توپ کھسکی، پروفیسر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 150
    Shares

فلم ’’منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ کا ایک سین بڑا اہم ہے۔ اِس سین میں فلم کے ہیرو ’’منا‘‘ کا اسسٹنٹ ’’سرکٹ‘‘ ایک سیاح کو غریب لوگوں کی تصویریں اتارتے دیکھ کر اُس سے پوچھتا ہے کہ تم باہر سے آنے والوں کو انڈیا میں کوئی اچھی چیز نظر نہیں آتی۔ یہاں سیاح ایک دلچسپ بات کہتا ہے۔

“I want to see real India, poor India, sick India” اگر بات انڈیا کے بجائے پاکستان کی ہو اور اِس فلمی سیاح کی ذہنیت کی حقیقی عکاسی دیکھنی ہو تو مشہور امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کا مطالعہ شروع کر دیجئے۔ اس میں اوسطاً تقریباً ہر پندرہ دن بعد پاکستان پر ایک مضمون ضرور چھپتا ہے۔ ایسے ہر ہر مضمون میں ’’پور پاکستان، سک پاکستان‘‘ کے علاوہ کبھی کچھ نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے اکثر یہ مضامین پاکستانی ہی لکھتے ہیں تا ہم اگر تحریر کسی گورے کی ہو تو اس میں زہر کی مقدار دگنی ہوتی ہے۔ مگر اِن مضامین میں پاکستان کو کیا دکھایا جاتا ہے؟

پاکستان ایک غیر ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے
پاکستان خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے
افغانستان میں امریکی ناکامی کی وجہ پاکستان ہے
پاکستان میں عیسائیوں پر بے پناہ ظلم ہو رہا ہے
پاکستان میں ہندوؤں کا قتل عام جاری ہے
پاکستان میں ہندو لڑکیوں کو جبراً مسلمان کیا جا رہا ہے
پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو نازی جرمنی میں یہود کے ساتھ ہوتا تھا
پاکستان میں فوج نے عوام کی زندگی حرام کر دی ہے
پاکستان میں ملا اور فوج مل کر خطے میں انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں
پاکستان میں ہم جنس پرستوں پر بے حد ظلم جاری ہے
پاکستان میں ساسیں بہوؤں پر بہت مظالم کرتی ہیں۔ خاص طور پر یہ ظلم کہ وہ بہوؤں سے گول روٹی کی توقع کرتی ہیں
پاکستان میں جاگیردار اس قدر ظالم ہیں کہ سمجھئے کہ ہر ہر لمحہ وارث ڈرامہ ہی چلتا رہتا ہے
پاکستان میں ہر جوان عورت پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے
پاکستان ایک ناکام ریاست ہے
پاکستان میں شرعی قانون نافذ ہے (؟) جو بڑی پسماندہ بات ہے
پاکستان CPEC بنا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان پر فوراً چین کا قبضہ ہو جائے گا (اور چین تو ہے ہی ظالم ترین ملک)
پاکستان میں ناموس رسالت کا قانون ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں پر ظلم ہو رہا ہے۔

اوپر مذکور نکات تو محض چند ہیں، اسی نوع کی ہزار باتیں جن میں سے ہر ہر بات ایک سخت منفی لہجے میں کی جاتی ہے۔ مگر یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا نیویارک ٹائمز کا رویہ پاکستان کے ساتھ امتیازی طور پر برا ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے، کچھ عالمی گندے بچے ہیں جن کی فہرست نیویارک ٹائمز کی نظر میں یہ ہے۔

1۔ شمالی کوریا 2۔ ایران 3۔ پاکستان 4۔ ترکی 5۔ چین 6۔ روس

یہ چھ بچے بہت نالائق ہیں۔ شمالی کوریا تو ہمیشہ سے گندا ہے مگر ایران 1979ء کے انقلاب کے بعد اور ترکی اردوان کی اقتدار میں آمد کے بعد سے گندے بچے بنے۔

چین چالاک، ظالم، سامراجی ہے اور روس پوٹن کی آمد کے بعد بری صحبت میں پڑا ۔ مگر ہمارا پاکستان افغانستان میں امریکا کی مسلسل شکست کے بعد نامعقول بچوں کے گروپ میں داخل ہوا۔

ان اوپر مذکور ممالک کے بعد نیو یارک ٹائمز کی نظر میں چند صف دوئم کے گندے بچے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو غربت و افلاس کی وجہ سے نیویارک ٹائمز کو برے لگتے ہیں، جیسے بھارت، سری لنکا، میانمار، ویت نام، لاطینی امریکا کے سارے ملک، افریقہ کے سارے ملک۔ بس نیو یارک ٹائمز کو بے عیب تو صرف امریکا لگتا ہے اور امریکا میں بھی صرف لبرل طبقہ۔ مگر ساری دنیا میں کیڑے چننے والی اس نگاہ کا آخر اپنا نفسیاتی مسئلہ ہے کیا؟

مسئلہ تھوڑا پرانا ہے۔ ’’نشاط ثانیہ‘‘ کے دور میں جب اہل مغرب ساری دنیا پر ایک سیاہ آندھی کی طرح ٹوٹ پڑے تو ان میں اور چنگیز اور ہلاکو میں صرف یہ فرق تھا کہ چنگیز اور ہلاکو کے پاس نہ بندوق تھی نہ توپ کا گولا۔ مگر ایک اور چیز بھی چنگیز اور ہلاکو کے پاس نہ تھی اور وہ چیز ہے اپنی بہیمیت کی کوئی توجیہہ۔ لاطینی امریکا کا مورخ لاس کاساس (Las Casas) لکھتا ہے کہ جب ہسپانوی لاطینی امریکا میں وارد ہوئے تو انہوں نے 4 ملین سرخ ہندی محض 3 یا 4 سال میں مار ڈالے۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ ہسپانوی فوجی، سرخ ہندیوں کے بچوں کو کاٹ کر ان کے ٹکڑے اپنے کتوں کو کھلایا کرتے تھے۔ غور کیجئے کہ سفید فاموں نے 99 فیصد سرخ ہندی شمالی و جنوبی امریکا میں مار ڈالے۔ 80 فیصد افریقیوں کو غلام بنا کر لے گئے، ہند کو لوٹ کر کھنڈر بنا دیا، چین کو افیمچی بنا دیا اور جب چین نے افیم خریدنے سے انکار کیا تو اس پر خونی جنگ مسلط کی جو تاریخ میں اوپیم وار (Opium War) کے عنوان سے درج ہے۔ اپنی خوفناک لالچ اور خون آشام فطرت سے سفید فاموں نے ساری دنیا کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور اپنے خوفناک اقدامات کو جو حسین نام ان درندوں نے دیا وہ تھا ’’سفید آدمی کی ذمے داری(White man’s burden)‘‘۔ اپنے خیال میں اہل مغرب دنیا کو علم کی روشنی دے رہے تھے۔

اہل مغرب نے صرف بادشاہتوں کو تاراج نہیں کیا بلکہ دوسری تہذیبوں اور تمدن میں بھی ایک ایسی آگ لگا کر گئے جو آج تک بھڑک رہی ہے، دنیا کا سارا تنوع، جس سے اس کا حسن تھا، مغربی تہذیب کی توپ اور پروفیسروں کی وجہ سے مٹ گیا۔ اکبر الٰہ آبادی ہندوستان میں زوال مشرق کے پہلے شعوری شاہد تھے اور انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ مغرب کیسے بمباری کرنے کے بعد اپنے فکر و فلسفہ پھیلانے والوں کو میدان میں اتار کر دشمن تہذیبوں کو ختم کرتا ہے۔ بقول اکبر۔

توپ کھسکی، پروفیسر آئےجب بسولہ ہٹا تو رندا ہے

مغرب کی توپ اب ’’ڈیزی کٹر‘‘ اور ’’کروز میزائل‘‘ مارتی ہے اور پروفیسر کا کردار اب ذرائع ابلاغ اور این جی اوز کو حاصل ہے۔ دیکھئے غور کیجئے، ہر تہذیب مٹ رہی ہے، ثقافت کے چھوٹے چھوٹے مظاہر تک مٹ گئے، کہاں گئی کلاہ پا پاخ؟ کہاں گیا انگرکھا؟ روایتی غذائیں کیا ہوئیں؟ پاکستان کے گلگت سے سوڈان کے دارفر تک ہر جگہ وہی برگر، لنڈے کی جینز، ٹی شرٹ، وہی اسمارٹ فون، بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ، فحش چیٹنگ ( chatting)، پورن فلمیں، وہی ڈرگز، ٹوٹے ہوئے رشتے، وہی روحانی خلاء، اولڈ ہاؤسز، اسقاط حم، خود کشیاں، وہی طاقت کا پجاری سماج۔

تہذیبیں اپنی ثقافتی اور اخلاقی و سماجی نظاموں کے ساتھ مغرب کی یورش کے آگے ڈھے چکیں یا ڈھے رہی ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور مغرب کے ذرائع ابلاغ کے دیگر تمام ’’پروفیسر‘‘ بس یہ بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں ملک کے سو فیصد مغربی چربہ بن جانے میں کتنی دیر ہے۔ جس میں ابھی تھوڑی دیر ہے وہ ’’گندہ بچہ‘‘ ہے اور ’’پروفیسر‘‘ اسے ڈانٹتے رہتے ہیں اور اسے Poor اور Sick ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ یہ ’’شیم شیم‘‘ اچھے بچے ایسے نہیں کرتے‘‘ جیسے جملوں سے گندے بچوں کو سنبھالنے اور سدھارنے کا عمل ہے۔ جو گندے بچے پھر بھی نہیں مانتے ان پر پابندیاں، جنگیں مسلط کی جاتی ہیں۔ باقی گندے بچوں کو سدھارنے کے لئے ان کے مقامی ذرائع ابلاغ کو کچھ ہڈیاں اور چھیچھڑے پھینک کر دے دیے جاتے ہیں یا این جی اوز مسلط کر دی جاتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ ’’وائٹ مین برڈن‘‘ کوئی ہلکی ذمے داری تو ہے نہیں۔ ہر ملک کے سدھار کی پوری چیک لسٹ( checklist ) اہل مغرب کے پاس ہے۔نیویارک ٹائمز تو محض ایک اخبار ہے، ایسے تو سیکڑوں اخبارات، رسائل، ویب سائٹس، چینلز موجود ہیں۔

مگر پاکستان اور دیگر عالمی گندے بچوں کی ہر ہر لمحہ منفی منظر کشی کی مغربی ذرائع ابلاغ کے پاس ایک اور وجہ بھی ہے، اور وہ وجہ بیرونی نہیں اندرونی ہے۔ مغربی تہذیب اپنے اندر خود شدید شکست و ریخت کا شکار ہے۔ خاندانی نظام تباہ ہو چکا، رشتے بے معنی ہو چکے، مذہب کو دیس نکالا مل چکا مگر جو روحانی خلاء ان سب چیزوں سے پیدا ہوا وہ دیدنی ہے۔ بڑے بڑے لوگ خودکشی کر رہے ہیں، جنونی لوگ بلاوجہ انجان لوگوں کو گولیوں سے بھون کر خود کو قتل کر رہے ہیں،ریپ ایک وبا ء بن چکا ہے۔ پھر ایک بہت بڑا طبقہ ہندوازم (یاد کیجئے گرو ہرجنیش اوشو) بدھ ازم اور اسلام میں پناہ لے رہا ہے۔چلو ہندوازم اور بدھ ازم تو شریعت کے حامل مذاہب ہیں بھی نہیں، محض روحانی سلاسل ہیں، اس لئے ان کی انتظام کاری ( Management) نسبتاً آسان ہے مگر اسلام کا کیا کیجئے؟

ویسے بھی اب اہل مغرب بھی یہ بات کھل کر کہتے ہیں کہ اسلام اور مغربی تہذیب میں کوئی مطابقت ممکن ہی نہیں اس لئے کہ اسلام میں بڑی واضح شریعت موجود ہے جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں زنا کی ممانعت ہے، سود کی ممانعت ہے، پردے کا اور حیا کا حکم ہے، اب آپ چاہے الٹے لٹک جائیں مگر ان چیزوں کی اس مغربی تہذیب میں کیسے جگہ نکالیں گے کہ جو ان سب اور ان کے علاوہ ہر ہر الہامی بات کے صریح متضاد تصورات پر کھڑی ہے؟

مغرب بڑی شدید کوشش میں ہے کہ ایک بغیر شریعت کا اسلام ایجاد کیا جائے اور کسی طرح اہل اسلام میں اسے مقبول کیا جائے۔ ایک کوشش یہ بھی ہے کہ شرعی اسلام کو اس قدر بدنام کر دیا جائے کہ اہل اسلام، اسلام سے اتنے ہی برگشتہ ہو جائیں کہ جیسے اہل مغرب عیسائیت سے ہیں۔ مگر اندرونی مسئلہ یہ ہے کہ ان اہل مغرب کا کیا کیا جائے جو اسلام قبول کر رہے ہیں؟ ان کو اسلام سے دور رکھنے کے لئے ہر ہر لمحہ اسلام کی شدید منفی منظر کشی ضروری ہے اور وہ اس طرح باآسانی کی جا سکتی ہے کہ اہل مغرب کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ دیکھو مسلمانوں کے ملکوں میں یہ ہوتا ہے۔ ہم نے جو گندے ملکوں کی فہرست شروع میں بیان کی ان میں غیر مسلم ممالک بھی ہیں، مگر نیویارک ٹائمز یا وسیع تر معنوں میں اہل مغرب کے لئے وہ ایک لمحے میں اچھے بن سکتے ہیں اگر وہ صرف اپنا سماجی، معاشی نظام بدل لیں۔ مگر اس فہرست میں موجود مسلم ممالک سے چڑ نہ سماجی ہے، نہ معاشی، نہ سیاسی۔۔ یہ چڑ محض عقیدے کی ہے کہ آخر عقیدے پر اصرار کیوں؟ عقیدے پر اصرار کرنے والے تو گندے بچے ہوتے ہیں ، عقیدے سے سماجی، معاشی، سیاسی نظام برآمد کرنے والے اور زیادہ گندے بچے ہوتے ہیں۔ انسانیت کے، ترقی کے، انسانی حقوق کے دشمن ہوتے ہیں۔ اس لئے جلدی سے اچھے بچے بن جاؤ اور

چھوڑ لٹریچر کو، اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ و مکتب ترک کر، اسکول جا

چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ؟
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: