عمران خان، عاطف میاں اور تبدیلی — تہامی بشر علوی

0
  • 16
    Shares

خدا خورشیداحمد ندیم کا بھلا کرے کہ ان کے فیضِ فکر سے یہ جاننا سہل ہوا کہ کسی سماجی تبدیلی سے گزرے بغیر تبدیلی کا ہر نعرا سراب کے سوا کچھ نہیں۔ سماجی حقائق اپنی جگہ بدستور قائم رہیں تو، سیاسی میدان سے تبدیلی کے جو تیر مارے جا سکتے ہیں، وہ سب عاطف میاں کے قصے نے دو اور دو چار کی طرح واضح کر چھوڑا۔سچ یہ ہے کہ کسی امید سے بیٹھے، تبدیلی کے کھلاڑیوں کے لیے بھی، اپنی بے کنار امیدیں ٹھکانے لگانے کا مناسب وقت ہوا چاہتا ہے۔ ان کی بھلائی اب اسی میں ہے کہ چار و ناچار اب، سماجی حقیقتوں سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ برسوں پہلے غالب کا کہا یاد آیا:

تھک تھک کے ہر مقام پہ دوچار رہ گئے                    تیرا پتا نہ پائیں تو ناچار کیا کریں

جنابِ خان کا جذبہ سلامت رہے کہ ہمیں اس میں داغ نظر نہیں آتا، مگر کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں، جو اب بدلیں گی؟ ان سنگلاخ راہوں پر بڑھنے کے لیے ناچار انھیں بھی خود کو ہی بدلنا پڑے گا۔ان کی سلامتی کی راہ بھی اسی میں ہے کہ وہ بڑے بڑے اچھے کام کر گزرنے کے خبط سے نکلیں اور صرف چھوٹے چھوٹے ممکن کاموں کی طرف متوجہ ہوں۔ سماجی حقیقتیں بدلنے کی سعی کے لیے جس صنف کا جگر و خردچاہیے،  وہ بہرحال اہلِ سیاست کے سَرو سینہ میں نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو کسی کام کا نہیں رہتا۔ کوچہِ سیاست میں اب  ہر کوئی مہاتما گاندھی جیسا صاحبِ جگر و خرد بھی نہیں ہوتا کہ اپنے ویژن کی اپنےہی خوں سے آبیاری کرگزرے۔ حالات کسی کے سانچے میں ڈھلنے کی بجائے، کسی کو اپنے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔ حالات کی اک ہی کاری ضرب سے صورت یوں بدل جاتی ہے کہ خود اپنی ہی تصویر اپنے آپ سے نہیں مل رہی ہوتی۔ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی، سماج کے جن کندھوں پر اٹھائی جاتی ہے، کون وزیرِ اعظم ہو گا کہ جو ان کاندھوں کو ہی کاٹ ڈالے؟ تلخ سماجی حقیقتوں کے سامنے کی تاب لانا، سرسریت پسندوں کے بس کا روگ ہی نہیں۔  اپنے دماغوں میں سوچنے کی ہمت رکھنے والوں کو یاد رہنا چاہیے کہ تبدیلی کے کسی بھی سفر سے پہلے اپنے سماج کی درست تفہیم ضروری ہے۔ سماجی حقیقتوں کو نظر انداز کر لینے کے بعد تو بس

“محبت بری ہے، بری ہے محبت      کہے جا رہا ہوں،کیے جا رہا ہوں”

کا ڈھونگ ہی رچایا جا سکتا ہے۔

خان صاحب نے اگر عاطف میاں کو اپنی قابلیت پر وہ منصب دیا،جو اس کا آئینی حق بھی تھا، تو اس میں دین و آئین کی رو سے تو برا کچھ نہ ہوا تھا مگر ان کا یہ اقدام سماجی حقیقتوں کےعین بر خلاف تھا، جس کا سامنا کر سکنے کی تاب ان کے بس کا روگ نہ تھا۔یوں خلقِ خدا نے دیکھا کہ خان صاحب کے لیے اپنے اقدام پر چند روز بھی ٹکنا ممکن نہ رہا۔

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہ           تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری، ہائے ہائے

خان صاحب دعویٰ کناں تھے کہ انھیں بس مقابلہ کرنا آتا ہے۔جب کہ اب پہلے ہی مرحلے پر، بہ زبان حال انھیں کہنا پڑا :

تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے        میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد

ہمارے سماج میں مذہب کی جو تفہیم سرایت کیے ہوئے ہے، اس کی مناسب سمجھ رکھنے والاشخص، ایسا کوئی اقدام یوں ان جانے میں نہیں کر سکتا کہ اس کے چند روز بعد ہی اسے خاک چاٹنی پڑ جائے۔ اس اقدام کے دبنگ حامی، جنابِ فواد چوہدری کا شعلہِ گفتار بھی ابھرا مگر سماجی حقیقت سے ٹکرایا تو خاک ہو گیا۔

بہرحال، اس ابتدائی جھٹکے سے کھل جانا چاہیے کہ تبدیلی کی گاڑی جن راہوں سے گزرنا چاہتی ہے، وہاں آگے اس سے بھی زیادہ سخت گزار چٹانیں آ رہی ہیں۔ جس کے دل میں یہ آشوب غم سہنے کا حوصلہ نہ ہو، اس کے لیے زیبا یہی ہے کہ سماجی حقائق کو چھیڑے بغیر،بس جتنا کچھ ممکن ہے اس میں سے ہی کچھ بھلا کر دے، یعنی گر کچھ نہیں تو یہی عزتِ سادات تو بچی رہے۔ خان صاحب کے بس کا روگ یہی ہے کہ وہ بس کچھ برا نہ کریں، مثلاً کریپشن وریپشن وغیرہ۔ وہ اگر بہت زیادہ اچھا کرنے کو تل جائیں گے تو مبادا منصب سے ہی جانا پڑے۔

معیشیت کے میدان کو ممتاز ماہرین فراہم کر چکنے کے بعداب خان صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ تعلیم کو سدھارنے چل پڑے ہیں۔ وہ سماجی حقیقتوں کو یہاں بھی نظر انداز کر کے یہ ٹھانے ہوئے ہیں کہ سکول و مدرسہ کی تعلیم کا فرق مٹا کر، کوئی یکساں نظامِ تعلیم رائج کریں گے۔اب یہاں بھی ان سے جو ہونے جا رہا ہے کسی طرح بھی کسی  نوشتہِ دیوار سے کم نہیں۔ وقت جیسے استاد کے ہوتے ہوئے ہمیں سبھی کچھ آج ہی “سمجھانے” کی ایسی بھی جلدی کیا ہے۔

“ہم” کو آنے کی “ترے” راہ پہ جلدی کیسی     وقت آنے پہ کبھی خود ہی سدھر ‘جاؤ” گے۔

بہر حال اب حکومت بن جانے کے بعد بھی وہی تبدیلی کے ترانے سننے بجانے کی بد ذوقی کی بجائے، چترا سنگھ کی گائی ہوئی، اور ندا فاضلی کی  لکھی ہوئی یہ غزل سنتے رہنا چاہیے:

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا
خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو۔

میدانِ سیاست کو کوچہِ عشق سمجھ کرکودنے والوں کو بھی استاذ میر کا یہ شعر یاد کر لینا چاہیے تاکہ اگلے وقتوں میں گنگنانا آسان رہے:

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم            اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: