سنجیدگی کا فقدان‎ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ارشد محمود

0
  • 61
    Shares

پاکستان کو مملکت خدا داد کہا جاتا ہے۔ یہ اللہ ہی کا کرم کا ہے کہ اس نے بیک وقت انگریز اور ہندوؤں سے آزادی عطا فرمائی ورنہ دیکھا جائے تو ہم تقسیم ہندوستان کے وقت بھی کچھ کم تقسیم نہیں تھے۔ ایسی بے سمت قوم کو جو مل گیا ہے وہ بھی کم نہیں بلکہ جو ملا ہم اس کا تحفظ کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود احساس تفاخر ہے کہ ہمالیہ سے بڑھا جا رہا ہے۔ ایسی ایسی غلط فہمیوں کو پروان چڑھا رکھا ہے جیسے اپنے دور میں بنی اسرائیل نے اپنے متعلق سوچ رکھا تھا۔ ہم جب تک زمین پر واپس نہیں آتے حقائق کو تسلیم نہیں کرتے۔ راتوں رات ترقی کے نسخوں کو پس پشت ڈال کر صدق دل سے محنت نہیں کرتے۔ جو ملا ہے اس پر شکر ادا نہیں کرتے۔ جب تک سچ کا سامنے کرنے کا حوصلہ نہیں پیدا کرتے ہم ترقی خوشحالی اور شخصی آزادی سے اتنا ہی دور رہیں گے جتنا آج ہیں۔ دوسروں کی برائیوں پر ترقی ممکن ہی نہیں ہمیں اپنی خوبیاں تلاش کرنا ہوں گی۔

پاکستان میں نئی حکومت سے متعلق جو پہلی خوش فہمی تھی وہ اداروں کی مضبوطی اور ان کی آزادی سے متعلق تھی۔ مگر ایک ایسی حکومت جسے ایگزیکٹو کی قوت کا ہی اندازہ نہیں ہو رہا اس سے باقی اداروں کی بہتری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ اور یہ محض پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ پہلے انسان سے لے کر آخری انسان تک سب کو معاشی مسئلے سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔ فرد ہو یا ریاست وہ ان مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ مگر اپنی عصمت کا سودا نہیں کرتے۔ عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ڈیم بنانا جو سراسر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسے سرکاری وسائل کے استعمال سے تعمیر کرنا ہے یا نجی شعبے کی مدد سے اسے عملی شکل دینی ہے کا فیصلہ بھی بہرحال حکومت کو کرنا ہوتا ہے۔ مگر جس بھونڈے انداز سے لوگوں سے چندہ مانگا جا رہا ہے یہ ریاست کے معاشی دیوالیہ ہونے کا غیر سرکاری اعتراف ہے۔ آج دنیا میں معاشی ساکھ ملکوں کی مجموعی ساکھ پر حاوی سمجھی جاتی ہے۔ ہم لوگوں کو کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں اسلحے کی خرید کے لئے خرچ کرنے والا نواں ملک اتنا ہی لاچار ہے کہ ایک ڈیم تک نہیں بنا سکتا۔

ہم کیوں تماشا بننا چاہتے ہیں۔ گزشتہ حکومت کا دعوی ہے کہ مذکورہ ڈیم کے لئے زمین انہوں سے واگزار کرا لی ہے۔ موجودہ بجٹ میں تعمیری کام کو شروع کرنے کے لئے سو ارب کی رقم مختص کر رکھی ہے۔ اگر یہ دعوی غلط ہے تو حکومت کو چاہئیے کہ سچ عوام کے سامنے لائے۔ اور اگر سچ ہے تو سوال بنتا ہے کہ جن کی کرپشن کی داستانیں سنا کر آپ ایوانوں تک پہنچے ہیں وہ سرکاری وسائل کا بندوبست بغیر چندے کے کیسے کر گئے۔ گزشتہ حکومت یہ بھی دعوی کرتی ہے کہ انہوں نے جو قرض لیا ہے اس سے کئی منصوبے مکمل کئے ہیں۔ اور بہت سے قرض واپس بھی کیا ہے۔ اگر یہ دعوے درست نہیں ہیں تو ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ انہیں جھٹلایا جائے۔ یا پھر اپنی کمزوری اور کوتاہ بینی کا اعتراف کیا جائے۔

ہم دعا گو ہیں کہ حکومت جن دعووں پر قائم ہوئی ہے وہ سارے پورے ہوں۔ پاکستان میں حکومتی عملداری مضبوط تر ہو۔ شدت پسندی کا خاتمہ ہو۔ پاکستان دنیا کے نقشے عزت کے ساتھ قائم رہے۔

حکومت کی ساکھ کو جانچنے کے لئے اس کی فیصلہ سازی کی قوت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اب تک کابینہ نے جو کامیاب فیصلے کئے ہیں وہ نواز شریف اور ان کی فیملی کے افراد کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے احکامات ہیں یا پھر انٹرپول کے ذریعے سابقہ وزیراعظم کی فیملی اور رفقاء کو وطن لانے سے متعلق اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ کی کال کا معاملہ ہو یا پھر بھارت کی جانب سے مذاکرات کے آغاز سے متعلق اڑائی گئی خبر سفارتی نا تجربہ کاری کو ظاہر کر ہی رہی تھیں کہ فرانسیسی صدر کی فون کال سے متعلق انتہائی تضحیک آمیز رویہ اپنایا گیا۔ عمران خان صاحب کو خیال رکھنا ہو گا کہ وہ اب وزیراعظم ہیں اور وہ غلطی نہ بھی کرے تو دوبارہ چانس دینے کی غلطی نہیں کی جاتی۔

اخراجات میں کمی کے اعلانات چاہے کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں ملکی معیشت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر سنجیدگی سے ہی گفتگو اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ مگر عاطف میاں کے معاملے پر جو تماشا کیا گیا وہ حکومتی سنجیدگی کو خوب عیاں کر رہا ہے۔ عاطف میاں کا نام پہلی مرتبہ نہیں لیا گیا۔ اس سے قبل بھی دھرنے کے دنوں میں عمران خان اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت آزما چکے تھے۔ وہ اتنے ناگزیر ہرگز نہ تھے کہ ان کے بغیر ملک نہ چل سکے پھر جانتے بوجھتے یہ حماقت کیوں کی۔ ان کی نامزدگی اگر حماقت تھی تو ان کا نام واپس لینے سے پہلے ڈٹ جانا ایک اور طرز کی حماقت تھی ۔گو کہ اکثریت نام واپس لینے کے عمل کو سراہتی ہے۔ مگر حکومت کو ایسی جگ ہنسائی سے بچنا چاہیے تھا۔

اس کے باوجود ہم دعا گو ہیں کہ حکومت جن دعووں پر قائم ہوئی ہے وہ سارے پورے ہوں۔ پاکستان میں حکومتی عملداری مضبوط تر ہو۔ شدت پسندی کا خاتمہ ہو۔ پاکستان دنیا کے نقشے عزت کے ساتھ قائم رہے۔ پاکستان کے حاسدین اسے نقصان نہ پہنچا سکیں اور دوست ہماری مدد ہی نہ کریں بلکہ ہم سے فیض بھی پائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: