میرا پاکستان —- مبارک انجم

0
  • 10
    Shares

شعور پانے کے بعد میری سوچوں پر، میرے ایمان کے بعد جس لفظ کا سب سے زیادہ قبضہ، اور گرفت جس موضوع کی رہی ہے وہ ہے “میراپاکستان”۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ، پاکستان تو کروڑوں پاکستانیوں کا ہے، تو میں اسے صرف میرا پاکستان کیوں لکھ رہا ھوں، ہمارا پاکستان کیوں نہیں؟ تو اسکا جواب یہ ہے، کہ میرا پاکستان وہ پاکستان ہے جو میرے تخیل نے بنا رکھا ہے، ہم سب کے پاکستان کو جیسا میں دیکھنا چاہتا ہوں، وہ ہے میرا پاکستان۔ اور یہ جو میرا پاکستان ہے نا، یہ بھی فقط میرا ہی نہیں ہے، مجھے یقین ہے کہ، ہر باشعور پاکستانی جو پاکستان کو اپنی سوچوں کا محور رکھتا ہوگا، اس کا پاکستان بھی، تھوڑے بہت فرق کے میرے جیسا ہی ہوگا، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اسے میری طرح اپنے اس پاکستان تو لفظوں میں ڈھال کر آپ سب سے متعارف کروانے کی اہلیت، پلیٹ فارم یا وسائل اور وقت میسر نہ ہوں، تو چلئے اب اس تمہید کو یہیں ختم کر کے آپ کو اپنے اس پاکستان سے متعارف کرواتا ہوں۔

میرا پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہے، اور اسکی جغرافیائی سرحدیں بھی موجودہ پاکستان کی طرح. کشمیر کی کمی کے ساتھ نامکمل ہی ہیں، جس کی تکمیل، قوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق، کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے مکمل ہوگی، یہ تو ہوگئی، باڈر لائن کی بات .. اب جانتے ہیں اندر کا حال، تو پاکستان میں مکمل جمہوریت ہی ہے،، اسلامی جمہوریت، اسکا دستور، وہی قراداد مقاصد والاہے اور اسی کی.روشنی میں بنایا گیا تہتر کا آئین ہے،، جو اپنی ساری جزیات کے ساتھ، پوری شدت سے رائج ہے،، میرے پاکستان میں، قانون اور انصاف کی سب کے لئے یکساں عملدادری ہے، اور کوئی بھی طاقتور اس سے بالاتر ہر گز نہیں ہے، میرے پاکستان میں، عدالتیں، انصاف کی گارینٹی ہیں، اور ہر کمزور کی آسان ترین دسترس میں ہیں، جہاں کسی بھی کمزور اور مظلوم کو، فوری انصاف میسر ہے اگرچہ ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہیں ہے، میرے پاکستان میں تعلیم بہت بنیادی شے ہے، میرے پاکستان میں تعلیم کے لئے ہر جگہ یکساں نظام و نصاب تعلیم رائج ہیں، اور ہر پاکستانی ا ور پاکستان میں رہنے والا غیر پاکستانی بچہ پر سکول جانا لازم ہے، ابتدائی، ضروری سیکنڈری تعلیم کے بغیر پاکستانی.شناختی کارڈ کا حصول ناممکن ہے، میرے دیس میں، ہر سو گھروں کے لئے ایک سرکاری پرائمری سکول میسر ہے، اور ہر پانچ سو گھروں کے لئے ایک سکینڈری سکول میسر ہے، میرے پاکستان میں لڑکوں کی طرح لڑکیوں پر بھی تعلیم.لازم ہے، اور اسکے لئے لڑکیوں کو بھی مکمل تعلیمی سہولیات میسر ہیں، میرے پاکستان میں تعلیم کا نظام بھی تھوڑا مختلف ہے، جس میں ابتدئی دو جماعتیں، کتابوں کے بغیر ہیں، جو صرف بچوں کی اخلاقی تربیت اور پہچان کے لئے ہیں، اسکے بعد ہی بچوں اور بچیوں کو الگ سے، مکمل تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعہ، مکمل محفوظ اور صحت افزا ماحول میں تعلیم دی جاتی ہے۔ اور ہر سکول میں بچوں کی جسمانی افزائش کے لئے بھی باقاعدہ وقت مختص ہے۔ میرے پاکستان میں طلبا کو تعلیم کے لئے درکار ہر چیز اور ہرسامان و سہولت، مفت میسر ہے،،میرے پاکستان میں انپڑھ کوئی بھی نہیں ہے، بلکہ یہاں ہر عمر کے فرد کے لئے حکومت نے ایک نصاب ترتیب دے رکھا ہے، جسکا پڑھنا ہر فرد پر لازم ہے اور اسکے بغیر، کسی کا بھی شناختی کارڈ دوبارہ اجرا نہیں ھوتا۔ میرے پاکستان میں یہ بنیادی تعلیم ہی عام نہیں ہے، بلکہ، ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج ٹیچنگ ھاسپٹل، ایک انجینرنگ یونیورسٹی، اور متعدد پیشہ وارانہ تعلیمی ادارے مکمل سہولیات کے ساتھ موجود ہیں، میرے ملک میں دنیا کی.ہر کتاب کا اردو میں ترجمہ ہوتا ہے، اور دنیا بھر کے جدید و قدیم علوم اردو زبان میں پڑھائے جاتے ہیں، میرے دیس میں تعلیم، تربیت اور تحقیق پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ ہوتا ہے، میرے دیس کی سرکاری و دفتری زبان اردو ہے، اردو ہی میں ہر تعلیم بھی دی جاتی ہے، اور انگلش اور عربی، سکھانے کے لئے، چھٹی اور ساتویں جماعت کے پورے دو سال مختص کر کے رکھے گئے ہیں، جن میں طلباکو، انگریزی اور عربی لکھنی پڑھنی اور بولنی سکھائی جاتی ہے اور سائینسی علوم کے انگریزی اور اسلامی علوم کے عربی تعارف بھی کروائے جاتے ہیں، تعلیم کے میدان میں میرا تو میرادیس، بہت اعلی درجہ پر ہے ہی، اسکے علاوہ بھی میرے دیس میں کوئی شعبہ زندگی پسماندہ نہیں ہے۔ داخلہ امور کے انتظام کھ لیے میرے پاکستان میں صوبے نہیں ہیں، بلکہ، ضلع کی.سطح پر اسمبلیاں اور حکومتیں قائم ہیں۔ تمام.ترقیاتی فنڈز. اسی ضلعی حکومت کی مرضی.سے خرچ ہوتے ہیں،، میرا ملک زراعت اور صنعت میں خود کفیل ہے، ضروریات زندگی کی ہر چیز ہم خود بناتے ہیں، اور ہمیں باہر محض وہی چیزیں خریدنی.پڑتی.ہیں جو ہمارے دیس میں پیدا ہی نہیں ہوسکتیں۔ میرا ملک تجارت میں ٹاپ پر ہے، اور ساری دنیا ہماری دیانت داری اور ہمارے سامان کی اعلی ترین کوالٹی کی وجہ سے ہمارا سامان تجارت خریدنا پسند کرتی یے،،ہماری اکنامی بہت عمدہ ہے، افراط زر، یا کسی قسم کا بیرونی قرضہ ملک پر بالکل بھی نہیں ہے،ملک میں کوئی ٹیکس بھی عوام پر لاگو نہیں ہے۔ ملک میں زکوٰۃ کا نظام رائج ہے، جسکی وجہ سے ہر امیر مکمل پوری زکوٰۃ ریاست کو ادا کرتا ہے اور ریاست کے اپنے ادارے بھی زبردست فعال ہیں اور ہر قومی ادارہ پورا منافع دے رہا ہے ـ ملک میں ہر طرف خوشحالی ہے، ملک میں بھیک مانگنے پر پابندی ہے، اور ملک میں ہر کمانے کے قابل نہ ھونے والے فرد کے لئے معقول وطیفہ مقرر ہے، بیوہ،یتیم اور غیر ملازمت پیشہ خواتین کے لئے بھی وظیفہ مقرر ہے، صحت کے معاملہ میں بھی میرا پاکستان، زبردست ہے، ھر پانچ سو افراد کے لئے ایک پارک موجود ہے، سکول کالجز میں طلبا کو کھیلوں کی بھی تعلیم دی جاتی ہے، اور جدید ترین ہسپتال ہر یونین کونسل کی سطح پر قائم ہے، میرے دیس میں ظلم نہیں ہے، میرے پاکستان میں ہر فرد سر اتھا کر جینے کا اہل ہے۔ میرے دیس میں، ترقی کے مواقع سب ہی کے لئے یکساں دستیاب ہے۔ میرا دیس اسلامی ملک ہے جس کی اسی فیصد آبادی یونہی مسلمان ہے، اور یہ مسلمان محض نام کے مسلمان نہیں ہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کی روح سے بھی واقف ہیں، اور عملی مسلمان ہیں، ان کے کردار .انکے اخلاق اور انکی ساری معاشرت .اسلام کی اعلی ترین اقدار کا نمونہ ھیں، میرے دیس میں منشیات نہیں ہیں، ہر طرح کی جان لیوا منشیات رکھنے اور بیچنے کی سزا انتہای ہے، یہاں نشئی کے لئے بحالی کے ادارے ہیں، اور ہر مسلہ کا حل ہے۔ میرا دیس سچ میں آزاد ہے، میرا پاکستان، دنیا کی حقیقی، سپر طاقت ہے، معاشی اعتبار سے بھی تعلیم اور ٹیکنالوجی میں بھی اور عسکری میدان میں بھی میرے پاکستان کی وجہ سے دیگر دنیا میں بھی امن قائم ہے۔ میرا پاکستان سچ میں عظیم ہے۔

دوستو یہ تو تھا میرا خوابوں کا پاکستان۔ اب آپ یقیناً سوچ رھے ہونگے کہ ایسا پاکستان تو کسی دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے،، تو نہیں دوستو..ایسا ہی پاکستان تو پاکستان کا خواب دیکھنے والوں اقبال و قائد اعظم نے بھی دیکھا تھا. تحریک پاکستان میں شامل ہر فرد کا یہی پاکستان تو تھا،، یہ ھماری بدقسمتی ہے کہ ھم اس پاکستان کو حاصل نہ کر سکے.. مگر یہ اب بھی ناممکن نہیں ہے، عین یہی پاکستان جسکا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ یہ محض میرا خواب ہی نہیں ہے،، بلکہ میرے ذہن میں جو مدتوں سے سوچوں پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے،وہ یہ خواب نہیں بلکہ اس خواب کو عملی شکل دینے کا پلان ہے، وہ پلاننگ،وہ پالیسی اور وہ سکیم، وہ لائحہ عمل ہے، جو میرے اور آپ سب ہی کے خوابوں کے اس لاجواب پاکستان کی عملی تشکیل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اور وہ پلان بھی اپنی پوری جزیات کے ساتھ بہت جلد آپ دانش کے انہی صفحوں پر دیکھیں گے۔ یہ ممکن ہے بھی اور نہیں بھی کہ کوئی حکومت اور اہل اقتدار، میرے کسی پلان کو عملی شکل دینے کا سوچ لے۔ مگر یہ طے ہے کہ.. میں خود اپنے اس پلان کو عملی شکل دینے کا تہیہ کر چکا ہوں، اور زندگی اور حالات نے ساتھ دیا تو ان شا الله، ایسا پاکستان دنیا ضرور دیکھے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: