہلے محبت کا ہے، اسی محبت کا نام تصوف ہے، اب اس زاویے سے دیکھئے تو دنیا بیگار ہے اور دین حیات ہے۔ مگر عہد حاضر کے لئے ہماری روایت میں قرب قیامت اور ہندی روایت میں ’’کل یگ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی دور ظلمت، اندھیرے کا عہد۔ وہ وقت کہ جب حق چھپ جائے گا۔ مذاہب نے خالص علم کا ماخذ وحی الٰہی کو قرار دیا تھا جب کہ دور جدید میں خالص علم محسوس یعنی سائنس کو قرار دیا گیا ہے، یہ اندھوں کی ہاتھی پہچاننے کی کوشش ہے۔ اس صورت حال میں دنیا کے ’’سرور‘‘ کسی معجزے (کوئی ایسی چیز جو عقل سے ثابت نہ ہوتی ہو، جہاں عقل عاجز آ جاتی ہو) کو دیکھ کر مذاہب پر ایمان پختہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی کھدائی میں زمین سے 80 ہاتھ کے ڈھانچے برآمد ہو جائیں، کسی کیمرے سے جنوں، بھوتوں کی تصاویر کھینچی جائیں یا وہ خود کسی جن بھوت سے ملاقات کر لیں۔ کسی پیر، ولی کو بھوسے سے بکرا اور بینگن سے بگھی بناتا دیکھ لیں اور ایسا کوئی مظہر اگر انہیں نظر آ گیا تو وہ فوراً مذہب پر ’’پختہ‘‘ ایمان لے آئیں گے۔ ویسے قرآن و حدیث شاہد ہیں کہ معجزے کا مطالبہ کرنے والے ایمان کم ہی لاتے ہیں اور معجزے دیکھنے والے بھی بعض مرتبہ ایمان سے بھٹک جاتے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کی قوم نے تو یدبیضا، سمندر کا شق ہونا، عصائے موسیٰ کا جادوگروں کے اژدہوں کو نگل جانا دیکھا تھا تو وہ کیوں سامری کے بچھڑے پر ایمان لے آئے؟ کیوں حضرت صالحؑ کی اونٹنی کو ان کی قوم نے ہلاک کیا؟ کیوں بنی اسرائیل نے اپنے گھروں کے سامنے سے نہر نکالی؟ اگر دل میں اللہ کی محبت بھر جائے تو عقل اور اس کی محدودات کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتیں۔

جب حضورؐ معراج سے تشریف لائے تو کفار مکہ مذاق اڑانے لگے، ایک کافر حضرت صدیق اکبرؓ کے پاس آیا اور ان سے بولا کہ تمہارے نبی کہہ رہے ہیں کہ وہ 7 آسمانوں کی کی سیر کر آئے اور اللہ سے مل آئے۔ تم اس بات پر یقین کرتے ہو؟ صدیق اکبرؓ نے بغیر کسی توقف کے فوراً فرمایا کہ نبیؐ فرما رہے ہیں تو درست ہے۔ کافر دنگ رہ گیا، کفار تو چاند ٹوٹتا ہوا دیکھ کر ایمان نہ لائے مگر صحابہؓ معراج کا بیان سن کر ایمان لے آئے، اس لئے کہ ان کے دل اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت سے بھرے ہوئے تھے مگر پھر صدیاں گزر گئیں اور جوں جوں یہ محبت کمزور ہوتی گئی روحانی خلاء پیدا ہوتا گیا۔

اب تعقل کے تحت ہر ہر بات پر سوال اٹھتا ہے۔’’سرور‘‘ ایمان رکھتے ہیں، بس کنفیوژ ہیں۔ وہ اپنا ایمان مضبوط کرنے کے لئے مافوق الفطرت کو ’’محسوس‘‘ کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں، اپنی عقل کو دنگ کر کے خود کو یقین دینا چاہتے ہیں۔جدید دنیا جن لامذہب فلسفوں پر کھڑی ہے وہ تو اپنے اداروں کے ذریعے سارے انسانوں میں سرایت کر چکے، جب مذہب آپ کی حیات کے مرکزی مقام سے ہٹ کر ایک خانے میں سجی شیلڈ بن ہی گیا تو روحانیت کا خلاء کیوں نہ ہو گا؟ اور اگر روحانیت کا خلاء ہو گا تو کوئی اڑتا ہوا پیر، کوئی بھوسے سے بنی بکری، کوئی جن کیسے اسے پورا کر دے گا؟ اسی لئے ’’سروروں‘‘ کا اضطراب ختم نہیں ہوتا۔ ’’سرور‘‘ تو آج سب ہی ہیں، بس بات اتنی سی ہے کہ کچھ مافوق الفطرت کو محسوس کے دائرے میں لا کر اس کا یقین کرنا چاہ رہے ہیں اور کچھ مذہبی عقائد کو سائنس اور عقل سے ثابت کر کے اور عہد حاضر کے ہر جدید مظہر کی مذہب میں تاویل پیدا کر کے۔ مگر نہ ایک قسم کے’’ سروروں‘‘ کو بھوسے سے بکری بنتی نظر آ رہی ہے نہ دوسری قسم کے ’’سروروں‘‘ کو دہری سائنس میں خدا کی گنجائش۔ اسی لئے دونوں سرور پریشان ہیں، مضطرب ہیں۔ مگر اکثریت تو شائد اب سرور بھی نہیں ہے۔ اکثریت تو اس اضطراب سے بھی آزاد ہو چکی ہے اور مذہب کو محض ایک لیبل مان چکی۔ جن کے لئے اب بھوسے والی بکری اور سائنس سے تائید مذہب کی دلیلیں، سب ہی غیر متعلق ہو چکیں۔ شیطان بھی حیرت سے دور جدید کو دیکھ رہا ہے۔ خدا کو تو وہ بھی مانتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: