عالمی برادری کی سست روی: نسل کشی روکنے میں رکاوٹ — قمر الہدی

0
  • 42
    Shares

70 برس پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نسل کشی کے حوالے سے کنونشن کی منظوری دی۔ اس میں مخصوص قانونی تعریف متعین کی گئی تاکہ نسل کشی شروع ہونے پر اسے پہچاننے، روکنے اور شہریوں کی جان بچانے کے لیے موزوں عمل کے حوالے سے بین الاقوامی اتفاق رائے کو یقینی بنایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی نسل کشی کی تعریف اسے ایسے اقدامات کا تسلسل قرار دیتی ہے جس میں ایک پورے مذہبی، نسلی یا قومی گروہ کو تباہ و برباد کرنے کی نیت سے قتل سے لے کر مانع حمل جیسے طریقے استعمال کیے جائیں۔
تاہم 1948 سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں نسل کشی کی اصطلاح پر بحث میں مصروف رہ کر مفلوج ہو چکی ہیں اور اس تمام عرصے میں بے بسی سے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اترتا دیکھتی رہی ہیں۔

3 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ غیرمبہم انداز میں بتاتی ہے کہ میانمار کی فوج نسل کشی کی نیت سے بڑے پیمانے پر قتل عام اور اجتماعی زیادتیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس نے کہا ہے کہ جو لوگ روہنگیا کے بحران کے ذمہ دار ہیں، انہیں کٹہرے میں لانا ضروری ہے اور یہ فعل دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے۔
میانمار میں اقوام متحدہ کے مشن کی طرف سے ایک ہزار مہاجر شہریوں اور حکومتی عمال کے انٹرویو کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی رپورٹ نے فوج کے سربراہ سینئر جنرل مین اونگ ہیلنگ اور پانچ دیگر جنرلز کو سزا دینے کا کہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر لوگوں کی زبردستی گمشدگی، قتل، تشدد اور جنسی زیادتیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ تقریباً آٹھ لاکھ شہریوں کو اپنے گھروں سے نکال کر مہاجر بنا دیا گیا اور اندازاً پچاس ہزار سے زائد افراد قتل کر دیے گئے۔

میانمار حکومت نے روہنگیا سٹیٹ میں ہونے والی نسل کشی سے مکمل انکار کا رویہ جاری رکھا ہوا ہے اور ان کا دعوی ہے کہ روہنگیا کے لوگوں۔ ۔ ۔ جنہیں وہ باقاعدگی سے غیرقانونی بنگالی تارکین وطن قرار دیتے ہیں۔ ۔ ۔ نے سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور اپنے گاؤں جلا کر زمین بوس کرکے تشدد کی آگ بھڑکا دی ہے ۔

آن سان سوچی کی سربراہی میں قائم میانمار کی فوجی اور سیاسی قیادت نے کہا ہے کہ فوجی قیادت کا عمل دہشت گردوں کے خلاف اور ایک اندرونی مسئلہ حل کرنے کےلیے ایک مناسب جواب تھا۔
تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پچھلے برس آن سان سوچی کے مجہول کردار پر تنقید کی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ “(انہوں) نے رخائن کی ریاست میں ہونے والے واقعات کو روکنے یا ان کا سدباب کرنے میں نہ ہی سربراہ حکومت کے طور پر اپنا حقیقی کردار ادا کیا اور نہ ہی اپنی اخلاقی برتری استعمال کی۔ ”

تنظیم تعاون اسلامی( او آئی سی)، آسیان، سارک، دی مسلم ورلڈ لیگ، دی ایشین کوآپریشن ڈائیلاگ اور غیروابستہ تحریک اور یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کی جانب سے اس معاملے پر چنگھاڑتی ہوئی خاموشی برقرار ہے۔ سب سے زیادہ پرشور تنقید یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے ہوئی۔

ایک ایسی عالمی برادری جس میں تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ معاشی، سماجی اور سیاسی مفادات کے تحت جڑے ہوئے ہیں، عالمی سطُح پر اسقدر غیرفعالیت، مجہولیت اور انسانیت کو نظرانداز کرنا ناقابل فہم ہے۔

سوچ سمجھے طریق کار کے تحت شہریوں کے قتل عام اور ان کی جبری گمشدگی پر فوج اور سویلین حکومت سے فوری جوابدہی ہونی چاہیے۔ عالمی معاشی پابندیاں لازمی طور پر لاگو کی جائیں اور ایشیا کے نمایاں ممالک کو ذمہ داروں کے خلاف اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں کیا جاتا تو پھر اس کا مطلب ہے کہ عالمی برادری انسانیت سے محروم ہو چکی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: