ہند میں اجنبی (قسط دوم) ۔۔۔۔۔۔۔۔ امتیاز عبد القادر

0
  • 151
    Shares

سورج کی سُرخ پیشانی مغرب کے اُفق کو چھو رہی تھی اور آگرہ کی پُررونق فضا آہستہ آہستہ مدہم ہوتی جا رہی تھی۔ تاریکی زینہ بزینہ ہندوستا ن کو اپنے لپیٹ میں لے رہی تھی، جس کی وجہ سے شہرِ آگرہ میں سناٹا چھانے لگا… ’تاج محل‘ پہ سناٹا، درو بام پہ سناٹا، کاخ و کوُ پہ سناٹا، خشکی و تری پہ سناٹا۔۔۔۔ اس سناٹے کو چیریتی ہوئی ہماری گاڑی زَن سے سڑک پر سُوئے علی گڑھ بہہ رہی تھی۔۔۔۔!

رات تقریباً دس بجے ہم یونیورسٹی کے احاطے میں تھے۔ عشائیہ محترم عبد الحسیب میر(پی ایچ ڈی اسکالر) نے تیار کر رکھا تھا۔ آگرہ سے لوٹتے ہوئے پھلوں کی سوغات ہم ساتھ لائے تھے جو کمرے میں موجود سبھی اسکالرز نے نوش فرمایا۔ کھانا کھاکے ہم تھکاوٹ سے چور جسم کو آرام دینے کے لیے برادر مزمل صاحب کے کمرے میں دراز ہوئے۔ برادر مزمل احمدکشمیرکے کلگام علاقے سے ہیں۔ شعبہ پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ ان کی تحقیق کا موضوع ‘Terrorism and Counter terrorism in pakistan’ ہے۔ موصوف نے اول دن سے ہی اپنے کمرے میں تمام مال و منال چھوڑ کر’ بیرونِ خانہ ‘ ہجرت کی تا کہ ہمارے آرام میں دقت اور خلل نہ ہو۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں راقم ایک ہفتہ رہا، ان دنوں رات کی محفل برادر مزمل صاحب کے کمرے میں ہی سجتی تھی اور شب بسری بھی وہیںہوتی۔ان کے کمرے میں تحقیق کے حوالے سے ہندو پاک کے علاوہ امریکہ و برطانیہ کے مصنفین کی کُتب موجود تھیں۔ مملکتِ خداداد کے حوالے سے بہت سی کتابیں طاق کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ ان کتب میں ’تفیہم القرآن‘ نے بھی جگہ بنالی تھی۔ راقم نما زفجر کے بعد ان کتابوں کی ورق گردانی کرتا تھا۔ سورج اپنی شعائیں بکھیرتا تو ہم اُس کمرے سے نکل کر صدیق بھائی کے ڈھابے کو’ رونق‘ بخشتے۔

سرما میں علی گڑھ کی صبح دن کے ۱۱؍ بجے ہوتی ہے۔ اکثر طلباء رات گئے تک گپے مارتے رہتے ہیں۔ کچھ لیپ ٹاپ اور موبائل کو گود میں لیے اُن بے جان اور رشتہ داروں سے بڑھ کر’ احباب‘ کا حق ادا کرتے ہیں۔ موبائل ہمارا جزو لاینفک بن گیاہے۔ یونیورسٹی کے احاطے میں بھی دن رات اس ’محبوب ‘ کی بہت قدر کی جاتی ہے۔ صبح تین چار بجے اکثر لڑکوں کو یاد آتا ہے کہ آنکھوں، انگوٹھے، کمر اور ٹانگوں کا بھی حق ہے ۔۔۔یا د آتے ہی وہ مسہری پر دراز ہوتے ہیں اور صبح ۱۱؍ بجے جا کر آنکھ کھلتی ہے۔

ہم بھی صبح کا ناشتہ ۱۱؍ بجے کے بعد ہی کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ صدیق بھائی کے ڈھابے پر عزیزم شفاعت مقبول صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ قبلہ و ترگام بارہمولہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کامرس مضمون کے طالبعلم ہے اور: ‘Determinants of financial performance
contextualising corporate social responsibility’ عنوان کے تحت پی ایچ ڈی مقالہ تیار کر رہے ہیں۔ کچھ سال قبل موصوف کی بہن کا نکاح راقم نے ان کی خواہش پر پڑھا یا تھا۔ اُن کی والدہ بہت ہی لذیذ’’ توشہ‘‘ بناتی ہیں۔’ توشہ‘ کشمیر میں ’’ تبرک‘‘ کے طور پر سپردشکم کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں اکثر گھرانے ردِ بلا کے طور بزرگوں کو مدعو کرتے تھے ۔ بزرگ حضرات مختلف کلمات کا ورد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے ’’توشہ‘‘ کی بناتے تھے جسے ہمسائیوں اور رشتہ داروں میں بڑے عقیدت سے تقسیم کیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ اب ختم ہو رہا ہے۔ گھر گھر میں آج دین کی تعلیمات سے لوگ واقف ہو رہے ہیں۔ البتہ کچھ نفوس اب لذتِ کام ودہن کے لئے شوقیہ’ توشہ‘ ازخود گھروں میں بناتے ہیں۔

شفاعت مقبول صاحب کی والدہ محترمہ بھی اُن میں سے ایک ہیں۔ ایک بار کشمیر یونیورسٹی کے ہاسٹل محبوب العالم کے کمرہ نمبر۱۰۴؍میں انھوں نے راقم کو اس کا ذائقہ چھکایا۔ بہت ہی لذیز شے تھی۔ ماں کی مامتا اُس میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ تب سے تادمِ تحریر راقم مکرّر اُن کے ہاتھ سے بنا ہوا ’توشہ‘ کھانے کا متمنی ہے لیکن شفاعت صاحب سنی ان سنی کر دیتے ہیںاور ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔

خیر موصوف نے ہمیں ظہرانے پر دعوت کی تو وہی یونیورسٹی کے باہر ایک ڈھابے پر اُن کی فرمائش کو شرفِ قبولیت بخش کر ہم نے ماحاضر تناول کیا ۔ چچیرے بھائی کے لیے کمرے کی تلاش تھی وسیم مکائی صاحب، عبدالحسیب میر صاحب اور شفاعت مقبول صاحب بھی راقم کے ہمرکاب تھے۔ ہر ممکن کوشش کے بعد دودھ پور روڈ پر ایک مکان ملا جس میں جگہ دستیاب تھی تو اُسے حاصل کیا۔ چند دن مزید چمن ِ سرسید ؔمیں گھومے پھرے۔ شعبۂ اُردو، دفتر ماہنامہ تہذیب الاخلاق وسہ ماہی فکرونظر، شعبہ اسلامک اسٹیڈیز وغیرہ بھی گئے۔ ’اسٹریچی ہال ‘کی زیارت باہر سے ہی نصیب ہوئی کیونکہ دروازہ مقفل تھا۔ سرسید احمد خانؔ مرحوم کے گھر بھی گئے جہاں آج کل اُن کی یادیں ہی بستی ہیں۔ اُن کا عصا ، جس کا سہارا لے کر وہ فقیروں کی طرح علی گڑھ سے پنجاب تک کا سفر طے کر کے گھر گھر جا کر برصغیر کے مسلمانوں کے تابناک مستقبل کے لیے جھولی پھیلاتے تھے۔، گھڑی ،جسے دیکھ کروقت کے ڈھایے ستموں کو یاد کر کے وہ اس سے نکلنے کی راہ تلاش رہے تھے۔ شال، کرسی اور میز جس پر بیٹھ کروہ کام کرتے تھے۔ چکور صوفہ جس پر وہ اپنے رفقاء کے ساتھ جلوہ افروز ہو کر مسلمانوں کے مستقبل کے منصوبے بناتے ہونگے، کی زیارت بھی کی۔ وہی قریب ہی اعلیٰ اور خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی ہے ، نماز ظہر وہاں ادا کی۔ شمشاد مارکیٹ میں ’پان‘کا لطف بھی اُٹھایا جو کہ طبیعت کو ناگوار گزرا۔ غرض ایک ہفتہ وہاں گزار کر واپسی کاسفر باندھا اور سبھی سے رخصت لے کر دہلی کی راہ لی۔

عصر کے بعد ہی گاڑی تھی۔ چچیرے بھائی سمیع اللہ سے رخصتی چاہی تو وہ جذبات پر قابو نہ پاسکے۔ اشک اُن کے پلکوںکابندتوڑکر رخسار پربہہ رہے تھے۔ وسیم مکائی صاحب ساتھ تھے تو انھوں نے ہم دونوں کو سنبھالا۔ راقم کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ وہاں سے سیدھے ڈاکٹر عبد الرؤف صاحب کے عارضی دولت کدے پر پہنچے اور ظہرانہ وہی تناول کرکے سُوئے منزل چل دیے۔ وسیم مکائی صاحب بس اڈے تک ساتھ ہی تھے۔ رفاقت کے ساتھ ساتھ بڑی عقیدت سے ’حمال‘بن کر میرا بیگ اُٹھائے پھر رہے تھے۔ الوداعی سلام دعاکے بعد گاڑی میں سوار ہوا اور چمنِ سرسیدؔ، اس چمن میں تحصیل ِعلم میں مشغول میرے رفقاء و عزیز، صدیق بھائی کا ڈھابہ ، شمشاد مارکیٹ ، زکریا اور دودھ پور روڈ، سرسید مرحوم کی آخری آرام گاہ ، اترپردیش کی آبادی،گندگی اور کوڑا کرکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض سب کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کے دار السلطنت کی اور ہماری گاڑی بڑی تیزی سے بہہ رہی تھی۔ بقول میر

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے

میرؔ سے لے کر غالبؔ تک، ابراہیم ذوقؔ سے لے کر دیوان سنگھ مفتونؔ تک، بہادرشاہ ظفر ؔسے لے کر ماونٹ بیٹنؔ تک اور نہرو ؔسے لے کر آنجہانی واجپائی ؔتک ہندوستان کی نابغہ روزگار شخصیات اس شہر میں جلوہ افروز رہے ہیں۔ میرتقی میر ؔ مذکورہ بالاشعر کہہ کردہلی سے ہجرت کر کے لکھنؤ جابسے اور پھر واپس نہ آئے لیکن غالبؔ نے اپنا شہر آگرہ چھوڑ کر دہلی کو ہی اپنا مستقل مستقر بنایا ۔ دہلی پر ان کا رنگ اتنا پختہ اور واضح ہے کہ ’چاندنی چوک‘ اور اس سے ذرا پرے ’کوچہ قاسم جان ‘میں اب بھی وہ رنگ دکھائی دیتا ہے، جہاں چچاغالبؔ کا وہ مکان ایک یادگار کی صورت میں موجود ہے۔ دہلی میں تاریخ کی ایک کشش ہے جو آپ کو وہاں کھینچتی ہے۔ یہ شہر ایک زمانے میں علم و ادب، فن و ثقافت، آزادی کی تحریکوں اور علاقائی سازشوں کا مرکز رہا ہے۔

دہلی بھارت کی دارلحکومتی عملداری ہے۔ یہ تین اطرف سے ہریانہ سے گھرا ہوا ہے، جب کہ اس کے مشرق میں اترپردیش واقع ہے۔ یہ ہندوستان کا مہنگا ترین شہر ہے۔ اس کا رقبہ ۱۴۸۴ مربع کلومیٹر ہے۔ ۲۵ ملین آبادی پر مشتمل یہ شہر ممبئی کے بعد ہند کا دوسرا اور دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا شہر ی علاقہ ہے۔ دہلی ،ممبئی کے بعد ہند کا دوسرا امیر ترین شہر ہے، جس کے کل املاک ۴۵۰ بلین امریکی ڈالر ہے۔ دہلی ۱۸ ارب پتی اور ۲۳۰۰۰ کروڑ پتیوں کا مسکن بھی ہے۔

دریائے جمنا کے کنارے یہ شہر چھٹی صدی قبل مسیح سے ہی آباد ہے۔ دہلی کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے، جو کئی مرتبہ فتح ہوا ، تباہ کیا گیا اور پھر بسایا گیا۔ دہلی میں عہد قدیم اور قرونِ وسطیٰ کی بے شمار یادگاریں اور آثارِ قدیمہ موجود ہیں۔ ’قطب مینار ‘اور ’مسجد قوت الاسلام ‘ ہندوستان میں مسلم طرز تعمیر کی شان و شوکت کے نمایاں مظاہر ہیں۔ غدر (۱۸۵۷ء) سے قبل برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہند کے بیشتر علاقوں پر قبضہ جما چُکی تھی اور برطانوی راج کے دوران میں کلکتہ کو درالحکومت کی حیثیت حاصل تھی۔ بالآخر جارج پنجمؔ نے ۱۹۱۱ء میں دار الحکومت کی ’دہلی‘ منتقلی کا اعلان کیا اور ۱۹۲۰ء کی دہائی میں قدیم شہرکے جنوب میں ایک نیا شہر ’’ نئی دہلی‘‘ بسایا گیا۔دہلی تابناک ماضی رکھنے والا ایک عظیم شہر ہے جو کئی ہندوستانی حکمرانوں کا دارلحکومت رہا ہے۔ اس کی ہر اینٹ ایک داستان سناتی ہے اور ہندوستان کے عظیم ماضی کی بھی ترجمانی کرتی ہے۔

۲۷ ؍جنوری۲۰۱۸ء کی رات راقم علی گڑھ سے دہلی پہنچا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے متصل ہری مسجد، باٹلہ ہائوس میں میرے ایک رفیق شیخ منصور صاحب کرایہ کے مکان میںپناہ لئے ہوئے تھے ۔اُن کے اصرار پر راقم نے انہیں ’شرفِ میزبانی‘ بخشا۔ منصور صاحب بارہمولہ کے مضافاتی گاوئوں چکلو میںرہتے ہیں اور شعبۂ اُردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ مرنجان مرنج قسم کے شوخ طبیعت بندے ہیں۔ دوراتیں انھوں نے خوب مہمان نوازی کی۔ بعد ازاں محمد شاہد لون صاحب (پی ایچ ڈی اسکالر، جن کا ذکر پہلی قسط میں ہوا ہے) نے باصرار اپنے قلعے میں ’ قید ‘کیا۔ ان کا یہ ’قلعہ‘ جامعہ کے نزدیک ہی نورنگر میں واقع ہے۔ موصوف نے بڑی خاطر تواضع کی۔ فجرنمازکے بعد ہی بھرپورناشتہ کراتے تھے۔ شاہد صاحب رات کو سوتے نہیں بلکہ کتابوں سے لَو لگائے رہتے ہیں۔ کم گو تو نہیں البتہ کم نوم و کم طعام ہیں۔ چندایام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مختلف شعبوں میں جا کر اساتذہ صاحبان سے ملاقات رہی۔ کشمیر کے طلباء سے بھی گفتگو کا موقع ملا۔ فہیم عبدالمنیب صاحب (بارہمولہ)، عبد الباسط صاحب(ہندوارہ) نے ایک رات عشائیہ پر مدعو کیا جو کہ راقم نے بطیّب خاطر قبول بھی کیا۔ علی جاوید فرزند ڈاکٹر جاوید جمیل صاحب ، جنھیں چند سال قبل فلاح الدارین کی طرف سے بارہمولہ مدعو کیا گیا تھا، سے بھی ملاقات ہوئی۔ اُن کی گفتگو سُن کر اُن کی ذہنی بلوغت کا احساس ہوا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ، اوکھلا کے جامعہ نگر علاقے میں واقع ہے۔ کیمپس اتنا وسیع تو نہیں۔ عوام کے عبور و مرور کے لیے بنی سڑک کے اطراف میں مذکورہ یونیورسٹی کا کیمپس ہے۔ ایک طرف ’ایوانِ غالبؔ‘ اور سڑک کی دوسری جانب ’باب ابولکلام آزاد ‘ ہے۔ شعبہ جات بکھرے پڑے ہیں۔ ’ایوانِ غالب ‘ کے صدر دروازے پر چچا غالبؔ کا پُتلا آپ کے استقبال کے لئے مستقل طور کھڑا ہے۔ بادِ تُند ہو یا موسلا دھار بارش، غالبؔ کا پتلا ہاتھ میں ’کتاب‘ لئے علم کی پیاس کو بجھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ ’ایوانِ غالب ‘کے صحن میں طلبا و طالبات کا جمِ غفیر رات دیر گئے تک کینٹین کا ’محاصرہ ‘ کئے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ذہن سازی کے ساتھ ساتھ ’’شکم سیری‘‘ کا وہاں بھی کافی ’ شعور ‘ ہے۔ کشمیر میں اگر ایسا منظر ہو تو انتظامیہ بھیڑ کی روح قبض کرنے کے لئے دفعہ ۱۴۴؍ لگا لے۔ چائے، کافی، گرین ٹی کا غیر مختتم دور چلتا رہتا ہے۔ محمد شاہد صاحب نے راقم کو ’کافی‘ کا عادی بنانا چاہا لیکن طبیعت نے اس سے اِبا کیا۔

۲۸؍ جنوری کو’ جامعہ مسجد ‘اور ’لال قلعہ‘ دیکھنے کا پروگرام بنا۔ شاہد لون صاحب اور اُن کے گلے کا ’ہار‘ ڈی۔ ایس ایل آر کی رفاقت تھی۔ میٹرو نے ’تخت سلیمانی‘ کا کام دیا۔ نمازِ ظہر تک ہم مسجد جہاں نما، جو جامعہ مسجد دہلی کے نام سے مشہور ہے، پہنچے۔

جامعہ مسجد کو مغل بادشاہ شاہجہاں ؔنے تعمیر کیا، جو ۱۶۵۶ء میں مکمل ہوئی۔ یہ پرانی دلی کے معروف ترین تجارتی مرکز ’چاندنی چوک‘ کے آغاز پر واقع ہے۔ مسجد کی تعمیر میں اُس زمانے کے ۱۰؍ لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی۔ شاہجہاںنے اپنے دور میں دہلی، آگرہ، اجمیر اور لاہور میں بڑی مساجد تعمیر کرائیں۔ مسجد ھٰذا کے صحن تک مشرقی، شمالی اور جنوبی تین راستوں سے بذریعہ سیٹرھیاں رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مسجد کے شمالی دروازے میں ۳۹، جنوب میں ۳۳ اور مشرقی دروازے میں ۳۵ سیڑھیاں ہیں۔ مشرقی دروازہ شاہی گزرگاہ تھی، جہاں سے بادشاہِ وقت مسجد میں داخل ہوتا تھا۔ مسجد ۲۶۱ فٹ طویل اور ۹۰ فٹ عریض ہے۔ اس کی چھت پر تین گنبد نصب ہیں۔ ۱۳۰ فٹ طویل دو مینار بھی مسجد کے رُخ پر واقع ہے۔ مسجد کے عقبی جانب چار چھوٹے مینار بھی چاندنی چوک کا’ نظارہ‘ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

نمازِ ظہر ادا ہو چُکی تھی۔ اس لیے ہم نے وہیں دوگانہ انفرادی طور پر ادا کی۔ مسجد کے صحن میں ہر نسل، رنگ، ذات پات اور مذہب کے ماننے والے، ہندو بیرونِ ہند سے آئے ہوئے سیّاح آپ کو ’’سیلفی‘‘ کھینچتے دکھائی دیںگے۔ مرد و زن کا اختلاط، سیلفی اسٹکس کی بھرمار، شور و غوغا، حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرنے والے کیمرے۔ ان سب چیزوں نے مسجد کا تقدس پامال کیا ہوا ہے۔ جامعہ مسجد دہلی اب معبد خانہ نہیں بلکہ سیاحتی مقام کا روپ دھار چکا ہے۔ مسجد کی موجودہ حالت کسمپرسی کا رونا روتی ہے۔ شاہجہاں کی روح مسلمانانِ ہند پر ماتم کناں ہو گی۔ نذ و نیاز کے لیے چندہ جمع کیا جا تاہے لیکن مسجد کے ظاہری آثار’ مفلسی، قلاشی اور مفلوک الحالی‘ کا رونا روتے ہیں۔ اس مسجد کے قرب و جوار میں آپ کو تقریباً سب کچھ ملے گا سوائے’ روحانیت ‘ کے۔۔۔!

جامعہ مسجد سے نکل کر ہم رکشا پر سوار ہوئے اور لال قلعہ کی راہ لی۔ پَون گھنٹہ بعد ہم اس عمارت کے قریب تھے جس کی اینٹ اینٹ مسلمانوں کے تابناک ماضی کی داستان سناتی ہے۔ یومِ جمہوریہ تقریبات حال ہی میں منعقد ہوئی تھی اس لیے اندر جانے کی کسی بھی عام شہری کو اجازت نہ تھی۔ صرف منظور ِنذر لوگ اُس دن ’لال قلعہ‘ کی پر شکوہ فصیلوں کے اُس پار جا سکتے تھے۔ ہند و بیرونِ ہند سے آئے ہوئے سیاح باہر ہی ایک میدان میں دشتِ نوردی کا لطف لے رہے تھے۔ یومِ جمہوریہ پر ہندوستانی ریاستوں کی تہذیب و ثقافت کو جھانکیوں کی صورت میں دنیاکے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ سبھی جھانکیاں وہیں میدان میں موجود تھیں۔ اکثر سیاّح ان کے سامنے یادگاری تصاویر لے رہے تھے۔ میں بھی وادی بے اماں کشمیر کی مظلوم جھانکی کے پاس کھڑا عالمِ تخیل میںحال سے ماضی کا سفر طے کر رہا تھا اور تاریک مستقبل کے اندیشوں میں گرا ہوا تھا۔ کچھ لمحوں بعد ماضی کی سیر کر کے حال کی طرف لوٹ آیا تو شاہد لون صاحب کو DSLR سے عکس بندی کرتے ہوئے پایا۔

دریائے جمنا کے نزدیک واقعہ’ لال قلعہ‘ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یاد گار ہے۔ حالانکہ ’جمنا‘ وقت کے گال پر بہتے بہتے اب نا پید ہو چکی ہے۔ وہ ندی اب وہاں موجود ہی نہیں۔’ لال قلعہ‘ کو سترہویں صدی میں شاہِ جہاں نے تعمیر کرایا تھا۔ اس قلعے کے دیوان خاص میں ’’تخت ِ طائوس‘‘ واقع ہے، جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۸۵۷ء تک جاری رہا ۔ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک’ لال قلعہ‘ برطانوی فوج کے قبضے میں رہا اور اس میں انھوں نے اُس زمانے کے آزادی کی جدوجہد کرنے والے’’ باغیوں‘‘ کو قید رکھا تھا۔ قلعے کے دو دروازے ہیں، جن میں سے ایک ’دلی دروازہ‘ جبکہ دوسرا’ لاہوری دروازہ‘ کہلاتا ہے۔ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کے عقب کے دیواروں کو چھو کر گزرتی تھی لیکن اب وہ کچھ فاصلے پر بہتا ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک ہر سال ہندوستان کے حکمران قلعے کی فصیل سے ، جو کہ مسلمانوں کی دین ہے، قوم کو خطاب کرتے ہیں اوروہیں ترنگے کو سہارا بخشتے ہیں۔

راقم بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر دلی پہنچاتھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کشمیر کے کسی پُرانے شہر میں گھوم رہا ہوں۔ گلیاں اسی طرح گندی، سڑکوں پر اسی طرح تجاوزات، ہر طرف تعفن اور گندگی کے ڈھیر جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں وہاں گلی کوچوں، سڑکوں، شاہراہوں اور محلوں کی حالت زیادہ ہی گِیرہے۔ بستیاں انتظامیہ کی لا پرواہی اورعدم توجہی کے عین گواہ ہیں۔ ۲۶؍ جنوری کے موقع پر کشمیر کی طرح دہلی بھی ایک محاصرہ زدہ شہر کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانیوں اور کبھی کبھی کشمیریوں سے بھی ہوٹل اور گیسٹ ہائوس خالی کرا لیے جاتے ہیں۔ بڑا ہی نرالا انداز ہے ہندوستانی حکمرانوںکا اپنے ’اٹوٹ انگ‘ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا اور ’عزت‘ بخشنے کا۔ علی گڑھ اور دہلی میں اکثر رکشا کی سواری کا لطف اُٹھایا۔ وہاں ہزاروں رکشا والے دوسرے انسان کا بوجھ کھینچتے ہوئے، انسانی حقوق کے علمبرداروں کو پکارتے رہتے ہیں لیکن سب صدا بصحرا۔۔۔!

شاہد لون صاحب کی معیت میں مرکز جماعت اسلامی ہند کا چکر بھی کاٹا، مولا نارضی الاسلام ندوی اور مولانا فاروق خان صاحب سے مستفید ہونے کے لئے۔ ندوی صاحب تو علی گڑھ گئے ہوئے تھے البتہ صوفی منش بزرگ فاروق خان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ موصوف بہت ہی پرسکون، مطمئن اور شوخ طبیعت شخصیت ہیں۔ عالمِ پیری میں ہیں لیکن اپنی پوری زندگی جماعت کو وقف کی ہے۔ اس عمر کے بزرگ گھروں میں چین و سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ سہارا لے کر اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ مگر موصوف کا اوڑھنا بچھونا جماعت اسلامی، تحقیق و تصنیف اور قرآن و احادیث کے بحر بیکراں خزینے کی غوطہ زنی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی اکثریت تک قرآن کا پیغام ہندی زبان میں ترجمہ کر کے پہنچایا۔ احادیث پر بھی ان کا غیر معمولی کام ہے۔ ان کی تشریح متنوع خوبیوں کی حامل ہے۔ داعیانہ، ادیبانہ و فلسفیانہ مزاج ان کے قلم سے بھی مترشح ہیں۔ شعر و شاعری کے میدان کے بھی شہسوار ہے اور جو کوئی ان سے ملنے جاتا ہے، اپنا کلام مترنم آواز میں سناتے ہیں۔ ہماری خاطر تواضع رس گلوں سے کی بعد ازاں اپنا کلام بھی سنایا۔ رخصت ہوئے تو اپنی تازہ کتاب تحفہ میں دے دیں۔

دہلی میں چند روز آبلہ پائی کے بعد واپسی کا ِ رخت ِسفر باندھا۔ وادی کی ٹھنڈی ہوائیں، برف آشنا پہاڑ، نسیم جاں کو معطر کرنے والی فضا پکار رہے تھے۔ شاہد لون صاحب سے بادل ناخواستہ رخصتی چاہی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ تک وہ رکشا میں ساتھ تھے اور وہاں سے میں یادوں کے ہمراہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی طرف چل پڑا۔ ۲؍ بجے کی فلائٹ تھی۔ ضروری لوازمات پُر کرکے مطلوبہ جہاز Go Air کے انتظار میں تھا۔ کچھ ساعتوں کے بعد بادلوں کو چیرتا ہوا وہ آہستہ خرامی سے ہمارے استقبال کے لیے فرش پر چشم براہ تھا۔ جہاز میں اپنی جگہ لے کر بیتے دنوں کو یاد کرنے لگا۔ وسیم مکائی صاحب، عبد الحسیب صاحب، شفاعت مقبول صاحب، مزمل احمدصاحب، شیخ منصور صاحب، محمد شاہد لون صاحب، ڈاکٹرعبد الرؤف صاحب اور سمیع اللہ بٹ کے چہرے ذہن پر نقش تھے۔ اُن کی معیت و رفاقت اس سفر کے دوران واقعی نعمتِ غیر مترقبہ تھی۔ خیالات کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں جب لوٹ آیا تو جہاز بادلوں پر تیر رہا تھا۔ وطنِ عزیز سے آسمان اب بھی روٹھا ہوا ہی تھا۔ برف اور بارش کے لیے یہاں کی مخلوق ابھی تک ترس رہے تھے۔ جہاز کے اُوپر سے سورج اپنے آب و تاب سے منور تھا۔ اُس کی شعاعیں آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھیں۔ موقع ِغنیمت جان کر بادلوں سے دوبارہ ’مکالمہ‘ کی اجازت چاہی جو انھوں نے ’ بطیبِ خاطر‘ قبول کی۔ میں نے شکوہ کیا کہ جیسا چھوڑ کے گیا تھا، لوٹ کے ویسا ہی پایا؟ وطنِ عزیز میں دھوپ کی تپش میں جھلستے بشر اور شجر، سور ج کی حدت میں تپتی پیاسی زمین، تیری کھڑکیوں کے وَا ہونے کے لیے بے تابی سے منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ مینہ برستے ہی وہاں کی فضا پپیہے کی پیہُو، راگ ملہارکی الاپ اور ساون کے گیتوں سے گونج اُٹھتی ہے۔

وادیٔ پُرخار میں برسات کی آمد کے منتظر دہقان آسمان پر چھائے بادلوں سے منت کرتے ہیںکہ ’برسو اور کھیتوں کو سیراب کر دو‘۔ بارش کی پھوہار ہزاروں سوختہ دلوں کی دلبستگی کا سامان ہے۔۔۔۔۔۔۔ پردۂ سحاب سے جوابِ شکوہ کچھ یوں آیا،’ متحرک ہوں تو باد، ساکن رہوں تو ’ہوا‘ بن جاتاہوں۔۔۔۔۔۔۔ پانی رحمت کی علامت ہے اور تم بے نصیبے ابھی اس سے کوسوں دور۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اَبر کی کھڑکیوں کو کھلنے کا امر نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔ مشامِ جاں کو تو وہاں قانون کے ’ محافظ‘ آئے دن’ معطر‘ کر ہی رہے ہیں۔ گُل و بلبل بھی اب لال رنگ کے قطروں سے ہی مانوس ہیں۔ دہقاں، کشت و خیابیاں میں بھی اب ’لال‘ رنگ کے قطروں کے جوئے رواں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ زبان سِل، دل کو سمجھا اور غور سے سُن

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

اس حصہ کا پہلا قسط دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: