ڈیم کی بحث: ایتھوپیا کی مثال ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم چودھری

0
  • 40
    Shares

فیڈرل ڈیموکریٹک ریپبلک آف ایتھوپیا (ایتھوپیا) مشرقی افریقہ کی انتہا پر واقع ایک غریب ملک ہے۔ جسکی آبادی تقریبا ساڑھے نو کروڑ ہے۔ اسکی سرحدیں صومالیہ، اریٹیریا، اور سوڈان سے ملتی ہیں۔ اور ایک طرف دریائے نیل بہتا ہے۔

یہ ملک شروع سے غریب یا بھوکا نہیں تھا۔ اسی کی دہائی کے آغاز میں ایتھوپیا ترقی کرتے ہوئے ملکوں کی فہرست میں تھا۔ اسی دور میں اسکی کرنسی ’’Birr‘‘ کو عالمی پہچان ملی اور اس ملک کی اپنی ائیر لائین ایتھوپین ایئرز بھی شروع کی گئی۔

1984-85 میں ملک میں شدید قسم کی خشک سالی کا حملہ ہوا، بارشیں بلکل نا ہوئیں اور پانی کے ذخائر بری طرح متاثر ہوئے، یہ قحط اور خشک سالی طویل ہوتی گئی اور ایتھوپیا اپنی تاریخ کے بدترین غزائی بحران کا شکار ہو گیا۔

ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ لوگ جان کی بازی ہار گئے، اسکے علاوہ بہت سے افراد اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ چھاڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

دوسری بار پھر شدید قحط 2002-03 میں پیدا ہوا جب لاکھوں لوگ غزائی بحران کا شکار ہو کر بیمار اور جاں بحق ہوئے ۔تیسری بار 2010-11 میں بھی ایتھوپیا ایسے ہی بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔

مگر 2009 میں ایتھوپیا کے اسوقت کے وزیر اعظم ’’میلس زینوی‘‘ نے اس مسئلے کے حل کے لیے ڈیم بنانے کا اعلان کیا اور دیار غیر میں مقیم اپنے لوگوں سے فنڈنگ کی اپیل کی۔ اسکے علاوہ اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور چین سے بھی تعاون مانگا۔

2011 میں سوڈان کی سرحد کے قریب دریائے نیل پر ایک ڈیم ’’دی گرینڈ ایتھوپین ری انسائینس ڈیم‘‘ کی تعمیر کا آغاز ہوا جسکی لاگت 14 ارب ڈالر ہے اور 2019 میں مکمل ہو گا۔

اپنی تکمیل کے بعد یہ افریقہ کا پہلا اور دنیا کا ساتواں بڑا ڈیم ہو گا۔ ایک طرف اس سے 6 گیگا واٹ بجلی کی پیدائش متوقع ہے وہیں یہ ڈیم ایتھوپیا، صومالیہ اور اریٹیریا کی بنجر زمینوں کی آبادکاری کے لیے ایک نعمت ہو گا۔

افریقن لوگ اس ڈیم کو مشرقی افریقہ کی تاریخ کا گیم چینجر مانتے ہیں ۔ اتھوپئینز کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تکمیل کے بعد اپنے ملک واپس جا کر کاشتکاری کر سکیں گے۔

مجھے یاد ہے سکول کے زمانوں سے سنتے آئے ہیں کہ اگر ہم نے ڈیم نا بنائے تو ہم ایتھوپیا بن جائیں گے ۔ مگر شعور کا یہ عالم ہے کہ ایتھوپیا بھی ہم سے دس سال آگے ہے۔ اور ہمارے ہاں ایک ڈیم کو متنازع بنا کر بند کر دیا گیا اور دوسرے کو متنازع بنانے کی کوششیں جاری ہیں ۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔۔۔۔ آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: