تعلیم وتربیت ِ اطفال ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو عبدالقدوس محمد یحییٰ

0
  • 24
    Shares

اولاد سے محبت ایک فطری امر ہے۔ چرند پرند، حیوان و حوش، بہائم یہاں تک کہ وحشی اورجنگلی درندے جن کی خوراک دوسرے جانوروں کاگوشت ہے لیکن اپنے بچوں سے وہ بھی محبت کرتے ہیں۔ مادہ بچھو کے بارے میں مثل مشہور ہے کہ وہ اپنے نومولود بچوں کی خوراک بن جاتی ہے۔ اس طرح اپنے بچوں کی پہلی خوراک بن کر خود کو قربان کر دیتی ہے اور ان بچوں کے جسم کا حصہ بن جاتی ہے۔ دیگر جانور بھی اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ میں گھوڑی کا اپنے بچوں کا خیال رکھنے کا بیان آیا ہے:

’’اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور ان میں سے ٩٩ حصے اپنے پاس رکھے ہیں۔ صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں۔ گھوڑی بھی اپنے بچے کے اوپر سے اپنا پاؤں اس خوف سے اٹھا لیتی ہے کہ اسے تکلیف ہو گی‘‘۔ (صحیح بخاری:کتاب الآداب)

یہی جذبہ اللہ رب العزت نے حضرت انسان کے دل میں بھی رکھا ہے۔ تمام والدین اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی بہتری و خیرخواہی چاہتے ہیں۔ ان کو کامیاب و کامران دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان پر کوئی آنچ آنا پسندنہیں کرتے۔ ہمیشہ اپنی اولاد کو ناز و نعم میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں بے لوث ،مخلص اور بلاعوض محبت کرنے والی ذات والدین ہی کی ہے۔ جو اپنی تمام تر قوتیں توانیاں اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے اوربنانے پر صرف کردیتے ہیں۔ خود بھوک، پیاس، مصیبتیں برداشت کر لیں گے لیکن اپنے بچوں کے لئے سایہ الفت و محبت بنے رہیں گے۔ الغرض اپنی جوانی کی کئی بہاریں لوٹا کر اولاد کو بہار شباب سے آشنا کرتے ہیں۔ بقول عارف شفیق

روٹی اپنے حصے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے بھوکی سورہی ہے ماں

اس حد تک قربانی و ایثار کرنے والے والدین ہی ہوسکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے لئے حتیٰ المقدور دنیا وما فیہا کی نعمتیں مہیا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ ان کے لئے راحت و آرام اور اسباب تعیش بہم پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ دنیا کی آگ، موسم کی سختی، دھوپ کی تمازت، گرمی کی شدت سے بچانے کی فکر رہتی ہے اور ان کے لئے زندگی کی ہر نعمت و سکون کے حصول کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہ اسباب آرام و سکون، راحت و تعیش، عیش وعشرت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت پر بھی پوری توجہ دیں تا کہ ان کی اولاد بہترین انسان اور مسلمان بن سکے اور اگر صحیح تعلیم و تربیت نہیں تو یہ تمام دنیاوی آسائشیں و آرام اور دنیاوی نعمتیں و لذتیں اس کمی کوپورا نہیں کر سکتیں ۔ کیونکہ اولاد کو دنیاوی راحت وسکون دینے کے لئے تو جانور بھی اپنی تمام توانیاں صرف کر دیتے ہیں اور اپنی اولاد کو سکون دیتے ہیں۔ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بہترین معاشرے کا بہترین شہری اور صالح مسلمان بنائے اس کے لئے اچھی تعلیم و تربیت کا ہونا نہایت ضروری ہے اور یہی انسان کا مقصد اولین ہونا چاہئے صرف اولاد کا پیٹ پالنا اس کا مقصد حقیقی نہیں ہے یہ تومحض ایسا ہے کہ انسان بامر مجبوری کوئی کام کرے اور اسے اپنی زندگی کا مقصد قرار دے یا کوئی انسان جو قید خانہ میں ڈال دیا گیا ہو اسے اپنا گھر کہے، کیونکہ صحیح معانی میں گھر مکینوں سے بنتا ہے نہ کہ مکان یا در و دیوار سے۔ اپنے گھر کو پیار، محبت، صلہ رحمی، عزت، مروت، ہمدردی، ملنساری، عزت، خود اعتمادی اور توجہ کے زیورات سے سجا کر جنت نظیر بنائیں کیونکہ صرف در و دیوار سے بنایا، سجایا، آراستہ وپیراستہ کیا ہوا گھر زنداں وقید خانہ سے کسی بھی طور مختلف نہ ہو گا۔ بقول شبنم رومانی

اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے
قید کا سامان کیا اور اس کو گھر کہنے لگے

جہاں تک کردار سازی اور تربیت کے لئے عملی اقدامات کرنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نفسیات دانوں کی مختلف بلکہ کسی حد تک متضاد آراء ہیں اور تمام پر عمل بیک وقت ناممکن ہے۔ اگر ہم ماضی کے والدین کی طرح سختی اورشدت کا رویہ اپنائیں تو اس ترقی پسند دور میں بچے اس کو مسترد کردیں گے۔ اور پھر یہ چیز بھی یقینی نہیں کہ اس سختی اور شدید مارپیٹ کا کچھ فائدہ بھی ہو گا۔

میرے نزدیک تمام امور میں سب سے اہم نکتہ بچوں کے لئے وقت نکالنا ہے۔ ان کے ساتھ مناسب وقت گزاریں۔ کوئی بھی کتنا ہی پڑھا لکھا ہو وہ آپ کے بچوں کو باپ کی محبت اور ماں کی ممتا فراہم نہیں کر سکتا۔ جو محبت، شفقت، انسیت، خلوص اور پیار آپ فراہم کر سکتے ہیں وہ دنیا کی تمام دولت لٹا کر بھی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن یہاں اس کے برعکس آج کل والدین بھی دیگر مشاغل میں اتنے زیادہ مصروف ہیں کہ بچوں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں۔ بچے ماں اور باپ کی محبت کو ترس جاتے ہیں۔ ان کے لمس تک سے محروم ہیں۔ بالخصوص جن بچوں کے والد جاب کی خاطر دوسرے ملک سدھار چکے ہیں اور پانچ پانچ سال بچوں کو روبرو شکل دیکھنے کا موقع میسرنہ آتا ہو!

اب حال یہ ہے کہ تربیت کی بجائے والدین اپنے بچوں کو آسائشیں (Advantages) دینا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنوں بچوں کو اچھا گھر، اچھاماحول، اچھا اسکول اور دیگر سہولتیں فراہم کر دیں تو انہوں نے ان کی صحیح تعلیم و تربیت کا حق ادا کر دیا۔

والدین کی طرف سے آسائشیں (Advantages) مہیا کرنا کوئی مذموم نہیں بلکہ بہت ہی قابل تعریف ہے لیکن صرف یہ چیزیں اچھی زندگی گزارنے کی ضمانت نہیں ہیں۔ مثلاً اگر والدین بچے کو اس سوچ کے تحت اعلیٰ اسکول میں داخل کرائیں کہ یہ طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں بیٹھے گا، ان کے ادب و آداب (Etiquettes & Manners) سیکھے گا اگر گھر کا ماحول اور مالی حیثیت ان سے مطابقت نہ رکھتی ہو اور وہ اس کے اخراجات برداشت (Afford) نہ کرسکتے ہوں تو اس سے بچے میں احساس محرومی ( Frustration) بڑھے گا۔

مزید برآں والدین کی سرپرستی اور قلبی، ذہنی اور جسمانی تعلق نہ ہونے کے باعث ہمارے گھروں میں جو خلا پیدا ہو چکا ہے اسے میڈیا نے پوراکرنے کی کوشش کی ہے اور آج تو ہمیں خود علم نہیں کہ اب گھروں میں ضابطہ اخلاق کون بنا رہا ہے، ہم یا پھر الیکٹرانک میڈیا (ٹیلیوژن، ریڈیو، فلم) ، پرنٹ میڈیا (اخبارات و رسائل) اور سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر)۔ اس سے بھی ہم بے خبر ہیں۔

اس فیصلہ کو کوئی بھی دانشمند، اہل بصیرت، دانا، بینا اور جہاندیدہ شخص حکمت ودانائی کا فیصلہ نہیں قرار دے گا۔ اس لئے بہتر اور مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے جیسوں میں میل ملاپ رکھنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام تگ و دو محنت اور کوشش کے باوجود یہ اپنے تئیں دانشمندانہ فیصلہ تصورکرنے کی وجہ سے اس مثل کے مصداق نہ ہوجائے کہ ’’کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا‘‘ اور ایک وقت ایسا آجائے جب اس کے لبوں پر بے ساختہ یہ شعر جاری ہوجائے۔ بقول احمد امتیاز

کوئی عادت مرے بچوں میں نہیں مری
میرے اندر ہی دھری رہ گئی دانائی مری

اسی طرح آج کے دور میں بچوں کے نامناسب اور غیرمہذب رویہ کی ذمہ داری وراثت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ وراثت کایہ مفہوم صحیح اور قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ ’’ہربچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘‘ یعنی فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور پیدائشی طور پر مزاج اسلام سے ہم آہنگ ہوتا ہے کی حدیث کے خلاف ہے، مثلاً بچہ توہمیشہ سچ بولتا ہے یہاں تک کہ اسکا ارد گرد کا آلودہ ماحول اسے جھوٹ بولنا سکھا دیتا ہے۔ بقول شاعر

جب بھی سچ بولتے بچوں پہ نظر جاتی ہے
یاد آ جاتا ہے بے ساختہ بچپن اپنا

اگر والدین بچوں کو اچھے کردار کے حامل افراد کی صورت و شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں گھر کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینی ہو گی اور اس کے لئے خود بھی ایسی کتب پڑھیں اور بچوں کو بھی پڑھائیں جن میں عظیم لوگوں کی تربیت کرنے والے والدین کے تذکرے موجود ہوں اس سے بچوں کوترغیب ملے گی۔ بچے کا اپنے ذہن میں سہ ماہی ششماہی مقاصد کا تعین کریں اور اس کے بعد جانچ پڑتال کریں آپ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ بچوں کو اچھے کردار ادا کرنے کی ترغیب و تحریص دلائی جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ دامن پر لگے داغ تو دھل سکتے ہیں لیکن کردار اگر داغ دار ہوگیا تو اس کی مثال ان پھولوں کی ہو گی جن کی خوشبو جا چکی ہو اور خوشبو دوبارہ لوٹ کر پھولوں میں کبھی نہیں آتی۔ بقول شاعر

اپنے کردار کو موسم سے بچائےرکھنا
کہ آتی نہیں پھر پھول میں خوشبو

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے جو عموماً نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ انسان جسم و روح کا مرکب ہے۔ اس لئے اس کی بنیادی ضرورتیں بھی جسمانی و روحانی ہیں۔ اس کے لئے جسمانی ضروریات یعنی مادی وسائل کے ساتھ روحانی وسائل یعنی مذہب کی ضرورت ہے۔ جو دائمی سکون و راحت کا سبب اور اخروی نجات کا باعث ہے۔ لیکن من حیث المجموع اس روح کے تقاضوں، ابدی سکون و راحت اور آخرت کی آگ بچنے کی فکرنہیں کی جاتی۔ جس کی اللہ رب العزت نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں تاکید کی ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والوں اپنی جان اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ (التحریم:٦)

برسبیل تذکرہ یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جس طرح اسلام میں عبادت صرف چند رسمی اعمال مشینی انداز سے ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ رب العزت اور حضور پرنور ﷺ کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کا نام ہے اور اپنی پوری زندگی کو اسلامی ادب و آداب کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔ یعنی کھانے، پینے، سونے، جاگنے، کھیلنے کودنے اور سیر وتفریح کرنے جیسے مباح کام بھی باعث اجر و ثواب اور عبادت بن جائیں گے اگر ان کی ادائیگی میں اسلامی آداب کو پیش نظر رکھا جائے اور کرنے کی یہ نیت ہو کہ تازہ دم ہو کر، مزید طاقت حاصل کر کے رب کی عبادت و اطاعت کروں گا۔

یہاں اس نکتہ سے غافل نہ رہاجائے کہ اگر آخرت کی تیاری کی جائے گی اور حضور پرنور ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کی جائے گی تو آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی کامیابی وکامرانی اور سرفرازی قدم چومے گی۔ لیکن اس کونظرانداز کرنے کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت کم والدین ہی اولاد کی صحیح تعلیم وتربیت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اکثر ناکام و نامراد رہتے ہیں ۔ پھر جب اولاد بڑی ہوجاتی ہے توان کے حسین خواب، خوبصورت تصورات و تخیلات بکھر جاتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں سے شاکی، نالاں اور بیزار ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ والدین یہ توقع کرتے ہیں کہ محبت، خلوص، خدمت اور نگہداشت کے صلے میں بچے بھی تا زندگی خدمت اور محبت کامظاہرہ کریں گے چونکہ بچے عموماً (صحیح تربیت نہ کرنے کی وجہ سے) اس توقع پر پورا نہیں اترتے اس لئے لازمی طورپر والدین کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر ایسے ماں باپ کو بڑھاپے میں پچھتاتے اور اولاد نافرمانیوں اور سختیوں کے تذکرے اور ان کی شکایات کے انبار لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تومکافات عمل ہے کہ جب بچوں کی مہار ان کے ہاتھوں میں تھی اس وقت شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا تھا اور انہیں کوئی لگام نہ دی تھی۔ اگر اس وقت اپنے فرائض تربیت صحیح طور پر ادا کیے ہوتے تو آج اولاد بھی ان کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہ برتتی۔ اگرآج ہم نے اولاد کی صحیح تربیت نہ کی توعین ممکن ہے کہ کل (بحیثیت) ماں باپ ہمارامستقبل بھی اولڈ ہوم سے وابستہ ہوجائے کیونکہ کانٹے اگا کر پھولوں کی توقع رکھنا یا آگ لگا کر ساون اور برسات کی توقع رکھنا پاگل پن اور دیوانگی کے سوا کچھ نہیں۔ بقول شاعر

کچھ لوگ بچھا کر کانٹے پھولوں کی توقع رکھتے ہیں
شعلوں کو ہوائیں دے دے کر ساون کی توقع رکھتے ہیں

شیکسپیئرکا ایک قول ہے ’’نافرمان بیٹے کا وجود سانپ سے زیادہ مہلک ہے‘‘ حقیقتاً یہ امر واقعہ ہے کہ بہ نسبت اس سانپ (دشمن) کے جو انسان کی نظر کے سامنے ہو۔ آستین کا سانپ زیادہ خطرناک، مہلک اور تباہ کن ہوتاہے۔ جیسا کہ شبنم رومانی صاحب نے اس شعر میں بیان کیا ہے

کل شب میں گھرا ہوا تھا دو دشمنوں کے بیچ
اک سانپ راستے میں تھا، اک آستین میں تھا

اولاد کے اس رویئے کی بنیادی وجہ تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ اگرآج اولاد کی صحیح تربیت ہو گئی تو کل والدین کی زبان پر شکوہ ہو گا نہ شکایت، ورنہ اس وقت پشیمانی اور ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا
شانوں پہ گناہوں کا بار، دامن نیکیوں سے خالی
ندامت ہے، ندامت ہے، ندامت ہی ندامت ہے

اور اس وقت پشیمانی اور ندامت سے کوئی فائدہ بھی نہ ہو گا اور یہ ندامت و توبہ کوئی چارہ گر نہ ہوگی۔ بقول اسداللہ خاں غالب

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیمان ہونا

حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’باپ اپنی اولاد کوجوکچھ دیتا ہے اس میں سے سب سے بہتر عطیہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت ہے‘‘۔ ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا: ’’ایک صاع خیرات کرنے سے بچوں کی تربیت کرنا زیادہ بہتر ہے‘‘۔

بچہ جو کچھ بنتا ہے اس میں وراثت سے زیادہ اس کے ماحول اور ماں باپ کی تعلیم و تربیت کا عمل دخل ہوتاہے۔یہاں لفظ تعلیم سے مراد مختلف قسم کے علوم کا حصول ہے اور تربیت سے مراد تزکیہ اخلاق و ادب وروش و فعل ہے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ اسلامی انداز سے تعلیم و تربیت کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ تمام مسلمان اپنے بچوں کوحافظ، عالم اور مفتی ہی بنائیں بلکہ اچھی تربیت کریں اور خلوص دل سے انہیں اچھا انسان اور مسلمان بننے میں مدد کریں اور انہیں ان کی دلچسپیوں، صلاحیتوں اور انفرادی اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی شعبہ میں جانے دیں تاکہ وہ اس ملک و قوم کے کارآمد شہری بنیں۔ بچے کو اسلام کی بنیادی اور لازمی تعلیمات کے ساتھ میڈیکل، انجینئر نگ الغرض کوئی بھی تعلیم دیں، ہنرسکھائیں۔ بچے کو ذہنی، جسمانی صلاحیتوں اور اس کی خواہشات و دلچسپی کے مطابق پروان چڑھنے دینا چاہئے اور والدین پیشے اور ہنر کے انتخاب میں بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ ایسا کرنا محبت کا ثبوت نہیں بلکہ اس کی زندگی خراب کرنے کا باعث ہو گا۔ ہاں ان تمام کے ساتھ اگر اس کی شخصیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھے گی تو یہ تمام سیکھنے سکھانے کا عمل باعث اجر و ثواب ہو گا۔ مسلمانوں کو ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر پیشوں کے ہنر مند افراد بھی چاہئیں۔ تما م معاشرہ صرف عالم اور مفتی بن کر زندگی نہیں گزار سکتا۔

والدین کو چاہئے کہ وہ خود مختلف امور خیر سرانجام دینے کی مسنون اور قرآنی دعائیں یاد کریں۔ ان دعاؤں کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنائیں۔ دعا عاجزی، تضرع اور حضور قلب خشوع خضوع انکساری سے مانگیں۔ اپنے بچوں کوبھی یہ دعائیں ضرور یاد کرائیں۔ دعا کرنے کی ترغیب دلائیں۔ دعاؤں کواپنی اور بچوں کی زندگی کا معمول بنائیں۔ کیونکہ الدعا سلاح المؤمن۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ گھر میں دینی ماحول قائم کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت اور دیگر عبادات کی پیروی کریں۔ اللہ کی وحدانیت، عظمت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے ان کے قلوب کو منور کریں ۔ بچوں کے ہاتھ سے صدقہ وخیرات تقسیم کرائیں۔ اس عمل سے بچوں کے اندر مال کی حرص و ہوس کم ہو گی۔ نادار اور غریبوں کی ہمددری کا دل میں احساس پیدا ہو گا۔ اور صدقہ دینا ویسے بھی بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالتا ہے۔ اگر والدین دوران تربیت ان امور کا خیال رکھیں گے تو یہی اولاد والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈ ک، پھولوں کا گلدستہ، پھلوں کی مٹھاس، قوی اور طاقتور بازو بن جائے گی۔ دنیاوی عزت و احترام اور اخروی نجات کا ذریعہ بنے گی۔

یہ دنیا کی نظام کچھ اس طرح سے ہے کہ اس میں ایک نسل (جنریشن) اپنے معاملات و معمولات دوسری نسل (اپنے جانشینوں) کے سپر د کر کے یہاں سے رخصت ہو جاتی ہے۔ اب اگر وہ دینی ماحول، امن و سلامتی و خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کریں گے تو ان کے پیشرو اور خلف بھی اس دنیا میں مدح و ستائش اور آخرت میں اجر و ثواب کے حقدار ٹھہریں گے بصورت دیگر ان کی صحیح تعلیم و تربیت نہ ہوئی اور ان کے جانے کے بعد اگر وہ اس دنیا میں تباہی و بربادی لائیں، اس دنیا کو بے آب و گیا صحرا میں تبدیل کریں اور روشنیوں کو اندھیروں میں بدل دیں تو ان کے پیشرو اور سابقہ نسل بھی اس کی ذمہ دار اور شریک جرم ہو گی۔ اس لئے زیادہ موزوں، مناسب اور بہتر یہی ہے کہ کل اندھیرے کا شکوہ کرنے کی بجائے آج یہاں اپنے حصے کا ایک ایک چراغ (بصورت حسنِ تربیت اولاد) جلا دیا جائے۔ اس طرح اگر ہر فرد اپنا چراغ جلا لے گا تو یہ دنیا مثل ماہتاب روشن، منور، حسین اور خوشنما ہو جائے گی۔ بقول شاعر

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے

کیونکہ بچے نہ صرف والدین کی زندگی کا چراغ ہیں بلکہ مستقبل کے معمارِ ملت و قوم بھی ہیں۔ اگر ایک طرف والدین کی زندگی میں ستاروں کی تابناکی، چاند کا حسن ، چراغوں کی روشنی، پھولوں کی خوشبو، پھلوں کی مٹھاس، پیار کی چاشنی، دنیا کی رنگینی ، چہرے کی شادابی اور شہد کی حلاوت اور مٹھاس ان ہی کے دم سے ہے تو دوسری طرف پوری قوم کے مستقبل کا سوال اور ان کی بقا ان ہی معماروں کے ہاتھ میں ہے۔ یقیناً کوئی بھی زیرک، دانشمند اور فہم وفراست کا حامل شخص اپنی یا اپنی قوم کی باگ ڈور اناڑی، کمزور، ناتواں، فہم وفراست سے عاری، جلدباز، مشتعل جہلا کے ہاتھ میں دینا پسند نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: