کل نفس ذائقۃ الموت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عنصر عثمانی

0
  • 15
    Shares

کل نفس ذائقۃ الموت۔ کرب ان کے چہروں سے عیاں تھا۔ پہلی بار سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بے حدنڈھال دیکھا۔ کسے خیال ہے کہ بیٹی ماں کی جدائی کیسے سہ رہی ہوگی۔ ماں کیا ہوتی ہے بن ماں والوں سے پوچھ لیں توحیرتوں کے بھیت کھلیں گے۔ ماں چلی گئی گویا جنت کی خوشبو ؤں سے محروم ہو گئے۔ ماں کا درجہ بیٹی کے دل میں کتنا ہوتا ہے وہ بیٹیاں جانتی ہیں۔ بیٹی پھر امیر کی ہو یا غریب کی۔ بادشاہ کی ہو یا فقیر کی سانجھی ہوتی ہے۔ بیوی اگر ایسی ہو کہ شوہر کے لیے راحت و تسکین کا سبب بنتی رہی ہو۔ سرتاج پہ آنے والے مصیبت کے پہاڑوں کو اپنے سر لیتی رہی ہو۔ پھر اچانک کئی سالوں کی رفاقت ٹوٹ جائے تو انسان نواز شریف ہو یا شہاب الدین شاہ جہاں ِکِرچی کِرچی ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کی محبت سچی ہو تو وہ شوہر کے ساتھ فٹ پاتھ پہ رہ لیتی ہے۔ اگر اس میں نقص ہو تو اسے محلوں، عالیشان بنگلوں، ریشم کے گدوں پہ بھی چین نہیں آتا۔ بیگم کلثوم نواز (مرحومہ مغفورہ ) اللہ انہیں جنت میں جگہ عطا فرمائے نڈر، بہادر خاتون تھیں۔

میاں نواز شریف پہ حالات تنگ رہے یا وہ منصب حکمرانی پہ براجمان رہے بیوی کا الفت بھرا سایہ آخری سانس تک ساتھ رہا۔ خاندانی رواجوں میں مسائل جنم لیتے ہیں جس سے میاں بیوی میں تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ مگر یہاں اس رشتے میں میاں بیوی کا معاملہ الگ ہے۔ ہمیں لاکھ تلاش کرنے پہ دونوںکے بیچ کہیں لچک نہیں دکھی۔ وہ خالصتاََ مشرقی خاتون تھیں۔ انہیں اپنی روایات پہ فخر تھا۔ ان کا دور سیاست بھی پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ امر رہے گا۔ بے شک موت ہر ایک کو آنی ہے کیوں کہ یہ خدا کا فیصلہ ہے۔ اس میں کسی رد و بدل کی گنجائش نہیں۔

خواتین کے لئے جہد مسلسل کی مثال قائم کرنے والی بیگم کلثوم نواز نے گھریلو معاملات میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔ مشرقی عورتوں کی طرح جب جب خاندان پہ مشکل کی گھڑی آئی انہوں نے آگے بڑھ کر اپنا کنبہ بچایا۔ اپنی مصروفیات کی وجہ سے گھر داری میںخاندان کا خوب نام کیا۔ بنیادی طور پروہ ایک اچھی ماں، بیوی ، بہو تھیں۔ وہ مخالفین کے لئے بھی سد سکندری بنی رہیں۔ دور آمریت میں جب شریف فیملی کے سارے مردوں کومشرف نے جیل میں ڈال دیا تھا تو تہمینہ دولتانہ نے بھکارن کا لباس پہنا اور بیگم صاحبہ کے پاس پہنچ گئیں۔ کلثوم نواز نے اپوزیشن جماعتوں کی اے آر ڈی بنا کر تحریک شروع کردی۔ انہوں نے کڑے وقتوںمیں نون لیگ کو سہارا دیا اور اپنی بے باک پارٹی صدارت سے نون لیگ کو جلا بخشی، ورنہ جس طرح کے حالات پیدا ہو گئے تھے، ممکن تھا کہ نون لیگ کی کشتی ڈوب جاتی۔ مشرف کوبیگم کلثو م نواز سے اتنا خوف تھا کہ اس نے انہیں جدہ ساتھ لے جانے کی شرط عائد کر دی تھی۔ ان کی ہمت و قوت ارادی، مستقل مزاجی کا یہ عالم تھا کہ کئی گھنٹے بطور احتجاج گاڑی میں بیٹھی رہیں۔ مجبوراً انتظامیہ کو کرین کی مدد سے ان کی گاڑی کو اٹھانا پڑا، لیکن ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔

ان کی شخصیت غیر متنازعہ تھی۔ 1999 سے 2002 تک بہت کٹھن حالات میں بکھری نون لیگ کے ٹکڑے جمع کیے اور پھر سے اسے پاؤں پہ لاکھڑا کیا۔ بیگم کلثوم نواز، شریف فیملی کے لئے باعث برکت تھیں۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ وہ صوم صلوٰۃ کی پابند تہجد گزار خاتون تھیں۔ میاں محمد نواز شریف پہ قسمت کی دیوی مہربان رہی کہ ان کے پس منظر میں نیک سیرت بیوی کی مخلصانہ دعائیںشامل تھیں۔ شریف فیملی سمیت نون لیگ کی پوری قیادت ایک مصلح سے محروم ہو گئی ہے۔

ہم اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عقلیت غالب ہے۔ ہم کسی کی محبت میں بات کرنا جانے کسے کس زاویے سے تکلیف پہنچاتے ہیں اور سوشل میڈیا کے دور میں تو یہ کام اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ کاغذ کا خرچ نہ قلم سیاہی کی فکر بس موبائل پکڑا اور جو کچھ تعصب تھا اتار دیا۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے آس پاس ہمارے اپنے بھی ہیں۔ اچھے کاموں کے کرنے سے رہے، برے کام تو نہ کریں۔ بیگم کلثوم نواز سے منسوب جو کچھ سوشل میڈیا پہ پڑھنے کو ملا، دلِ مضطرب کو کیا سمجھاؤں؟ انہیں نون لیگ کا سیاسی کارڈ کہا گیا تو کہیں ان کی بیماری کو حصول اقتدار کا ذریعہ سمجھا جانے لگا۔ انہیں آخیر وقت اپنے سرتاج کے دیدار سے محروم کیا گیا ۔ قانون و انصاف کے تقاضے پورے کرتے کرتے انتقام کے راستوںکو چن لیا گیا۔ ایک عورت کے لئے اذیت بھرے لمحے اس سے بڑے اور کیا ہوں گے کہ بیٹی اور شوہر اسے بستر مرگ پہ چھوڑ کر ملک کے وقار کو بلند کرنے جیل میں جا پہنچیں۔ بیگم کلثوم نواز نے یہ وقت بھی بڑے صبر و تحمل سے گزارا۔ کہا گیا کہ انہیں پتا نہیں تھا کہ نوا زشریف و مریم جیل میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس منظر نامے سے ناواقف تھیں جب وہ یہاں سے علاج کے لیے لندن روانہ ہوئیں۔ کیا کئی سالوں کانواز شریف کا ساتھ، سیاست کے پیچ و خم ان کے لیے نئے تھے؟ کھلاڑی جس طرح پچ دیکھ کر بیٹنگ فیلڈنگ کا فیصلہ کرتا ہے، انہیں بھی دور کا دکھائی دے گیا ہو گا۔

وہ بہت دور اندیش خاتون تھیں۔ گھروالوں سے پوچھتیں کہ بیٹی مریم ا ور شوہرنواز شریف ان سے ملنے کیوں نہیں آتے، گھر والوں سے جواب ملتا کہ وہ آجائیں گے ، تب خاموش آنسوں بہاتی ہوں گیں۔ خاموشی کے دکھ بڑے جاں لیوا ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: