ہم نفسوں کی بزم میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 23
    Shares

شمیم حنفی بھارت کے مشہور ادیب ،نقاد،کالم نگار، ڈرامہ نگار اور مترجم ہیں۔ شمیم حنفی 1938ء میں سلطان پوریوپی میں پیدا ہوئے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے انہوں نے ایم اے اردو اور ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ فراق گورکھپوری، احتشام حسین، اعجاز حسین اور ستیش چندر دیب جیسے صاحبانِ علم و فضل ان کے اساتذہ میں شامل رہے۔ چھ سال علی گڑھ یونیورسٹی میں تعلیم و تدریس سے منسلک رہنے کے بعد شمیم حنفی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہو گئے۔ جہاں 2003ء میں ریٹائرمنٹ تک پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد اسی ادارے سے پرفیسر ایمری طس کی حیثیت سے اب تک منسلک ہیں۔ شمیم حنفی نے تنقید کے ساتھ خاکے، ڈرامے اور کالم بھی لکھے۔ تراجم کئے اور کئی کتب کو مرتب بھی کیا۔ ان کا شمار اردو کے نامور نقادوں میں کیا جاتا ہے۔

شمیم حنفی کی تحریر اور مرتب کردہ کتب میں ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘، ’’غزل کا نیا منظر نامہ‘‘، ’’پریم چندکے منتخب افسانے‘‘، ’’کہانی کے پانچ رنگ‘‘، ’’فراق، شعر و شخص‘‘ ، ’’فراق، دیارِ شب کا مسافر‘‘ ، ’’اردو کلچر اور تقسیم کی وراثت‘‘، ’’سرسید سے اکبر تک‘‘، ’’منٹو حقیقت سے افسانے تک‘‘، ’’اقبال کاحرفِ تمنا‘‘، ’’میرا جی اور ان کا نگار خانہ‘‘، ’’کالموں کا مجموعہ ’’یہ کس خواب کا تماشا ہے‘‘، ’دکانِ شیشہ گراں‘‘ اور خاکوں کی کتاب ’’ہم سفروں کے درمیان‘‘ کے علاوہ متعدد کتب قارئین سے بھرپور خراجِ تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ انہوں نے کئی عمدہ ڈرامے بھی تحریر کئے اور بچوں کا ادب تخلیق کر کے بھی داد پائی۔ کئی عمدہ تراجم سے اردو ادب کادامن مالا مال کیا۔

القا پبلیکیشنز نے شمیم حنفی کے خاکوں پر مبنی دوسری کتاب ’’ہم نفسوں کی بزم میں‘‘ شائع کی ہے۔ کتاب انتہائی خوبصورت اور عمدہ کاغذ پر چھپی ہے۔ دوسو ستر صفحات کی صوری و معنوی حسن سے آراستہ کتاب کی قیمت چھ سو پچیانوے روپے ہے۔

شمیم حنفی کے لہجے کی شائستگی آج کے دور میں ایک الگ کیفیت رکھتی ہے۔ ان کی ادبی ترجیحات متنوع ہیں۔ وہ نقاد بھی ہیں، شاعر بھی، ڈرامہ نگار بھی اور خاکہ نویس بھی۔ بدلتے سماج کے نبض شناس بھی۔ ’’ہم نفسوں کی بزم میں‘‘ ان کے ایسے مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں بیسویں صدی کی ادبی شخصیتوں کے خاکے بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور ان کی ادبی کاوشوں اور میلانات کا ناقدانہ جائزہ بھی۔ ان کی نثر بڑی جچی تلی ہے، نہ مستعار لیے ہوئے ادبی نظریوں اور اصطلاحوں سے بوجھل، نہ مجض رنگیں بنانی کا کھوکھلا سہارا لیتی ہوئی۔ شمیم حنفی نے بالعموم ان فن کاروں کے بارے میں لکھا ہے جن سے وہ بار بار یا کبھی کبھار مل چکے ہیں۔ اس طویل یا مختصر ہم دمی کا احساس اس کتاب کوزندگی کی آب و تاب عطا کرتا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، آل احمد سرور، احتشام حسین، انتظارحسین، احمدمشتاق، ظفراقبال، خالدہ حسین، خلیل الرحمٰن اعظمی، صلاح الدین محمود، زاہد ڈار، بلراج مین را کے علاوہ بہت سوں سے شمیم حنفی کی وساطت سے اس کتاب میں ملاقات ہو سکتی ہے ۔ ’’ہم نفسوں کی بزم میں‘‘ بیسویں صدی کی بہت سی دل پذیر اور سرگرم ادبی شخصیات کا باغ و بہار مرقع ہے۔

انتظار حسین کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ

’’شمیم حنفی کی تنقیدکے ساتھ ایک دقت یہ ہے کہ وہ نخالص ادبی تنقید نہیں ہوتی۔ خیرترقی پسند نقاد تو اس نظریے کے ساتھ اپنے مطالعہ کا آغاز کرتاہے کہ ادب کو عصری حقیقتوں کی کسوٹی پرپرکھ کر دیکھنا چاہئے۔ سو اس تنقید میں عصری حقیقتیں، جیسا اس نے انہیں سمجھا تھا، غالب نظر آتی تھیں۔ ادبی معیار کا حوالہ آیا آیا نہ آیا نہ آیا۔ شمیم حنفی نے ایسا کوئی نظریہ اپنی تنقید کے لیے وضع نہیں کیا۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ جب وہ ادبی مطالعہ کرنے بیٹھتے ہیں تو بہت سی عصری حقیقتیں، کچھ تاریخ، کچھ تہذیب، غرض بہت سے معاملات و مسائل اس مطالعہ میں لپٹے چلے آتے ہیں۔‘‘

’’ہم نفسوں کی بزم میں‘‘ کے دو حصے ہیں۔ ’’رفتید ولے نہ از دلِ ما‘‘ کے زیر عنوان پہلے حصے میں بائیس رفتگان کا ذکرِ خیر ہے۔ جن میں سید معین الدین احمد قادری، فراق گورکھپوری، احتشام حسین کی تنقیدی شخصیت، آل احمد سرور صاحب، عابد صاحب کی یاد میں، پروفیسر محمد مجیب، مالک رام صاحب، ڈاکٹر آفتاب احمد، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، دیوندر ستیارتھی، ذوقی صاحب، اظہر علی فاروقی، تاباں صاحب، میکش اکبر آبادی، شکیب جلالی، خلیل الرحمٰن اعظمی، وحید اختر، صلاح الدین محمود، سریندر پرکاش، غیاث احمد گدی اور میں اک کرن تھا شبِ تار سے نکل آیا کے نام سے بھارتی شاعر عرفان صدیقی کے خاکے شامل ہیں۔

’’شامِ دوستاں آباد‘‘ کے نام سے دوسرے حصے میں گیارہ ہم عصر ادیبوں اور شاعروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن میں سے بعض اب عالمِ جاوداں کوچ کر چکے ہیں۔ اس حصے میں انتظار حسین، دیوندراسر، زاہد ڈار، احمد مشتاق، احمد فراز، ظفر اقبال، چودھری محمد نعیم، خالدہ حسین، اختر احسن، بلراج مین را اور رام چندرن کے بھر پور خاکے تحریر کئے ہیں۔

’’اے ہم نفسانِ ما‘‘ کے زیرِ عنوان پیش لفظ میں شمیم حنفی لکھتے ہیں کہ ’’ہم سفروں کے درمیان‘‘ کے بعد معاصرین کے بارے میں شخصی، تاثراتی، نیم تنقیدی قسم کی تحریروں کا یہ دوسرا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا آغاز ان خاکہ نما تحریروں سے ہوتا ہے جو زیادہ تر ’کتاب نما‘ کے مدیر شاہد علی خان کی فرمائش پر لکھی گئیں۔ ان کی اشاعت کا سلسلہ اب سے تقریباً پچیس سال پہلے کچھ تک جاری رہا۔ پھر میری مصروفیتوں کے باعث ختم ہو گیا۔ اس وقت تین چار کو چھوڑ کر، ہماری انجمن میں یہ لوگ موجود تھے اور ان کی دم سے بڑی رونق تھی۔ افسوس ایک ایک کر کے یہ رخصت ہو گئے۔ مجھے خیالوں کی طرح انسانوں سے بھی گہری دلچسپی رہی ہے۔ یہ تحریریں، بالعموم اسی دلچسپی کا نتیجہ ہیں۔ اخباروں کے لیے میں نے بہت سے معروف اور گم نام لوگوں کے بارے میں سو سے زیادہ کالم لکھے۔ کچھ ہندی میں ، بیشتر اردو میں۔ یہ کالم الگ ہیں اور اس کتاب میں شامل نہیں کیے گئے۔ ’’ہم نفسوںکی بزم میں‘‘ کا دوسرا حصہ ’’شامِ دوستاں آباد‘‘ ان ہم عصر ادیبوں سے متعلق ہے جن کاذہنی اور تخلیقی سفر ابھی جاری ہے۔ اس حصے میں بہت کم مضامین آ سکے۔ لہٰذا اس سلسلے کا ایک تیسرا مجموعہ بھی ابھی زیر ِترتیب ہے۔ ’’شیشہ گروں کے شہر میں‘‘ کے عنوان سے۔ جب تک یہ کتاب مرتب نہیں ہو جاتی، اس کے مضامین ’اردو ادب‘ میں شائع ہوتے رہیں گے۔

کتاب کا پہلا خاکہ شمیم حنفی کے استاد سید معین الدین احمد قادری پر ہے۔ لکھتے ہیں۔ ’’میرے استاد، سیدمعین الدین احمد قادری بھی اس راستے سے روز گزرنے والوں میں تھے۔ لانباقد، اپنی درازی کے سبب قدرے جھکا ہوا، سر پر لمبے سیاہ بال، ترشی ہوئی داڑھی، سپید رنگت زردی کی طرف مائل، حیدر آبادی شیروانی اور چوڑے پائیچے کے پاجامے میں ملبوس، سویرے سے رات تک وہ اس راستے سے کئی بار گزرتے۔ سر جھکائے اپنے آپ سے باتیں کرتے۔ ان کی رہائش اسی سڑک سے ملحق ایک گلی میں تھی اور گھر سے اسکول تک جانے کا یہی راستہ تھا۔ ان دنوں ہر شام میونسپلٹی کی گاڑی سڑک پر چھڑکاؤ کرتی گزرتی تھی۔ مغرب کی اذان سے پہلے امام دین نامی شخص کاندھے پر بانس کی سیڑھی سنبھالے، ہاتھ میں مٹی کے تیل کا کنستر اور چمنی صاف کرنے کا کپڑا لیے آتا اور سڑک کنارے ستونوں پر رکھی لالٹینیں جلاتا۔

کمزور پیلی روشنی راستہ دکھانے کے لیے کافی تھی۔ پھر اس روشنی میں رات کا وقار بھی قائم رہتا۔ وقفے وقفے سے کسی گشتی خوانچہ فروش یا کبابیے کی صدا، ایک معینہ وقت پر حلوے کے تھال کو کفگیر سے کھنکاتی ہوئی گت پر بوڑھے پنچم کی پاٹ دار آواز جسے سنتے ہی بچوں کے چہرے کھِل اٹھتے تھے۔ باقی سناٹا۔ تھوڑی بہت رونق بس اس گھڑی دکھائی دیتی جب فیض آباد اور الہٰ آبادکی ریل گاڑی سے اترتی سواریاں یکوں پر گزرتیں۔ گھوڑوں کی ٹاپیں اور ان کی گردنوں سے لٹکی گھنٹیوں کی گونج بھی اس سڑک کے خاموش وجود کا حصہ محسوس ہوتی تھی۔

کیا دلکش انداز سے قادری صاحب کا سراپا اور اس دور کے پورے ماحول کو شمیم حنفی صاحب نے بیان کیا ہے کہ قاری کی نظر میں تصویر سی کھنچ جاتی ہے۔ ان کی دلکش اور پراثر نثر پر شاعری کا گمان ہوتا ہے۔ اکثر خاکوں کا آغاز کیا خوب نثری شاعری میں کیا ہے۔ آل احمد سرورکا ابتدائیہ دیکھیں۔

’’برف باری دیرسے ہو رہی تھی۔ جہاں تک نگاہ جاتی تھی آسمان سے سفید پتیاں سی گرتی دکھائی دیتی تھیں۔ لوگ گھروں میں ٹھٹھرے سمٹے بیٹھے تھے۔ دور اور پاس کے سارے پربتوں پر ایک دھند سی چھائی ہوئی۔ سامنے سڑک پر اِکا دُکا راہگیر چھتری سنبھالے، فرن میں ملفوف تیز تیز قدموں سے چلتا، پل بھر کے لیے نظر آتا پھر گُم ہو جاتا۔ کمرے میں بخاری جل رہی تھی۔ اندر باہر کے درجہ حرارت میں فرق کا اندازہ اس وقت ہوا جب ہم برآمدے میں آئے۔ سرور صاحب نے سوٹ پر اوور کوٹ چڑھایا اور گھڑی دیکھتے ہوئے بولے ’اب چلناچاہیے‘ اقبال انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے یوم فانی کی تقریب تھی۔ میں نے دبی زبان سے بس اتنا کہا ’اس موسم میں کتنے لوگ آئے ہوں گے!‘ سرور صاحب مسکرائے، بڑی نفاست کے ساتھ پان کی گلوری منہ میں رکھی۔ ایک اچٹتی سی نظر آسمان پر، پھر اسی طمانیت کے ساتھ تقاضا کہ ’اب چلنا چاہیے۔ ہم تو وقت پر وہاں موجود ہوں!‘‘

کس خوبصورتی سے اردگرد کا ماحول، موسم اور مجموعی صورتحال پیش کی۔ اور ان حالات میں بھی سرور صاحب کی اصول پرستی اور اپنی ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کر دیا۔ اس پیراگراف میں ان کی شخصیت کا عطر قاری کے سامنے آ گیا۔ آگے کا باقی خاکہ اسی کی تفصیلات پرمبنی ہے۔

عابد حسین کے خاکے ’’عابد صاحب کی یاد میں‘‘ کا آغاز کچھ اس طرح ہوتاہے۔ ’’کسی کھوئے ہوئے لمحے یاتجربے کی یاد، ایک طرح کی باز یافت ہے۔ پھر اگر اس لمحے یا تجربے کاحصار کسی ایسے فرد کے گرد پھیلا ہوا ہو، جس سے بچھڑنے کااحساس آپ کی اپنی ذات کے ایک حصے سے محرومی کا احساس بن جائے، تو ایسی صورتحال میں اسے یاد کرنا اپنے آپ کو پانے کے مترادف ہے اور اپنا تو حال یہ ہے کہ یادوں ہی کے وسیلے سے مجھ پر اپنے حال کا یا اس وقت کا جس نے مجھے گھیر رکھا ہے، ظہور ہوتا ہے۔ آنکھوں میں بسے ہوئے کتنے منظر اجڑے اور کتنی بستیاں تاراج ہوئیں، مگر یادوں کا شہر جوں کا توں آباد ہے۔ اس آبادی میں مجھے کھوئے ہوؤں کا سراغ بھی ملتا ہے اور اپنا بھی کہ میرے لیے آپ اپنا وجود عبارت ہے ان لمحوں اور تجربوں اور موسموں اور چہروں سے گزر گئے پھر بھی سامنے ہیں۔ عابد صاحب کی یاد کے ساتھ دل میں اس احساس کا در آنا ایک لحاظ سے آپ بیتی کا بیان ہے اور آدمی، جب دوسروں کی بات کرتا ہے تو اس بات کا مفہوم بہر حال اس کے اپنے شخصی رابطے ہی کے حوالے سے متعین ہوتا ہے۔ میرے لیے جگ بیتی اور آپ بیتی میں کبھی وہ فاصلے حائل نہ رہے جو بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

اس ایک پیراگراف میں شمیم حنفی نے عابد صاحب سے اپنا تعلقِ خاطر اور دلی جذبات بیان کر دیے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے احساسات بھی واضح کئے ہیں۔ یہ دلکش اندازِ بیان پوری کتاب میں موجود ہے۔ جس کی وجہ سے قاری کی توجہ ہٹ نہیں پاتی اور وہ ایک کے بعددوسرے خاکے میں گُم ہو جاتا ہے۔ عابد صاحب کے خاکے ہی میں وہ لکھتے ہیں۔

’’عابد صاحب سے پہلے، ہندوستان کے مسلم دانشوروں نے جو عظیم الشان خدمتیں انجام دیں اور قومی سطح پر ان کی شخصیتیں جس بے مثال درد مندی اور اخلاص سے عبارت رہیں، وہ مسلم ہیں۔ عابد صاحب ان کے معترف اور مداح بھی تھے اور عارف بھی۔ لیکن کسی بھی گمشدہ شب چراغ کی تلاش اور دریافت انہوں نے اس طرح نہیں کی کہ اسے اپنے سفرکی اکیلی متاع سمجھ بیٹھیں۔ ہر روشنی بس تھوڑی دور تک ان کے ساتھ رہی کہ اس کادائرہ کسی نہ کسی سطح پر ایک حد کا پابند اور حقیقت کے ایک ایک نہ ایک طور سے مشروط تھا۔ کسی کے لیے ماضی صر ف ماضی تھا، کسی کے لیے حال کی گم گشتہ توانائی کامخزن یا محرک۔ سرسید، حالی، اقبال، ابوالکلام، ان میں سے ہر بزرگ اپنی قوم کا مخلص بھی تھا اور معمار بھی۔ اور ان سب نے اپنی تاریخ کے حوالے سے اپنی قوم اور معاشرے کے مسائل پر نظر کی۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اس نفسیاتی خوف سے آزاد نظر نہیں آتا جس کی بنیاد دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوںکی پسماندگی تھی۔ چنانچہ اپنے غیرمعمولی اثرات کے باوجود، ان سب کی فکر ایک طرح کی عجلت پسندی کا شکار رہی اور ان کے رویے اپنے اپنے عہد کی دانشوری کے تئیں زبردست مرعوبیت کے زائیدہ رہے۔ اقبال نے اس مرعوبیت سے رہائی کی کوشش حقیقت کی سطح پر کم اور جذبات کی سرزمین پر زیادہ کی۔ اپنی تمام تر فکری گرگزیدگی، عظمت اور شاعرانہ کمال کے باوجود جذبے کی سطح پراقبال کی شاعری سے ان کی قوم کو جو نقصان پہنچا اب ہمیں اس کے اعتراف میں جھجک نہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے حقائق کی دنیا میں محرومیوں کی تلافی کا سامان اکثر جذبات کے ذخیروں میں ڈھونڈا۔ فکرکی اس رو کا آہنگ بنیادی طور پر جذبہ فروشانہ تھا۔ چنانچہ اس میں لطف اور توانائی اور تابندگی تو ہے مگر وہ استحکام اور صلابت نہیں جو زمانے کی سختیوں کو سہار سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال یہاں، خاص طور پر ان کی نثری تحریروں میں، جہاں صداقت آموزہ جذبات پر فکر کی صلابت اور سخت کوشی کا رنگ غالب ہے، بعض مقتدر علماء کو گم رہی اور خرابی کی صورتیں دکھائی دیں۔ مولانا ابولحسن علی ندوی نے اس موہوم اور بعد از وقت آرزو کا اظہار کیا کہ کاش اقبال نے فکراسلامی کی تشکیل جدید کے خطبات نہ دیے ہوتے۔‘‘

اس طویل اقتباس سے واضح ہے کہ شمیم حنفی بزرگوں سے فکری اختلاف کی قائل ہیں۔ لیکن اس کے لیے شائستگی اور دلیل کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔ عابد صاحب کے اقبال کی فکر پر اختلافی رائے میں شائستگی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کی رائے کی صورت میں دلیل بھی موجود ہے۔

راجندر سنگھ بیدی کے خاکے کایہ اقتباس ملا حظہ کریں۔ ’’اس رات بیدی صاحب خود بھی جاگتے رہے، دوسروں کو بھی جگائے رکھا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ذرا دور، جمنا کنارے، حکومت اتر پردیش کے ایک مہمان خانے سے قہقہوں کا شور امڈتا رہا۔ باقر مہدی، وارث علوی، ساقی فاروقی، محمود ہاشمی، دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے بہت سے ادیب، نقاد، اساتذہ حلقہ جمائے بیٹھے ہوئے تھے۔ بیدی صاحب کی حیثیت وہاں میرِ محفل کی تھی۔ ایک لطیفے کے بعد دوسرا لطیفہ، ایک قہقہے کے بعد دوسرا قہقہہ۔ ان لطیفوں میں ایسے لطیفے بھی تھے جن کانشانہ بیدی صاحب کی اپنی ذات تھی۔ دنیا پر ہنسنے کے ساتھ وہ اپنے آپ پر بھی جی کھول کر ہنسنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ سنجیدہ حقیقتوں کی عکاسی کرنے والا اس رات مستقل ہنس رہا تھا اور ہنسا رہا تھا، اس حد تک کہ ڈرسا محسوس ہوا۔‘‘

معاشرے کے تلخ حقائق کو اپنے افسانوں میں بیان کرنے والے راجندر سنگھ بیدی کی باغ و بہار شخصیت کا یہ جائزہ اور اس انداز میں چھپے خوف کا اظہار شمیم حنفی نے خوب کیا ہے۔ پھر ذوقی صاحب کے سراپے کاذکر دیکھئے۔ ’’شیش محل میں شوکت تھانوی نے ذوقی صاحب کا جو خاکہ کھینچا تھا، اس سے گمان ہوتا تھا خاصے صاحب آدمی ہوں گے۔ ملاقات ہوئی تو ٹھیٹ مشرقی نکلے۔ علی گڑھ کاٹ کا پاجامہ، ململ کا کڑھا ہوا لکھنوی کرتا جس کی آستینیں بڑی نفاست سے چنی گئی تھیں۔ پیروں میں نہایت نازک مخملیں جوتیاں، ہونٹوں پر پان کا لاکھا۔‘‘

’’شامِ دوستاں آباد‘‘ کا پہلا خاکہ پاکستان کا صاحبِ طرز افسانہ نگار انتظار حسین کا ہے۔ جس کا آغاز کچھ یوں ہوا ہے۔

’’جنگل میں ایک درویش کو میں نے دیکھا جو ایک کیکر کے درخت کے نیچے سخت جگہ تکلیف سے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس کو کہا ’اے بھائی، تجھے اس جگہ کس چیز نے بٹھایا ہے جو ایسے توقف سے اس سخت جگہ بیٹھا ہے۔ جواب آیا ’مجھے ایک وقت حاصل تھا جس کو اس جگہ میں نے گم کیا۔ اب اس جگہ بیٹھا ہوں اور غم کھا رہا ہوں۔‘ شیخ علی ہجویری کے واسطے سے کہانی آگے یہ بتاتی ہے کہ ایک روز اس بزرگ کی دعا سے درویش بالآخر اپنی مراد کو پہنچا۔ گم کیا ہوا وقت اسے مل گیا۔ اس پر بھی درویش وہیں ڈٹا رہا۔ ہٹ دھرمی کا سبب پوچھا گیا تو جواب میں پلٹ کر سوال کیا ’کیا یہ روا ہے کہ ایسی جگہ کو، جہاں میں نے گم کیا ہوا سرمایہ پھر حاصل کیا اور میری محبت کا محل ہے چھوڑ دوں؟‘ پھر بولا ’اے شیخ! میں اپنی خاک کو اس جگہ خاک میں ملاؤں گا تا کہ قیامت کے دن اس خاک سے سر نکالوں کہ جو میری محبت اور سرور کا محل ہے۔‘‘

اس مختصر اقتباس میں کیا شمیم حنفی نے انتظار حسین کا پورا نظریہ فن پیش نہیں کر دیا؟۔ اختر احسن کے خاکے میں ان کی زبانی نئی شاعری کا منشور پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’نیا فن کار اپنے پڑھنے والے کو اب محض قاری تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ اسے اس سے کہیں بڑا مرتبہ دیتاہے، یعنی اسے اپنا ہم پیالیہ ہم نوالہ مانتا ہے۔ اس کے نزدیک نیا فنکار اور نیا قاری اب کہیں زیادہ لازم وملزوم بن گئے ہیں۔ نیا فن کار اندھے پتھر آئینے اور آئینوں سے اندھا پتھر تیار کرنے کا کام کرتا ہے تا کہ وہ اور قاری مل کر نیا خواب دیکھیں اور اس خواب میں دبا ہوا زمینی دکھ بھی دریافت کریں۔‘‘

کتاب کے آخر میں پس نوشت کے عنوان سے شمیم حنفی نے لکھا ہے۔ ’’اس سلسلے کی پہلی کتاب ’’ہم سفروں کادرمیاں‘‘ کی طرح ہم نفسوں کی یہ روداد بھی مختلف روایتوں، مختلف رویوں، میرے اپنے تجربے میں آنے والی زندگی کے مختلف ادوار اور مختلف النوع اشخاص کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں نئے پرانے ہر طرح کے لوگ شامل رہے ہیں۔ مجھے انسانی ہستی کے مختلف مظاہر، مختلف زمانوں ، تجربوں، تضادات اور تصورات کو ایک سلسلے کے طور پر دیکھنے کی عادت ہے۔ جہاں تک شخصی ترجیحات کا تعلق ہے تواس معاملے میں میری اپنی کچھ مجبوریاں بھی ہیں۔ لیکن میرے وجدان میں اتنی لچک ضرور ہے کہ ایک دوسرے سے بظاہر الگ دکھائی دینے والے تجربوں، عام انسانی صورتحال سے وابستہ مختلف سچائیوں اور بظاہر ایک دوسرے سے نبرد آزما نظریوں کو آنکھیں بند کر کے قبول کرنے یا یکسر مسترد کرنے کی عام روش سے خود کوبچائے رکھوں۔ شامِ دوستاں آباد کے تحت اس کتاب میں اور ’’شیشہ گروں کے شہرمیں‘‘ کے عنوان سے اس سلسلے کی اگلی کتاب میں ایسے کچھ لوگ اور کتابیں بھی زیرِ بیان آئیں گی جن کے دم قدم سے اس بزم آخر کا اجالا باقی ہے۔‘‘

دلچسپ کتاب میں قارئین کو اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شعراء کے بارے میں بے لاگ رائے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ ہر طویل اور مختصر خاکہ قاری کی دلچسپی میں اضافہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: