بنت حوا کے لیے نیا عمرانی معاہدہ کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملیحہ سید

0
  • 149
    Shares

بنت حوا کو کہیں شادی سے انکار پر زندہ جلا دیا جاتا ہے، تو کہیں مریم کی بیٹی کو جرگہ پسند کی شادی کرنے پر قتل کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔ تو کہیں یاشودھا کی ہم جنس تیزاب گردی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسی بہت ساری خبریں متواتر میڈیا کا حصہ بن رہی ہیں جن سے انسان اور انسانیت کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔

محبت دو لوگوں کی مشترکہ کہانی کا سفر ہے جو اکثر دو سے شروع ہو کر ایک پر ختم ہو تا ہے مگر اس طرح نہیں کہ بات دوسرے کے قتل اور زندگی سے کھیلنے تک چلی جائے۔ ہمارے خطے میں محبت میں بھی جاگیر داری نظام کود پڑا ہے کہ وہ صرف میری ہے۔ خاص کرانا کا شکار مرد جب کسی عورت کو پسند کر لے اور اس سے محبت کا دعویٰ بھی کرے اور یہ سمجھتے ہیں کہ بس اب یہ عورت میری ہو گی اور بس۔ تب اس یک طرفہ محبت میں اکثر و بیشتر عورت کو اس کے انکار کی سزا دی جاتی ہے۔ کبھی زندگی چھین کر تو کبھی تیزاب ڈال کر حتیٰ کہ لڑکی کو خاندان سمیت زندہ جلا دینے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

یہاں پر سوال یہ ہے کہ آخر خود ساختہ مردانہ انا کا شکار عورت ہی کیوں ہوتی ہے؟ کیا اسے جینے کا حق نہیں؟ پاکستان جیسے معاشرے جہاں لڑکے کو پالنے میں ہی، بیٹیوں پر فوقیت دے دی جاتی ہے، کہ تم اعلی و برتر ہو۔ کوئی غلطی کرے یا گھر سے باہر سے کوئی شکایت آئے تو مائیں ’’ یہ بچہ ہے‘‘ کہہ کر اس کو بچا لیتی ہیں۔ جن معاشروں میں انسانوں، جذبوں اور رشتوں کو جنس میں تولا اور پرکھا جائے، جہاں انسان نہیں مرد اور عورت ہی بستے ہوں وہاں پر عورتوں کے خلاف سنگین جرائم کا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔

دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض خواتین مردوں کو خود شہ دیتی ہیں اور پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ جن کا غصہ مرد ان پر نکالتے ہیں اور پھر یہ محبت اخبار کی سرخی بن جاتی ہے کہ شادی سے انکار پر محبوبہ کو قتل کر دیا، تیزاب پھینک دیا۔

جوں جوں انسان نے ترقی کی منازل طے کیں توں توں معاشرتی رویے تنزلی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ اگرچہ تمام تہذیبوں اور ممالک میں اخلاقیات بھی ہیں، ضابطہ حیات بھی اور قوانین بھی تاہم اہم بات یہ ہے کہ آیا ان پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے اور اگر ان کی پیروی نہیں ہوتی تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا موجودہ معاہدہ عمرانی ناکام ہو چکا ہے اور ہمیں پھر سے ایک نئے معاہدے کی ضرورت پڑ گئی ہے یا پھر ہر عروج کے بعد زوال کے عالمگیر اصول کے مترادف انسان پھر جنگل کی زندگی کی جانب روبہ سفر ہے؟ جو بھی ہے اس پر مکالمہ بہت ضروری ہے تا کہ مذہبی اقدار، قوانین اور اخلاقی ضابطہ اخلاق کی ناکامی کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: