دس مرچیاں۔ شفیق زادہ

0
  • 33
    Shares

شرجیل میمن نے شراب سے انکار نہیں کیا تھا– ( چیف صاحب)
مرچی 1: ہوش میں تھا تبھی تو انکا ر نہیں کیا، ورنہ مدہوشی میں تو کوئی کافر ہی انکار کر سکتا ہے۔ ویسے بھی، منسٹر رہا ہے، تھوڑی سی جو پی لی ہے، چوری تو نہیں کی ہے۔ یار لوگ تو کھا گئے اور ڈکار نہ لی اور بیچارے ننھے کے پینے پر دُرّے لیے چڑھے آ رہے ہو پانڈے جی!

پاکستان کا 13 واں صدر؟
مرچی 2: بارہ صدور تو ایوان صدر میں ایسے ہی رہے جیسے شکاری کی بیٹھک کی دیوار میں آویزاں بارہ سنگھے کا سر اور اب تیرہواں صدر، ہائے ہائے، یہ تو ہندسہ ہی منحوس ہے، خیر ہوئے۔ کوئی صدقہ کوئی خیرات دیتے دلاتے رہیئے گا، پانچ سال چپ کا روزہ رکھنا پڑتا ہے، ٹک ٹک دیدم دم نہ کیشیدم، سمھجے نا۔

’’کتے بھونکتے کیوں ہیں ؟‘‘ لالو پرشاد یادیو کی دہائی
مرچی 3: یار لالو جی، اماں کمال کرتے ہو، ایک تو کُھدی شروع کرتے ہو، پھر بتیاتے بھی ہو، اماں کُھد سوچو، اگر تم کسی کو کچھ بتیاؤ گے، تو وہ کاہے کو کھاموس رہے گا، آخر کتوں کا بھی تو کچھ ہیومن رائٹ ہوتا ہی کہ نائیں؟ سارا چارہ گھٹالہ اکیلے ہی ہڑپ لیے ہو کا؟

منی لانڈری کیس میں زرداری کو استثنی مل گیا– (خبر)
مرچی 4: اب پکا قانونی کام ہو ا ہے نا بھئی۔ اب استثنی مل گیا ہے تو پھر ڈر کاہے کا۔ لگے رہو، اِدھر کا مال اُدھر اور جو اُدھر کا ہے وہ تو ہے ہی اُدھر۔ وہ جو ’چھ عرب ‘شرجیل میمن کے پچھواڑے مطبل بنگلے کے بیک یارڈ سے کلے تھے، وہ تولے گئے، خاکی، وہی جو نوری ہیں نہ ناری ہیں۔ بیچارہ بچہ! بوند بوند شہد کو محتاج ہوا پھرتا ہے۔

اب نہ وہ جیل ہے نہ تیل ہے، نہ وہ ساقی (ب) ہے فراز
دونوں کلئیر ہیں تو کیوں اتنے خرابوں میں ملیں

اپوزیشن تقسیم، علوی کا راستہ صاف۔ خبر
مرچی 5: خیال رہے کہ راستے کے دونوں اطراف میں حزب مخالف کی کالی بلیاں ہر وقت دم ہلاتی پھرتی رہیں گی۔ صاف راستہ ہونے کے باوجود پنچہ مارنے سے باز نہیں آئیں گی۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔

اس تھپڑکی گونج؟ (اسٹیج شو: ستارے: ہم، تم اور وہ)
مرچی 6: دل تو چاہتا ہے کہ خون کی ندیاں بہا دوں مگر پہلے مینوں نوٹ وِکھا، میرا موڈ بنڑے۔

فضل الرحمان میں شہباز کو راضی کرنے کی صلاحیت موجود ہے– (کائرہ)
مرچی 7: کائرہ صاحب مانا کہ اس وقت تین کا ٹانکہ بِھڑا ہوا ہے مگر ایسی بھی کی کیا بے مرّوتی کے آپ کردار کشی پر ہی اتر آئے۔ بھئ بہت رکیک حملہ ہے، ایک تیر سے دو شکار کی بھونڈی کوشش۔ یعنی کہ شہباز کو بھی رگید دیا آپ نے، ہائیں، خبر ہی نہیں ہو رہی کہ شہباز کون تے ممولہ کون؟ شاوا بھئ شاوا۔

ڈاکوؤں نے اسلحہ کی نوک پر کوچ کے کنڈیکٹر کو لوٹ لیا– (خبر)
مرچی 8: اردو کی ایسی پذیرائی ہونے لگی ہے کہ اردو لکھنا اور بولنا دونوں ہی محال ہوتا جارہا ہے۔ کوئی اس ڈائنوسار جیسے اخبار کے نیوزایڈیٹر کو خبر کرے کہ’ اسلحہ کے زور ‘’بندوق کی نوک ‘اور ’چاقو کی دھار‘ پر واردات کی جاتی ہے۔ ویسے کوچ کا کوچوان نہیں ہونا چاہیے؟ ابھی پرنٹ میڈیا پر اس اردوئی ڈکیتی سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ کسی دل جلے نے برطانوی فوج کے بچاؤ کے لیے مرتب کردہ ’کتابچہ ‘ والی وڈیو خبر بھیج دی۔ بے اختیار منہ سے ’ کتے کا بے بی‘ نکلتے نکلتے رہ گیا۔ اے چینلو کے بے چین چپڑ قناتو، خبر کے ساتھ تو جو کرو سو کرو ہو، بیچاری اردو کی تو عزت بخش دو۔

مچھلیوں کو نقلی آنکھیں لگا کر بیچنے والا کویتی مچھلی فروش کا کاروبار بند– (خبر بی بی سی)
مرچی 9: جانوروں کو اچھے داموں فروخت کرنے کے لیے نقلی آنکھیں، جعلی سینگ، بناوٹی دانت اور دو نمبر فوطے، یہ سارے کام اپنے لوگ ہی کیوں کرتے ہیں۔ کیا یہ کوئی پیدائشی نقص ہے یا پانی خراب ہے کہ ایمانداری کی روٹی ہضم نہیں ہوتی، چورن کی طرح بے ایمانی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ پتہ نہی کیا سائنس ہے، مگر ہے خبط، دنیا کہاں سے کہاں جا رہی ہے اور ہم کہاں سے کہاں آ رہے ہیں۔

اعتزاز کو حکومتی جماعت سے بھی ضمیر کا ووٹ مل جائے گا– (سینیٹر فرحت بابر)
مرچی 10: حکومت میں ضمیر کا کیا کام؟ کچھ توچکر ہے! دیا، زرا پتہ تو چلاؤ کہ یہ ضمیر وہی تو نہیں جس نے سینیٹ کے انتخاب میں بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ ڈالا تھا اور یہ بھی معلوم کراؤ کہ یہ وہی اعتزاز احسن تو نہیں جس نے بہ طور’ وزیر داخلہ‘ اِدھر کی لسٹیں سرحد پار پہنچائی تھیں اور پھر مشرف سے سی این جی پمپوں کے پرمٹ لیے تھے۔ کیا؟ پرمٹ اس نے نہیں بلکہ بھابی جی کو ملے تھے، اوہ، اچھا، کتنا کلین شیو ہے نا؟ جیت گیا تو ہم بھی کہہ سکیں گے، ہمارا صدر کتنا پپو ہے نا؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: