چندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مبارک انجم

0
  • 26
    Shares

میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، وہاں چندہ سے تعارف بچپن ہی میں ہو گیا تھا، چھوٹا تھا گائوں تھا جہاں سرکار کی نظر صرف الیکشن میں ہی پڑتی تھی، گائوں کے زیادہ تر کام اپنی مدد آپ کے تحت چندہ سے ھی ھوتے تھے۔ مسجد کے کام تو ویسے بھی چندہ سے ھوتا ھے ہمارے دیس میں، اسکے علاوہ بھی گائوں کا ہر کام چندہ سے ہی ہوتا تھا۔ پانی کے پائیپ ڈالنے ھیں تو چندہ، رستہ تعمیر تو پھر چندہ، کسی غریب کی غمی شادی تو پھر چندہ، سکول میں فنکشن تو چندہ۔ سکول کی دیوار گر گئی پھر چندہ، ربیع الاول اور شب قدر کے پروگرام تو ھوتے ھی چندہ سے ھیں۔

تو چندہ اس ماحول کے لئے اجنبی کبھی بھی نہیں رھا۔ مدرسہ میں داخل ھوا وہاں تو چندہ بنیادی چیز تھا، پھر جمعیت طلبہ عربیہ اور اسلامی جمعیت طلبہ اور دیگر طلباء جماعتوں سے متعارف ھوا تو وہاں بھی چندہ اھم جزو دیکھنے کو ملا۔ پھر طالب علمی دور میں ہی میں نے ایک نئی جہت متعارف کی۔ ھاسٹل اور مدرسہ کے بچوں سے چونی اٹھنی، روپیہ جو جتنے بھی دھے سکے، ھفتہ میں ایک بار اکٹھے کرتے اور سب کو سوجی کا حلوہ کھلاتے، اسی چندہ میں سے جو کچھ پیسے بچا کر ھم انتظامیہ کچھ الگ بھی کھا پی لیتے۔ یہی دور تھا، جب مجھے سوشل لائف کا باقاعدہ شعور ملا۔ اسی دور میں ھم کچھ دوستوں نے، فلم فنڈ اکٹھا کرنا شروع کیا۔ یہ اس دور کی ھمارے علاقہ کی سماجی بغاوت کے مترادف تھا۔ مگر ھم خفیہ مہم سے قابل بھروسہ لڑکوں سے چندہ لیتے اور پھر کچھ لڑکے سینما میں فلم دیکھتے۔

پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی تو بات ہی چھوڑیے، یورپ و امریکا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی انگنت کام چندہ مہم ہی کے بل پر ہوتے ہیں۔ کوریا کی چندہ مہم کی مدد سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے جان چھڑوانا تو دنیا نے دیکھا ہے۔ اس لئے اس حساب سے اگر پاکستان میں ہماری نئی حکومت اگر ڈیم کے لئے چندہ مانگے کی مہم چلارہی ہے تو یہ کچھ انوکھا یا غلط نہیں کر رہی اور جو لوگ اس مہم میں چندہ دے رہے ہیں وہ سلام اور سیلوٹ کے اور داد و تحسین کے مستحق ہیں کہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے رقم دے رہے ہیں۔

دوسری بار پھر چندہ سب سے لیتے اور فلم دوسرا گروپ دیکھ آتا۔ فلم کا ٹکٹ بارہ، پندرہ، بیس، تیس تک کا ہوتا تھا اور ہم سب ہی دوستوں کا ہفتہ وار جیب خرچ پانچ سات روپے سے زیادہ کا نہ ہوتا۔ ایسے میں چندہ کر کے چالیس پچاس جمع ھوتے تو تین چار لوگ فلم دیکھ لیتے۔ ایسے ہی کرکٹ، والی بال کھیلنے کے لئے، سامان بھی ہمیشہ چندہ ہی سے اکٹھا کرنا بچپن ہی سے رائج دیکھا۔ وقت کے ساتھ شعور بڑھا، فضول کاموں کے بجائے، فائدہ مند کاموں میں چندہ اکٹھا کرنے کا شعور پیدا ہوا، پھر عمومی سوشل کاموں میں چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا۔ میٹرک دور میں کسی غریب کا میٹر کٹ جانے پر، کسی مجبور کی بیماری میں، کسی اور دیگر پریشانی میں، چندہ اکٹھا کر کے اس کی مدد کرنا میری روٹین ورک کا حصہ تھا، مزید وقت گزرا، الخدمت سے متعارف ھوئے۔ دوھزار پانچ کا زلزلہ اور پھر سیلاب، ایسے بہت سارے معاملات میں خوب چندہ اکٹھا بھی کیا اور پہنچایا بھی۔

ایسے ھی اب تک چندہ مہم کے زریعہ سے تقریباً بیس سے زائد بچوں کی تعلیمی ضروریات اور چار یتیم بچیوں کی شادی کا مکمل انتظام کروانے میں اسی چندہ مہم نے کام دیا۔ اسی طرح عبد الستار ایدھی مرحوم اور قاضی حسین احمد مرحوم کی جھولی پھیلائو و دیگر مہمات بھی ھمارے سامنے کی باتیں ہیں۔ سب بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ چندہ مہم ہمارے لئے نہ تو اجنبی ہے اور نہ ہم کسی بھی اچھے مقصد کے لئے چلانا غلط تصور کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی تو بات ہی چھوڑیے، یورپ و امریکا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی انگنت کام چندہ مہم ہی کے بل پر ہوتے ہیں۔ کوریا کی چندہ مہم کی مدد سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے جان چھڑوانا تو دنیا نے دیکھا ہے۔ اس لئے اس حساب سے اگر پاکستان میں ہماری نئی حکومت اگر ڈیم کے لئے چندہ مانگے کی مہم چلارہی ہے تو یہ کچھ انوکھا یا غلط نہیں کر رہی اور جو لوگ اس مہم میں چندہ دے رہے ہیں وہ سلام اور سیلوٹ کے اور داد و تحسین کے مستحق ہیں کہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے رقم دے رہے ہیں۔

اس سب کچھ کے عین اسی طرح ہونے کے باوجود اس ایدھی ویلفیئر، الخدمت، شوکت خانم، منہاج، خدمت خلق، انصار برنی جیسے اداروں کے زبردست اور بہت اچھا کام کرنے باوجود میں اور میرے جیسے بہت سارے لوگ ان ہی فلاحی تنظیموں کے چندہ مانگ کر کام کرنے کو درست اور بہترین اور اعلی نہیں سمجھتے اور اسکی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے نہ ہم حکومت کے یا چیف جیسٹس کے ڈیم کے لئے چندہ مہم کے حامی ہیں اور اسکی وجہ ان سے سی طرح کی دشمنی یا سیاسی و دیگر اختلاف ہر گز نہیں ہیں بلکہ یہ اختلاف اس لئے ہے۔ ایدھی ویلفیئر یا الخدمت جو بھی فلاح کا کام کر رہی ہیں یہ انکی یا عام لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہیں، یہ ذمہ داری ریاست کی ہے اور ریاست کی طرف سے یہ زمہ داری، حکومت وقت کی ہوتی ہے۔ کسی بھی مہذب کہلانے والے معاشرہ میں ریاست ہی اصلی فلاحی تنظیم ہوتی ہے۔ روزگار سے لے کر تحفظ، تعلیم، صحت اور زندگی کی تمام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کے ذمہ ہوتا ہے اور کسی بھی ملک میں عوام کا اس ذمہ داری کو ریاست کے بجائے فلاحی تنظیموں کو سونپ کر مطمئن ہو جانا درحقیقت نا سمجھی ہے اور اس زمہ داری کو ریاست کی طرف سے پوری نہ کرسکنے والی حکومت درحقیقت ناہل حکومت ہوتی ہے۔

یہ تو ہوئی عام معاشرتی فلاح کی بات۔ اب بات کرتے ہیں حکومت یا حکومتی اداروں کا۔ ایسی چندہ مہم چلانے اور انکے نتائج پر تو میری زندگی میں حکومت کی یا افواج کی ایسی مہمات میں پیپلز پارٹی کی نیلم جہلم ٹیکس مہم، نواز شریف کی قرض اتارو ملک سنوارو مہم اور فارن کرنسی ڈیبازٹ مہم اور پرویز مشرف کی زلزلہ بحالی مہم اور سیلاب زدگان کے لیے مہم جو فوج کے زریعہ سے چلائی گئییں یہی شامل ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اگر ھم انکے نتائج دیکھیں تو ان سب مہمات میں ھونے والی وصولیاں بےسود ہی ثابت ہوئیں۔ ان سارے پیسوں کا نہ تو کوئی آڈٹ ہو سکا نہ کوئی دیگر نتیجہ ملا نہ کسی گنتی میں آئے۔ جہلم نیلم پروجیکٹ نواز دور میں بھی چلا بجٹ کئی سو ارب تک بڑھا مگر ابھی تک مکمل نہ ہوا۔ قرض اتارو مہم کا نتیجہ قرضے دگنے تگنے ھونے کی صورت میں ملا اور زلزلہ زدگان و سیلاب زدگان کی سرکاری مہمات بھی وصول شدہ اموال کا پانچ فیصد بھی آؤٹ پٹ دینے سے قاصر رھیں۔ نقد رقومات بھی کوئی حساب نہ ھو سکا اور سامان کی شکل میں ملنے والی امداد بھی بازاروں میں بکتی نظر آئی جب کہ اسی دور میں اسی سلسلہ میں غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کا کام انتہائی بہترین اور نتیجہ خیز بھی نظر آیا۔

اس سارے سلسلہ کو دیکھ کر عام نظر رکھنے والا کوئی بھی فرد بھی یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ سرکاری طور پر جاری کئے جانے والی کوئی بھی ایسی مہم، محض ڈراما ہی ہوتا ہے جو صرف پیسہ حاصل کرنے کا زریعہ ھے۔ موجود وزیر اعظم عمران خان پر نظر ڈالیں تو کچھ تھوڑے بہت پارٹی فنڈ وغیرہ جیسے کچھ متنازعہ معاملات ہونے کے باوجود مجموعی طور پر عمران خان تقریباً کلین امیج کے حامل ہیں۔ ان سے یہ تو توقع نہیں کی جا سکتی کہ یہ عوام کا پیسہ پچھلی دو تین حکومتوں کی طرح ہی برباد کریں گے۔ ویسے بھی اب عوام کسی قدر زیادہ باشعور ھو چکی ہے۔ میڈیا کی رسائی بھی مزید بہتر ھوئی ہے تو ایسے میں کسی طرح کی دھوکہ دہی کے امکانات کافی کم ہو چکے ہیں۔ اسلئے ان کو چندہ دینا بہتری ہی لانے کے سبب ہو گا لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری طرف یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ عوام نے عمران خان کو ووٹ صرف تبدیلی کے نام پر دیا ہے عمران خان کے اداروں کو فعال کرنے کے دعوے عمران خان کے تین سو پچاس ڈیم بنانے کے دعوے عمران خان کے نئی معاشی پالیسی مرتب کرنے کے دعوے بیرون ملک سے انوویسٹ اور زرمبادلہ لانے کے دعوے سو دن کا پلان، ایسے ہی دیگر بھی کافی سارے دعوے دیکھتے ہوئے حکومت کی پہلے ماہ کی کارکردگی میں کچھ بھی قابل ذکر پالیسی یا نتیجہ دینے سے قبل ہی چندہ مہم کا آغاز کر دینا تبدیلی کی امید رکھنے والوں کے لئے کافی مایوسی کا سبب بھی بنا ہے۔ ہم عمران خان سے یہ امید رکھتے تھے کہ حکومت بنانے کے بعد اس بہت بڑی رقم کا ٹیکس کو جس کے متعلق خود عمران خان اور انکے معاشی مشیر کہتے تھے کہ وہ کھا لیا جاتا ہے اگر وہ کھایا نہ جائے تو بہت کچھ ھو سکتا ہے اسی پیسہ کو استعمال کیا جائے گا ساتھ ھی بجلی و پانی کے وہ زبردست منافع جو ہر ماہ ملتا ہے وہ بھی کھایا نہ جانے پر ملک کے کام آئے گا۔ ایسے ہی دیگر بہت سارے عوامل جو خود تحریک انصاف ہی کے بتلائے ہوئے ہیں انکی روشنی میں سرکاری ذمہ داریوں کو سرکاری وسائل سے پورا کرنا اتنا زیادہ مشکل ہرگز نہیں سمجھا جاتا کہ کسی کام کے لئے چندہ مہم کی ضرورت پڑے۔ یہ درست ہے کہ جانے والی ہر حکومت آنے والی حکومت کے حصہ کا بھی جو ممکن ہو وہ فنڈ کھا کر ہی جاتی ہے مگر ایک اہل اور معاملہ فہم قابل حکومت کے لئے ایسے حالات سے نپٹنا، زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہئے۔

ہمیں امید ہے کہ عمران خان اس چندہ مہم کی مدد سے ڈیم ضرور بنا دیں گے اور اسکے ساتھ یہ امید بھی ہے کہ عمران خان ریاستی ذمہ داری کے سارے فلاحی کام ریاست ہی سے سر انجام دینے کی راہ بھی درست کریں گے اور عوام الناس کو اس چندہ مہم پالیسی جس کے ھم سب بہت عادی ہو چکے ہیں اس سے نکال کر ریاست اور عوام دونوں کے درست حقوق اور درست ذمہ داریوں کا شعور بھی دیں گے۔ اس مضمون کے توسط سے میں قوم کو بھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ڈیم فنڈ میں دل کھول کر حصہ ڈالئیے مگر اسکا حساب بھی مانگئیے گا اور اپنی ہر آنے والی حکومت فلاحی کاموں کی ذمہ داری کا بھی حساب ضرور مانگئیے اور جو کام الخدمت اور ایدھی کر رھے ہیں ان کاموں کی حکومت سے ڈیمانڈ کیجئے۔ ھمیں کسی الخدمت اور کسی ایدھی فاونڈیشن کا مجبور نہیں رہنا ہماری حکومت اگر ہمیں حقیقی فلاحی ریاست نہیں دے سکتی، بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتی تو ہمیں ایسی کسی نااہل حکومت کی ضرورت نہیں۔ اس سے چھٹکارہ حاصل کیجئے اور دوبارہ سے ایسے لوگ سامنے لائیے جنکا ریکارڈ ہر وعدے اور دعوے کو سچ کر کے دکھانے والا ہو یا پھر اپنے درمیان سے خود اپنے لوگ اپنے ذمہ دار بنائیے اپنی ریاست کی طرف سے آپ پر جو زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انکو پوری طرح سے ادا کیجئے اور اپنے حقوق کا مطالبہ بھی ضرور کیجئے۔ آج آپکی یہی روش آپکی ائندہ نسلوں کو چندہ مہم پالیسیوں سے نجات دلا سکنے کا واحد راستہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: