سرہانے میر كے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید

0
  • 153
    Shares

كلیاتِ میر كی ابتدائی پانچ غزلوں کا تشریحی مطالعہ۔

 میر ایسے شاعر ہیں جن كے تعارف كا پہلا فقرہ طے شدہ ہے۔ اور وہ یہ كہ میر اپنی زبان كے سب سے بڑے شاعر ہیں، بلكہ اردو كے تمام بڑے شعرا كے مقابلے میں بھی یہ بہت زیادہ فرق كے ساتھ عظیم تر شاعر ہیں۔ ان كی بڑائی كے كئی پہلو ہیں، مثال كے طور پر میر حافظ كے ہم پلہ ہیں اور بعض پہلؤوں سے تو حافظ كے مقابلے میں بھی زیادہ مكمل شاعر ہیں كیونكہ فارسی زبان كی تعمیر و تشكیل میں حافظ كا كوئی خاص حصہ نہیں ہے لیكن اردو زبان كو اندر باہر سے بنانے اور سنوارنے میں میر كا حصہ غالباً كسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ ہے۔ بہت سے بڑے شعرا ہیں جن كی بڑائی كو مانتے ہوئے بھی انہیں مكمل شاعر نہیں كہا جا سكتا، لیكن میر كا مكمل شاعر ہونا ان كی شاعرانہ عظمت كے بڑے اسباب میں سے ایك سبب ہے۔ اگر یہ دیكھنا ہو كہ فلاں شاعر بلكہ فلاں بڑا شاعر مكمل شاعر بھی ہے یا نہیں، تو اس كی شاعری میں كچھ سوالوں كے جوابات ڈھونڈنے چاہیں۔

1۔ یہ شاعر جس روایت سے تعلق ركھتا ہے، اس كے بنیادی معانی و مضامین كا احاطہ كر كے ان پر كوئی ایسا اضافہ كرتا ہے كہ وہ معانی و مضامین اس اضافے كی وجہ سے اس شاعر كے ساتھ كسی حد تک خاص ہو جائیں اور اس كی انفرادیت كے قیام كی وجہ بن جائیں؟

2۔ سلیم احمد نے اردو تنقید میں ایك اصطلاح متعارف كروائی ہے: پورا آدمی! اس شاعر كے ہاں پورا آدمی اظہار پاتا ہے یا نہیں؟

3۔ شاعری كسی تہذیب میں ہوتی ہے۔ اس شاعر كے ہاں اپنی تہذیب كے اصولی تصورات اور طرزِ احساس وغیرہ كا اظہار، چاہے حالتِ تردید میں ہو، پایا جاتا ہے یا نہیں؟

4۔ یہ جس زبان كا شاعر ہے، اس زبان كے نظامِ لفظ و معنی پر اول تو یہ كہ اسے كتنی دسترس ہے، اور دوسرے یہ كہ اس زبان كی لفظی اور معنوی توسیع میں اس كا كیا كردار ہے؟

اردو میں میر كے سوا كوئی شاعر نہیں جس كی شاعری ان چاروں سوالوں كے شافی جواب دے سكتی ہو۔ مثلا میر صاحب نے زبان كی تكنیكی، لفظی اور معنوی سطحوں پر جو نئے اسٹركچر بنائے ہیں وہ ایسے ہیں كہ بعد میں آنے والوں كے لیے ان پر اضافہ تو دور كی بات ہے، انہیں برقرار ركھنا بھی محال ہو گیا۔ میر كے لسانیاتی كارنامے اتنی باریكی اور گہرائی كے ساتھ ہیں كہ ان كی طرف ان كے ہمعصروں اور بعد میں آنے والوں كی نظر ہی نہ جا سكی۔ اسی لیے میر كی صناعی اور فنكاری كے مطالعے كی روایت جڑ نہ پكڑ سكی۔ اللہ شمس الرحمان فاروقی كو خوش ركھے، انہوں نے شعرِ شور انگیز”  میں ہماری غفلت اور نالائقی كا ازالہ كرنے كی اپنے بس بھر ایك منظم كوشش كی اور میر كی شعری عظمت كے فنی اسباب كو شاید پہلی مرتبہ ہمارے سامنے ركھا۔ تنقید ہی نہیں، میر كی پیروی كے دعوے كے ساتھ وجود پانے والی شاعری میں بھی میر كی قدرتِ كلام اور دقتِ اظہار كے معمولی عناصر بھی منتقل نہیں ہوئے، كیونكہ عقاب كی پروازكی روایت چڑیاں نہیں نبھا سكتیں۔ تو میر ان معنوں میں بہت اكیلے ہیں۔

انسان جس دنیا میں رہتا ہے، وہ شعور و وجود كے قطبیں پر قائم ہے، اور object اور subject كے رشتوں پر چلنے والی دنیا ہے۔ object یعنی شعور كا ہدف، یعنی شے، اور subject یعنی انا، یعنی ذہن۔ انسان خود ایک سرگرمی ہے اور اس سرگرمی كا پورا دائرہ subject اور object كی مستقل اور عارضی نسبتوں سے بنا ہے۔ شاعری میں، یا دوسرے لفظوں میں شاعری كی دنیا میں subject آدمی ہے اور object لفظ۔ كسی شاعر كے مرتبے كا تعین كرتے وقت سب سے پہلے یہ دیكھا جاتا ہے كہ اس كی شاعری میں لفظ اور آدمی كے درمیان كارفرما جبری نسبت كہاں تك اختیاری بنی ہے، یا ذہنی، حسی اور عملی نسبت كس حد تك تخلیقی بنی ہے۔ بڑا شاعر ان دونوں كی تشكیلِ نو كرتا ہے اور انہیں نئے نئے فنی اور نفسیاتی مراحلِ تكمیل سے گزار كر ان كے درمیان تازہ نسبتیں اور معنویتیں دریافت كرتا ہے۔ اور شاعر اگر رومی جیسا ہو تو لفظ اور آدمی میں ایك جدلیاتی مزاجِِ تعلق پیدا كر كے انہیں اس كُل میں كھپا دیتا ہے جہاں ان كی دوئی بھی رفع ہو جاتی ہے۔ لیكن خیر، میر بہرحال رومی نہیں ہیں، ان كی سب بڑائیاں شاعرانہ ہی ہیں، عارفانہ نہیں۔ تو میر كی شاعری كو اگر اس پہلو سے دیكھا جائے كہ انہوں نے لفظ كو كہاں تك پہنچایا اور انسان كے بارے میں ہمارے بنے بنائے تصور میں كن گہرائیوں كا اضافہ كیا؟ تو ہم پر ان كی بڑائی بالكل واضح ہو جائے گی۔ جس شاعر كو بھی بڑا شاعر كہا جاتا ہے، اس كی شاعری میں یہ دو باتیں ضرور دیكھنی چاہییں۔ پھر یہ ہو گا كہ یا تو اس كا واقعی بڑا ہونا یقین كے ساتھ واضح ہو جائے گا یا پھر یہ پتا چل جائے گا كہ اس كی عظمت ایك دھوكا ہے، ایك propaganda ہے۔ جو شاعر لفظ كی لفظیت میں اور آدمی كی آدمیت میں كچھ اضافے نہ كرے اور ان اضافوں كو خیال اور احساس كی سطح پر مربوط رہنے كے نئے زاویے فراہم نہ كرے، ان كے درمیان نئے پل نہ بنائے، وہ بڑا شاعر نہیں ہے۔

لفظ ہو یا آدمی، دونوں حتماً متعین ہیں اور ان كی تعریفات كم و بیش مكمل ہیں۔ لفظ كو دوبارہ بننے كی ضرورت نہیں ہے اور آدمی كو پھر سے define ہونے كی حاجت نہیں ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ ایك fixity ہیں جس میں كوئی اسٹركچرل انقلاب ممكن ہے نہ ضروری۔ تاہم بڑا شاعر اس fixity كے اندر كے ماحول كو بدل دیتا ہے۔ یعنی لفظ اور انسان كے اندر معنویت، احوال اور كیفیات وغیرہ كا ایك نظام كار فرما ہے، بڑا شاعر ان سب كے درمیان تعلق كی نئی نئی جہتیں نكالتا ہے، انہیں آگے پیچھے كر كے ان میں توسیع اور تنوع كی گنجائش بڑھاتا ہے اور ان كے درمیان كچھ ترجیحات كو داخل كر دیتا ہے۔ حتی كہ ان كے آپسی تعامل كو نئے مركز بھی فراہم كرتا ہے۔ ذرا لفظ ہی پر غور كیجیے كہ اس كی معنویت اور كیفیت كو نئے معنی اور نئے حال میں ڈھال دینا كوئی معمولی كام ہے! اسی طرح انسان كے اندر احوال، كیفیات، احساسات، جذبات، خیالات اور افكار كے كچھ فاعلی اور انفعالی جوہر ہیں، ان كو reshuffle كر كے ان كے درمیان نئی نسبتوں كو فعال كر كے انہیں كوئی تازہ مركزیت اور نیا context فراہم كر دینا اچھے بھلے شاعروں كے بس كی بات نہیں ہے۔ یہاں یہ خیال رہے كہ جب ہم لفظ كہتے ہیں تو اس سے مراد پوری زبان بلكہ زبان كا آركیٹائپ ہے، اور انسان وہ فرد ہے جس میں پوری نوع سمائی ہوئی ہے بلكہ وہ فرد نوع سے زیادہ مكمل ہو جانے كی استعداد ركھتا ہے۔ یہ خیال رہے، یہ ہماری اب تك كی باتوں كا مستقل پس منظر اور لازمی تناظر ہے۔ بڑا شاعر انسان كی نوع پر وارد ہونے والی مسلمہ تعریف كو محض میكانكی اور تصوری نہیں رہنے دیتا، اسے انفرادی اور شخصی بھی بنا دیتا ہے۔ اس سطح پر اردو شاعری میں میر كے سوا كسی كا گزر نہیں۔ یہ شاعری كی زمین پر بلند ترین مینار بنانے كا گارا ہے جو ہماری شاعری میں صرف ایك مینار كی تعمیر میں پوری طرح صرف ہوا، اور وہ ہے میر كی شاعری كا مینار۔ میر كی بڑائی كا یہ عالم ہے كہ آپ كسی بڑے اردو شاعر كا كچھ مشترك امور میں میر كے ساتھ موازنہ كرنے كی كوشش كریں گے تو اس شاعر كی عظمت مشتبہ ہو جائے گی۔ میر سے موازنہ كوالیفائی كرنے كے لیے، یوں كہہ لیں كہ، حافظ ہونا ضروری ہے۔

تو یہ ہیں وہ صاحب جن كا كچھ كلام پڑھنے كی ہم كوشش كریں گے مگر پہلے یاددہانی كے لیے عرض كر رہا ہوں كہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے كہ یہ وہ آدمی ہے جس نے لفظوں كی مسیحائی كی ہے اور اس كے ساتھ ساتھ آدمیت كے بہت سے معطل حصوں كی بیداری كا سامان بھی كیا ہے۔ میر وہ شاعر ہے جس كے لمسِ اظہار سے مردہ لفظ زندہ ہو جاتا ہے اور زندہ لفظ ابدیت حاصل كر لیتا ہے۔ اور دوسری طرف آپ دیكھیں تو صاف نظر آئے گا كہ ہمارے عقائد و نظریات، خیالات و افكار ہمیں گویا ہمارے مكان كی آخری منزل تك محدود ركھتے ہیں۔ ان كی وجہ سے ہم اس گھر كی نچلی منزلوں سے لاتعلق رہ جاتے ہیں۔ میر نے آ كر دكھایا كہ اس كئی منزلہ عمارت كا تہہ خانہ بھی اس كی سب سے اونچی منزل كی ضرورت ہے، اور اس تہہ خانے اور بقیہ تمام منزلوں كے درمیان ایك بہت زندہ نسبت ہے۔ میر نے معمولی ترین احساسات اور تجربات كو روحانی وجود اور مابعد الطبیعی ذہن میں راسخ تخیلات، افكار، نظریات اور جذبات و احساسات سے متعلق كر دكھایا۔ اس كے علاوہ ان كی شاعری یہ تجربہ كروا دیتی ہے كہ احساس كی ایك سطح ایسی بھی ہوتی ہے جہاں آدمی ذہن سے مستغنی ہو كر معنی كی تہہ داریاں سیر كر لیتا ہے۔ میر نے احساس كی توسیع كر كے بڑے بڑے معانی كو ذہن كے چنگل سے نكال دكھایا ہے۔ مثال كے طور پر ہمارے اندر ذہن اور طبیعت كی لڑائی چلتی رہتی ہے۔ ہمارا تصور یہی ہے كہ اس لڑائی میں فتح ذہن كی ہونی چاہیے۔ میر كو پڑھتے ہیں تو وہ جیسے جھڑك كر كہتے ہیں كہ تمہارے پاس ذہن ہے نہ طبیعت۔ تمہیں كیا معلوم كہ ذہن اور طبیعت میں صرف لڑائی كا تعلق نہیں ہے بلكہ كچھ مراحل ایسے آتے ہیں جہاں طبیعت ذہن كی دستگیری كرتی ہے۔ ذہن كو جس حالتِ حضور كی تمنا ہے، اسے ذہن خود سے حاصل نہیں كر سكتا۔ ذہن كی یہ آرزو طبیعت كی امداد كے بغیر پوری نہیں ہو سكتی۔ میر كی شاعری میں طبیعت اپنے پورے وفور كے ساتھ ذہن كی اسی تمنا كی تكمیل كرتی ہے۔ طبیعت تو آپ سمجھتے ہیں ناں؟ جبلت اور احساس كا مجموعہ! میر كو پڑھتے وقت كم از كم مجھے تو اس اصولی بات كی یاد دہانی ہوتی رہتی ہے كہ شعور، یعنی ذہنی اور وجودی دونوں حالتوں میں، ایك مادۂ حضور اور ایك مادۂ غیاب سے بنا ہے۔ وجود كے بھی یہی دو اصول ہیں، ظاہر ہے مگر مخفی بھی، اور حاضر ہے مگر غائب بھی۔ طبیعت یعنی حس و احساس كی شمولیت كے بغیر شعور كی استعدادِ حضور بیدار نہیں ہوتی۔ میر اپنے كلیات كے تقریباً ہر صفحے پر پڑھنے والے كو یہ مشاہدہ كروا دیتے ہیں كہ احساس كس طرح ذہن كی كفالت كرتا ہے اور طبیعت كتنی گہرائی كے ساتھ ذہن پر چھائی ہوئی دھند كو صاف كر دیتی ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے، بہت ہی بڑی بات۔ جہاں لوگ فكر و خیال وغیرہ كو پالش كر كر كے ان میں چكا چوند پیدا كرنے كی مصنوعی كوشش كرتے ہیں، وہاں میر واقعتا بڑے تخیلات و تصورات كو احساس كی كائنات كے ایك گوشے میں صرف كر كے دكھا دیتے ہیں اور اس میں بھی مبالغے كا رنگ یا تو بالكل نہیں ہوتا، یا ہوتا بھی ہے تو بہت ہی كم۔ مبالغہ شاعری كی بڑی ضرورت ہے مگر میر اسے كم ہی كام میں لاتے ہیں۔ وہ اپنی باتوں كو قاری كے لیے بے تكلفی كے ساتھ لائقِ تجربہ بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے ان كے ہاں پیچیدگی كم نظر آتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے كہ ہمارے احوال اب تك ادھورے تھے، میر ان كی تكمیل كر رہے ہیں، ایک زندہ اور فطری ڈھب سے۔

یہ انسان كی بڑی آرزو ہے كہ وہ خیال كو تجربہ كر لے، علمِ یقین كو عینِ یقین بنا لے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے نہیں كہا تھا كہ یا اللہ مجھے دكھا دیجیے كہ آپ مردوں كو كس طرح زندہ كرتے ہیں تا كہ مجھے دل كا اطمینان نصیب ہو جائے! سیدنا ابراہیمؑ كی اس طلب تك تو ظاہر ہے كہ ہم نہیں پہنچ سكتے، انہیں تو خود بھی یقین تھا كہ میری كوئی طلب پوری ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سكتی۔ ہم بھلا اس درجۂ طلب تك كیسے پہنچیں گے، ہماری اوقات ہی كیا ہے۔ ہم تو محض اپنی بات كو ایك اٹل سند فراہم كر رہے ہیں كہ یہ آرزو بے اصل نہیں ہے۔ تو خیر، اس واقعے سے اتنا تو ثابت ہے كہ دل كا اطمینان، عقل اپنی بہترین قوتوں كو استعمال میں لا كر فراہم نہیں كر سكتی۔ اس كے لیے ایك شدتِ احساس دركار ہے جس سے ذہن بھی سیراب ہو جاتا ہے اور سب سے بڑھ كر یہیں شعور اور وجود كی اس عینیت(identity) اور وحدت كا انكشاف یا جزوی انكشاف ہو جاتا ہے جو ان دونوں كی مشتركہ منزل ہے۔ ہماری اصطلاح میں یہ منزل اطمینانِ نفس كی ہے جو اپنی فوری ساخت میں ذہنی نہیں ہے، طبعی ہے۔ گو كہ میر مثلاًعراقی كی طرح عارف شاعر نہیں ہیں تاہم ان كی شاعری میں یہ تاثیر پائی جاتی ہے كہ اس كے اثر سے حقائق اور معانی كا ذہنی پن كمزور پڑ سكتا ہے اور حقائق كو اطمینان كے حالی تناظر سے محسوسات كی رو میں داخل ہونے كا راستہ كھلتا ہوا دكھائی دے سكتا ہے۔ اس بات کی ذرا اور وضاحت كر دوں كہ ٹی ایس ایلیٹ كی اصطلاح میں میر مابعد الطبیعی شاعر نہیں ہیں۔ ان كی شاعری ہرگز عرفانی نہیں ہے كہ حقائق كا ذہنی یا قلبی حضور فراہم كر سكے، ان كا آدمی بھی كسی حقیقتِ جامعہ كا مظہر نہیں بلكہ محض ایك تہذیبی اور نفسیاتی وجود ہے جس كی گراوٹ اور كمزوری بھی میر كے نزدیك قیمتی اور بامعنی ہے، لیكن اس گوشت پوست كے آدمی كو بھی میر مابعد الطبیعی سیاق و سباق ركھنے والے تصورِ انسان كے مقابلے میں ركھنے كے میلان كے باوجود میر اس كے نفسی بلكہ جبلی در و بسط میں بھی ایسی مربوط تہہ داری كو بر سرِ عمل دكھا دیتے ہیں جو انسان كے بارے میں قائم grand تصورات كے ساتھ عملی اور احوالی ہم آہنگی پیدا كرنے میں مؤثر ہو سكتی ہے یا بنائی جا سكتی ہے۔ یہ وضاحت ضروری تھی كیونكہ مابعد الطبیعیات، دینیات، روحانیت وغیرہ میں میر كی حیثیت كچھ نہیں تھی۔ انہوں نے جہاں جہاں رسمی طور پر ان موضوعات كو ہاتھ لگایا ہے، بچگانہ پن، اناڑی پن اور نا سمجھی ہی كا مظاہرہ كیا ہے۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: