تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کی ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یحییٰ

0
  • 20
    Shares

گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں طلبہ کے نصاب تعلیم میں جنسی تعلیم سے متعلق مواد داخل کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے تو یہ موضوع زباں زد عام ہو جاتا ہے۔

پارلیمنٹ تک اس موضوع پر بحث کر چکی ہے۔ اور عنوان یہ قائم کیا جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور بچوں کے ساتھ نازیبا رویہ کے سد باب کے لئے بچوں کو اپنے دفاع کے لائق بنانا ہو گا۔ انہیں پہلے سے آگاہ کرنا ہو گا کہ۔۔

یہ کچھ کیفیات ہیں اگر ان سے واسطہ پڑے تو ہوشیار باش ! لیکن یہ نہ سوچا کہ کسی ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے پوری قوم خوف میں مبتلا کر دی جائے۔ مثلاً جنگی حالات میں سائرن بجا کر لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ تمام کاروبار چھوڑ چھاڑ کر اپنی حفاظت کا سامان خود کر لیں۔ اگرچہ ایسا کرنے سے ملک کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے لیکن ایمرجنسی میں ایسا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ جنگ کی حالت میں اس سے بھی بڑے نقصان اور زیادہ جانی و مالی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے کیمو فلاج تک کر کے چپ سادھ لی جاتی ہے۔ لیکن کوئی بھی اہل دانش و اہل بصیرت شخص معمول کے حالات میں کیمو فلاج کی تربیت اور تاکید نہیں کرے گا۔ للعاقل یکفیہ الاشارہ۔ عقل مند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے!!!

اس پر ایک لطیفہ نہایت موزوں ہو گا۔ ایک شخص نے اپنے بچے کو دس روپے دے کر انڈہ لانے کا کہا اور حکم دیا کہ بہت احتیاط سے کام لینا اور دیکھو انڈہ ٹوٹنا نہیں چاہئے۔ بچہ جب جانے لگا اس شخص نے اسے بلایا اور کہا ادھر آؤ۔ قریب آنے پر ایک زوردار طمانچہ اسے رسید کیا۔ بچہ روتے ہوئے انڈہ لینے چلا گیا۔ ساتھ بیٹھے آدمی نے پوچھا یہ تم نے کیا حرکت کی۔ اس نے جواباً کہا اگر انڈہ توڑ کرلایا تو تھپڑ مارنے سے بھی میرے نقصان کی تلافی نہ ہو گی۔ لہذا میں نےحفظ ما تقدم کے طور پر پہلے ہی اسے طمانچہ رسید کر دیا!!!

یہ صرف لطیفہ ہی نہیں ہے بلکہ آج ہمارے معاشرتی رویوں اور فطرت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ہم کسی گڑھے میں گرنے کے خوف سے اس سے بڑے گڑھے میں چھلانگ لگا کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں یعنی خوف کی وجہ سے کسی خطرے سے بچنے کے لئے اس سے بڑا نقصان ملکی سطح پر اٹھانے کے خواہاں ہیں۔ یا اسفا۔ حالانکہ پہلے ہی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا پر خرافات کا ایک سیلاب موجود ہے۔ جس نے بچوں کی معصومیت اور بھولپن چھین لیا ہے۔

بچوں کی بالیدگی اور نشو و نما بھی اللہ رب العزت کے ایک نظام کے تحت ہے۔ بتدریج آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ انسان نشو و نما پاتا ہے۔ اگر بچے کی ابتدائی نشوو و نما پر غور کیا جائے تو اس میں بھی ہمیں ایک حسن اور ترتیب ملتی۔

ابتدائی ایام میں بچوں کو ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اس لئے عہد طفولیت میں ہی ذہنی صلاحیتوں کی نشو و نما تقریباً 80 فیصد تک ہو جاتی ہے لیکن اس کے برعکس تولیدی نظام کی ابھی ضرورت نہیں ہوتی اس ان اعضاء کی نشو و نما صرف بیس فیصد ہوتی۔ یعنی بالکل برعکس۔ یہی اللہ رب العزت کی شان ربوبیت اور تخلیق کی بہترین مثال ہے۔

ثانیاً کچھ امور کا مستتر اور پردہ میں رہنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ وقت سے پہلے ان کا شعور ہونا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی کو ایک سال پہلے اس کی موت کا وقت معلوم ہو جائے تو وہ پورا ایک سال شاید کچھ نہ سکے۔ خوف سے وہ روز مرے گا اور مرے گا۔ اس کا جینا بھی مرنا بلکہ اس سے بدتر ہو گا۔ وقت آنے پر ہی پردوں کا اٹھنا صحیح ہے۔

ثالثاً جنسی تعلیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا بچہ ہر وقت اوور کانشس (غیر معمولی اور غیرضروری محتاط) ہو گا۔ اتفاقاً بھی اس سے مماثلت رکھنے والے امور اس کے ذہن کو غلط رخ پر موڑ دیں گے۔

حفاظت کی ذمہ داری بہرحال بڑوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے جو کام بڑوں کا ہے وہ بڑوں ہی کو کرنا چاہئے۔ جنسی تعلیم دینے سے ہم بچوں کا بھولپن اور معصومیت ختم کرنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہ کر سکیں گے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں بھی پردہ کے ضمن میں ان بچوں سے پردہ کا حکم نہیں دیا گیا جنہیں عورات النساء کی خبر نہ ہو۔

أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ
وہ بچے جو کم سِنی کے باعث ابھی عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہ ہوں (سورہ نور:31) یعنی ابھی ان کا بھولپن اور معصومیت قائم ہو۔

لیکن آج تو شاید پری پرائمری کا طالب علم بھی ! آج حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ چوزہ انڈے سے نکلتا نہیں ہے لیکن انڈہ دینے کی فکر میں پریشان رہتا ہے!!! ہر بات بتانے کی، ہر رخ دکھانے کا، ہر نکتہ سمجھانے کا، اسی طرح ہر ممکن الوقوع امر قبل از وقت بیان کرنے کا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ بچوں سے سچ بولنے کا کہنا چاہئے اورجھوٹ کی ممانعت کرنی چاہئے۔ لیکن بعض اوقات ہمیں یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ سچ بولیں لیکن ضروری نہیں کہ ہر سچ ضرور بولا جائے۔ اگر کہیں خاموشی سے بات بنتی ہو اور سچ بولنے میں رسوائی ہو تو کیا کیا جائے!

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
والدین کو چاہئے کہ بچوں کو اتنی آزادی ضرور دیں کہ ان سے ہر بات آزادانہ بغیر کسی ہچکچاہٹ و جھجھک کہہ سکیں۔ ۔ بالخصوص اگر واقعہ کا تعلق گھر کی چار دیواری سے باہر ہو تو اسے قطعاً نظر انداز نہ کریں۔ توجہ سے ان کی سنیں، اگر کوئی تنگ کر رہا ہے تو اسباب جاننے کی کوشش کریں۔ اور واقعہ کی کیفیت جاننے کی کوشش کریں کہ کوئی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا یا جرائم پیشہ فرد انہیں اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔ کوئی اسے بلیک میل تو نہیں کر رہا یا انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا تو نہیں چاہتا۔

جملہ معترضہ :
ایک اور اہم نکتہ مغرب کی ترقی کا راز خاص قسم کی مادر پدر آزاد معاشرتی اقدار اور نصاب میں اس تعلیم سے نہیں بلکہ بہتر نصاب، بہتر نظام تعلیم، بہتر اساتذہ، بہتر طلبہ اور اپنے ملک اور ملت سے اخلاص، محنت اور بہتر ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے۔ ہر فرد اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہوتا ہے۔ وہ اپنے فرائض قومی امانت سمجھ کر انجام دیتے ہیں قومی خیانت نہیں، فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں قرض سمجھ کر نہیں کہ لوٹانے کا دل ہی نہ کرے!

ہمارے پارلیمنٹرین، دانشور، اہل علم حضرات ان امور کی طرف غور کیوں نہیں کرتے کہ طلباء کے لئے نظام تعلیم، نصاب تعلیم، معلم کے کردار اورمعیار میں بہتری ترقی کی طرف گامزن کرے گی نہ کہ نصاب میں جنسی تعلیم۔ فتدبر!

رہی بات مجرمین کی سرکوبی کی تو ملکی سطح پر معاشرے میں ایسے عناصر کا قلع قمع کرنا حکومتی اداروں کا کام ہے اور انفرادی سطح پر والدین کا۔ اگر بچوں کے لئے کچھ کرنا ہی ہے تو انہیں جسمانی ورزش کے لئے کھیل کے میدان مہیا کئے جائیں۔ انہیں سیلف ڈیفنس کے عنوان پر جوڈو کراٹے اور دیگر اس قسم کے کھیلوں کے ساتھ ساتھ ذہنی و اعصابی طور پر قوی اور طاقتور کیا جائے۔ اور یہ باور کرایا جائے کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی صورتحال میں وہ نروس نہ ہوں، ہمت نہ ہاریں اور ذہنی غلامی اختیار نہ کریں۔

خلاصہ کلام:
بچوں کا قدرتی حسن، بھولپن، معصومیت اور شرارت جبراً ان سے نہ چھینی جائے کیونکہ یہی معصومیت، سادگی و برجستگی ہی تو بچپن کا حسن ہوتا ہے۔ اسی مخصوص بھولپن، معصومیت اور شرارتوں کی وجہ سے وہ مرکز نگاہ ہوتا ہے۔ ان کے بغیر وہ بچہ نہیں بلکہ !!!

اس دور میں یہ سب سے بڑا ظلم ہوا ہے
بچوں میں وہ پہلی سی شرارت نہیں ملتی

بچوں کو بچہ رہنے دیں۔ بچپن کو پچپن میں تبدیل نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی شخصیت ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔ بلکہ بتدریج ان کی تربیت اور رہنمائی کی جائے۔ موقع و محل کی مناسبت سے کبھی کبھی کا ہلکا پھلکا اظہار اور تربیت ہی کافی ہو گی۔ اللہ رب العزت ملک کے تمام پھول جیسے بچوں کی حفاظت کرے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: