معاشی انقلاب کا امپریشن —- لالہ صحرائی

1
  • 112
    Shares

فرسٹ ایمپریشن دو اکائیوں کے درمیان پسندیدگی اور اعتماد پیدا کرنے کیلئے ایک اہم عنصر ثابت ہوتا ہے لیکن یہ کسی طور بھی مفید تعلقات کا ضامن نہیں ہوتا، اسلئے پختہ کار لوگ اس چیز کو خوشگوار آغاز کا ایک ذریعہ تو سمجھتے ہیں لیکن اپنے تعلقات کی بنیاد ہمیشہ صرف مدمقابل کی equitable پوزیشن پر استوار کیا کرتے ہیں۔

ایکؤٹیبل بزنس میں فرسٹ ایمپریشن اچھا ہو تو ویل اینڈ گڈ، نہ ہو تو بھی کوئی بات نہیں مگر دوسری صورت میں یہ اندرونی، بیرونی انویسٹرز کا اعتماد ضرور خراب کرتا ہے اسلئے کوشش یہ ہوتی ہے کہ فرسٹ ایمپریشن کو اٹریکٹیو اور کانسٹینٹ رکھا جائے کیونکہ اٹریکشن کے ماحول میں تعلق پیدا کرنے کا خواہشمند ہماری شرائط پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد سیکنڈ، تھرڈ ایمپریشن بیشک خوشگوار ہو جائے لیکن اس میں ایک کراہت ضرور آجاتی ہے، اس صورت میں لوگ نہایت محتاط ہو کے چلتے ہیں، اور اپنی انویسٹمنٹ کیلئے کمپنسیٹیو گارینٹیز مانگتے ہیں یعنی وہ اپنی شرائط پر کام کرنے کیلئے راضی ہوتے ہیں۔

گو اندرونی، بیرونی انویسٹر ہمارے معاشی انڈیکیٹرز، ہماری آفرز اور ہماری مارکیٹ پوزیشن کو دیکھ کے ہی اپنی انویسٹمنٹ لگانے کا فیصلہ کرتا ہے لیکن ایک آٹونومس ریپبلک اینٹائیٹی جب اعلیٰ سطح پر نان۔پروفیشنل باتیں یا اقدام کرنے لگے تو اسٹیک ہولڈرز کے سامنے بہرحال یہ تاثر جاتا ہے کہ یہ لوگ ان۔کمپیٹینٹ ہیں، ان کی مانگنے تانگنے کی عادت یا کمزور پالیسی یا کمزور ایکؤٹی پوزیشن کل کو پتا نہیں ہمیں کن حالات سے دوچار کردے۔

اس بات کی حساسیت کو سمجھنے کیلئے آسان طریقے سے اکانومی کا لے۔آؤٹ بیان کرتا ہوں تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ کسی نعرے پر سنجیدہ فہم لوگ عام پارٹی ورکر کی طرح بغلیں کیوں نہیں بجاتے حالانکہ حکومتی دعویٰ ہر عام فہم انسان کو بھی نہایت پرکشش دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

اکؤیٹیبل ایمپریشن کو غیر پروفیشنل انداز میں سمجھنا ہو تو پھر مضاربہ اسکینڈل یا ڈبل شاہ سکوپ کو سمجھیں کہ وہ کیسے چابکدستی سے لوگوں کو انویسٹمنٹ پر راضی کرتے ہیں اور پھر کلیکشن کا اپنا مطلوبہ ہدف پورا ہونے تک اپنے اوپر مارکیٹ کے اعتبار کو سلامت رکھنے کیلئے پلے سے ریٹرن ادا کرتے ہیں، جب ریٹرن ملنے کی گارینٹی نظر آرہی ہو تو پھر انویسٹمنٹ کرنے والوں کی بھی قطاریں لگ جاتی ہیں۔

اب حکومت تو انویسٹر کو دعوت کے سوا کچھ نہیں دے سکتی تو پھر وہ کیا عناصر ہیں جو دنیا کو آپ کی اکانومی میں انویسٹمنٹ کرنے پر مائل کرتے ہیں۔

ایکؤٹیبل امپریشن یا بزنس ایکؤیٹی سے مراد یہ ہے کہ آپ کی بجٹری پوزیشن درج ذیل فارمولے کے مطابق ہونی چاہئے۔

کیپیٹل پروسیڈز+ریوینیوز=بجٹ

کیپیٹل پروسیڈز…!
یہ آپ کے سرکاری اداروں+معدنی و دیگر قومی اثاثوں کا منافع ہوتا ہے۔

اور ریوینیو
یہ ٹیکسز سے حاصل ہوتا ہے
یہ سب کچھ اکٹھا کرکے آپ اپنا بجٹ بنا لیتے ہیں۔
بجٹ کا حال آپ کو معلوم ہے کہ مختلف سماجی جہتوں پر خرچنے کیلئے پیسہ مختص کرنا۔

اب ان دونوں سائیڈوں کے لیول بنتے ہیں
یعنی کیپیٹل پروسیڈز میں پی آئی اے، ریلوے، بجلی، پانی، گیس، آئل، ٹیلیفون، معدنیات اور دیگر چیزوں کا منافع، پھر ریوینیو میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، ایکسائز اور کسٹمز سے کتنا کتنا پیسہ آئے گا۔

اس کے بعد یہ جائے گا کہاں؟
تعلیم پر اتنا، صحت پر اتنا، ترقیاتی پروگرامز پر اتنا۔

اس سرکل کو چلانے کیلئے جو پالیسی اختیار کی جاتی ہے وہ اس طرح ہوتی ہے۔

اپنے دستیاب وسائل+ادارے+انفراسٹرکچر+وزارت خزانہ کی پروفیشنل قابلیت+انویسٹرز=وٹ۔سو۔ایور انکم

یہ سب ہماری کمائی کرنے کے عناصر ہیں جن کی سرگرمیوں سے کیپیٹل پروسیڈز اور ریوینیو پر مشتمل وٹسوایور انکم حاصل ہوتی ہے، اسے ہم اکانومی کہتے ہیں۔

پھر اس میں سے ایڈمن اخراجات اور دفاع کی رقم منہا کرکے جو رقم باقی بچتی ہے وہ بجٹ کے کام آتی ہے۔

اگر آپ کی وٹ سو ایور انکم
کیپیٹل پروسیڈز+ریوینیوز= سو روپے
اور بجٹ= نوے روپے ہے
تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک ترقی یافتہ قوم ہیں جو اپنی تمام تر ضروریات پوری کرکے دس روپے بچا لیتی ہے، یہ بچت اگلے بجٹ میں پھر سے پروسیڈز میں شامل ہوجائے گی۔

لیکن جب آپ کی پروسیڈز+ریوینیو= سو روپے ہو
اور بجٹ= 110 روپے ہو تو دس روپے کسی سے ادھار پکڑنے پڑیں گے تب آپ کی ایکؤیٹی پوزیشن یہ ہوگی۔

پروسیڈز+ریوینیوز+لونز= 110
بجٹ+مارک۔اپ+قسط= 110

لونز کے اینٹر ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی اکانومی کے عناصر یعنی ادارے+انفراسٹرکچر+وزارت خزانہ کی قابلیت+انویسٹرز میں سے کوئی چیز کمزوری کا شکار ہے جس کی وجہ سے آپ اپنا ہدف پورا نہیں کر پا رہے، یا آپ کا خرچہ زیادہ ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ سسٹم کی کمزوری دور کریں اور غیر ضروری اخراجات کم کریں۔

پھر ایک اور خاص عنصر یہ ہے کہ جب
پروسیڈز 40 + ریوینیو 60 = 100
یعنی یہ دونوں عناصر کسی بھی ریشو میں سو کا ہدف پورا کر رہے ہوں تو ٹھیک ہے لیکن جب صورتحال درج ذیل ہو تو پھر بھی تشویش کی بات ہے۔

پروسیڈز 10 + ریوینیو 40 + لونز 60 = 100

ہماری پوزیشن اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے، یعنی وٹسوایور انکم یوں ہے۔

پروسیڈز 10 + ریوینیوز 30 + شارٹ ٹرم لونز 20 + لانگ ٹرم لونز 40 = 100

اور اس ساٹھ روپے لونز کے سامنے ہماری اکانومی کے عناصر میں سے وسائل یا ادارے گروی پڑے ہیں۔

اب آپ کو یہ بات سمجھ آجانی چاہئے کہ ہمیں اپنی معیشت درست کرنے کیلئے درج ذیل عناصر میں انقلابی تبدیلیوں کی سخت ضرورت ہے تاکہ معیشت میں بوم آئے۔

ادارے+انفراسٹرکچر+وزارت خزانہ کی پروفیشنل قابلیت+انویسٹرز

ان چاروں میں سے اگر ہم انویسٹر کی ہی منتیں کرنے پر اکتفا کریں تو کوئی بھی گھاس نہیں ڈالے گا کیونکہ ہمارے اکنامک انڈیکیٹرز تسلی بخش نہیں، لیکن جب آپ ایک قابل ٹیم سامنے لائیں گے تو دنیا کو خودبخود سمجھ آجائے گی کہ معیشت کے دیگر عناصر کیساتھ آپ کیا سلوک کرنیوالے ہیں، اسلئے کہ کنسیپٹ اور مہارت کے اعتبار سے ہر ماہر معاشیات کی ایک الگ پہچان ہوتی ہے جو یہ عندیہ دے دیتی ہے کہ یہ فلاں فلاں ٹائپ کے اقدامات کریں گے۔

ہمارے تبدیلی کے نعرے کو دنیا بڑے انہماک سے مانیٹر کر رہی ہے، عمران خان نے سارے مووز بالکل ٹھیک لئے تھے مگر حالیہ اقدامات کے حوالے سے یوں لگتا ہے کہ عمران خان اپنے کئے ہوئے وعدوں کے پیش نظر ایک گہرے نفسیاتی دباؤ یا زکاوت حس کا شکار ہیں جس کے تحت وہ عوام کو جلد از جلد کوئی تسلی بخش منظرنامہ دکھانا چاہتے ہیں اور اسی عجلت میں ایڈوائزری کمیٹی میں ایک غلط انتخاب اور ڈیم کیلئے چندہ مانگنے کا اقدام، میرے حساب سے، اس تصور کو سخت مجروح کرگیا ہے کہ ہم کوئی انقلابی تبدیلیاں لے آئیں گے۔

ابھی اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ عمرانی گورنمنٹ کی معاشی ٹیم لائق ہے یا نالائق مگر اس موضوع پر یہ لوگ اپنی باتیں پروفینشل وے میں بالکل نہیں کر پا رہے، انہیں یہ کرنا چاہئے کہ دسمبر تک پچھلی گورنمنٹ کے بجٹ کے مطابق چلیں، اس دوران یہ اپنا پورا پروگرام وضع کرلیں، پھر اس کیمطابق بجٹ کو ریوائز کرنا پڑے تو بیشک ریوائز کرلیں لیکن برائے مہربانی نان۔پروفیشنل ایتھکس کا مظاہرہ کرکے کوئی بھی پری۔میچؤر اناؤنسمنٹ نہ کریں۔

ایسی نان۔پروفیشنل اپروچ سے عام لوگ تو متاثر ہو سکتے ہیں، انویسٹر مطمئن نہیں ہوگا بلکہ بیزار ہوگا، پھر عوام میں بھی تعاون کی ایک وقتی لہر تو ابھر سکتی ہے مگر وہ کانسٹینٹ کبھی نہیں رہتی، کسی چیز کو سسٹین۔ایبل رکھنے کیلئے بہرحال ایکؤیٹی دینی پڑتی ہے، ڈیم کے سلسلے میں انہیں ایک بانڈ جاری کرنا چاہئے جو ہر ایمبیسی میں دستیاب ہو، پھر ہر ملک میں پاکستانی کمیونیٹی سے سماجی اہمیت کے حامل پاکستانیوں کو لابسٹ مقرر کرنا چاہئے جو زیادہ سے زیادہ بانڈز فروخت کروا دیں۔

ان بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم رعایتی شرح پر شارٹ ٹرم لون کے طور پر ان لوگوں کو دی جائے جو ایک ماہ کے نوٹس پر رقم واپس کر سکیں، ٹریڈنگ سیکٹر میں ایسے ہزاروں لوگ مل جائیں گے جو ایک ماہ میں اپنا بزنس سائیکل پورا کرلیتے ہیں، اس سے حاصل ہونے والا منافع بیشک بانڈز خریدنے والوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے انعام کی شکل میں دیتے جائیں، پھر جیسے جیسے ڈیم پر رقم خرچ ہونا شروع ہو ویسے ویسے یہ لون ریکوور کرکے ڈیم پہ لگاتے جائیں، اس طرح اگر آپ انویسٹر کو مسلسل انگیج رکھتے ہوئے ایک ڈیم بنا لیں گے تو دوسرے کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے میں زیادہ محنت نہیں لگے گی کیونکہ آپ کیساتھ ایک ایکؤٹی امپریشن بلڈاپ ہو چکا ہوگا، اس کے بعد آپ چاہیں تو ان شئیر ہولڈرز کو ڈیم کی کمائی میں حصہ دار بنالیں یا ان سے بانڈز واپس خریدتے جائیں۔

یہی معاملہ معیشت میں بوم لانے کا ہے، عمران خان اگر کچھ بھی نہ کرے بلکہ پورے کا پورا بجٹ فقط عوام کو فری تعلیم، صحت، پانی، انصاف اور بجلی کا نظام ٹھیک کرنے اور بجلی کی چوری روکنے میں بھی لگا دے تو بھی معیشت میں ایک بہت بڑا انقلاب آجائے گا، یہ طریقہ ٹریکل ڈاؤن کنسیپٹ کہلاتا ہے جس میں ایسے اقدامات کرنے ہوتے ہیں جن سے عوام کی جیب میں وافر پیسہ بچ جائے کیونکہ اس بچت سے وہ انسانی خواہشات کے تحت لامحالہ اپنا لائف اسٹائل بہتر کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔

اس صورت میں جب اشیائے ضروریات کی مزید ڈیمانڈ پیدا ہوگی تو ٹریڈر کو امپورٹ اور انڈسٹری کو اپنی پروڈکشن بڑھانا پڑے گی، جب یوٹیلٹی وافر موجود ہوگی تو پروڈکشن بڑھانا بھی آسان ہوگا، جب پروڈکشن بڑھے گی تو روزگار کے مواقع بھی بڑھ جائیں گے، پھر یہ نئے ملازمین بھی اپنی کمائی مارکیٹ میں ہی خرچ کریں گے، اس طرح ایک وسیع معاشی سرکل چل نکلتا ہے جو جی۔ڈی۔پی کی شرح میں خوشگوار اضافے کا باعث بنتا ہے۔

وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو چاہئے کہ طرز معیشت کیلئے جو طریقہ چاہیں اختیار کریں مگر جب تک اپنے معاشی انڈکیٹرز درست کرنے کی پالیسی وضع نہیں کرلیتے تب تک لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے سکون سے بیٹھیں، نان۔پروفیشنل وے سے عوام تو انگیج ہو سکتی ہے لیکن معیشت کا بنیادی جوہر، انویسٹر، قطعاً متاثر نہیں ہوگا، یہی عنصر ریوینیو کا ضامن ہے اور اسے ایک کانسٹینٹ ایکؤیٹیبل ایمپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: