ہند میں اجنبی —– امتیاز عبدالقادر

0
  • 145
    Shares

سالِ رفتہ کے ابتدائی ایام تھے، جنوری کی اکیسویں صبح۔ ’چلہ کلان‘ کے با وصف آفتاب اپنے جوبن پر تھا اور یخ بستہ ایام کے باوجود موسم خشک۔ سرما نے تو اس سال وادی کے مکینوں، بستیوں، کھیت و کھلیان، دہقان و کشت، جُوئے اورخیابان کو پیاسا ہی رکھا۔ بارشیں ہوئی ناہی برف باری۔ حالات کی ستم ظریفی کے ساتھ ساتھ انسان کا اپنے ہاتھوں کمایا ہوا اُسے واپس مل رہا ہے۔ گرد و نواح پر جب جب انسان اثرانداز ہوگا، وہ ہم سے انتقام لیتا رہے گا۔ بہرحال ۲۱ جنوری ۲۰۱۸؁ء کو راقم نے اپنے چچازاد بھائی کی تعلیمی سرگرمی کو مہمیز دینے کے لئے اُس کے ہمراہ چمنِ سرسیدؔ کی راہ لی۔

۳ بجے کی فلائٹ تھی۔ صبح ۱۱بجے گھر سے نکلے اور سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈّہ جو کہ ہوائی اڈّہ کم البتہ فوجی چھائونی زیادہ ہی لگتی ہے، قبل از وقت ہی پہنچے۔ جوں جوں بابِ شیخ العالمؔ سے ہم آگے بڑھتے گئے، احساس پختہ ہو تاگیاکہ ؎  موت ہے اِک سخت ترکہ جس کا غلامی ہے نام!

سرینگر ہوائی اڈّے میں حسبِ معمول مسافروں کا اژدھام تھا۔ وادی سے جانے والا، ہندوبیرونِ ہندسے وارد ہونے والے کالے، گورے، گندمی رنگ کے سیّاح باہم گتھم گتھا ہو رہے تھے اور ہم کرسی پربیٹھ کر vistara جہازکی ٹوہ میں لگ گئے۔ کچھ لمحوں بعد مذکورہ جہاز اپنے مہمانوں کی میزبانی کے لئے فلک سے فرش کاسفرطے کر رہا تھا۔ ضروری و ’غیر ضروری‘ لوازمات پُر کر کے ہم جہاز میں سوار ہوئے اور مقررہ وقت پر جہازنے پرواز بھری۔ ابتدائَی آہستہ خرامی سے بعد ازاں بہت تیزی سے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے جہاز منزل کی طرف محوِ پرواز ہوا۔ پلک جھپکتے ہی جہاز بادلوں پر تیر رہا تھا اور دیدئہ شوق قدرت کی صناعی، اس صنعت میں توازن، خوبصورتی اورہم آہنگی کو دیکھ کر عش عش کرنے لگا۔ زبان اللہ کی بے عیب تخلیق کو دیکھ کر بار بار ’سُبحان اللہ ‘ کا وِرد کر رہی تھی۔ بادلوں کے اوپر سے فرش پر ’رینگتے‘ انسان، دیوہیکل پہاڑ، ندی نالے، بہتے دریا، منجمد جھیلیں، سڑکوں پر بہتی گاڑیاں اولوالالباب کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ خالق نے یہ سب عبث پیدا نہیں کیا بلکہ ایک مقصد کے تحت ہی فرشِ زمیں اور فلک نا پیدا کنار کو مخلوقات سے بھر دیا گیا ہے۔ بلندی پر جا کر بادلوں کی طرف دیکھیں تو جابجا وہ پہاڑوں کی مانند ایستادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ کے حکم سے جیسے ساکن اور منجمند پربت ہوں۔ وہ نظارہ بہت ہی دلفریب ہوتا ہے۔ آسمان کو بغیر ستون کے پیداکرنے والی ذات بادلوں کو جہاں چاہے ہانک دے اور جہاں چاہے برسنے کا حُکم کرے۔ اس پردئہ سحاب کے پیچھے چاند بھی اکثر و بیشترہم اہل زمیں کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف رہتی ہے۔ یہ پوری کائنات صاحبِ خرد کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔ موقع دیکھ کر راقم نے بادلوں کے قریب جا کراُن سے’ مکالمہ‘ کیا اور وطن عزیز کے سُوکھے ہونٹوں اورپیاسی زمیں کی شکایت پہنچائی۔ میں نے پوچھا تو کیسا ابر ہے جس کے برسنے کی ہر پل امید لگائے آنکھیں تشنہ طلب رہتی ہیں۔ کشمیر کی مٹی میں ’ جنموں‘ کی پیاس ہے۔ ہر سُو سوکھا ہے، ہر دل مضطر۔ ۔ ۔ زندگی اِک بُوند کو ترستی، ہر لب تشنہ ہے، ہر دل سوختہ۔ ۔ ۔ !

پردئہ سحاب سے ندا آئی کہ یہ نالہ و فریاد کیونکر؟ تم ضمیر فروش، ایمان فروش، سیاہ دل۔ ۔ ۔ ۔ اپنوں کے بہتے بوندوں سے تشنہ نہیں ہوئے؟ ایک لال رنگ کا بوند جو ’صدیوں‘ سے وہاں ارزاں ہیں اور ایک آنکھوں سے بہتی بوند جو ہر ماں کا شکوہ ہے۔ ۔ ۔ تم دل چاک، بدن چاک، گریباں چاک شکر کے بوند کے لائق نہیں۔ تم کو مجھ سے گلہ نہ ہو۔ تم لوگ تو وہاں اپنے ہی لخت جگر وں کے خون سے شادکام ہو، تمہاری مٹی کو اب میرے بوندوں کی حاجت نہیں۔ سینچائی کے لئے اب تم لوگوں کے وہ ’دو قطرے‘ ـہی کافی ہیں، جو بوند بوند ٹپکتے ہیں۔ ہر گلی، ہر نُکڑ، گام و شہر، بازار، دہقاں، کشت و خیاباں میں۔ اِک بیکراں آبِ جو۔ ۔ ۔ گرم و تازہ سُرخ رنگ۔ ۔ تو یہ شکوہ و فریاد کیسا؟ یہ سماعت کرنے کے بعد نالہ و فریاد کے لئے اُٹھی میری گردن جُھک گئی اور ہو نٹ سی لئے۔ ۔ ۔ !

لمحوں میں، ہوا سے باتیں کرتے ہوئے جہاز ہندوستان کے دار السلطنت دہلی کے اندراگاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈّے کے ٹرمنل ۳ پر آہستہ خرامی سے اُتر تا چلا گیا۔ قریباً 4:30 بجے شام ہم ہوائی اڈّے سے نکلے۔ موسم خوشگوار تھا۔ سرما نے وہاں کی گرمی کو بھی زیر کردیا تھا۔ لُونے بھی سپرڈال دئے تھے۔ ٹیکسی میں سامان لادکرجامعہ ملیہ اسلامیہ کی راہ لی، جہاں رات محمد شاہد لون صاحب کے پاس گزار کر اگلی صبح علی گڑھ کے لئے عازم سفر ہوئے۔ شاہدلون صاحب خواجہ باغ بارہمولہ کے رہنے والے قابل اور ہونہاراسکا لر ہیں۔ ‘political economy of islam’ عنوان کے تحت پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کا مقالہ ترتیب دے رہے ہیں۔ گزشتہ سال جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسکالرشپ پر آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا اور وہاں کی دیگرچندجامعات میں مختلف موضوعات پر محاضرات(lectures) بھی دئے۔ زُود نویس بھی ہیں۔ قومی وبین الاقوامی انگریزی اخبارت ورسائل میں ان کی نگارشات شائع ہوتی رہتی ہیں۔ موصوف نے بڑے تپاک سے ہمارا استقبال کیا۔ رات بھرمیزبانی کی اورصبح ’حمّال‘ بن کر ہمارا سامان ’ناتواں ‘ کندھوں پر لاد کر علی گڑھ جانے والی گاڑی تک پہنچایا۔

علی گڑھ کو برصغیر میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی علامت کے طور پریاد کیا جاتا ہے۔ ۱۸۵۷؁ء میں جب مسلمانوں کی عظمت کا ’جنازہ‘ نکل رہا تھا۔ ٹمٹماتے چراغ گوروں کی آندھی سے بُجھ گئے تو سرسید احمد خانؔ نے بھارت کے اس شہر سے توقعات وابستہ کیں۔ انہوں نے علی گڑھ کو ہی تعلیمی، ادبی اور سیاسی تحریک کا محور بنایا۔ فی الوقت یہ شہر اپنے تالوں کی صنعت کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہے۔ اٹھارہویں صدی سے قبل علی گڑھ کا نام ’کول‘ (kol)تھا۔ مورخین؎ کے مطابق یہ نام اس شہر کو بلراماؔ نے دیا تھا۔ ابن بطوطہ ؔنے بھی اپنے سفرنامہ میں اس شہر کو اسی نام سے یاد کیا ہے۔ با لآخر مختلف ’نام کرن‘ کے بعد ستارہویں صدی میں ایک شیعہ کمانڈ ر نجف خان ؔ نے اس شہر کو فتح کر کے اس کانام’ علی گڑھ‘ رکھا۔

دوپہرکے قریب ہم چمنِ سرسید ؔ میں داخل ہوئے۔ رِکشا پر سوار پانچ سال قبل کا منظر آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا۔ جب راقم ریسرچ کے لئے علم کی اس وادی میں پہلی دفعہ داخل ہو اتھا۔ اس بار کافی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ علی گڑھ میں کیمپس کے احاطے میں عزیزانِ من وسیم مکائی صاحب اور عبدالحسیب میر صاحب کے پاس مسافرت کے یہ ایام گزارناطے پایا تھا۔ برادر وسیم مکائی صاحب چھٹیوں میں جب کشمیر میں تھے تو کہا کرتے تھے کہ علی گڑھ میں کیمپس کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ صفائی ستھرائی کا خیال نہیں۔ کلاسز میں موجود’ بارِ تشریف‘ کو اٹھانے والے بینچز اور کرسیوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو سرسید احمد خانؔ مرحوم نے اپنے زمانے میں خود اپنے ہاتھوں سے صاف کیا ہے، تب سے اب تک کسی کی مجال جو ان کوہاتھ لگائے۔ لیکن راقم کا مشاہدہ اس سے اِبا کر رہا تھا۔ منظر نامہ تبدیل ہو چکا تھا۔ خوشگوار تبدیلی آچکی تھی۔ پانچ سال قبل کی نا پختہ سڑکیں، پختہ ہو چکی تھیں۔ صفائی سُتھرائی کا اعلیٰ انتظام تھا۔ عمررسیدہ ’بوڑھی‘ عمارتوں کو رنگ روغن کے ذریعے ’جوانی ‘کا لیپ چڑھا یا گیا تھا۔ کچھ نئی عمارتیں بھی منصہ شہود پر آچکی تھیں۔ غرض ان پانچ سالوں میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کافی ترقی کر لی ہے۔ رکشا ’محسن الملکؔ ہال‘ کے مولانا محمدعلی جوہرؔہاسٹل کی دہلیز پر رُکا اور ہم تھکاوٹ سے چُور، بھوکے، پیاسے وسیم مکائی صاحب اور عبدالحسیب میر صاحب کے آشیاں میں جا گُھسے۔ وسیم مکائی صاحب نے خندہ پیشانی سے پُر تپاک استقبال کیا۔ نماز کے بعد تسکینِ شکم کاسامان ہوااوردراز ہوکرتھوڑی دیرقیلولہ کیا۔  وسیم مکائی صاحب اولڈٹائون بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے متنوع صلاحیتوں کے حامل میرے عزیزوں میں سے ہیں۔ گزشتہ سال ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انگریزی شعبہ میں پی۔ ایچ۔ ڈی کے لئے امتحان کوالیفائی کیا۔ “World War 2,poetry”پرتحقیق کر رہے ہیں۔ موصوف کم عمری سے ہی بسیارنویس ہیں۔ اکثر و بیشتر وادی کے موٗقر روزناموں ’کشمیر عظمٰی‘ اور ’گریٹر کشمیر‘ میں ان کے مضامین باصرہ نواز ہوتے ہیں۔ چندانگریزی کتابوں کے تراجم بھی کئے ہیں جوکہ شائع بھی ہوئے۔ تحریرکے ساتھ ساتھ قبلہ تقریری صلاحیت میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیںرکھتے۔ عبدالحسیب میرصاحب بھی بارہمولہ خواجہ باغ علاقے سے تعلق رکھنے والے مرنجان مرنج قسم کے حامل اسکالرہیں۔ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں”An Analysis of social and political Developments in Jammu and Kashmir from 1963 to 1975″عنوان کے تحت پی۔ ایچ۔ ڈی کامقالہ تیارکررہے ہیں۔ موصوف کے علمی، تحقیقی اورتنقیدی مضامین وادی کے مختلف انگریزی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ دونوں نے عقیدت سے میزبانی کاحق اداکیا۔

علی گڑھ تحریک ہندوستان میں مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ کی تحریک تھی۔ سرسید مسلمان ہند کے لئے ایک معالج اور مصلح تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ برعظیم کے انتہائی دقیانوسی مسلمانوں میں جدید ترین انگریزی اور سائنسی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں ہے۔ بقول مختار مسعود ؔکے ’سرسیدؔ دو شخصیتوں کا نام او دو مخالفتوں کا عنوان ہے۔ ایک سر سید ؔتعلیم والا ہے اور دوسرا تفسیرؔ والا ہے۔‘ (حرف ِ شوق۔ ص۲۵۸) تفسیر والے سرسیدؔ سے اختلاف بجا لیکن تعلیم کو فروغ دینے والا سرسیدؔ واقعتا انیسویں صدی میں مسلمانوں کا محسن تھا۔ اس صدی نے ہندوستان میں موصوف کے مثل کوئی محسنِ ملت نہیں پیدا کیا۔ وسیع النظر اور ہمہ صفت درد مند، انجمنوں اور اداروں کا بانی و منتظم، پرانی عمارتوں کا قدر شناس اور نئی عمارتوں کا معمار۔ دن میں دردرجاکر مسلمانوں کے مستقبل کے لئے جھولی پھیلانے والا اور رات کے اندھیرے میں اُٹھ کر مسلمانوں کے زوال پر آنسو بہانے والا۔ مختار مسعود ماضی کے البم سے ایک تصویر ہمارے سامنے پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’رات کے دو بجے محسن الملکؔ، سرسید احمد خانؔ کے پاس گئے تو انہوں نے سرسیدؔ کو بستر پر نہ پایا۔ تلاش میں کمرے سے نکلے دیکھا کہ سرسید ؔبرآمد ے میں ٹہل رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں۔ وجہ دریافت کرنے پر فرمایا اس سے زیادہ مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے کہ مسلمان بگڑ گئے ہیں اور بگڑ تے جاتے ہیں۔ کوئی صورت ان کی بھلائی کی نظر نہیں آتی۔ ۔ ۔ سرسیدؔ کی بے چینی حق بجانب تھی۔ اُس زمانے میں جد ید تعلیم حاصل کرنے والے مسلمانوں کو ڈھونڈنے کے لئے خردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔ ۱۸۵۲؁ء سے ۱۸۶۸؁ء تک ۲۴۰ ہندوستانیوں نے بیرسٹرایٹ لا ء کا امتیاز حاصل کیا اور ان میں صرف ایک مسلمان تھا۔ ۱۸۶۹؁ء میں۱۰۴ طلبہ نے طب کے لائسنس کا امتحان پاس کیا، اُن میں بھی صرف ایک مسلمان تھا۔ ۱۸۷۱؁ء میں بنگال میں کل جریدی عہدہ دار ۲۱۱۱ تھے۔ ان میں مسلمان کی تعداد صرف ۹۲ تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کے پہلے اکیاسی سال (۱۹۴۷؁ء۔ ۱۸۶۶؁ء) میں صرف ۷ مسلمان جج کے عہدہ پر فائز تھے۔ انیسویں صدی کے اواخر تک سند یافتہ مسلمان انجینیر صرف ۳ تھے۔‘ یہ اعداد و شمار دیکھ کر ذی حس و ذی شعور افراد کے دلوں میں گھبراہٹ طاری ہوتی ہے اور سرسید اس ملت کے محسن تھے، جنہوں نے اپنی زندگی اس ملت کی بہتری کے لئے صدقے میں دے دی۔ وہ از خود فقیروں کی طرح گھر گھر، در در پھرے، ہر دروازے پر دستک دی اور کالج کی تعمیر کے لئے جو کچھ ملا اُسے اپنے کشکول میں رکھ لیا۔ عورتیں بھی انفاق کے جزبے سے لبریز تھیں۔ انہوں نے ہاتھوں کی چوڑیاں اور کانوں کی بالیاں تک اُتار کر چندے میں دے دیں۔ ایک شخص نے ایک عمر صرف کر کے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے جو رقم جمع کی تھی وہ ساری کی ساری اس قومی کام کے لئے دے دی۔ سرسیدؔ کی ۱۸۸۵؁ء کی اپیل پر لبیک کہنے والوں میں پنجاب کا ایک اسکول ماسٹر اُٹھتا ہے، جس نے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پانچ سو روپیے جمع کیے تھے۔ وہ اپنی جمع پونجی ’’اسٹریچی ہال‘‘ کی تعمیر کے لئے چندے میں دے دیتا ہے۔ ’اسٹریچی ہال‘ کے متعلق مختار مسعود رقم طراز ہیں کہ: ’’اسٹریچی ہال عقلیت اور جدیدیت کی ادب گاہ ہے۔ تحریک علی گڑھ کا گہوارہ ہے۔ تحریک پاکستان کی رزم گاہ ہے۔ برطانوی ہند کے مسلمانوں کے مسائل کے تجزئے، حل کی تلاش اور دوررس نتائج کی حامل قراردادوں اور تجاویز کی تصدیق اور تصویب کا مقام ہے۔ یہ برعظم کے مسلمانوں کے زوال سے عروج کی جانبِ سفر کی داستان ہے، جو سنگ و خشت میں رقم کی گئی ہے۔ ‘‘(حرف شوق ص ۲۱)

علی گڑھ کی تعمیر میں بیش بہا قربانیاں لگی ہیں۔ اس کو تعمیر کرنے والے محسن تو مر کر مٹی میں پنہاں ہوئے لیکن اُن محسنوں کا لگایا ہوا یہ پودا آج تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جس کے سائے میں رنگ و نسل، ذات پات، مذہب و مسلک کی تفریق کے بنا ہندوستان کا ہر طالب اپنی پیاس بُجھانے کے لئے اس چمن کا رُخ کرتا ہے۔ یہ تنا ور درخت، فی الوقت ۴۶۷۰۶ ایکڈ زمین پر پھیلا ہوا ہے۔ جس کے سائے تلے ۳۰۰۰۰تشنگانِ علم اپنی علم کی پیاس بُجھا نے میںمصروف ہیں۔ کیمپس احاطے میںلاتعدادوسیع ہاسٹلزموجودہیںاورجگہ جگہ خوبصورت و دلکش مساجد تعمیرکی گئی ہیں۔ صبح و شام کیمپس کی فضا ’اللہُ اکبرـ‘کی ندائے جانفراسے گونجتی ہیں۔ مبالغہ نہیں بلکہ حق ہے کہ اتنی مساجدہندوستان کے کسی مذہبی دارالعلوم میں بھی نہیں جتنی چمنِ سرسیدؔکے احاطے میں ہیں۔ جامعہ مسجدکے صحن میں ہی ہندوستانی مسلمانوں کے محسن سرسیداحمدخان ؔاپنے بچوں کی معیت میں آسودئہ خاک ہیں

؎ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم      تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیاکئے (غالب)

ایک دن عصر کے وقت عبدالحسیب صاحب، وسیم مکائی صاحب اور محمدسمیع صاحب کی معیت میں اس محسن کے مقبرے پرگئے جس نے برصغیر کو بیدار کیا اور خود تاحکمِ ثانی وہاں آرام فرماہیں۔ دعائے مغفرت کے بعد وہیں قریب کی جامعہ مسجدمیں نمازِعصراداکی۔ مسجدکی چھت دلکش نقش و نگار سے مزّین ہے۔ مسجد کافی وسیع اورخوبصورت ہے۔ قرآن کریم کاایک لمبا اور چوڑا نسخہ بھی وہاں دیکھنے کو ملا۔ اس سے قبل ایسامصحف راقم کی نظروں سے نہیں گزرا ہے۔

خیر کچھ دن کیمپس کے طول و عرض کی گرد چھانٹی۔ کیمپس کے باہر کبھی ’شمشاد‘ مارکیٹ کی سیر تو کبھی ’زکریا‘ کی دھول کو مَس کیا اور کبھی میڈیکل روڑ کو چھان مارا۔ جمال پورمیں جماعت اسلامی ہند کا ایک تحقیقی سینٹر ’ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی‘ کا دورہ بھی کیا۔ وہاں کشمیر سے تعلق رکھنے والے اسکالرمحترم مجتبٰی فاروق صاحب سے ملاقات کرنا مطلوب تھا۔ موصوف کئی برسوں سے مذکورہ ادارہ میں بطور سینئر ریسرچ اسکالر کے پرورشِ لوح و قلم میں مشغول ہیں۔ قومی وبین الاقوامی رسائل وجرائد میں موصوف کے تحقیقی مقالات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ روزنامہ ’کشمیر عظمٰی‘ میں بھی اکثر و بیشتران کے مضامین چھپتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کام سے ہمیں متعارف کرایا اور تواضع کی۔

علی گڑھ یونیورسٹی کے اندر اور باہر صبح و شام لڑکوں کا جمِ غفیر عارضی ڈھابوں پر دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں چائے کی چسکیاں لیتے آپ طلباء و اسکالرز کو ہر لمحہ دیکھیں گے۔ علمی، قومی و بین الاقوامی مسائل زیر بحث ہوتے ہیں۔ مکھیاں بھی اپنا حصہ چوسنے سے اعراض نہیں برتتے۔ ہم کیمپس کے باہرناشتے کے لئے پرانی چنگی پرواقع صدیق بھائی کے ہاتھ کی بنی ذائقے دارچائے نوش کیاکرتے تھے اورساتھ میں عابد بھائی کے مشہورپراٹھے سُپردِشکم کرتے۔ بھارت کی کثیر آبادی اتر پردیش میں ملتی ہے، اس لیے گاڑی والے، رکشا والے، ’بیٹری‘ چلانے والے، آئو دیکھتے ہیں نہ تائو، دیکھی ان دیکھی کر کے سڑک اور گلیوں میں تیز رفتاری سے اپنی سواری کو چلاتے ہیں۔ جس کی زد میں کبھی کبھار اُتر پردیش کی کثیرآبادی بھی آجاتی ہے۔ کون جی رہاہے، کون مر رہاہے، اس تیز رفتار زندگی میں کسی کوفرصت نہیںکہ وہ دوسروں کے بارے میں سوچے۔ ہرشخص دوڑ میں لگا ہوا ہے، ایک ایسی شاہراہ پرجس کی منزل دھندلی ہے۔ ہندوستان کی کسی ریاست میں آپ جائیں، آپ کواحساس ہوگا کہ آپ غیروں کے بیچ ہیں۔ تہذیب و تمدن کا فرق، زبان، عادات و اطوار اور رسوم و روایات میں فرق۔ غرض وہاں آپ (کشمیری) خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ ایسا ’اٹوٹ انگ‘ کہ ہرکوئی آپ کوشک کی نگاہ سے دیکھتاہے۔
ہمارے ہر دلعزیز و موثر خطیب ڈاکٹر عبد الروف میر صاحب (بارہمولہ) بھی اس سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بحیثیت استاد (شعبہ بیو کمیسٹری فیکلٹی آ ف میڈیکل سائنس) میں اپنے فرائض انجام دینے کے لئے منتخب ہو گئے۔ اہلیہ کے ساتھ آج کل وہیں عارضی مکان میں سکونت پزیرہیں۔ ایک دن انہوں نے بھی عشائیہ پر مدعو کرکے خوب خاطرتواضع کی۔ وسیم مکائی صاحب اورچچیرے بھائی کے ہمراہ ان کے عارضی دولت کدے پرلذتِ کام ودہن سے محظوظ ہوئے۔ البتہ وسیم مکائی صاحب نے دوبارہ ایسی دعوت کالطف اٹھانے سے بروقت ’توبہ‘ کی کیونکہ سالن میں مرچوں کی مقدارحدِاستطاعت سے زیادہ محسوس ہوئی اور وہ ’سی سی‘ کرتے وہاں سے الٹے پائوں بھاگ گئے۔ ۲۵ جنوری کو’ تاج محل‘ دیکھنے کا منصوبہ بنا اور علی الصبح محبت کی اس علامت کی زیارت کے لئے نکل پڑے۔ سفر بس کے ذریعے طے کرنا تھا۔ علی گڑھ سے آگرہ ۹۰ کلو میڑ کی دور ی پر ہے۔ آگرہ اتر پردیش کا اہم شہر ہے۔ اس کا پرانا نام’ اکبر آباد‘ تھا۔ اکبرؔ کے زمانے میں یہ دار السلطنت رہا ہے۔ کچھ گھنٹوں کی اس مسافت نے ہند کی عظیم ریاست کی ’مزعومہ‘ ترقی کا بھی مشاہدہ کرایا۔ جگہ جگہ سڑکیں خستہ ہیں تو کہیں نا پختہ۔ غربت و افلاس اس ریاست کے اکثر کنبوں کی داستان ہے۔ بُھک مری، بچہ مزدوری اور خودکشی میں بھی مذکورہ ریاست ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے سرفہرست ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جہاں حقوق انسانی کا درس دیا جاتا ہے۔ رنگ و نسل، ذات پات کے بھید بھائو کے خلاف جہاد کر نا سکھا یا جاتا ہے۔

انسانیت کو ہر آن مقدم رکھنے کی ترغیب دی جا تی ہے، وہیں کیمپس احاطہ کے باہر ڈھابوں پر بچہ مزدوری کی بڑھتی روایت ان سبھی اسباق کو ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔ اہنساکے پجاری ’باپوں‘ کے اس دیس میں جانوروں کی حُرمت مقدم ہے اور انسان کا خون حلال تصور کیا جاتا ہے۔ معصوم بچیاں ہوں یا پختہ عمر کی خواتین اُن کی عصمت نیلام کرنا ان ’ناری پُوجیوں‘ کے لئے کسی کھیل تماشے سے زیادہ نہیں ہے۔ ہندوستان آہستہ آہستہ اخلاقی پستی کی اُس حد کو چھو رہا ہے، جہاں سے کسی بھی قوم کا طلوع ہو نا ناممکنات میں سے ہے اور زوال ایسی اقوام کا مقدر بن جاتا ہے۔

گاڑی سڑک پر ’بہہ رہی‘ تھی اور راقم اطراف میں اس’ ترقی‘ کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ خستہ مکانات اور جھونپڑیوں پر مشتمل بستیاں۔ ـ ’سُوچ بھارت ‘ کا نعرہ توبس ٹی وی اسکرین تک ہی محدود ہے۔ حقیقت سے اس کاکوئی تعلق ہی نہیں۔

ہندوستان کی اکثرریاستوں کی طرح اترپردیش میں بھی جگہ جگہ گندے نالوں اور تالاب کے ارد گرد بستیاں ’آباد‘ ہیں۔ اُن میں مویشی بھی نہاتے ہیں اور بچے بھی اُسی میں گرمی سے بچنے کا سامان پاتے ہیں۔ عورتیں کپڑے اور کچن کے برتن بھی اُسی پانی سے ’پاک و صاف‘ کر لیتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کے بھگوان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ مندروں کی حالت بھی اکثرمقامات پر ناگفتہ بہ ہیں۔ اُن کے آس پاس کوڑا کر کٹ اپنی آن، بان اور شان سے تشریف فرما ہیں۔ کئی بُت گرد آلو ہیں، جنہیں جھاڑنے کی بھی اُن کے بھگتوں کے پاس فرصت نہیں۔ کچھ مندر خستہ حالی کارونا روتے ہیں۔ لیکن کسی کو اس طرف دھیان کہاں۔ آخر جو خود بُھوکے مر رہے ہوں، پیاسے جی رہے ہوں، سیاسی جبر اور معاشی تنگدستی کا شکار ہوں، اپنے اور بچوں کی تسکین ِ شکم کا سامان فراہم کرنے سے عاجز ہوں، وہ بھلا ان مندروں کی طرف کیسے اپنی توجہ مرکوز کریں۔ غربت کی وجہ سے پورے ہندوستان میں قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے۔ ریاست اترپردیش میں بھی کسی کا قتل کرنا، ناک سے مکھی ہٹانے کے مترادف ہے۔ بہر حال آنکھ اس’ ترقی‘ کودیکھ کر اکتا گئی اوربے صبری سے منزل مقصود کی ٹوہ میں لگ گئی۔ ظہر کے وقت ہم آگرہ پہنچے۔ بس سے اترنے ہی والے تھے کہ رکشا والوں کی بڑی تعدادنے ہمیں چاروں سمت گھیرکر ’اغوا‘ کرنا چاہا۔ ہرایک بضدتھاکہ ان کی رکشاکوہی’شرف‘ بخشاجائے۔ یہ تو خیر ہو آگرہ پولیس کا کہ بروقت مداخلت کرکے ہمیں اس ’ناگہانی آفت‘ سے بچالیا۔ کچھ دیر بعد آگے جاکر ہم نے ایک رکشاکری اورآدھے گھنٹے بعدہم اُس پُر شکوہ عمارت کے سامنے کھڑے تھے، جس نے غریبوں کی محبت کا’مذاق‘ اڑایا ہے

؎ اک شہنشاہ نے دولت کاسہارا لے کر       ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق (ساحرلدھیانوی)

آگرہ کا بُرج ’تاج محل‘ وقت کے گال پر لڑھکتا ہوا آنسو۔ شوقِ دید نے اس طرف دشت نوردی پر مجبور کر دیا تھا۔ نگاہیں عظمت رفتہ کے تعاقب میں تھیں۔ احمد لاہوری ؔاور اس کے کاریگروں نے ہند کی سر زمین کو ایک پہچان دے دی۔ تین صدیاں بیت گئیں پھر بھی یہ مخروطی گنبد، دیکھنے والے کو سحر زدہ کر دیتے ہیں۔ جمنا میں تیرتاہوا ایک پُر اسرار شاہکار، آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے۔ ’تاج محل‘ کے پُر شکوہ مینار شاہ جہاںؔ اور ممتازؔ کی محبت کے گواہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ابتزال کے بھی شاہد ہیں۔ کہاں وہ دور کہ جب ہم نے بھارت کو ایک پہچان عطاکرد ی۔ بھوک، پیاس، افلاس اور اضمحلال میں مبتلا اس ملک کو جینے کا سلیقہ سکھا یا۔ تہذیب و تمدن سے آشنا کیا، انسانیت کے اسباق از بر کرائے اور کہاں آج ہم اپنی ہی پہچان کا جنازہ اٹھتے دیکھ رہے ہیں۔ پستی کی یہ حد کہ ہم سے ہمارا تعارف پوچھا جا رہا ہے۔ حالانکہ ’ تاج محل ‘ ہند کے لئے اول درجے کا ذریعہ آمدن، ترنگے کی عظمت لال قلعے کی مرہونِ منت، جامعہ علی گڑھ و جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اُن کے عقل کابازار روشن۔ امیر خسروؔ، البیرونیؔ، مغلیہ سلطنت کے خزانے۔ ۔ ۔ غرض کن کن احسانات کی یہ نفی کریں گے؟ مسلمان تو ہند میں معمار کی صورت میں آئے، گوروں نے تو قزاق اور ڈاکوں بن کر اس ہند کو لوٹا جسے مسلمانوں نے سجایا اور آباد کیا تھا۔ حق تو یہ ہے کہ اگر مسلمان ہندوستان نہ آتے تو وہاں کھنڈرات، مار دھاڑ، لوٹ مار، سخت جان خُودرو گھاس کے علاوہ کچھ نہ ہوتا۔ شکر کرنا، احسان ماننا اخلاقی حُسن ہے اور وہ اخلاق وہاں ناپید۔ خیر یہ تو’ایام‘ ہیں جن کو اقوام کے درمیان پھیر دیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔

’یونیسکو ‘ نے تاج محل کو قیمتی ورثہ قرار دیا ہے۔ جہاں دنیاکے اطراف سے سیاحوں کا جمِ غفیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ’تاج محل‘ ۱۶۳۲؁ء تا ۱۶۵۳؁ء کے مابین تعمیر ہوا۔ یہ مقبرہ 155.500ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ مقبرہ ایک مربع شکل کا حامل ہے جو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسٰی شیرازی ؔنامی ایک ایرانی انجینیر نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی ۱۲۰ فٹ اور بلندی ۲۰۰ فٹ ہے۔ جب تاج محل کی تعمیر اپنے اختتام کو پہنچی تو شاہجہاں کا یہ ارادہ تھا کہ دریا کے مخالف کنارے پر اپنے لیے بھی سنگ مرمر کا ایک مقبرہ تعمیر کروائے لیکن اُن کی یہ امید بھر نہ آئی۔ ان کے بیٹے اورنگ زیبؔ نے علمِ بغاوت بلند کی اور شاہجہاںؔ کو آگرہ میں قید کرایا۔ ۱۶۶۶؁ء میں شاہجہاں وفات پا گئے اور اپنی بیوی کے قدموں میں دفن کیے گئے تاج محل شب و روز مختلف رنگ بدلتا ہے۔ سحر کے وقت اس کا رنگ گلابی اور شام کے وقت دودھیا سفید ہوجا تاہے۔ ان بدلتے رنگوں کو عورت کو مزاج سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ حُسن کا یہ منظر آگرہ میں جمنا کے کنارے، سنگ مرمر کی سلوں میں مقید ہے۔ ممتاز محل ؔ کا یہ مقبرہ، مسلمانوں کی فن تعمیر کی معراج ہے۔ باوجود کہ تاج محل ایک مقبرہ ہے۔ مگر اسے دیکھ کر کبھی موت کا خیال نہیں آتا بلکہ ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ اس کی شکل میں محبت، مجسم ہے۔ تاج محل کی مرمری عمارت کی دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔ عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینا ر ہے۔ عمارت کا چبوترا، جو سطح زمین سے سات میٹر اونچا ہے، سنگِ سُرخ کا ہے۔ اوسطاً چالیس لاکھ سیاح دنیا بھر سے ہر سال اس عمارت کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس طرح تاج محل ہندوستان کی اقتصادیات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

’تاج محل‘ کو ہندوستان کے شدت پسند عناصر نے بار ہا متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بابری مسجد کی طرح اس کو بھی مندر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شدت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ تاج محل دراصل ’ شوا ‘ مندر ہے جسے راجپوتوں نے شاہجہاں کو تحفہ میں دیا تھا۔ اسی مندر کے اوپر تاج محل کی تعمیر کی گئی حالانکہ آگرہ کی عدالت نے اس مقدمہ کو خارج کر دیا ہے۔ تاج محل کو مندر میں تبدیل کرنے کی یہ کوشش ابھی سرد نہیں پڑی، بر سر اقتدار پارٹی کی جانب سے اس کو مندر میں تبدیل کر نے کی کوشش جاری ہے۔ دوسری جانب ’آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا‘ بار ہا یہ ثبوت پیش کر چکی ہے کہ تاج محل کے مندر ہونے کا دعویٰ بے بنیا د اور محض ایک افسانہ ہے۔ عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ دنیا بھر میں ہندوستان کی شناخت اس کی اقتصادی طاقت، سیاسی قوت یا جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ سترہویں صدی میں تعمیر شدہ یہی’ تاج محل‘ ہے۔ حق یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کے ستر سالوں میں ایسا کچھ قابل فخر کارنامہ ہندوستان میں وجود پذیر نہیں ہو سکا ہے جو اسے عالمی شہرت دلا سکے اور کسی کا متبادل ثابت ہو سکے۔ البتہ اخلاقی اقدار کے فقدان کے سبب روز بروز پستی کی حد کو ہی چُھو رہا ہے۔ بہرحال آفتاب اپنے منتقی انجام کو پہنچ رہا تھا اور الوداعی کرنیں ’تاج محل‘ کے مخروطی گنبد کو افق سے کوئی پیغام پہنچا رہے تھے اور ہم مغلیہ سلطنت پر ’فاتحہ‘ پڑھ کر چمن سرسیدؔ کی طرف قدم رنجہ ہوئے۔ ۔ ۔ ۔!

امتیازعبدالقادر، بارہمولہ ریسرچ اسکالرکشمیر یونیورسٹی، سرینگر

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: