جماعت اسلامی اور حکمت —— کے ڈی میر

0
  • 65
    Shares

یہ تو طے ہے کہ جماعت اسلامی ماضی بعید و قریب میں بطور سیاسی تحریک کے کسی نہ کسی حوالے سے قعر مذلت کا شکار رہی۔ پرامن سیاسی جدوجہد کے بل پہ اسلام کو مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی پٹری پہ چڑھا کر اقامت دین و حکومت الہیہ کے قیام کا جو خواب مولانا مودودی نے دیکھا وہ واہمے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ اسی لئے اختلاف رائے رکھنے والی کئی شخصیات نے راہ جدا کرنے میں ہی عافیت جانی۔

عمومی طور پہ مودودی صاحب کے بعد جماعت کا سیاسی سفر حکمت سے عاری روایتی ملائی فکر کے تابع ہی رہا۔ پہلے اسلامی قومیت کے نام پہ پاکستانی قومیت کو فکری ایندھن فراہم کرتی رہی، پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اسی فکر کو دوام بخشنے کیلئے استعمال ہوتی رہی اور کام نکل جانے پہ “ہائے میں لٹ گئی” کے مصداق کف افسوس ملتی رہی۔

جماعت کبھی عورت کی حکمرانی ناجائز کو کہتی رہی تو کبھی آمریت جیسے گناہ کبیرہ سے بچنے خاطر فاطمہ جناح کی صورت “چھوٹا گناہ” قبول کرنے پہ آمادہ رہی۔ کبھی شریعت کے نفاذ کی خاطر آمر “مذہبی” ضیا الحق کی شوری میں “دینی” مقاصد کیلئے جا بیٹھی تو کبھی حب الوطنی کے اور تحفظ ملت اسلامیہ کے نام پہ اوسط فکر نوجوانوں کو ملحد سوویت یونین ( سرخ ریچھ) کیخلاف افغانستان میں مقامی و بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال کروا کے “شہادت” کے درجہ پہ فائز کراتی رہی۔ کبھی کشمیر و بنگلہ دیش میں فوج کو حب الوطنی سے سرشار جذبہ ایمانی سے مغلوب، غیب الدیار چھوٹے کارکنوں کی صورت افرادی قوت فراہم کرتی رہی اور الحمداللہ اب بھی ایسے ہی عناصر سے تعلق استوار رکھے ہوئے ہے جن کی سرگرمیاں مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کبھی نام نہاد کاروباری ملاوں اور ہیت مقتدرہ کے ساتھ صف آرا ہو کے اسلام کے وسیع تر مفاد میں اتحادوں کی آڑ میں فسطائی کھیل کا حصہ بنی تو کبھی روشن خیال مشرف کی “عسکری جمہوریت” کو زینت بخشنے میں ملا ملٹری اتحاد کا حصہ کی حصہ دار بنی۔

کبھی اسلامی شعائر کے تحفظ کے نام پہ چائے کی پیالیوں میں طوفان برپا کرتی رہی تو کبھی کبھی توہین رسالت و ختم نبوت کے نام پہ سطحی علمیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روایتی ملائیت کے سیاسی بیانیے کو دوام بخشنے میں پیش پیش رہی۔

غرضیکہ موجودہ جماعت اسلامی روایتی ملائی فکر کی شکار ایک جامد جماعت ہے جو جماعتی روایات اور امت کے تابناک ماضی کی نشہ آور دوا پلا کے متحرک افراد کو سیاسی طور پہ مخنث بنا دیتی ہے۔

جماعت اسلامی کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ذہین و فطین آدمی جماعت کے فرسودہ نظم میں روایت پسندی کا شکار ہو کر آگے بڑھ نہیں سکتا۔ کوئی قابل سیاسی کارکن آگے بڑھ بھی جائے تو فکری جمود کے شکار سیاسی بونے اس کی ٹانگیں کھینچ کر اسے عضو معطل بنا چھوڑتے ہیں۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت کو لکیر کے فقیر چاہئیں جو سیاسی حکمت و دانش سے عاری ہوں اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہوں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جماعت اسلامی مخلص و نیک نیت کارکنوں کا سیاسی قبرستان ہے۔ یہی متضاد روئیے تو سیاسی مخالفین کو جماعت کی سیاست کو قبر میں اتارنے کا مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :۔ جماعت اسلامی اور اصولوں کی سیاست — ضیاء الرحمان

 

میں تو اس حوالے سے واضح ہوں۔ کہیں پڑھا کہ “مومن اپنے عہد سے آشنا ہوتا ہے”۔ یہاں حال تو یہ ہے کہ دور جدید کی بین الاقوامی امور سیاست و معیشیت کی تفہیم کسی جماعتی لیڈر میں شاید ہی ہو۔

“نظریاتی” سیاست کے علمبردار جماعت کیلئے تلخ حقیقت تو یہی ہے کہ سیاست حاضرہ میں اگر کسی قومی سیاسی رہنما کو جدید سیاسی و جمہوری روایات کا کچھ بہتر فہم ہے تو وہ صرف عمران خان ہی ہیں۔ حالانکہ ان کا کوئی نظریاتی بیانیہ ہی نہیں لیکن پھر بھی یہ عمران ہی ہیں جو پاکستان کی داخلی امور سے لے کر خارجی امور پر واضع موقف بھی رکھتے ہیں اور جاندار اور بے باک انداز میں منطقی و مدلل موقف پیش کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ بقیہ ملکی سیاست کے باب میں بھی جماعت کی دور اندیش پالیسی اور اس کے اثرات آپ کے سامنے ہیں۔

حال تو یہ ہے کہ فکری میدان میں مودودی صاحب کی فکر سے آگے ایک انچ جماعت بڑھ نہیں سکی۔ بلکہ الٹا روایتی مذہبی فکر کا عمل دخل مرکزی قیادت سے لیکر بنیادی نظم کے افراد تک واضح ہے۔ ممتاز قادری کی بابت جماعت کا موقف اور ختم نبوت پہ سیاست ابھی کل کی بات ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا قومی سیاسی کردار بعد از مودودی کسی بھی مرد دانا و بینا سے محروم، حکمت کے گوہر سے ناآشنا کنفیوژن کا شکار ایسا جامد وجود ہے جس کی روح “صالحیت” کے بار تلے دب چکی ہے۔ صالحیت ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ اپنے گرد تقدیس کا ہالہ قائم کئے اپنے آپ کو فکری بالیدگی کا شاہکار سمجھتے ہیں، ہر اختلاف رائے رکھنے والا دشمن جاں ٹھہرتا ہے۔ ہر نقاد کے الفاظ نشتر محسوس ہوتے ہیں۔ یا تو آپ صرف تعریف و ثنا سننے کے عادی ہو جاتے ہیں یا ہومیو پیتھک اختلاف کے قائل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کے مخلصین چاہتے ہیں کہ ان سے ایسا طرز تکلم اختیار نہ کیا جائے۔ تنقید کے بجائے صرف اصلاح کیلئے تجاویز دی جائیں۔ بلکل درست تنقید کے ساتھ مختصرا قابل عمل تجاویز دی جانی لازمی ہیں۔ مگر حضور شوری میں بیٹھے بزرگوں کی کیا ذمہ داری ہے سوائے اس کے کہ ماضی و حال کے پیش نظر مستقبل کی حکمت عملی وضع کی جائے۔ یہی کام ناقدین نے کرنا ہے تو شوری میں انہیں کیوں نہیں بٹھا لیتے۔ ردعمل کی نفسیات کی شکار قیادت و مرکزی شوری بعد از مرگ ناگہانی کف افسوس ملنے کے سوا کچھ کر بھی کیسے سکتی ہے۔ میرے خیال سے دیر آید درست آید کے مصداق یا تو سیاست سے دستبردار ہو جائیں یا تنظیم کے روایتی نظم کو ازسر نو تشکیل دے کر اصولی سیاست کیلئے مبنی بر حقائق دانشمندانہ حکمت عملی تیار کر کے میدان عمل میں اتریں۔ اتحادوں کے نام پہ روایتی دینی فہم پر قائم سیاسی بازی گری سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔

المختصر! “حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے” لیکن تاریخ علی الاعلان کہتی ہے اجتماعیت میں جماعت اسلامی کا حکمت سے خدا واسطے کا بیر رہا اور اب بھی ہے۔


یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
جماعت اسلامی کی شکست: تاریخ، وجوہات، حل —- محمد معاویہ

سیاسی عمل اور مذہبی جماعتیں — محمد دین جوہر

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: