اسلامی بینکنگ: مسئلہ کیا ہے؟ انور عباسی کا جواب

0

تمہید: بینک انٹریسٹ ایک مالیاتی ٹول ہے جسے انسان نے اپنی سہولت اور فائدے کے لیے وضع کیا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح صدیوں قبل انسان نے اپنے حالات کے مطابق مضاربہ وضع کیا تھا۔ اس لیے اس میں کئی خامیاں ہو سکتی ہیں۔ اگر انسان اس سے بہتر کوئی اور ٹول وضع کر لے تو مارکیٹ میں یہ خودبخود ختم ہو جائے گا۔ لیکن اس کو حرام اور حلال کے چکر میں نہ پھنسایا جائے۔

ہمارے اہلِ علم جب اسلامی بینکنگ پر قلم اٹھاتے ہیں تو ایک بات طے کر کے بحث کا آغاز کرتے ہیں کہ قرآن نے جس ربا کی حرمت کا اعلان کیا ہے اس کا اطلاق بینک انٹریسٹ پر ہوتا ہے۔اس کے بعد پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے لیے حلال کمائی پر زور دیا جاتا ہے، اور حلال کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ انٹریسٹ کو ختم کر کے اس کا ’اسلامی ‘ متبادل شروع کیا جائے۔ ’اسلامی‘ متبادل سے ان کی مراد صدیوں قبل کے ٹول یعنی مضاربہ سے ہوتی ہے، اور مشارکہ کو بھی ضمنی طور پر شامل کر لیا جاتا ہے۔ مضاربہ کی شان میں یہ رطب السان یہ اسکالرز اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ گزشستہ سینتیس برسوں میں امت کے اہلِ دانش، علماء کرام اور ماہرینِ معاشیات آج تک سود کو ختم نہیں کر سکے۔ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ ان کے مطابق یہ’ اسلامی ‘ متبادل ان سینتیس سالوںمالیاتی نظام میں جگہ نہیں پا سکا؟ کیا وجہ ہے کہ ’غیراسلامی‘ طریقہ تو ساری دنیا میں چل رہا ہے لیکن ہمارا خالص اسلامی طریقہ کسی ایک جگہ بھی کام نہیں کر پا رہا۔ اس کے لیے درجنوں اگر اور مگر کی شرطیں لگائی جارہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے’ ’اگر پاکستان میں اسلامی مالیاتی عدالتیں شروع کر دی جائیں،تو بہت سے مسائل کا حل ممکن ہے۔‘‘ یعنی اگر یہ عدالتی نظام نہ بدلا تو معاملہ خاصا مخدوش ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’اسلام نے معیشت سے کہیں زیادہ معاشرت اور قانون پر توجہ دی۔‘‘ تو کیا کریں؟ اب معاشرتی انقلاب راتوں رات تو ممکن نہیں۔ اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ’’ایسے میں تن تنہا صرف اسلامی بینکاری اور اسلامی معیشت کا سو فیصد اسلام پر عمل کرنا قریباً ناممکن ہے۔‘‘اس طرح کے بیانات حفظِ ماتقدم کے طور پر دیے جاتے ہیں، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ تاریخ کا پہیہ ماضی کی طرف نہیں مڑا کرتا۔ اصل یہ ہے کہ صدیوں کے تجربے نے مضاربہ کو مالیاتی نظام سے باہر نکال پھینکا ہے۔
مسئلہ کیا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ربا کوتو مطلقاً حرام قرار دیا لیکن ایسا متبادل متعارف کردیا جو دنیا میں چلنے کے قابل نہیں اور اگر کسی درجے میں ہے بھی تو درجنوں اگر اور مگر کی شرطوں سے وابستہ کردیا جو خود کوسوں دور ہیں؟ہمارا خیال ہے کہ اسلام کے سارے احکام ہر دور میں یکساں قابلِ عمل ہیں۔اصل میں اہلِ دانش سے سہو ہوا کہ انہوں نے بینک انٹریسٹ کو ربا کے ہم معنی قرار دے کر ایسے متبادل کے پیچھے پڑ گئے جو انسانی تجربہ گاہ میں مسترد کیے جا چکے ہیں۔

ہمارے نزدیک اصل سوال تب ہی سامنے آسکتا ہے جب ہم ربا اور سود کے متعلق علمائے کرام کے تمام دلائل کا جائزہ لیںگے۔
علمائے کرام نے سود کو ’ ربا‘ قرار دینے کے لیے اس کے خلاف جو دلائل فراہم کیے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
(۱) ربا کی تعریف اور لغوی بحث (۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد۔

(۱) ربا کی تعریفیں:
ہم نے دنیائے اسلام کی چار نمائندہ تعریفوں کا چنا ہے۔ تمام علمائے کرام کم و بیش ان پر متفق ہیں:

(الف۔۱) سید ابوالاعلی مودودیؒ:

آپ نے اپنی تعریف مسندحارث بن اسامہ اور بیھقی کی روایت پر رکھی ہے آپ کے الفاظ میں ’’ لغت اور قرآن کے بعد تیسرا اہم ترین ماخذ سنت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشا معلوم کیا جا سکتا ہے۔یہاں بھی ہم دیکھتے ہیںکہ علتِ حکم مجرّد زیادتی کو قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے۔ کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربوٰ (البیھقی) اورکل قرض جر بہ نفعا فھو ربوٰ۔( مسند حارث بن اسامہ) یعنی ہر وہ اضافہ جو قرض پر حاصلہ ہو ربا ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق’’ امت کے تمام فقہا نے بالاتفاق اس حکم کا منشا یہی سمجھا ہے کہ قرض کے معاملہ اصل سے زائد جو کچھ بھی لیا جائے وہ حرام ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’قرآن جس چیز کو حرام کر رہا ہے اس کے لیے وہ مطلق لفظ ’الربوٰ‘ استعمال کرتا ہے جس کا مفہوم لغتِ عرب میں مجرّد زیادتی ہے۔‘‘ (سود، ص ۲۶۵،۲۶۶،۲۶۷)۔ اس سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں:
٭ربا قرض کے معاملے میں ہوتاہے۔
٭راس المال پر مجرّد اضافہ یا زیادتی ربا ہے۔اس کے لیے پیشگی شرط ضروری نہیں۔
٭متعین اور فکسڈ اضافہ نہ ہو پھر بھی وہ ربا ہو گا۔
بعض لوگوں نے جب اس روایت پر ضعیف سند کے حوالے سے اعتراض کیا کہ قابلِ قبول نہیں تو آپ نے فرمایا: ’’بعض لوگ اس حدیث اس حدیث پر اس دلیل سے کلام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے اسے تمام فقہائے امت نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبولِ عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے، خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔‘‘ (سود، ص ۲۶۶)۔

(الف۔۲) مولانا محترم نے ربا کی ایک اور تعریف بھی کی ہے جو پہلی سے مختلف ہے۔اس میں راس المال پر مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ اضافے کو ربا قرار دیا گیا ہے۔ آپ رقمطراز ہیں: ’’قرض میں دیئے ہوئے راس المال پر جو زائد رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ لی جائے وہ ’سود‘ ہے۔ راس المال پر اضافہ، اضافہ کی تعین مدت کے لحاظ سے کئے جانا اور معاملہ میں اس کا شرط ہونا یہ تین اجزائے ترکیبی ہیںجن سے سود بنتا ہے۔‘‘ (سود، ص ۱۵۳، تفہیم القرآن جلد اول، سورۃ البقرہ، حاشیہ ۳۱۵)۔ اس تعریف کے مطابق :
٭راس المال پر مجرّد اضافہ ربا نہیں،بلکہ اضافہ مدت کے لحاظ سے ہو اور اس کا شرط ہونا۔
٭اگر مدت کے تعین کے ساتھ اضافہ کی شرط نہ عائد کی گئی ہو تو وہ اضافہ ربا نہیں ہوگا۔

(۲) ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی:
ڈاکٹر صاحب، مولانا مودودیؒ کی پہلی تعریف سے بالکل اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس فکر پر سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی کی تائید محمد ایوب صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’قرض ادا کرتے وقت کسی پیشگی شرط کے بغیر اصل رقم سے زائد دینا قابلِ ستائش اور سنتِ رسولﷺ کے مطابق ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ان کے مقروض تھے۔ آپﷺ نے مجھے ادائیگی کی اور اصل سے زیادہ رقم دی (مسلم، ۱۹۸۱، ۱۰م ص ۲۱۹، نسائی ص ۲۸۳، ۲۸۴، ابن قدامہ، ص ۳۲۰،۳۲۱)۔ اسی طرح رسول اللہﷺ نے ادھار میں لیے گئے ایک اونٹ کی ادائیگی کے لیے ایک بہتر اونٹ دینے کا حکم دیا کیونکہ ادائیگی کے وقت مطلوبہ عمر کا اونٹ دستیاب نہ تھا۔ ‘‘ (اسلامی مالیات، ص۔۲۱۸)۔
اس موقف کے لازمی نتائج:
٭فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند نہیں بنایا، جیسا کہ مولانا محترم کا ارشاد ہے۔
٭مطلقاً ہر اضافہ ربا نہیں، بلکہ وہی اضافہ ربا ہے جو قرض کو پیشگی نفع کے ساتھ مشروط کرتا ہو۔
٭دورِ جاہلیت کا ربا جائز ہو جائے گا، کیونکہ وہاں بسا اوقات پیشگی مشروط نہیں ہوتا تھا۔
(۳)مفتی محمد شفیعؒ:

مفتی صاحب علیہ الرحمہ ربا کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’ اصطلاحِ شریعت میں ایسی زیادتی کو ’ربا‘ کہتے ہیں جو بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔ اس میں وہ زیادتی بھی داخل ہے جو روپیہ کو ادھار دینے پرحاصل کی جائے کیونکہ مال کے عوض معاوضہ میں تو راس المال پورا مل جاتا ہے۔ جو زیادتی بنام سود یا انٹرسٹ لی جاتی ہے وہ بے معاوضہ ہے۔‘‘ (سود، ص،۱۵۔۲۲)۔اس تعریف کے اجزائے ترکیبی کے لازمی نتائج:
٭اس میں قرض کا لفظ غائب ہے (اگرچہ مفتی صاحب مرحوم کی دوسری تعریف میں یہ لفظ پایا جاتا ہے)۔
٭اس تعریف کے مطابق ایسی زیادتی یا بڑھوتری کو ’ربا‘ کہا گیا ہے جو بغیر مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔یہ تعریف صاف بتا رہی ہے کہ روپیہ ادھار دینے سے جو بڑھوتری حاصل ہو رہی ہے وہ تو ہے ہی ربا، اس کے علاوہ بھی ’بغیر کسی مالی معاوضہ‘ کے حاصلی ہونے والی زیادتی ہوتی ہے جو ربا ہے۔ اب درج ذیل مثالوں پر اس تعریف کا اطلاق کے بعدجو نتیجہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے:
(۱) ایک فرد نے کسی جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے ایک ہزار روپے کی مالیت کے شیرز خرید رکھے ہیں۔ اسے ہر سال بغیر کسی محنت کے کمپنی کی طرف سے منافع کے نام سے دو سو روپے کا اضافہ ملتا ہے۔ اس تعریف کی رو سے یہ دو سو روپے کا اضافہ ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ اضافہ بہر حال ’بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل ہو رہا ہے۔
(۲) مضاربت میں لگائی جانے والی رقم کا معاوضہ بھی ’ربا‘ ہوگا اس لیے کہ وہ اضافہ بھی بغیر کسی ’مالی معاوضہ‘ کے حاصل ہو رہا ہے۔

(۴) پروفیسر خورشید احمد:

پروفیسرصاحب نے ربا کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے: “What is forbidden is that fixed and predetermined return for one factor.” (M. Kabir Hassan and Meryn: Islamic Finance; p.88)
یعنی جس چیز کی ممانعت ہے وہ یہ ہے کہ کسی ایک عامل کے پہلے سے مقرر و متعین معاوضہ ملے۔ پروفیسر صاحب نے اس تعریف کے علاوہ بھی تعریف کی ہے لیکن اس جگہ جو تعریف کی گئی اس کا لازمی نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ زمین کا معاوضہ ’کرایہ‘ اور محنت کا معاوضہ ’اجرت ‘ بھی ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ دونوں ہی پہلے سے مقرر اور متعین ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں چاروں عوامل پیداوار میں سے صرف تنظیم (Organization) ہی وہ واحد عامل بچتا ہے جس کا معاوضہ جائز ہو گا۔ باقی تینوں عوامل پہلے سے مقرر و متعین معاوضے ہی لیتے ہیںجو ممنوع اور حرام متصور ہوں گے۔

ان تعریفوں کے تجزئے سے جو چیز سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب تعریفیں نہ صرف آپس میں متضاد ہیں، بلکہ ایک ہی مفکر کی بعض تعریفیں بھی آپس میں ٹکراتی ہیں۔( مثلاً)سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحقیق کے مطابق ضعیف سند والی روایت کو بالاتفاق فقہا نے تسلیم کیا ہے جب کہ ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی نے اس کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ’فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند بالکل نہیں بنایا‘۔ ربا کی تعریف رہی ایک طرف، اب اس مسئلے کو کون حل کرے کہ فقہا نے کس چیز کو بنیاد بنایا یا نہیں بنایا۔

لُغوی اور اصطلاحی بحث :

راس المال پر اضافے کے متعلق بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’ربا‘ کے لُغوی مفہوم اور اصطلاحی مفہوم میں فرق ہے۔حرام صرف اصطلاحی مفہوم میں ہے نہ کہ لُغوی مفہوم میں۔ مولانا محمد عبیداللہ اسعدی لکھتے ہیں: ’’الربوٰ بمعنی زیادتی عربی لفظ ہے جس کا اطلاق ہر زیادتی پر ہو سکتا ہے، اور معاملاتِ خریدوفروخت میں زیادتی کو ہی نفع کہتے ہیں لیکن الربوٰ سے ہر زیادتی نہیں مراد ہوتی بلکہ خاص زیادتی مراد ہوتی ہے۔‘‘ ( الربا؛ ص۔۳۱)
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی لکھا کہ: ’’۔۔۔۔ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اصل رقم پر جو زیادتی بھی ہو گی وہ ’ربوٰ‘ کہلائے گی۔ لیکن قرآن مجید نے مطلق ہر زیادتی کو حرام نہیں کیا ہے۔ زیادتی تو تجارت میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن جس زیادتی کو حرام قرار دیتا ہے وہ ایک خاص قسم کی زیادتی ہے، اسی لیے وہ اس کو ’الربوٰ‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔‘‘ (سود؛ ص۔۱۴۹)
ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کے لُغوی اور اصطلاحی مفہوم میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لُغت کا اگر اعتبار کیا جائے تو تجارت میں جو زیادتی، بڑھوتری یا فائدہ ہو تا ہے اس پر بھی ’ربا‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور قرآن نے ’ربا‘ پر معرفہ کا الف لام ’ال‘ لگا کر اسے تجارت کے فائدے سے الگ کر کے قرض پر زیادتی کے لیے خاص کر دیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب قرض پر حاصل ہونے والی بڑھوتری کے لیے ’ربا‘ نہیں بلکہ ’الربوٰ‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔عربی لغت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے برعکس ہمیں تو یہ نظر آتا ہے کہ تجارت میں ہونے والے فائدے کے لیے اہلِ عرب ’ربح‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ امام راغبؒ مفردات القرآن میں ’ربح‘ کے مادّے کے تحت لکھتے ہیں کہ ربح وہ فائدہ ہے جو تجارت میں چیزوں کے تبادلے سے حاصل ہو۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ ’فما ربحت تجارتھم ‘ (البقرہ: ۱۶)۔ پس ان کی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ’ربح و رباح ‘ تجارت میں اضافہ و ترقی کو کہتے ہیں۔ (تاج العروس)
چونکہ تجارت میں فائدے کے لیے عربی میں ’ربا‘ (مادّہ رب و)کا لفظ موجود ہی نہیں اس لیے اس پر الف لام(ال)لگاکر قرض پر حاصل ہونے والی زیادتی کا خاص مفہوم پیدا کرنے کا تصوّر ہی بے معنی ہے۔ ’ربا‘ کے لفظ میں ہی قرض پر بڑھوتری و زیادتی تصوّر موجود تھا اور اہلِ عرب اس لفظ کو اسی معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ الف لام لگا کر البتہ قرآن نے اس قرض کو خاص کر دیا جس پر اضافہ کو حرام قرار دینا مقصود تھا۔ حضرت مفتی محمد شفیعؒ بہت حوالوں کے بعد لکھتے ہیں:
’’مذکورہ الصدر حوالوں سے یہ واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ لفظ ’ربا‘ ایک مخصوص معاملہ کے لیے عربی زبان میں نزولِ قرآن سے پہلے سے متعارف چلا آتا تھا، اور پورے عرب میں اس معاملہ کا رواج تھا وہ یہ کہ قرض دے کر اس پر کوئی نفع لیا جائے اور عرب صرف اسی کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے۔‘‘ (مسئلہِ سود؛ ص۔۲۳)۔
اگر عرب لفظ ’ربا‘ کو ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض پر بڑھوتری کے لیے استعمال کرتے تھے تو یہ کہنا کس طور درست ہو سکتا ہے کہ معاملات خریدوفروخت اور تجارت پر ہونے والے فائدے کے لیے ’ربا‘ کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

(۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد۔

علمائے کرام نے لُغوی اور اصطلاحی تعریفوں کے علاوہ معاشی،معاشری اور اخلاقی مفاسد بھی گنوائے ہیں، جو ان کے خیال میں ’ربا‘ میں تو پائے جاتے ہیں لیکن بینک انٹرسٹ میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہاں ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے جن کے سہارے بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دے کر حرام کیا گیا ہے۔

(الف) معاشی دلائل:
٭سود (ربا) چیزوں کی لاگت میں شامل ہو کر مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔
٭دولت کا رخ غریبوں کی طرف سے امیروں کی طرف ہوتا ہے۔
٭امیروں کی طرف دولت کے بہائو کی وجہ سے دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔

(الف۔۱) مہنگائی کا مسئلہ:
دولت کی پیدائش میں بنیادی طور میں چار عوامل (Factors of Production)،زمین، محنت،سرمایہ اور تنظیم شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب عوامل تقسیمِ دولت میں اپنے معاوضے کی صورت میںحاصل کرتے ہیں۔ زمین کرائے کے نام سے، محنت اُجرت کے نام سے، سرمایہ سود اور تنظیم منافع کے نام سے اپنا اپنا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک میز کی لاگت میں عاملینِ پیدائش پر مصارف اس طرح آئے:
(زمین) کرایہ: ۲۰ روپے
(محنت) اُجرت: ۲۵ روپے
(سرمایہ) سود: ۲۰ روپے
(تنظیم) منافع: ۳۵ روپے
کل لاگت : ۱۰۰ روپے

اس مثال میں کسی بھی عامل کا معاوضہ اگر بڑھ جائے تو لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ محض سود ہی کی خاصیت نہیں۔ کرایہ بھی پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اُجرت بھی۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ چونکہ سود پہلے سے متعین ہوتا ہے وہ تو لاگت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے لیکن اُجرت اور کرایہ اضافے کا سبب نہیں
سکتے۔ بلکہ منافع پہلے سے متعین نہیں ہوتا وہ بھی اگر بڑھ جائے تو مہنگائی کا سبب جائے گا۔یہ محض پروپینگنڈہ ہے اور بس۔ علمی تحقیق اور عقل کی میزان اس دلیل کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ اگر سود محض اس وجہ سے ربا بن کر حرام ہو جاتا ہے کہ وہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کرایہ، اُجرت اور منافع بھی ربا نہ بن جائے۔

(الف۔۲) دولت کا بہائو امراء کی طرف:

ابتدا میں ہی اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ علمائے کرام نے جتنے بھی مفاسد گنوائے ہیں وہ کم و بیش فی الحقیقت ’الربوٰ‘ میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا اطلاق بینک کے سود پر بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔

علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کی دو قسمیں قرار دیتے ہیں۔ ایک اہلِ حاجت کے قرضوں پر منافع یا بڑھوتری لینا دوسرا بینک کے قرضوں پر اضافہ۔ اس کی عمدہ تشریح مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ میں کی ہے:
’’دنیا میں سب سے بڑھ کر سود خواری اس کاروبار میں ہوتی ہے جو مہاجنی کاروبار(Money Lending Business) کہلاتا ہے۔ یہ بلا صرف بر عظیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایک عالم گیر بلا ہے جس سے دنیا کا کوئی ملک بچا ہوا نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ کہ دنیا میں کہیں بھی یہ انتظام نہیں ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو ان کی ہنگامی ضروریات کے لیے آسانی سے قرض مل جائے۔۔۔۔یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی اپنی کسی فوری ضرورت کے لیے بینک تک پہنچ سکے اور اس سے قرض حاصل کر سکے۔ ان وجوہ سے مزدور، کسان، کم تنخواہوں والے ملازم اور غریب لوگ ہر ملک میں مجبور ہوتے ہیں کہ اپنی بُرے وقت پر ان مہاجنوں سے قرض لین جو اپنی بستیوں کے قریب ہی ان کو گدھ کی طرح شکار کی تلاش میں منڈلاتے ہوئے مل جاتے ہیں۔
یہ وہ بلائے عظیم ہے جس میں ہر ملک کے غریب اور متوسط الحال طبقوں کی بڑی اکثریت بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے قلیل المعاش کارکنوں کی آمدنی کا بڑا حصہ مہاجن لے جاتا ہے۔ شب و روز کی ان تھک محنت کے بعدجو تھوڑی سی تنخواہیں یا مزدوریاں ان کو ملتی ہیں ان میں سے سود ادا کرنے کے بعد ان کے پاس اتنا بھی نہیں بچتا کہ وہ دو وقت کی روٹی چلا سکیں۔۔۔۔۔اس لحاظ سے سودی کاروبار کی یہ قسم ایک ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اجتماعی معیشت کا بھی بھاری نقصان ہے۔‘‘ (سود؛ ص۔۱۰۷ تا ۱۱۰)

ان افکار کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرضوں کی دو قسمیں ہیں۔ ذیل میں دو خاکے سامنے رکھ کر علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق کر کے دیکھیں گے کہ وہ کس خاکے میں فٹ بیٹھتے ہیں:

خاکہ نمبر ۱

اس خاکے میں فاضل آمدنی والے افراد اہلِ حاجت یعنی غریب طبقے کو (مثلاً) ۱۰ فیصد شرح بڑھوتری پر قرض دیتے ہیں۔ یہ پسا ہوا طبقہ مجبوراً اپنی غمی خوشی کے موقع پر یا علاج معالجے کے لیے یا روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فاضل آمدنی والے افراد سے قرض کا طلب گار ہو تا ہے۔ یہ پسا ہوا طبقہ بقول مولانا مودودیؒ ہر سال سود ادا کرنے کے بعد اس قابل نہیں ہوتا کہ دو وقت کی روٹی بھی چلا سکے۔ اس خاکے سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہر سال یہ غریب لوگ اپنے پلے سے زیر بار ہوتے رہتے ہیں اور امیر لوگ اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس صورتِ حال میں دولت کا بہائو غریب سے امیر کی طرف جاری رہتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب پہلے سے زیادہ غریب ہو جائے اور امیر پہلے سے زیادہ امیر۔ جب یہ صورتِ حال ہوتی ہے تو دولت کا ارتکاز امیر طبقے کے ہاں ہوتا رہتا ہے۔

خاکہ نمبر ۲

خاکہ (ب) کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اپنی بچتیں بینک میں (مثلاً) ۵ فیصد شرح سود کے حساب سے جمع کرواتے ہیں۔ بینک آگے طبقہ امراء کو (مثلاً) ۱۵ فیصد شرح سود پر قرض دیتے ہیں۔ بینک کسی غریب فرد کو قرض نہیں دیتے۔ یہ طبقہِ امراء بالعموم اس قرض کو تجارتی غرض کے لیے استعمال کرتا ہے۔ فرض کریں ان کو کاروبار میں ۳۰ فیصد منافع ہوا۔ یہ بینک کو ۱۵ فیصد ادا کرکے باقی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ بینک اسی طرح اپنے کھاتے داروں کو ۵ فیصد دے کر ۱۰ فیصد اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اس خاکے میں نہ تو دولت کا بہائو غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے (کیونکہ کہ اس پورے کھیل میں غریب کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا) اور نہ دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔ اس خاکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طبقے میں دولت کا پھیلائو ہوا۔ اگر لوگ بینک میں اپنی بچتیں جمع نہ کرواتے یا بینک آگے قرض نہ دیتے تو دولت ایک ہی جگہ سکڑی سی رہتی۔ کسی کو بھی کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ ضمنی طور پر غریب کو اس لحاظ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس طرح کاروبار وسیع پھیلائو کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔

(ب) اخلاقی اور معاشرتی مفاسد:

(۱) ظلم: خاکہ ( الف ) اور (ب) کو ایک غیرجانبدارانہ نگاہ سے دیکھیں تو خاکہ (الف) میں ظلم صاف دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ مولانا مودودیؒ تو صریحاً اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’کاروبار کی یہ قسم صرف ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اسی میں اجتماعی معیشت کا بھی بڑا بھاری نقصان ہو۔‘‘ خاکہ (ب) میں تو سب کا فائدہ ہے، ظلم کہیں بھی نہیں۔
(۲)دوسری خرابی یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے نتیجے میں آدمی خود غرض، بخیل، تنگ دل اور سنگدل بن جاتا ہے۔ یہ ساری خرابیاں خاکہ (الف) میں ملیں گی۔ ظاہر ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اگر اپنے سے کم تر حیثیت والے افراد کی حقیقی مشکل میں مدد کو نہیں آتے تو وہ انتہائی خود غرض، بخیل اور تنگ دل ہی ہو سکتے ہیں۔ خاکہ (ب) میں تو فاضل آمدنی والے بینک کے ذریعے اپنے سے کم حیثیت والے افراد کو نہیں، بلکہ طبقہِ امراء کو ہی قرض فراہم کر رہے ہوتے ہیں، جو اس قرض کو اپنے کاروبار کو وسیع کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سود کھانے والے (یعنی بینک کے کھاتے دار) پر بخیل، خود غرض، تنگ دل اور سنگ دل جیسے القابات پکارا جانا انتہائی مشکل ہے۔ لہذا ہم یہ برائی خاکہ (الف) میں تو دیکھتے ہیں، لیکن خاکہ (ب) میں اس کا اطلاق درست نہیں۔
(۳) ایک اور خرابی یہ بتائی جاتی ہے کہ بے محنت اور بے مشقت کمائی کی قدر نہیں ہوتی اور آدمی اسراف و تبذیر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے اس جزیئے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ اوپر کہا گیا تھا کہ ’سود‘ کی کمائی کھانے والا بخیل ہوتا ہے، اور یہا ں کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ انتہائی فضول خرچ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسراف و تبذیر اور بخیلی جیسی اخلاقی برائیاں سود کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتیں۔ ہم نے کتنے ہی ایسے دولت مند دیکھے ہیں جن کا بینک انٹرسٹ سے کوئی لین دین ہی نہیں لیکن ان میں سے بعض انتہائی کنجوس اور پرلے درجے کے بخیل ہیں اور بعض انتہائی فضول خرچ۔ اس کے برعکس کئی افراد جو سود میں تو ملوث ہیں لیکن انتہائی فیاض پائے گئے ہیں۔ بل گیٹس، کمپیوٹر کی دنیا کا ایک اہم نام، یقینا جو سود کے لین دین میں شریک ہے لیکن کئی قسم کے خیراتی کاموں میں پیش پیش نظر آتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ مضاربت وغیرہ کی بے محنت و مشقت کمائی بھی کیا انسان کو اسراف و تبذیر اور فضول خرچی میں مبتلا کرتی ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بھی بغیر محنت و مشقت کے حاصل ہونے والی کمائی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سود کے نام سے حاصل ہونے والی بے محنت آمدنی تو انسان کو اسراف میں مبتلا کردے لیکن مضاربت کی بے محنت کمائی یہ کام نہ کر سکے۔

درج بالا سطور میں علمائے کرام کے ان تمام دلائل کا جائزہ لیا گیا جن کے بل بوتے پر بینک انٹرسٹ کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام کیا جاتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جب تک کوئی مضبوط اور ٹھوس دلائل موجود نہ ہوں اس وقت تک ہمیں کسی چیز کو حرام قرار دینے کی جرائت نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔ جب یہ حرکت ہم سے سرزد ہو جاتی ہے تو پھراسی طرح کی غیر متعلق بحث جنم لیتی ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا۔

علمائے کرام کے دلائل سے قطع نظر جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یقینا ’ربا‘ حرام ہے اور اسے حرام ہونا ہی چاہیے تھا۔یہ وہ منافع ہے جو اہلِ حاجت، غریب و مسکین فرد کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کو قرض کے بوجھ تلے دبا کر ان سے وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے زبان فہمی کا ایک عام اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی متن کا صحیح مفہوم متعین کرنے کے لیے اس کے سیاق و سباق (Context) کو اگر سامنے نہ رکھا جائے تو اس کا الٹا مطلب لیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ تفسیر میں اس کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے جس کو علّامہ جاوید احمد غامدی صاحب نے بڑی خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے: ’’اس کے (یعنی قرآن کے) عام و خاص
میںامتیاز کیا جائے۔ قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں، لیکن سیاق و سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مراد عام نہیں۔ قرآن الناس کہتا ہے، لیکن ساری دنیا کا توکیا ذکر بارہا اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہذا ناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے۔‘‘ ( اصول و مبادی؛ ص۔۲۲)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اصولِ تفسیر کا یہ قاعدہ یوں بیان کرتے ہیں: ’’ نقد صحیح کا تیسرا قاعدہ ہمارے سامنے آتا ہے یعنی یہ کسی آیت کی جو تفسیر بیان کی جا رہی ہو اسے دیکھا جائے کہ آیا قرآن کا سیاق و سباق بھی اسے قبول کرتا ہے یہ نہیں۔‘‘ ( تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الحج، حاشیہ ۱۰۱)۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’ یہ بات اصولاً غلط ہے کہ ایک عبارت کے اپنے سیاق و سباق سے اس کے کسی لفظ کا جو مفہوم ظاہر ہوتا ہو اسے نظر انداز کر کے ہم اپنی طرف سے کوئی معنی اس کے اندر داخل کریں۔‘‘ ( سود، ص۔۳۰۹)۔ اس اصول کی مزید تشریح اس طرح کرتے ہیں: ’’لوگ ایک آیت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے بے تکلف جو معنی چاہتے ہیں اس کے الفاظ سے نکال لیتے ہیں، حالانکہ ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق و سباق سے مناسبت رکھتے ہوں۔‘‘(تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الانبیاء، حاشیہ، ۹۹)۔
اس اصول سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی متن کی تشریح کرتے ہوئے اس کے سیاق و سباق کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ تشریح تحریف کے زمرے میں آئے گی۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر آئیے دیکھیں سورہ البقرہ میں ’ربا‘ یعنی قرض پر اضافہ جو ممنوع کیا جا رہا ہے وہ کس قرض پر اضافہ ہے۔ آیات نمبر ۲۶۱ سے ۲۸۰ کا خلاصہ یہ ہے:
٭یقینا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اجر کو ایک دانے کی سات بالیاں اور ہر بالی کے سو دانے کی طرح بڑھاتا ہے۔
٭یقینا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے خوف اور غم کا نام و نشان نہ ہو گا۔
٭ لہذا اللہ کی راہ میں صدقات ادا کرو اور لوگوں پر احساسن نہ دھرنا۔
٭ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اس کے چکر میں نہ آنا۔
٭ محتاج و غریب کو صدقات دو تو خفیہ دو تو زیادہ بہتر ہے۔
٭ ایسے لوگو کو بالخصوص جو سفید پوش ہیں اور لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے، ان پر خرچ کرو کہ صدقات ان ہی کا حق
ہے۔
٭ ان کو علانیہ اور خفیہ صدقات دو
٭ (اگر قرض ہی دینے کی نوبت آگئی ہو تو) قرضدار اگر تنگدست ہو تو اسے مہلت دو، اگر معاف کر دو تو زیادہ بہتر ہے۔
٭ نہ کہ قرض پر منافع یعنی ’ربا‘ لو کہ یہ تو اللہ نے حرام کر دیا ہے۔
قرآن مجید کی ان آیات مبارکہ نے کسی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیا کہ کس نوعیت کے قرض پر اضافہ ممنوع و حرام ہے۔ متن کے سیاق و سباق نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ غربا و مساکین کو اول تو صدقات سے مدد کرو، اور اگر کسی وجہ سے قرض ہی دینے سے مدد کر سکتے ہو تو کرو لیکن اس قرض پر اضافہ نہ لو۔ ’ربا‘ یعنی محض کسی بھی قرض پر اضافہ م حرام نہیں، بلکہ ’الف لام‘ لگا کر ’ الربوٰ‘ معرفہ بنا کر ان قرضوں پر اضافے کے لیے خاص کر دیا ہے جو محتاج و غریب افراد ہو ں اور ہماری توجہ و مدد کے مستحق ہوں۔

خلاصہِ کلام:

O بینک انٹرسٹ کو ذہن میں رکھ کر ’ربا‘ کی تمام تعریفیں نہ صرف متضاد ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی مفکر کی تعریفیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
O لُغوی لحاظ سے ’الربوٰ‘ کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر درست نہیں۔
Oعلمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر نہیں ہوتا، بلکہ اہلِ حاجت یعنی غریب افرادکو قرض دے کر فائدہ اٹھانے پر ہوتا ہے۔
O سیاق و سباق کا لحاظ رکھا جائے تو قرآن مجید میں ’الربوٰ‘ کا اطلاق اس بڑھوتری پر ہوتا ہے جو اہلِ حاجت کو قرض دے کر حاصل کیاجائے۔
O اہلِ علم اس اصل سوال کی طرف متوجہ ہوں تو کم اہم اور غیر متعلق موضوعات سے جان چھوٹ سکتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: