پاک امریکہ تعلقات: آگے بڑھنے کا راستہ —– ضمیر اعوان

0
  • 829
    Shares

جب سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو اس بدھ کو پاکستان کا دورہ کریں گے تو وہ ایک ایسی قوم کی نمائندگی کر رہے ہوں گے جس نے اسلام آباد سے سب سے پہلے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم اس کے بعد کی سات دہائیوں کے دوران پاک امریکہ تعلقات ناہمواری کا شکار رہے ہیں۔

سرد جنگ کے دوران پاکستان امریکہ کا ایک بڑا حمایتی تھا اور وہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتا رہا، جس میں افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کا دور بھی شامل ہے۔ 11 ستمبر 2001 کو پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی امریکہ کا قریبی اتحادی تھا۔

تاہم اگرچہ جب کبھی امریکہ کو ضرورت پڑی پاکستان نے پرتپاک انداز میں اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہے مگر امریکہ کو جب کسی معاملے میں پاکستان کی ضرورت باقی نہیں رہی، وہ ہمیشہ پیچھے ہٹا ہے اور اس کی وجہ سے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ پاکستان کو امریکی تاریخ کی چند شدید ترین اور سخت ترین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دونوں ممالک نے مشترکہ مقاصد اور مفادات کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا ہے، اگرچہ امریکہ پاکستان کے مفادات کو اہمیت دینے میں ناکام رہا ہے اور مسلسل مطالبات کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی قیادت کا پیغام “ڈو مور” کا رہا ہے، اور اس نے پاکستان کے محدودات اور مفادات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

گذشتہ کئی سالوں سے امریکہ پاکستان پر الزام تراشیاں کرتا اور دھمکیاں دیتا آیا ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان کچھ مسائل موجود رہے ہیں اور ان میں سے چند ایک واقعی حقیقی ہو سکتے ہیں لیکن بہت سے خالصتاً غلط فہمیوں پر مبنی ہیں۔

امریکی الزامات
ان مسائل میں ایک امریکہ کا یہ الزام ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے طالبان کو نکالنے میں ناکام رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سپر پاور ہونے، افغانستا ن میں بھاری افواج کی موجودگی، جدید ترین اور نفیس ترین ہتھیاروں اور اقوام متحدہ اور پوری عالمی برادری کی سیاسی و اخلاقی حمایت کے باوجود امریکہ افغانستان سے طالبان کا خاتمہ نہیں کر سکا۔ دوسری جانب پاکستان امریکہ کی نسبت ایک کمزور ریاست، معاشی طور پر غریب اور ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پس ماندہ ملک ہے۔ اس لیے جہاں امریکہ ناکام ہو گیا وہاں پاکستان کس طرح طالبان کا مکمل خاتمہ کر سکتا ہے۔ پاکستان کو افغانستا ن میں امریکی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

پاکستان پر دوسرا الزام یہ ہے کہ اس نے طالبان کو محفوظ پناگاہیں فراہم کی ہوئی ہیں جہاں سے وہ اپنے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ ایک بہترین تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوج کے ساتھ کم و بیش 16 سال سے افغانستان میں موجود ہے لیکن وہ افغانستان پر قبضہ کرنے یا اس پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پایا۔
اس وقت طالبان 60 فیصد افغانستان پر قابض ہیں۔ امریکی کابل کی گلیوں میں آزادی سے بلا خوف و خطر نہیں گھوم سکتے۔ وہ فوجی کیمپوں کے باہر محفوظ نہیں ہیں۔ افغانستان میں عملی طور پر امریکی پشت پناہی سے بنی اشرف غنی کی حکومت کے بجائے طالبان کا قبضہ ہے۔ ان حالات میں جبکہ طالبان افغانستان میں آزادی سے اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں تو انہیں پاکستان میں پناہ گا ہوں کی کیا ضرورت ہے؟ خصوصاً جبکہ پاکستان فوج نے افغان حکومت کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں میں ایک وسیع آپریشن کیا ہے اور اس تمام علاقے کو طالبان سے پاک کیا ہے۔

امریکہ تیسرا الزام یہ لگاتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کے لیے پاکستان کو امداد دی ہے لیکن اسے اپنی اس سرمایہ کاری پر منافع بہت کم ملا ہے۔ پاکستان نے 16 برسوں میں 33 ارب ڈالر کی امریکی امداد وصول کی ہے۔

البتہ اس عرصے میں حقیقی معاشی امداد صرف 10.8 ارب ڈالر تین جو کہ اوسطاً 678 ملین ڈالر سالانہ بنتی ہے اور جو بہت معمولی رقم ہے اور جس کی پاکستان کے لیے کوئی بڑی اہمیت نہیں ہے۔ باقی رقم دراصل پاکستان کی طرف سے کئے گئے اخراجات تھے جن کی امریکہ نے توثیق کرنے کے بعد یا تو پاکستان کو رقم دی یا پھر اسے ضروری فوجی ساز و سامان فروخت کیا۔

معاشی امداد کا طریق کار بھی بہت زیادہ سیاست زدہ تھا، یہ امداد یو ایس ایڈ کے ذریعےفراہم کی گئی۔ اس کا کچھ حصہ امریکی مشیروں کے پاس واپس چلا گیا جبکہ کچھ پاکستان کی حکمران یا سیاسی اشرافیہ کو رشوت کے طور پر دیا گیا۔ پاکستانی عوام کے لیے فراہم کی گئی حقیقی امداد بہت معمولی سی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام آدمی تک اس کا کوئی اثر نہیں پہنچ پایا۔ یہ تمام تفصیلات فریقین کے متفقہ طریق کار کی بنیاد پر دستاویزی شکل میں موجود ہیں اور امریکہ جب بھی چاہے ان کا آڈٹ کرا سکتا ہے۔

ایک چوتھا الزام، جسے کھلے انداز میں نہیں عائد کیا جاتا، یہ ہے کہ پاکستان چین کے لیے جگہ پیدا کر رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب سے سویت یونین کے خاتمے نے امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنایا ہے، اس نے مسلمان دنیا میں براہ راست حملے کیے ہیں اور عراق، لیبیا، شام، یمن اور افغانستان جیسے ممالک میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ہے۔ امریکہ نے اس جنگوں سے بڑے پیمانے پر فوائد اٹھائے ہیں اور نئے ہتھیاروں، ٹکنا لوجی اور جنگی تکنیک کے فوری ٹیسٹ اور تجربات کیے ہیں۔

لیکن اب امریکہ کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا آغاز شام سے ہوا جہاں بشارالاسد کو ملک کے صدر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے امریکی قیادت میں تیار کی گئی حکمت عملی کو روس نے ناکام بنا دیا ہے۔ امریکہ شمالی کوریا کو دھمکیاں دینے پر اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرانے کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو یروشلم کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شکست ہوئی ہے جہاں صرف نو ووٹ اس کی حمایت میں اور 128 اس کے خلاف پڑے ہیں جبکہ 35 ملکوں نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ حتی کہ امریکہ کے قریبی اتحادیوں نے بھی اسے ووٹ نہیں دیا۔

دیانت داری سے بات کی جائے تو دنیا کے سامنے امریکہ کا حقیقی چہرہ آ گیا ہے، اس کا کردار پچھلی کئی دہائیوں میں جنگیں، معصوم لوگوں کے قتل، انسانیت کی تباہی، دیگر ممالک کے وسائل پر قبضہ، دوسری اقوام کے خلاف سازشیں، تخریب کاریاں اور نفرتیں پھیلانے پر محیط ہے۔

مصنف

اسی دوران مظلوم قوموں کے لیے چین ایک امید کے استعارے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس نے اپنے بڑے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو (بی آر آئی) کا آغاز کر دیا ہے جس کی مالیت 900 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے برابر ہے۔ اس کی وجہ سے علاقائی سطح پر ممالک آپس میں جڑیں گے، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، غربت کا خاتمہ ہو گااور تعاون اور سیکیورٹی کو فروغ ملے گا۔ سادہ لفظوں میں یہ امن، ہم آہنگی اور ترقی کا پیغام ہے۔

امریکہ کا اندازہ ہے کہ مستقبل قریب میں چین معاشی، سیاسی اور فوجی اعتبار سے ترقی کرے گا۔ امریکہ چین کی تیزرفتار ترقی سے خوفزدہ ہے اور عدم تحفظ کا شکار ہے کہ چین مستقبل قریب میں عالمی قیادت کے حوالے سے ان کا حریف بن سکتا ہے۔ وہ چین کے پر کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے اردگرد موجود بھارت، جاپان، ویتنام، میانمار اور فلپائن جیسے ممالک کو اپنا قریبی اتحادی بنا رہا ہے۔

امریکہ شاید پاکستان سے یہ امیدیں باندھے ہوئے ہے کہ وہ چین کے پر کاٹنے میں اس کی مدد کرے گا حالانکہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی جزو ہے۔ ہر قسم کے موسم میں سرخرو رہنے والی یہ دوستی ہر پہلو سے آزمائی جا چکی ہے۔ ہمارے تعلقات ایک دوسرے کے احترام، عدم مداخلت اور باہمی مفادات پر مبنی ہیں اور بہترین بین الاقوامی طریق کار کے عین مطابق ہیں۔

پاکستان بی آر آئی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس سے ثمرات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ پاکستان اور چین “چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک)” پر مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اسے دنیا کے سامنے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات پر بالکل سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ اس دوران سی پیک میں روڑے اٹکانے کے لیے امریکہ بھارت کو استعمال کر رہا ہے اور اسے جدید ترین ٹیکنالوجی، ہتھیار، نئی چالوں، نقل و حمل اور جاسوسی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان کی تشویش
امریکہ بھارت کو فوجی امداد فراہم کر رہا ہے جو کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی فراہمی سے بھارت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنا سکتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف خطے میں عدم استحکام ہو گا بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی۔ حال ہی میں 8 ارب ڈالر کا ہتھیاروں کا معاہدہ خطے کے لیے براہ راست خطرے کا باعث ہے اور یہ بھارت اور اس کے دیگر پڑوسیوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ اور جھگڑے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

امریکی پالیسیاں دنیا کی کئی اقوام کے لیے جارحانہ ہیں جن کا مقصد انہیں دوسری طرف کے کلب کا حصہ بننے پر مجبور کرنا ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ اسے اپنی موجودہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے اور ابھرتے ہوئے رجحانات کی تفہیم اور دوسروں کی ضروریات کا احترام کرنا چاہیے۔

امریکہ نے پاکستان کی امداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ امریکی امداد بہت معمولی سی ہے اور پاکستان مزید امریکی امداد کا محتاج نہیں رہا۔ سی پیک کے آغاز کے بعد خصوصاً امریکی امداد پاکستان کے لیے بے معنی ہے۔

امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ امریکہ کو اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیےاور جو ابتری اس نے افغانستان میں پھیلائی ہے اس کا سامنا کرنا چاہیے۔

امریکہ افغانستان میں پاکستان کی جگہ بھارت کو کردار دینا چاہتا ہے جو ممکن نہیں ہے۔ بھارت کی افغانستان کے ساتھ کوئی مشترکہ سرحد نہیں ہے اور دونوں کے درمیان کوئی چیز مشترک نہیں ہے اور نہ ہی اسے افغان ثقافت، روایات اور تاریخ کی کوئی سمجھ ہے۔ جہاں تک پاکستان کو تعلق ہے تو افغانستان کے ساتھ اس کی مشترکہ سرحد بھی ہےاور ثقافت، روایات، مذہب، نسل اور خون کے رشتے بھی مشترک ہیں۔ 180 کی دہائی سے پاکستان نے تیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ امریکہ کو زمینی حقائق اور پاکستان کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔

امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بی آر آئی، سی پیک اور خود چین کی مخالفت کرے۔ لیکن امریکہ کا کوئی حربہ پاک چین تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور سی پیک ہر قیمت پر آگے بڑھتا رہے گا۔ پاکستان اور چین ایک ہی صفحے پر ہیں اور دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

“دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں پاکستان کو 123 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان نے 70000 سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جس میں 5000 سیکیورٹی حکام اور حتی کہ بچے بھی شامل تھے۔ ہم نے سرکاری طور پر 35 لاکھ افغانیوں کی میزبانی کی ہے لیکن غیرسرکاری طور پر حقیقی تعداد پچاس لاکھ تک ہے۔ “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کی وجہ سے ہمیں منشیات، بندوق کا کلچر اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران پاکستان ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک تھا لیکن “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کی وجہ سے ہمیں شدید دھچکا لگا اور ہم عالمی برادری میں اپنی جگہ کھو بیٹھے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ دنیا ہمارے کردار کو سراہے گی اور ہمارے نقصانات کی تلافی کرے گی۔ ہمارا بنیادی کردار تسلیم کیا جائے گا اور “امن، استحکام اور خوشحالی” کے لیے ہماری جدوجہد کی حمایت کی جائے گی۔ ہم عالمی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی خودمختاری قائم رکھنے اور اپنے قومی مفادات کے تحت خود فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم اپنی ترجیحات خود طے کرنا چاہتے ہیں اور باقی دنیا کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے جینا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت اور خطے میں اس کے اہم کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ دنیا کے اس حصے میں کوئی دوسرا ملک پاکستان کی جگہ نہیں لے سکتا۔

آگے بڑھنے کا راستہ
پاکستان امن پسند ملک ہے اور اقوام متحدہ کی امن افواج میں ہمارا کردار قابل تعریف رہا ہے۔ “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں ہماری قربانیاں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔

ہم اس کرہ ارض پر امن، استحکام اور خوشحالی کا فروغ چاہتے ہیں۔ اس خطے میں ہمارا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ امریکہ کے تھنک ٹینک اور اس کی فوجی قیادت پاکستان کی اہمیت اور اس کے بنیادی کردار کو جانتے ہیں۔

پاکستان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور “امن، استحکام اور خوشحالی” کی مشترکہ منزل کے حصول کے لیے ہر ممکن مدد اور تعاون کرے گا۔ ہم تمام ممالک بشمول امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔


ایشیا ٹائمز میں شایع ہونے والا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے

Professor Zamir Ahmed Awan is a sinologist at the National University of Sciences and Technology (NUST) Chinese Studies Center of Excellence, Islamabad, Pakistan. Posted to the Pakistani Embassy in Beijing as science counselor (technical affairs) from 2010-16, he was responsible for promoting cooperation between Pakistan and China in science, technology, and higher education. 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: