ایک استادکی داستانِ زیست ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 80
    Shares

’’زندگی خوبصورت ہے‘‘ کے نام سے محترمہ تنویر رؤف کی آپ بیتی حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک استاد کی داستانِ زیست ہے۔ جو تیس سال تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں۔ انہوں نے ماما پارسی اور ہمدرد جیسی شہر کی بہترین درس گاہوں میں بحیثیت استاد ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کا قلم و کتاب سے رشتہ بھی کافی پرانا ہے۔ ریڈیو سے بھی وابستہ رہیں۔ مختلف اخبارات و جرائد کے لیے بھی لکھا۔ تحریر کے شعبے میں ان کا اصل میدان ترجمہ ہے۔ انہوں نے اردو کے ممتاز شعراء کے منتخب کلام کو کمال مہارت سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اردو شاعری کا ترجمہ آسان نہیں ہوتا۔ تا ہم ’’ریفلیکشنز‘‘ کے زیر عنوان تنویر رؤف کے ترجمے کی علمی و ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی کی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے نسیم انجم کے ناول ’’نرک‘‘ ،شمیم منظرکے ناول ’’زوال کے بعد‘‘ اور زاہد یعقوب عامر کی کتاب ’’ایم ایم عالم‘‘ کو بھی انگلش کے قالب میں ڈھالا۔

رواں پبلشر نے ’’زندگی خوبصورت ہے‘‘ کو اپنے اشاعتی پروگرام کے آغاز کے لیے منتخب کیا۔ دو سو چوبیس صفحات اور چار رنگین تصاویر سے مزین صفحات کی کتاب کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔ کتاب اچھی شائع ہوئی ہے۔ لیکن اس میں پروف کی خاصی غلطیاں موجود ہیں۔ اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔

معروف مزاح نگار ایس ایم معین قریشی نے ایک پرعزم خاتون کی داستانِ حیات کے عنوان سے کتاب پررائے دیتے ہوئے لکھاہے کہ ’’اس کتاب میں ایک پر عزم، محنت کش، روشن خیال اور خوش خلق دانش ور خاتون نے اپنی جدوجہدِ حیات کا حال رقم کیا ہے۔ اس میں ہر عمر، ہر نقطہء نظر اور ہر عہد کے قاری کے لیے بہت کچھ پڑھنے ،سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے کے لیے موجود ہے۔‘‘

سابق پرنسپل ہمدرد اسکول نگہت فاطمہ کا کہنا ہے کہ ’’مسز رؤف کے ساتھ کام کا تجربہ بڑا منفرد اور دلچسپ تھا۔ ایک طرف وہ ہماری دوست تھیں تو دوسری طرف بہترین گائیڈ۔ حکیم صاحب کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ہمیں جو حکمت عملی اختیار کرنا تھی، مسزرؤف نے اس میں ہماری بھرپور مدد کی۔ ان کی حیثیت ہماری زندگی میں ویسے ہی تھی جیسے گھر میں ماں کی۔ زیرِنظر سوانح عمری میں آپ کو جگہ جگہ ایسے واقعات ملیں گے، جو آپ کو تر و تازگی کا احساس دیں گے۔ حالات و واقعات کی بھرپور عکاسی آپ کو یہ تاثر دے گی، جیسے آپ خود اس کا ایک حصہ ہیں۔ اس پُرآشوب دور میں ایسی شگفتہ تحریر کسی نعمت سے کم نہیں۔‘‘

ابھرتے ہوئے افسانہ نگار اور ادبی جریدے ’’اجرا‘‘ کے مدیر اقبال خورشید نے قارئین کو انتباہ کیا ہے کہ ’’خبردار! اس کتاب کو پڑھ کر آپ کو زندگی سے محبت ہو سکتی ہے۔ ‘‘

کتاب کا انتساب ’’سانس، ہوا، خوشبو اور خدا کے نام، جس نے یہ خوبصورت زندگی عطا کی ہے۔ ‘‘

تنویر رؤف کے طرز تحریر میں شگفتگی کی زیریں لہر شروع سے آخر تک برقرار ہے۔ وہ اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا بھی ذکر استہزایہ انداز میں کرنے سے نہیں جھجکتیں۔ ان کایہ دلچسپ اسلوب کتاب سے قاری کی دلچسپی قائم رکھتا ہے۔ ذرا ’’تعارف صاحبِ کتاب کا‘‘ کے نام سے دیباچہ کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں۔ ’’آئیے ہم آپ سے اپنا تعارف کرواتے ہیں۔ ہم ایک سانولی مگر مناسب شکل و صورت کی موٹی سی خاتون ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمی ہے کہ جہاں جہاں دنیا بھر میں سانولا رنگ پایا جاتا ہے، وہ سب ہمیں اپنا سمجھتے ہیں اور ہمیں بھی وہ اپنے ہی اپنے لگتے ہیں۔ سانولے رنگ میں نمک اور کشش بہت ہوتی ہے توہم بھی کسی سے کم نہیں۔ تعلیم بہت واجبی سی ہے، بس کے جی سے یونیورسٹی تک کا سفر کیا، لہٰذا تھوڑی بہت اردو انگریزی سے شناسائی ہو گئی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ خاتون نے اپنا نام تو بتایا نہیں، تو آپ سے کیا چھپا نا۔ پیدائش کے وقت سناہے کہ آنکھیں نیلی تھیں تونیلم نام رکھا گیا، پھر لاہور میں امی کی دوست نے اپنے نام نذیر کے وزن پر تنویر رکھ دیا، تو سیدہ تنویر خاتون نام مستقل بنیادوں پر قلم بند ہو گیا، مگر جو پکارا گیا وہ تھا انو۔ بابو جی پکارتے تھے بھیے، بھائی پکارتے تھے انی، سہیلیاں تنو بلاتیں، شوہر تنی کہتے، ساس سسر دلہن، باقی کسی کی بھابی، چاچی، تائی، آنٹی اور آفس میں مسز رؤف۔ بیٹا جو ساتھ رہتا ہے وہ آنٹی کہتا ہے، نادیہ میری چھوٹی بیٹی ہے وہ خالہ بلاتی ہے، داماد میڈم کہتے ہیں اور میری بہو مجھے دادی کہتی ہے۔ بڑا بیٹا بلال اور سعدیہ امی کہتے ہیں۔ ایک دوست مجھے دوست کہہ کر بلاتی ہے، ایک سوئیٹ ہارٹ کہتی ہے، ایک بہت پیاری خاتون ہیں وہ تیس سال سے فیصلہ نہیں کر پائیں کہ باجی کہیں یا آنٹی؟ اس لیے وہ آنٹی اور باجی کو ملا کر کچھ ایسا کہتی ہیں جو آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ ماں جی، بے بے، بی جان، مدر جیسے القاب سے بھی پکاری جاتی ہوں۔ ہمارے طور طریقے کبھی بیگمات والے نہیں رہے، اس لیے فوج کے اردلی ہمیشہ سر کہہ کرپکارا۔ چھوٹا بھتیجا ہمیں نو نوجی جی کہتا ہے اور بھتیجی صبا ہمیں اماں مائی کہتی ہے۔ نواسی میری مجھے نانو کہہ کر بلاتی ہے۔ ایک دوست نے تو حد ہی کر دی۔ وہ ہمیں لائف سیونگ ڈرگ کہتی رہی ہے۔ اب آپ بتائیں تو سہی آخر ہمارا نام ہے کیا؟‘‘

اس منفرد اور انوکھے تعارف نے تنویر رؤف کا دلچسپ اسلوب قاری پر واضح کرتے ہوئے اسے کتاب پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور دلنشین ہے۔ آپ بیتی میں کوئی واضح تسلسل نہیں ہے۔ کئی واقعات بات سے بات نکلنے پر آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ناگوار نہیں گزرتے۔ تنویر کا خود اپنے بارے میں کہنا ہے کہ وہ بے حد سہل پسند، لاپروا اور بے نیاز ہیں۔ گھر کے کاموں سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ مزاج میں نفاست اور صفائی پسندی ہے۔ مگر خود نہیں کرنا دوسروں سے کروانا ہے۔ اللہ شکر خورے کو شکر دیتا ہے کے مصداق تنویر رؤف کو بھی اللہ نے زندگی بھر ایسے مواقع دیے کہ وہ اس بے نیازی کے باوجود اچھی زندگی بسر کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ شوہربھی ایسا ملا جس نے ان کابہت زیادہ خیال رکھا۔

والد متحدہ ہندوستان میں ریلوے کے اسٹیشن ماسٹر تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ہی ان کا ٹرانسفر لالہ موسیٰ میں ہوا۔ وہیں تنویر رؤف دنیا میں تشریف لائیں۔ بچپن لالہ موسیٰ ہی میں گذرا۔ بڑی بہن حمیدہ خاتون کا انتقال اور تدفین بھی وہیں ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنفہ کے مطابق ان کے والدین میں شایدکبھی محبت کاکوئی رشتہ نہیں رہا۔ پھربھی سات بھائی اور سات بہنیں پیدا ہو گئیں۔ تا ہم زندہ صرف تنویر رؤف، بڑی بہن اور ان سے بیس برس بڑے بھائی سید مظہر علی ہی رہے۔ بہن حمیدہ بھی جوانی میں وفات پا گئیں۔ انیس سو ترپن میں والد ریٹائر ہو گئے اور بھائی ایئر فورس ٹریننگ کے لیے رسالپور چلے گئے۔ بہن کے انتقال کے بعد والدہ کا نچلا دھڑ بے جان ہو گیا۔ انیس سو انہتر میں والدہ طویل بیماری کے بعد انتقال کر گئیں۔

کتاب کا ایک باب ’’میرے زندگی کے خوبصورت کردار‘‘ بھی ہے۔ جس میں تانگے والا بابا، انڈے والا بابا، ڈیری ملک والا بابا جیسے چند عام انسانوں کے مختصر اور دلچسپ خاکے بلکہ یادیں ہیں۔ انہیں میں ایک ادے مائی کے بارے میں لکھتیں ہیں۔ ’’مردان میں مجھے قرآن کی صورتیں زبانی یاد کرانے ایک پٹھان بزرگ خاتون آتی تھیں بوٹا سا قد، کمر جھکی ہوئی، ہاتھ میں سہارے کے لیے لکڑی اور کالی مخمل کا لمبا سا چوغا پہنے اور سفید براق بالوں کا لے اسکارف سے ڈھانپے وہ مسکراتی ہوئی آتی تھیں ان کودیکھ کر ہی تعظیم کرنے کو جی چاہتا تھا۔ اردو نہیں جانتی تھیں وہ استاد کا ایک بھرپور پروقار مجسمہ تھیں بقول ادے ان کا کوئی نہیں تھا۔ بس وہ سارا دن اسی طرح قرآن کی تعلیم دے کر اپنا گزارا کرتی تھیں۔‘‘

انہیں لوگوں میں ایک گل شیرخان بھی تھے۔ جو قومی اسکواش چیمپئن جان شیر خان، محب اللہ خان اور اطلس خان کے بھائی تھے۔ یہ خاندان تنویر رؤف کے سرونٹ کوارٹر میں رہتا تھا۔ ان کی بہن سبز پری، تنویر کی ہم عمر ملازمہ اور سہیلی تھی۔ گل شیر ان کے گھر کے کام کرتاتھا۔ بہت محنتی انسان تھا۔ اس تحریر سے علم ہوتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ جان شیر خان اور اس کے بھائیوں نے کس مقام سے کہاں تک ترقی کی اور دنیا بھر سے اپنے کھیل کو لوہا منوایا۔ آج ایک دنیا جان شیرخان، محب اللہ اور اطلس خان سے واقف ہے۔ انہوں نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دنیا کے کونے کونے میں لہرایا اور وطن کا نام روشن کیا۔ آج بھی جان شیرخان اور جہانگیر خان پاکستان اسکواش کی پہچان ہیں۔ نوا کلی کے چھوٹے سے گاؤں کے یہ عظیم کھلاڑی کس مقام تک پہنچے اس وقت کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

تنویر کی ایک دوست شیریں اصغر بھی تھیں جو ایئر چیف مارشل اصغر خان کی بیٹی تھی۔ لکھتی ہیں کہ آج کل تو معلوم نہیں کہاں ہے مگر اس وقت سادگی کا یہ عالم نہ اس کویہ احساس کہ وہ ایئرچیف کی بیٹی ہے۔ نہ مجھے احساس کمتری تھی کہ چار پائی پر بغیر دری چادر کے اسے بٹھایا ہوا تھا، وہیں سنیچر کو فلم دیکھنے کا پروگرام بن گیا ایئر فورس کے سینما میں نہ غیر اخلاقی فلمیں لگتی تھیں نہ کوئی اور خوف تھا گھر سے بھی صرف اسی سینما جانے کی اجازت تھی۔ سنیچر کا دن آیا تو میں نے سبز پری کو ساتھ لیا اور تانگے پر نرجس گردیزی کے گھر گئی کہ اس کوبھی ساتھ لیکر سینما جائیں گے، شیریں اپنی گاڑی پر آ جائے گی۔ سبز پری میری ہم عمر ملازمہ اور سہیلی تھی ،نرجس گردیزی کے والد بھی ایئر فورس میں گروپ کیپٹن تھے، وہ سبزپری کے ساتھ جانے پر راضی نہ تھی، لیکن نرجس کی امی کوجب اس کے ان خیالات کا پتہ چلا تو وہ بہت برہم ہوئیں کہ دوست امیر غریب نہیں ہوتا صرف دوست اور قابلِ عزت ہوتا ہے۔ ‘‘

اس اقتباس سے قاری کو یہ علم ہوتا ہے کہ کبھی ہمارے وطن میں بھی بڑے بڑے عہدوں پر ایسے باکردار اور سادہ انسان فائز ہوتے تھے۔ جو عام لوگوں جیسی زندگی گزارتے تھے۔ ایئرچیف مارشل کے گھروالے عام لوگوں میں گھل مل کررہتے اوراگرکسی بچے میں ایسے کوئی خیال جنم بھی لیتاتواسے سمجھایاجاتاتھا۔ اوراسی طرح ان بچوں کی کردارسازی کی جاتی تھی۔

اسی باب میں شیریں اصغرکی والدہ اورایئرمارشل اصغرخان کی اہلیہ کاذکرکرتے ہوئے مصنفہ نے تحریرکیاہے کہ ’’ہمارے بنگلے کے سڑک پار نواب صاحب کابنگلہ تھا۔ ان کے یہاں بھی ہماراآناجاناتھا۔ ایک دفعہ ان کے گھرمحفل ِ میلاد تھی ہم بچے بھی گئے اوربالکل کمرے کے آخری حصے میں بیٹھے کہ جب دل چاہے گااٹھ کرچلے جائیں گے۔ بس شیرینی لینے کاشوق تھابچوں کوویسے بھی پیچھے ہی جگہ ملتی ہے محفل شروع ہو چکی تھی کچھ دیربعد سفیدسوتی ساڑھی میں ملبوس بیگم اصغرآئیں اورخاموشی سے ہمارے پاس ہی بیٹھ گئیںوہاں مہمان خواتین کی جوتیاں بھی تھیں مگربغیرکسی نخوت یاجزبزکئے وہ آرام سے بیٹھ گئیں جب میزبان کواطلاع ہوئی تووہ فوراً آئیں بیگم اصغرسے آگے بیٹھنے کے لیے اصرار کیا مگراس نیک خصلت اوراعلیٰ کردارکی حامل خاتون نے شائستگی سے منع کردیا کیونکہ وہ دیرسے آنے پرمحفل کوڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔ ‘‘

اسی طرح ایئرمارشل نورخان کی بیٹی فائقہ نور،تنویرکی اچھی دوست تھیں۔ بیگم نورخان چونکہ نواب بہاول پورخاندان سے تھیں۔ اس لیے فائقہ میں بھی نوابیت اس کے اطوارسے جھلکتی تھی۔ حالانکہ وہ کسی سے بدتمیزی کرتی تھی نہ بدکلامی۔ زندگی پرسکون تھی اورآج کل کی اونچ نیچ سے بالاتر۔

یہ تھااس دورکاماحول اوربڑے عہدوں پرفائزافراد اوران کے اہلِ خانہ کاطرزِ زندگی۔ یہی اس کتاب کاسب سے بڑا اوراہم سبق ہے۔ تنویررؤف کی یادداشت بھی اکثرمقامات پران کاساتھ چھوڑدیتی ہے۔ جس سے بعض واقعات عجیب ہوجاتے ہیں ۔ لکھتی ہیں کہ’’غالباً انیس ساٹھ کازمانہ تھا۔ ہم لوگ پشاورچھاؤنی کے علاقے میں رہتے تھے جہاں زیادہ ترفوجی اوران کی فیملیز رہائش پذیرتھیں۔ ایئرفورس چیف بھی ہمارے گھرکے قریب رہتے تھے۔ یعنی وہ بہت محفوظ علاقہ تھا۔ میرے بھائی سیدمظہرعلی پاکستان ایئرفورس میں فلائٹ لیفٹیننٹ تھے وہ اچھا اوربہت پرسکون زمانہ تھا ۔ افسربھی سائیکل پرجایاکرتے تھے کیونکہ تنخواہیںاتنی نہیں ہوتی تھیں۔

ہاں البتہ وقار،رعب اوردبدبہ بہت ہوتاتھا۔ بھائی بھی دوسرے افسروں کی طرح سائیکل پرہی آفس جاتے تھے ایک دن بھائی دفترسے گھرآئے توسائیکل نظرنہیں آئی ،پوچھا توبتایاکہ آفس سے چوری ہوگئی۔ وقت گزرتاگیاہم سب بچے سے بڑے ہوگئے،بھائی کی اورمیری شادی بھی ہو گئی۔ کوئی بیس سال بعد ایک دن آفس کاایک آدمی وہی سائیکل گھرلے آیااوریہ مژدہ سنایا کہ چوری ہوئی سائیکل مل گئی اچھی حالت میں تھی کہ لگتاتھا۔ کہ کسی نے اس کوگھر میں دلہن یامہمان کی طرح بہت حفاظت اورعزت سے رکھاتھا۔ ورنہ بیس سال تک استعمال میں رہتی توکچھ نہ کچھ توخراب ہوتی۔ بھائی کے بچے اتنے بڑے نہیں تھے کہ وہ اتنی بڑی اورمضبوط سائیکل چلاتے۔ لہٰذاگھرکے ملازم اکبربھائی کودے دی گئی۔ انہیں بھی سائیکل چلانی نہیں آتی تھی مگروہ اسے پاکربہت خوش ہوئے اورکتے کی طرح زنجیرسے باندھ کررکھتے اوربازارپیدل اپنے ساتھ لے جاتے۔ ‘‘

فوجی ایریا سے سائیکل کی چوری توممکن ہے۔ لیکن بیس سال بعد اس کایوں ملناکہ بہترین حالت میں ہو۔ ایساتواستعمال نہ کرنے پربھی ممکن نہیں ہے۔ فوجی ایریاسے چوری کاخطرہ مول لینے والااسے استعمال نہیں بھی کرے توبیچ دے گا۔ پھرتنویرکہتی ہیں کہ بھائی کے بچے اتنے چھوٹے تھے کہ بڑی سائیکل نہیں چلاسکتے تھے۔ کتاب کے مطابق چوری کے بیس سال بعدانیس سواسی میں بھتیجاکم ازکم پندرہ سال کاہوگا اور اس عمرکا بچہ سائیکل بخوبی چلاسکتاہے۔ یہ سارا واقعہ اورایسے کئی اورواقعات درست نہیںلگتے یافقط زیبِ داستان کے لیے تحریرکیے گئے ہیں۔

مارچ انیس سوچوراسی میں تنویرصاحب کے رفیق حیات رؤف صاحب انتقال کرگئے۔ جس کے بعد انہوں نے کافی جدوجہدسے بھرپور زندگی بسرکی۔ لیکن بھائی اوردیگراحباب انہیں بہت اچھے ملے۔ جنہوں نے ہمیشہ ان کاساتھ دیا۔ مصنفہ نے سب کاذکربہت پیار اور احترام سے کرکے حق اداکیااورثابت کیاکہ وہ احسان ناشناس نہیں ہیں۔

تنویر رؤف نے ’’بڑے انسان‘‘ کے عنوان سے چنداہم شخصیات کاذکرکیاہے۔ شہیدبے نظیربھٹوکے بارے میں لکھتی ہیں۔ ’’محترمہ بے نظیر کی طرززندگی سے یا ان کی سیاست سے مجھے ذرابھی دلچسپی نہیں اس لیے اس پرکوئی بات نہیںکروں گی۔ جب وہ پرائم منسٹرتھیں توہمدرد پبلک اسکول حکیم سعیدشہید کی دعوت پرآئیں ہیلی کاپٹرسے ہمارے اسکول کے احاطے میں ہی اتریں بے شمارپھولوں کے گلدستے ان کو پیش کیے گئے ۔ میرے ہاتھ میں ایک گلاب کاپھول تھاجو میں نے ان کوہیلی کاپٹرسے اترنے کے بعد پیش کیا۔ کافی دیرتک پکڑے رہنے کے بعد اس کی ڈنڈی تھوڑی سے ٹوٹ گئی تھی مگربے نظیرنے پوری تقریب کے دوران وہ پھول اپنے ہاتھ میں رکھااورجاتے جاتے بھی وہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ان سے کہا،میڈم پرائم منسٹرآپ بہت خوبصورت ہیںتوبہت خندہ پیشانی سے مجھے مسکراکردیکھتے ہوئے شکریہ اداکیا۔ اس مختصرملاقات نے میرے دل پران کی اعلیٰ ظرفی کے انمٹ نشان چھوڑے۔ ‘‘

اسی طرح نیپال کے سابق وزیر اعظم سے ملاقات کا احوال کچھ یوں بیان کرتی ہیں۔ ’’سارک ٹیچرز کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی میں نے کی۔ وزیر اعظم موہن ادھیکاری نے ہم سب ٹیچرز کو اپنے ہاں چائے پر مدعو کیا۔ بہت وسیع و عریض لان میں انتظام تھا۔ کوئی آگے پیچھے اسلحہ بردار باڈی گارڈ نہیں تھے اور بہت عمدہ انتظام تھا۔ چائے کے لیے قطار میں وزیر اعظم بھی ہمارے ساتھ تھے۔ میزبان ہر شخص کی پلیٹ میں نفاست سے وہاں موجود چیزیں ڈالتے جارہے تھے اور بغیر تکلف کے سب کھا رہے تھے۔ اچانک لائٹ چلی گئی۔ کوئی بھگڈر نہیں وزیر اعظم کے گارڈ اِدھراُدھرنہیں بھاگے ایک گارڈ بھاگ کرایمرجنسی لائٹ لے آیا۔ میری خواہش پراسی کی روشنی میں وزیراعظم نے میری ڈائری پرآٹوگراف دیے۔ میں نے ان سے کہا’آپ اتنی سادہ طبیعت کے ہیں کہ لگتاہی نہیں کہ اپنے ملک کے وزیراعظم ہیں‘۔ مسکراکربولے’میں بھی ایک عام انسان ہوں۔ ‘

اسی طرح کے بے شمار واقعات نے کتاب کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ کئی سبق آموز اور دلچسپ قصے معلومات افزا ہی نہیں، اخلاق کی اعلیٰ مثال بھی پیش کرتے ہیں۔ ایک استاد کے داستانِ زیست دلچسپ ہی نہیں ۔ قارئین کو اخلاقیات کا درس بھی دیتی ہے۔ جو ایک استاد کا حقیقی منصب ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: