عارف علوی: ایوان صدر کو آواز مل گئی — شاہد اعوان

0
  • 104
    Shares

ایوان صدر کی غلام گردشوں میں اس روز صدر دروازے سے مرکزی ہال تک گہما گہمی کا منظر بہت مختلف اور زندگی سے بھرپور تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس ایوان کا کردار چند برس قبل تک ریشہ دوانیوں اور سازشوں سےبھرپور تھا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعدایک بے روح اور نمائشی صدر اپنے تمام تر شکوہ کے باوجودعملاََ عضو معطل ہی نظر آتا رہا۔

سابق صدر ممنون حسین ایک علم دوست اور وضعدار شخصیت کے مالک تھے، اپنے فعال اور مستعد نائبین کی بدولت انہوں نے اس ایوان کی برسوں پرانی روایت میں تبدیلی کرتے ہوئے بہت سے اقدامات کئے۔ یوم قائد اعظم پہ بچوں کی تقاریب ہوں یا نئی کتب کی تقریب رونمائی جیسی غیر روایتی تقاریب، ممنون صاحب روایت شکن ثابت ہوئے۔ بس یہ کہ جناب صدر سے کچھ سننے کی خواہش اس وقت تک پوری نہ ہوئی جب ایک تقریب میں انہوں نے ذومعنی انداز میں کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خلاف کھل کے بات کی یا سود کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا۔ اسکے علاوہ انکا دور ایک باوقار خاموشی کا دور ثابت ہوا۔

گزشتہ روز نئے صدر جناب عارف علوی کی حلف برداری کی تقریب آنے والے وقت کا ایک بدلتا ہوا منظر پیش کررہی تھی۔ کراچی سے آنے والے مسلسل چوتھے صدر کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر، زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد سےکھچا کھچ بھرا ایوان صدر کا مرکزی ہال اسی امید اور جوش و خروش کا منظر پیش کررہا تھا جو نئی حکومت کے آتے ہی پوری قوم محسوس کررہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان، گورنرز، عسکری قیادت، وزرا، غیر ملکی سفرا اور عسکری نمایندے، شاعر، ادیب، صحافی، گلوکار اور عام عوام کی کثیر تعدادمیں موجودگی پہلی مرتبہ کسی عوامی صدر سے عوام کے تعلق کو ظاہر کررہی تھی، جس کی بنیاد “اختیار” سے زیادہ اعتماد اور کروفر کے مظاہرے سے زیادہ عوام سے تعلق پر تھی۔ گلوکار سلمان خان سے اسکواش چمپئین جہانگیر خان اور قبلہ ایاز سے ڈاکٹر خالد مسعود جیسے دانشور، اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر غازی، کے پی سے منتخب ہونے والی اہلسنت وزیر مذہبی امور اور دیگر علما تک اس بھرپور محفل میں موجود تھے۔ بزرگ صحافی چودھری غلام حسین، فواد حسن سے سرگوشیوں میں مصروف نظر آئے اور کچھ نو آموز صحافی علیم خان سے سرگوشی کرسکنے کی پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ٹی وی چینلز کے مخصوص حامی اینکرز کے علاوہ “صدا کے ہرے” صالح ظافر جیسے صحافی اُسی طرح بروئے کار نظر آئے جیسے ہر دور میں، اس باب میں تبدیلی آنا ابھی باقی ہے۔

حلف کی عبارت خوانی کا منظر، عمران خان کے منظر سے یکسر مختلف نظر آیا، جناب چیف جسٹس صاحب، عبارت کو درست انداز میں پڑھنے کی ” مقتضیات” نبھانے سے “کماحقہ” قاصر نظر آئے۔ ایک سے زائد الفاظ کا تلفظ غلط ادا کیا جسے عارف علوی نے زیر لب تبسم کے ساتھ درست انداز سے ادا کرکے شاید اپنے وزیر اعظم کی غلطی کا ازالہ کیا۔ پچھلی دفعہ حلف لینے والے نے اپنے اہل زبان ہونے کا فائدہ اٹھایا تو اس بار حلف اٹھانے والے نے، دونوں بار فریق ثانی نے ٹھوکر کھائی۔ شروع کے چند جملے تو چیف صاحب نے توڑ توڑ کے ادا کئے مگر تلفظ کی ابتدائی اغلاط کا اندازہ ہونے کے بعد اسکا دف مارنے کو حلف کے باقی طویل جملےایک ہی سانس میں پڑھ کے “مطمئن” ہوتے رہے۔ ویسے موجودہ اسمبلی کو اب اس حلف کی عبارت کی تسہیل -تبدیلی نہیں- کا اہتمام کرلینا چاہئے۔ ہر صدر اہل زبان نہیں ہوتا۔

تقریب کے آغاز اور اختتام پر ہر بار قومی ترانہ بجایا گیا جسے مکمل احترام کے ساتھ کھڑے شرکا اپنی زبان سے بھی دہراتے رہے۔ تقریب کے بعد چائے اور سوکھے بسکٹ تو ملنے کا بہانہ ہی ثابت ہوئے کہ قطار بنا کر کھڑے، بلا مبالغہ سینکڑوں مرد و خواتین اپنی باری پر فرداََ فرداََ صدر صاحب کو مبارکباد پیش کرتے رہے۔ ایک جانب صدر صاحب کے خاندان کی کچھ باحجاب خواتین اور کراچی کی مخصوص وضع قطع والے افراد اس خوبصورت منظر کا حصہ تھے تو وہیں سندھ اور سرائیکی علاقہ سے تعلق رکھنے والے بےشمار سادہ مزاج افراد بھی موجود تھے۔ پرویز خٹک اور عاطف خان سمیت اکثر پختون شرکا اپنی روایتی سادگی اور کھلے ڈلے انداز میں زیادہ تر آپس میں ہی مصروف دیکھنے کو ملے۔ خواتین کی کثیر تعداد میں شرکت البتہ تحریک انصاف روایتی رنگ لئے ہوئے تھی۔

ایوان صدر کا یہ پہلا اعوان صدر (اردو بولنے والوں کے ہاں اعوان، علوی کہلاتے ہیں) اپنے عوامی مزاج، بلند آہنگ طرز اظہار اور علمی پس منظر کے باعث ایک متحرک اور بولتا ہوا صدر نظر آتا ہے۔ ہماری توقع ہے کہ صدر کے رسمی آئینی کردار کے باوجود دستیاب گنجائش کے بھرپور استعمال سے علوی صاحب اس ایوان کو ایک زندہ ایوان بناسکیں گے۔ تخلیقی مزاج کو بروئے کار آنے کے لئے پابندیاں مہمیز کا کام کرتی ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: