آرٹ، کرافٹ، زندگی، معاشرہ اور مذھب کی بحث ۔۔۔۔۔۔۔۔ معارز انصاری، سجاد خالد

0
  • 62
    Shares

آرٹ انسانی تجربے کا ایک عالمگیر پہلو ہے۔ دنیا میں ایسی کوئی معلوم سوسائٹی نہیں جہاں آرٹ نا پایا جاتا ہو یا پسند نا کیا جاتا ہو۔ حتی کہ جن معاشروں میں جینا بھی دشوار ہو وہاں بھی آرٹ اپنی مختلف شکلوں میں رواں دواں ہوتا ہے۔ ہر سوسائٹی میں لوگ اپنی جسمانی بقا سے ماورا ہو کر تخلیقی اظہار کی مخصوص شکلوں کو جنم دیتے رہتے ہیں اور اس کیلئے حس جمالیات بشمول تخیل، ہنر اور انداز سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

ان تخلیقی سرگرمیوں کو آرٹ کہا جاتا ہے۔ انسان کے تخلیقی اظہار (Artistic expression) کے شواہد ہمیں جدید انسانی نسل کی شروعات (35 سے 70 ہزار سال پہلے) سے مل رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ Neanderthals (وسط ہجری انسان، پتھر کے زمانے کے لوگ) پہلے انسان تھے جنہوں نے مذہبی رسومات کے ذریعے تخلیقی اظہار کی شروعات کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تخلیقی اظہار نسل انسان کی بنیادی جہت ہے۔

جیسے کہ ہمارے ہاں مجسمہ سازی، موسیقی، عکس سازی، رقص، نقاشی، عمارت سازی، خطاطی، شاعری، نثر نگاری، نعت گوئی، قراءت، جلد سازی، ظروف سازی، کڑھائی، مہندی کی نقاشی، علاقائی رقص، پُتلی تماشے اور آرٹ کی دیگر بیسیوں صورتیں موجود ہیں جنہیں ہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گویا براڈ پرسپیکٹو میں بات کی جائے تو آرٹ مذہبی رسومات سے لیکر سماجی تصورات، کھیل سے لیکر ایجادات اور اوزار سے لیکر ساز تک انسانی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

آرٹ انسانی معاشرے کے باقی اجزا کی طرح ایکسچینج بھی ہوتا رہتا ہے اور یہ کرافٹ کے تبادلے کی صورت میں ہوتا ہے۔

آرٹ بنیادی طور پر ایک جمالیاتی احساس ہے جس کا اظہار کرافٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔ کرافٹ کو آرٹ کی quantifiable state یا application of aesthetic principle کہا جاسکتا ہے۔ یعنی کہ ایک آرٹسٹ کے تخیل میں بہت سے منتشر خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ اپنے ہنر اور انداز کی مدد سے ان خیالات کو ترتیب دے کر کرافٹ (مخصوص شکل) میں ڈھالتا ہے۔ وہ مخصوص شکل کوئی تصویر، مجسمہ، نثر، شعر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آرٹ صرف وہی ہے جس میں تخلیقی قوت شامل ہو یا پھر محض نقالی بھی کوئی تخلیقی کام ہے جیسے کہ ایک مصور سکریچ سے مونا لیزا کا پورٹریٹ بناتا ہے اور دوسرا مصور اسی مونا لیزا کے پورٹریٹ کو دیکھ کر خالص اسی کی نقل بناتا ہے۔ لیکن قوت تخلیق جو کہ آرٹ کی روح ہے اس کا اظہار کس پورٹریٹ میں زیادہ ہے، اوریجنل یا پھر نقل شدہ؟

جدید دور میں آرٹ اور کرافٹ میں امتیاز کی بنیاد مہارت کی جگہ تخلیقی جوہر کو رکھ دیا گیا جس سے تخلیقی عمل کا ایک محدود تصور سامنے آیا جس نے انسان کو اوریجنیلٹی کے تقدس میں جکڑ لیا اور وہ اپنی انفرادیت میں کھو کر رہ گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تہذیب میں کوئی بھی چیز عدم سے وجود میں نہیں آتی۔ اسی طرح آرٹ کا آغاز بھی نقل ہی سے ہوتا ہے کوئی بھی آرٹسٹ مہارت حاصل کرنے کیلئے نقل سے شروعات کرتا ہے جسے ہم نقل کہتے ہیں دراصل انسپاریشن کی انتہا ہے۔ اور یہی نقل کرتے کرتے ہر مزاج اپنے فطری تنوع کی وجہ سے خود بخود نئی صورتیں تخلیق کرتا ہے۔

مونا لیزا کے تخلیق کار لیونارڈو نے نقل سے حاصل ہونے والی مہارت استعمال کرتے ہوئے فن پارے میں اپنا سبجیکٹ رکھا جبکہ دوسرے نے خود سپردگی، تعلیم اور خراجِ عقیدت جیسے بہت سے جذبات کے زیرِ اثر اس کو دوبارہ بنایا۔ اس سرگرمی سے اسے استاد سے تعلق محسوس ہؤا۔ اس نے باریک بینی سے استاد کی سٹروکس، تکنیک، سرشاری اور وارفتگی کا مطالعہ کیا۔ اس پریکٹس کے باوجود یہ دو الگ فنپارے ہیں۔ ایک سبجیکٹ کی عکاسی کرتا ہے اور دوسرا فنپارہ کے اندر پوشیدہ راز دریافت کرتا ہے۔ اب مونا لیزا کی پینٹنگ ایک کرافٹ کا درجہ حاصل کر چکی ہے جس کا کریڈٹ لیونارڈو کے ساتھ ساتھ اس کے چاہنے والوں کو بھی جاتا ہے۔

اگر اب لیونارڈو کسی کو مونا لیزا پینٹ کرتے دیکھ لے تو اسے افسوس ہو کہ اس نے کیوں ان تاثرات کو بنانے پر برسوں صرف کر دہے۔ وہ اسے چند دنوں میں بنا لے گا کیونکہ اجتماعی دانش نے مونا لیزا کو ایک مربوط سائنسی عمل جیسا بنا ڈالا ہے جو دہرایا جا سکتا ہے۔ یہاں مجھے غلط العام اشعار بھی یاد آ رہے ہیں جو اصل شعر سے زیادہ بامعنی، سادہ، رواں اور مقبول ہیں۔ اس لیے کہ ان میں اجتماعی دانش بھی شامل ہو گئی ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تخلیق کے ساتھ کاریگری/ مہارت بھی ضروری ہے، اناڑی ہیرے کو کوڑی کا اور کاریگر معمولی پتھر کو انمول بنا سکتا ہے۔ مہارت مشق سے، مشق تکرار سے اور تکرار نقل ہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: