گروپ رائٹنگ: ادب میں جدید مغربی رجحان —– خرم شہزاد

0
  • 46
    Shares

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم نے جہاں اور بہت سی چیزوں کو دونوں ممالک میں بانٹ دیا وہیں اس پورے خطے کا ادب بھی دو حصوں میں بٹ گیا۔ ہندو دیومالا کی وجہ سے اس خطے کی ادبی تاریخ کئی ہزار سال پر مشتمل تھی لیکن تقسیم کے بعد ادبی نفسیات بھی تقسیم کا شکار ہو گئیں اور ادب جو انسانوں کے لکھا گیا تھا اب ہندو اور مسلمان ہو کررہ گیا۔ ہندو دیومالائی ادب کو اگرچہ مسلمان ادیب نے پہلے بھی نہیں اپنایا تھا لیکن اب تو ادب کے بعد ادیب بھی تقسیم ہو گئے اور مسلمان ادیب بھلے وہ ہندوستان میں رہ گیا لیکن ہمارا ہوا اور سارا غیر مسلم ادب اور ادیب بھارت کے حصے میں چلا گیا۔ عوام کی طرف سے ایسی کسی تقسیم کا نہ تو تقاضہ کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کی کسی بھی جگہ ضرورت تھی لیکن تقسیم اپنے اندر اس قدر خوفناک ہوتی ہے کہ بہت سے عوامل نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ اس تقسیم نے دونوں ممالک پر خاص طرح کا اثر ڈالا اور شروع کے دنوں میں فسادات، مار پیٹ اور تقسیم جیسے موضوعات ہی ادبی دنیا پر چھائے رہے۔ نئی نسل کی آمد نے ہمیشہ کی طرح اپنے بزرگوں سے اختلاف کیااور موضوعات میں تبدیلی ممکن ہو سکی۔

پاکستان میں اس وقت عمومی طور پر جب ادب اور اس کی تاریخ پربات کی جاتی ہے تو ہم ادبی تاریخ اردو کے آغاز یعنی مغل دور حکومت سے شروع کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں ہم عمومی گفتگو کر رہے ہیں جو کہ ایک اوسط درجے کے شہری اور ادبی ذوق کے حامل شخص کی گفتگو اور معلومات کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ اس ادبی تاریخ میں بہت سے موڑ آتے ہیں لیکن قیام پاکستان ایک ایسا موڑ ہے جہاں سے ادبی تاریخ کا نیا باب لکھا جانے لگا اور اب زیادہ تر گفتگو پاکستان کے ستر سال کا احاطہ کرتی ہے۔ ان ستر سالوں میں بہت سے نئی تحریکیں نہ صرف شروع ہوئیں بلکہ ادب پر اثر انداز بھی ہوئیں، نئے رجحانات قائم ہوئے جن کی وجہ سے آج ادب ایک بالکل مختلف شکل میں ہماری زندگیوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔

برصغیر کے ادب، اس کی تاریخ، رجحانات اور تحریکوں کی بات کرتے ہوئے ایک اہم سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ہم برصغیر کے لوگوں کے پاس ہندو دیو مالا کی صورت دنیا کا قدیم ترین ادب موجود ہے لیکن پھر بھی انگریزی ادب کے کینوس کو ہمارے ادب سے زیادہ وسیع مانا جاتا ہے۔ کیوں؟ اس کیوں کا جواب ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو ہمیں اپنے ادب میں اٹھتی بہت سی تحریکوں اور مختلف زمانوں کے رجحانات کے بارے میں بھی بہت سے سوالوں کے جواب ملنے لگتے ہیں۔عالمی ادب پر اگرچہ فرانسیسی، ہسپانوی، لاطینی، امریکی، روسی اور جرمن ادب کے بھی گہرے اثرات ہیں لیکن ہمارے ہاں غیر ملکی زبانوں میں صرف انگریزی ہی سمجھی اور بولی جاتی ہے اس لیے ہم گھوم پھر کر صرف انگریزی کے ہی معترف رہتے ہیں اور باقی زبانوں کے ادب سے بھی چونکہ انگریزی کی وجہ سے روشناس ہوتے ہیں اس لیے انہیں بھی انگریزی ادب ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ اب انگریزی ادب کی یہ خوش قسمتی رہی کہ اسے ایسے قدر دان ملے جنہوں نے دنیا بھر کے ادب کے تراجم کو نہ صرف انگریزی کا حصہ بنایا بلکہ جواب میں انگریزی ادب کی اپنی خصوصیات کے ساتھ سب چیزوں کو انہی معاشروں میں نئے رجحانات کے طور پر متعارف کروانے میں سہولت کار کا کردار بھی ادا کیا۔ اسی لیے دنیا بھر کے ادب پر انگریزی ادب کے نہ صرف واضح اثرات ملتے ہیں بلکہ انگریزی ادب میں شروع ہونے والے رجحانات بھی تھوڑی سی دیر کے بعد باقی دنیا میں اپنی جگہ بنانے لگ جاتے ہیں۔ آج پاکستان میں بھی ادبی رجحانات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں اور لکھاری مشترکہ لکھائی اور گروپ رائیٹنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن یہ طریقہ تحریر اصل میں ہے کیا اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالتے ہیں تاکہ پاکستانی ادب کے مستقبل کے رجحانات کے بارے شناسائی حاصل کی جا سکے۔

مشترکہ لکھائی یا Collaborative Writing انگریزی ادب میں کافی عرصے سے شروع ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی، معاشرتی اور سیاسی کتب میں کہیں کہیں مشترکہ لکھائی دیکھنے کو مل جاتی ہے لیکن ادبی لحاظ سے ناول نگاری میں ابھی تک اس کا تجربہ مکمل نہیں ہو سکا۔

مشترکہ لکھائی یا Collaborative Writing انگریزی ادب میں کافی عرصے سے شروع ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی، معاشرتی اور سیاسی کتب میں کہیں کہیں مشترکہ لکھائی دیکھنے کو مل جاتی ہے لیکن ادبی لحاظ سے ناول نگاری میں ابھی تک اس کا تجربہ مکمل نہیں ہو سکا۔ کچھ لکھاری اس تجربے کا آغاز کر چکے ہیں لیکن اس تجربے کی خوبیاں، خامیاں، آنے والے دنوں میں ادب پراس کے اثرات اور قاری کی رائے کا اصل اندازہ ابھی لگانا بہت مشکل ہے۔ مشترکہ لکھائی کے اعلانات کے ساتھ ہی قیاس آرائیوں کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جس میں یہ رجحان اپنی جگہ بناپائے گا یا پھر دوسری تحریکوں اور رجحانات کی طرح آنے والے دنوں میں صرف گفتگو کا حصہ بن کر رہ جائے گا،جیسے سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مشترکہ لکھائی یا کولیبریٹو رائیٹنگ میں دو یا دو سے زیادہ لکھاری شرکت کرتے ہیں اور اپنے اپنے تجربے اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق لکھنے کا کام کرتے ہیں۔ اس میں کتاب کو مختلف ابواب میں بانٹ کر لکھنے کے علاوہ ایک ہی باب کو مشترکہ طور پر بھی لکھا جاتا ہے۔ عمومی طور پر یہ کہنہ مشق لکھاری ہوتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی ضروری نہیں۔ مشترکہ لکھائی میں نامور اور بے نام، سنیئر اور جونیئر جیسی باتوں سے پرے ہو کر لکھاری شرکت کرتے ہیں اور مسودہ مکمل کیا جاتا ہے۔

اردو ادب میں دوسرا ابھرنے والا رجحان گروپ رائیٹنگ کا ہے۔ گروپ رائیٹنگ دو طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی قسم میں کوئی بھی لکھاری ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دیتے ہوئے اپنا لکھا ان کے سامنے پیش کرتا ہے، جو اپنے اپنے شعبے کے لحاظ سے اس تحریر کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ بعد ازاں لکھاری اپنی تحریر میں دییے گئے نقطات کے مطابق تبدیلی کرتا ہے اور تحریر اپنے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے۔ شہرہ آفاق کالم نگار آرٹ بک والڈ کے کالمز دنیا بھر میں چھے سو سے زائد اخبارات میں شائع ہوتے تھے اور ان کالمز کی ایک وجہ خصوصیت ایسا ہی ایک گروپ تھا جو کالم کے تمام پہلووں کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔ پاکستان میں البتہ یہ تجربہ لکھنے کے کسی بھی میدان میں ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اداروں کے پاس قانونی چارہ جوئی کے لیے وکلا کی ٹیم تو ہوتی ہے لیکن کسی شخص کا انفرادی سطح پر ماہرین کا گروپ بنا کر لکھنے کا ذکر نہیں مل سکا۔ ہمارے ہاں ایسے کسی بھی رجحان کو جگہ پانے میں ابھی بہت دیر ہے کہ سر دست یہ طرز تحریر ابھی گفتگو کا بھی حصہ نہیں بن پائی جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسے کسی امکان کی کوئی امید نہیں۔

گروپ رائیٹنگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی نامور لکھاری ایک یا بہت سے نوآموز لکھاریوں کے ساتھ مل کر ایک گروپ تشکیل دیتا ہے جہاں سب مل کر کسی ایک کتاب کو مکمل کرتے ہیں۔ اس گروپ رائیٹنگ میں بہت سے طریقہ کار اپنائے جاتے ہیں جیسا کہ ٹیم لیڈر یعنی نامور لکھاری پوری کہانی کا خلاصہ ترتیب دیتا ہے اور باقی تمام اس حساب سے لکھتے ہیں۔ ٹیم لیڈر صرف راہنمائی کرنے کی حد تک بھی ساتھ ہو سکتا ہے کہ لکھنے کے عمل کی نگرانی کرتا رہے اور لکھنے کا تمام کام نئے لکھاری سر انجام دیں۔ ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ ٹیم لیڈر باقیوں کے ساتھ ساتھ لکھنے کے عمل میں شریک بھی رہتا ہے اور دوسروں کو بھی لکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ پہلے سے کہانی کی ترتیب طے کرنے کے بجائے تمام لکھاری اپنی اپنی مرضی سے بھی کہانی کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں اور اس طرح کی لکھائی میں بعض اوقات انجام پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا بلکہ کہانی کے بہاو کو دیکھتے ہوئے جو بھی انجام ہو، کر دیا جاتا ہے۔ گروپ رائیٹنگ کا یہ طریقہ اس وقت ہمارے ہاں استعمال کیا جا رہا ہے اور کچھ لکھاریوں نے اس گروپ رائیٹنگ کے تحت ناولز بھی لکھے ہیں، جو کہ قارئین کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں۔

مشترکہ لکھائی اور گروپ رائیٹنگ دو ایسے رجحانات ہیں جو مستقبل میں اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آج کا لکھاری ان رجحانات کا شکار ہوتا ہے تو اس سے اردو ادب کو کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے۔ جہاں تک مشترکہ لکھائی یا کولیبریٹو رائیٹنگ کی بات ہے، تمام لکھاری ایک سطح پر کام کرتے ہیں اورکام کے تمام امور پہلے سے طے کر لیے جاتے ہیں۔ اردو ناول نگاری میں یقیناًکچھ ہی ناول مشترکہ لکھائی کے ساتھ لکھے جا سکیں گے کیونکہ بہر حال لکھاری اپنی الگ پہچان قائم رکھنا چاہتا ہے اور قاری بھی اپنے مخصوص لکھاری کی تحریر کے لطف میں کسی اور کی مداخلت برداشت نہیں کرئے گا۔ مشترکہ لکھائی کا زیادہ بڑا میدان سیاست، سماجیات، معاشیات وغیرہ کا ہے اور ادب میں اسے بہر حال ایک تجربے کے طور پر ہی دیکھا جائے گا۔ اس تجربے کی کچھ اچھی یادوں کے ساتھ سب کے لیے اسے اپنانا یقیناًایک مشکل امر ہو گا۔

گروپ رائیٹنگ ایک ایسا رجحان ہے جسے بہت سے لوگ نہ صرف اپنائیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں لکھے جانے والا ادب کچھ عرصہ تک قارئین کا ایک مخصوص حلقہ بھی قائم رکھے گا کیونکہ بہر حال اس رجحان میں ایک بڑا نام ٹیم لیڈر کی صورت سامنے ہو گا اور اب یہ ٹیم لیڈر کی صوابدید پر ہے کہ وہ باقی ٹیم کو قارئین سے کس طرح متعارف کرواتا ہے، کرواتا بھی ہے یا صرف ایک سطری بیان کتاب میں شامل کر دیا جاتا ہے کہ اتنے لوگوں کی ٹیم اس ناول یا کتاب کی تیاری میں معاون لکھاری کے طور پر ساتھ رہی۔

گروپ رائیٹنگ کے مستقبل پر بہت سے سوال اس لیے بھی اٹھ سکتے ہیں کہ تحقیق اور تنقید کا دروازہ اس رجحان سے بالکل بند ہو جائے گا۔ آج کسی بھی لکھاری کی کتابوں پر تحقیق کرتے ہوئے اس کے رجحانات، خیالات اور نظریات پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن گروپ رائیٹنگ میں ایسا کچھ بھی ممکن نہ ہو سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی کتاب کے جملے مصنف کے نام کے ساتھ نہ صرف یاد رکھے جاتے ہیں بلکہ قاری اپنی گفتگو میں دہراتے ہوئے لکھاری سے اپنی پیار اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں لیکن گروپ رائیٹنگ میں ایسا ہونا بھی ممکن نہ رہے گا۔ بعض ادبی کردارجو ماضی میں بے انتہا مقبول ہوئے اور اپنے وقت میں اپنے لکھاری کے لیے وہ شناخت کا درجہ رکھتے تھے، نئے رجحانات کے بعد یہ سب بھی ماضی ہو جانے کا خطرہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ گروپ میں لکھنے والوں کی اپنی تحریری خامیاں دوسروں کے کاموں میں چھپ جانے کی وجہ سے آنے والی تحریروں میں بہتری کی امید بھی نہ رہے گی۔

یہاں ایک اور اہم بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ زبان کی پاکیزگی بہرحال ادیب کا بنیادی وصف شمار کی جاتی ہے اور ایک ادیب اپنی زبان اور معاشرے کا نمائیدہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا لکھا نہ صرف معیار مانا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات حوالہ جات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ زبان دانی کی جملہ خصوصیات کی وجہ سے اردو شاعری اور ادب میں بے شمار ادبا کا لکھا نہ صرف مستند حوالہ بلکہ ادبی تاریخ کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ ادیب ایک معیاری زبان اپناتے ہیں جس میں تلفظ، محاورے اور قواعد انشاء کے اصولوں سے کھیلنے کی آزادی نہیں ہوتی، جبکہ انٹرنیٹ کی مجازی دنیا میں گروپ رائیٹنگ کرتے ہوئے زبان کی پاکیزگی کو قائم رکھنا نہ صرف ایک مشکل امر ہے بلکہ زبان دانی کے اصول و قواعد پر ایک سمجھوتے کی صورت بھی پیدا ہونے لگ جائے گی جو کہ آنے والے دنوں میں زبان کے خالص پن کو متاثر کرنے کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ اردو ادب اگرچہ ایک زمانے سے انگریزی ادب کے رجحانات اپنارہا ہے لیکن ہر علاقے اور معاشرے کے اپنے کچھ نظریات اور خیالات ہوتے ہیں۔ قارئین کی سوچ کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے جس میں بہت زیادہ تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔ ادب یا کسی بھی شعبہ زندگی میں پہلے سے اس بات کا تعین کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کون سے اور کس طرح کے تجربات کئے جائیں اور کس طرح کے تجربوں پر پابندی ہونی چاہیے۔ تجربات کی مکمل آزادی میں جن چیزوں کو قاری قبول کر لے گا ظاہر ہے وہ اپنی جگہ بنا تی چلی جائیں گی اور ویسے بھی ادبی تجربوں میں کسی طرح کے وسائل تو خرچ نہیں ہو رہے کہ معاملات باعث تشویش ہوں۔ اس لیے لکھاریوں کو اپنے تحریروں میں نئے تجربات لازمی کرنے چاہیے لیکن دوسری تہذیبوں کے رجحانات کو اندھا دھند اپنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی طرف سے بھی کچھ خالص دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیں تاکہ دوسری زبانوں کے قاری ہمارے ادبی رجحانات اور سوچ سے بھی واقف ہو سکیں اورہمارے ادبی رجحانات بھی دوسرے ممالک کی ادبی دنیا میں روشناس ہو سکیں اوراپنی آنے والے نسلوں کے لیے ہم اچھا ادب چھوڑ کر جا رہے ہوں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: