’’ لوڈ ویڈنگ ‘‘ ایک خوبصورت فلم‎ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر محمود

0
  • 142
    Shares

لوڈ ویڈنگ عہدِ حاضر میں لالی ووڈ کی سب سے بہترین فلم قرار دی جا سکتی ہے۔ ایک فلم کیا ہوتی ہے؟ اس کے تمام تر تقاضوں سے بھرپور نباہ کیا گیا ہے۔ پاکستانی معاشرے کو فی الوقت ایسی ہی فلموں کی ضرورت ہے جہاں ان کے معاشرتی مسائل کو سب کے سامنے بلا جھجھک اجاگر کیا جائے۔ ایک ہی فلم میں پانچ چھ معاشرتی پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا اور بڑی خوبصورتی سے پکچرائز کرنا بڑی بات ہے، اس کاوش پر بلاشبہ نبیل قریشی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

فلم کا آغاز اچھا تھا مگر شروع شروع میں کسی ڈرامے کا گماں گزرتا ہے، شروع میں مہوش حیات کی زندگی کو بہت تیزی سے بدلتے دکھایا گیا جس پہ یقین نہیں آتا۔

ایک بیوہ کو ہمارے معاشرے میں کس قدر نحوست سمجھا جاتا ہے اور دل ہی دل میں لوگ اس کے بارے میں کیا کیا قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور اسے اس معاشرے میں اپنی بقاء کی جنگ لڑتے لڑتے زندگی گزر جاتی ہے حالانکہ اسلام میں چار شادیوں کا جواز بیوہ کی وجہ سے ہی ملا۔ اسی طرح پولیو کے قطرے پلانے کے حوالے سے بعض گھرانوں میں جو بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اسے بھی فوکس کیا گیا۔

تکنیکی طور پر اگر دیکھیں تو پوری فلم میں جتنے بھی کٹ لگائے، بڑے ہی زبردست طریقے سے حالات و واقعات کے ساتھ سنکرونائز کیے گئے۔ فریمنگ بھی اچھی رہی، پاکستانی فلموں میں فریمنگ کی کم غلطیاں دیکھ کر بھی خوشی ہوتی ہے کہ چلو پرفیکشن نہ سہی کم از کم اس معیار کی طرف تو گامزن ہیں۔ ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ایک گانے کے لیے ہرن مینار، مقبرہ جہانگیر اور نجانے کون کون سی لوکیشنز ڈال دیں مگر ہنی مون کے لیے مری جا کر شوٹنگ کرنے کی بجائے کروما کا استعمال کیا گیا جو کہ بری طرح فلاپ ہوا۔

عام قارئین کو بھی صاف پتہ چل جاتا ہے کہ اس جگہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ میرے ساتھ چونکہ فلم کے نئے سٹوڈنٹس جمال احمد اور اعجاز الحق بھی تھے لہٰذا فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھانی بھی تھی۔ میں انہیں کٹس، فریمز، کروما کا ساتھ ساتھ بتاتا رہا۔

ایکشن اور ساؤنڈ کی Beats پڑھا کر بڑا مزہ آیا چونکہ beats کو بہت واضح طور پر محسوس کیا اور دیکھا جا سکتا ہے۔ بیک گراؤنڈ میوزک بہت زبردست ہے۔ سبھی گانے بہت اچھے ہیں۔ طنز و مزاح کا عنصر بھی بہت پایا جاتا ہے مگر جوانی پھر نہیں آنی 2 پسند کرنے والے نوجوانوں کو یہ فلم شاید پسند نہ آئے۔ ہاں البتہ مزاح بہت معیاری اور عمدہ تھا کسی جگہ پر گھٹیا جگت بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ میں مزاح کو سو میں سے ساٹھ نمبر دوں گا۔ ڈائیلاگ بہت خوبصورت اور جاندار رکھے گئے۔ مثال کے طور پہ جب فہد تھانے سامان گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے جاتا ہے اور ایس ایچ او کے انعامی شو کی ٹکٹ کے لیے پیسے چلانے کی بات پر ایک چھوٹا سا ڈائیلاگ کہتا ہے کہ ’’تھانہ تھوڑا ای ہے جی‘‘ تو یہ اس موڑ پر تہلکہ مچا دیتا ہے۔ صرف اس ایک ڈائیلاگ اور اس پر ملنے والے ردِ عمل نے پوری طرح تھانہ کلچر کا احاطہ کیا۔

بنیادی طور پر اس فلم کا مرکزی خیال جہیز کی لعنت تھا۔ اس مسئلے کو نبیل قریشی بڑی خوبصورتی سے اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لڑکے والوں کی جہیز کی فرمائش اور اس معاملے میں ڈھٹائی کو واضح کیا اور اس مسئلے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے غلط کردار کا بھی خوب احاطہ کیا۔ آخری حصے میں فہد نے بڑا خوبصورت ڈائیلاگ بولا کہ ’’مرد ویسے تو خود کو بڑا غیرت مند کہتا ہے مگر سوتا عورت کے لائے ہوئے بستر پر ہی ہے‘‘۔

قصہ مختصر پوری فلم واقعتاً پاکستانی معاشرے کا حقیقی عکس تھی اور یہی پاکستانی فلم انڈسٹری کا نصب العین ہونا چاہیے۔ ہمارے ساتھ ہی مشہور شاعر اور کالم نگار امجد اسلام امجد بھی شو دیکھ رہے تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد جب ان سے اس فلم پر بحث ہوئی تو انہوں نے بھی اسے بہت سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس فلم میں پاکستانیوں کے عمومی متشدد رویوں اور بات نہ چھپا رکھ سکنے کی عادت کو کس طرح ایک اچھے فریم کے ذریعے دکھایا گیا۔ دراصل کسی بیماری کا علاج تبھی ممکن ہے جب اس کا ادراک ہو۔ ہماری معاشرتی بیماریوں کو اگر اسی طرح بڑی سکرین کے ذریعے اجاگر کیا جاتا رہا تو یقیناً ہمیں خود کو بدلنے کا شعور آئے گا اور ہم معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی دیکھ سکیں گے۔

مختصراً یہ کہ ’’لوڈ ویڈنگ‘‘ انتہائی شاندار، کامیاب اور زبردست فیملی فلم ہے۔ چھوٹوں بڑوں سب کے لیے بہت کچھ سیکھنے اور محظوظ ہونے کے مواقع ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: