کفر یا بے خبری؟ — تہامی بشر علوی

1
  • 114
    Shares

میں یہاں ایک قادیانی کا وہ خط نقل کیے دیتا ہوں،جو اس نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کو لکھا تھا:

“مکرم جناب مولانا صاحب! میں خدا کے فضل سے احمدی ہوں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ کہتا ہوں کہ میں جب کلمہ شریف میں محمد رسول اللہ پڑھتا ہوں تو اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوتے ہیں۔ “مرزا غلام احمد قادیانی” نہیں ہوتے۔ اگر میں اس معاملہ میں جھوٹ بولتا ہوں تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہزار بار لعنت ہو اور اسی یقین کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی احمدی کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے مراد بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے “مرزا غلام احمد قادیانی” نہیں لیتا، اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اسی طرح حلفیہ بیان اخبار جنگ میں شائع کروائیں کہ درحقیقت احمدی لوگ (یا آپ کے قول کے مطابق قادیانی) کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا حلف شائع کروادیا تو سمجھا جائے گا کہ آپ اپنے بیان میں مخلص ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے گا کہ کون اپنے دعوے یا بیان میں سچا اور کون جھوٹا ہے؟ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ظاہر ہوجائے گا کہ آپ کے بیان کی بنیاد، خلوص، دیانت اور تقویٰ پر نہیں بلکہ یہ محض ایک کلمہ گو جماعت پر افتراء اور اتہام ہوگا جو ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔

نوٹ:…اگر آپ اپنا حلف شائع نہ کرسکیں تو میرا یہ خط شائع کردیں تاکہ قارئین کو حقیقت معلوم ہوسکے”۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل، 197/1

ہمارے علم میں ہے کہ مسلمانوں میں اسلام کی ایک سے زیادہ تشریحات موجود ہیں۔ ان میں سے کسی بھی تشریح کو ماننے والا، ٹھیک اسی قادیانی کی طرح، خود کو اصل اسلام پر کاربند اور باقی تشریحات والوں کو گمراہ یقین کرتا ہے۔ہر گروہ کے پاس بڑے بڑے علماء ہیں جو اپنی اپنی تشریحات کو عین اسلام ثابت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جن سے عوام بآسانی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان بڑوں میں سے جس نے بھی دین کو جان بوجھ کر بگاڑا خدا کا سخت عذاب اس کا منتظر ہے،مگر اس نظریے کو عین اسلام اور صرف حق جان کر قبول کرنے والی اکثریت کا معاملہ قابلِ توجہ ہے۔ ان کے بارے میں یہ نہیں فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کوئی اور چیز ہے اور ہم جس تشریح کو مانے ہوئے ہیں وہ اسلام کے خلاف ہے۔

میرے اب تک کے ذاتی تجربات میں یہی آیا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ ہرگز خود کو باطل نظریات کا حامل نہیں سمجھتا۔ سب کا خیال بلکہ یقین ہے کہ وہی اصل دین پر ہیں۔وہ بہت سچے جذبے کے ساتھ اپنے نظریات کو حقیقی دین سمجھے ہوتے ہیں۔

میں نے یہاں جو خط نقل کیا اس سے بھی بہ خوبی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس احمدی کو اس بات کس شدت سے یقین ہے کہ وہی حق پر ہے۔

میں یہاں ایک اور واقعہ نکل کروں گا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک سابقہ قادیانی سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا، آپ نے قادیانیت کیوں چھوڑی؟ اس نے بتایا کہ جب مجھ پر یہ واضح ہوا کہ مسیح موعود سے مراد مرزا قادیانی نہیں ہیں تو قادیانیت چھوڑ دی۔ میں نے پوچھا جب آپ قادیانی تھے تب آپ کا کیا خیال ہوتا تھا کہ آپ باطل پر ہیں؟ اس کا جواب تھا نہیں تب تو باقی قادیانیوں کی طرح میرا خیال بھی یہی تھا کہ بس ہم ہی حق پر ہیں۔اس کی عمر غالباً 40 سال یا کچھ کم زیادہ ہوئی ہو گی۔ اسے قادیانیت چھوڑے ہوئے چند سال ہوئے تھے۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ تھی کہ جتنا عرصہ وہ قادیانی رہا، اس سارے عرصہ میں کوئی ایک بندہ بھی اس کے پاس سچائی کا پیغام لے کر نہیں گیا۔ اس نے بتایا کہ اس وقت مجھے سخت ناگوار گزرتا تھا، جب لوگ مجھے قادیانی سمجھ کرمجھ سے نفرت کا رویہ رکھتے تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے یہ بھی بتایا کہ قادیانیوں سے نفرت کے بجائے یہ علماء اگر محبت سے انھیں سمجھائیں تو کئی لوگ سچائی جان سکتے ہیں۔ اس کے الفاظ تھے کہ بدقسمتی سے ہمارے علماء اپنی تقاریر میں مرزا کو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں، جس سے وہ لوگ متنفر ہی ہو جاتے ہیں۔

آغاز میں نکل کیے گئے اس خط کاجواب بھی مولانا کی طرف سے آیا۔مولاناؒ کے جواب کا ابتدائی حصہ ہم سب کی توجہ چاہتا ہے،آپ ؒ لکھتے ہیں :

” نامہ کرم موصول ہو کر موجب سرفرازی ہوا۔ جناب نے جو کچھ لکھا میری توقع کے عین مطابق لکھا ہے۔ مجھے یہی توقع تھی کہ آپ کی جماعت کی نئی نسل جناب مرزا صاحب کے اصل عقائد سے بے خبر ہے اور جس طرح عیسائی تین ایک، ایک تین کا مطلب سمجھے بغیر اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی بڑے زور شور سے اعلان کرتے ہیں۔ کچھ یہی حال آپ کی جماعت کے افراد کا بھی ہے”۔ ص 197

میرا خیال ہے مولانا نے نئی نسل کی اصل پوزیشن کو بالکل درست سمجھا ہے۔ اس کی اصل پوزیشن انکار کی نہیں بلکہ بے خبری کی ہی ہے، جس کی نشاندہی مولانا محترم ؒ نے کی۔ مولاناؒ نے بجا فرمایا کہ یہ محض ایک فرد کا کیس نہیں بلکہ پوری نئی نسل کی صورتِ حال ہے۔اس نسل کا کیس حق کے انکار کا کیس ہرگز نہیں کہ ہم انھیں کافر قرار دینے کی جلدی کریں۔ان کا کیس محض بے خبری کا کیس ہے، جس کا حل نفرت اور کفر کے فتووں کے بجائے، محبت اور  دعوت ہی ہے۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہمارے علماء اس بے خبری کے کیس کو فوراً کفر کا کیس بنا کر ایک نفرت انگیز مہم پر کمر کس لیتے ہیں۔ کفر کا کیس بنا نے کے بعد وہ ان کا قلع قمع کرنے کو بے تاب ہوجاتے۔اگر بے خبری کا کیس سمجھ کر وہ خدا کے بندوں کی بھلائی چاہیں، تو ان کے دل انسانوں کی محبت سے لبریز ہو جائیں۔ وہ اسی محبت کی بنیاد پر لوگوں سے ملیں اور ان تک بھلائی کا پیغام پہنچاتے چلے جائیں۔اس محبت کےنتیجے میں لوگوں کے دل بھی ان کی محبت سے بھر آئیں۔ان کی بات لوگوں کے دلوں پر یوں اثر کرے جیسے کسی ہمدرد خیرخواہ کی بات کیا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے علماء کے مزاج میں شعلہ نوائی زیادہ ہی غالب آچکی ہے۔ وہ جملوں سے کاٹنا اور الفاظ سے چیر دینا چاہتے ہیں۔وہ اپنے سوا ہر کسی کا وجود مٹا دینے کے درپے ہیں۔ یہ صورتِ حال خودان کی اپنی نسلوں کو بھی دین بیزار کرتی جا رہی ہے۔ نئی نسل میں دین سے جو وحشت بڑھتی جا رہی ہے، اس کا سب سے بڑا سبب اہلِ مذہب کے تعصبات بھرے رویے ہیں۔دین کے نام پر جتنی نفرتیں ان سے پھیلیں اس کے تصور سے بھی انسانیت شرما جاتی ہے۔

ہمارے علما کا زور اس پر ہے کہ لوگ فلاں غلط نظریہ چھوڑ دیں۔ بھئی، کسی غلط نظریے کو چھوڑدینا تو ایک طرف رہا،وہ بے چارے تو یہ بھی نہیں جان پائے کہ وہ کسی غلط نظریے کے قائل ہیں بھی یا نہیں؟ اگر خدا نے آپ کو حق کا شعور بخشا ہے تو آپ غلط فہمیوں میں مبتلا لوگوں کی مدد کی جیے تاکہ وہ بھی سچائی جان سکیں۔ حال یہ ہے کہ جس چیز کو لوگ غلط فہمی کی وجہ سے عین دین سمجھے ہوئے ہیں، ہمیں یہ فکر تو ہرگز نہیں کہ کس طرح انھیں اس غلط فہمی سے نکال کر اصل اسلام سے جوڑا جائے، مگر ہم ضرور بہ ضد ہوئے بیٹھے ہیں کہ لو ہم نے تو تمھیں کافر قرار دے دیا ہے، اب تم سے بھی منوا کر رہیں گے  کہ تم کافر ہو۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔گویا کل ان سے یہ تو نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے میرے بے خبر بندوں تک سچائی پہنچائی تھی یا نہیں؟مگر یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ آپ نے انھیں کافر قرار دے کر ان سے بھی منوالیا تھا یا نہیں؟ نفرت اور جوش میں اندھے کر دیے گئے لوگ اب کیا جانیں کہ وہ انسانیت میں گھلنے والا پیغمبرانہ سوز و گداز کیا ہوتا ہے؟

خیر، مولانا کے جواب کا وہ حصہ بھی یہاں نقل کرنا اہم رہے گا جس میں وہ اس  قادیانی کو بھائی کہہ کر اپنائیت سے نوازتے ہیں:

“میرے بھائی! بحث قسموں کی نہیں، عقیدے کی ہے!۔۔۔۔۔الخ” ص 197

افسوس کہ انسانوں کو اب “میرے بھائی ” کہہ کر اپنائیت کے احساس سے پکار سکنے والے علماء بھی ناپید ہوچکے ہیں۔ اگر ہم خدائی مشن میں سچے ہیں تو ہمیں خدا کے بندوں کی بھلائی چاہتے ہوئے، محبت کی زبان میں انھیں مخاطب کرنا ہو گا۔ ورنہ اہلِ مذہب کے غیرانسانی برتاؤ سے تنگ کر آکر سچائی سے دور ہونے والوں کا وبال کل انھی اہلِ مذہب پر ہو گا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. درست کہا اصل مسئلہ یہ نہیں کی انہیں حق پر کیسے لایا جائے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے نام پر پوائنٹ سکور نگ کیسے کی جائے
    جیسے غیبی قوتیں عوام کے دل میں خود سے دشمن پیدا کر کے ان سے ڈراتی رہتی ہیں کہ میری پناہ لو ورنہ وہ تمھیں ختم کر لے گا خصوصاً انڈیا کے بارے یہ تاثر پیدا کیا ہوا ہے
    اسی طرح مذہبی حلقوں نے سب کے زہن میں یہی ڈالا ہوا کہ بس قادیانیوں کی زندگی کا مقصد یہ تمھاری بربادی
    انہیں اس سے پہلے مارو کہ وہ تمھیں نار ڈالیں

    اور اپنی اپنی پاور گیم چل رہی

Leave A Reply

%d bloggers like this: