جوانی پھر نہیں آنی 2 : تبصرہ پہ تبصرہ —– حسن تیمور

0
  • 29
    Shares

دانش پہ شایع ہونے والے، ’’جوانی پھر نہیں آنی 2‘‘ پر تبصرہ کو دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ اب دانشور بھی فلمیں دیکھ کر اس کے ریویو دینے لگے ہیں۔۔ اس سے ہم ایسوں کو بھی حوصلہ بڑھے گا اور ہم سینما جاکر فلم دیکھنے کی جانب راغب ہونگے۔۔۔
تبصرہ نگار نے متعدد اعتراضات اٹھائے اور کہیں کہیں ہلکی سی تعریف بھی کرڈالی۔۔۔ اتفاق دیکھئے کہ چند روز قبل سینما بھی یہی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

ذیل میں ہم ان کے اعتراضات کا سلسلہ وار جائزہ لیتے ہیں۔

اپ کے مطابق فلم شروع ہی بونگی سے ہوئی۔۔۔۔ جس میں ہمایوں سعید کو خودکشی کرتے دکھایا گیا ہے۔۔لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ بونگی تھی۔۔ بلکہ یہ ڈائریکٹرکی بہترین کاوش تھی کہ پارٹ ٹو کو بھی بالکل پارٹ ون کی طرح شروع کرکےآپس میں تعلق دکھایاگیا۔۔۔۔ ویسے بھی فلم نگاری کی دنیا کا ایک ٹرینڈ ہے جس میں فلم کو درمیان یا آخر سے شروع کرکےپھر سٹوری چلائی جاتی ہے۔۔۔ یہ کوئی بونگی بہرحال نہیں تھی۔۔۔ بلکہ شدیدتجسس کا باعث بنی۔
دوسرا اعتراض جگت بازی پہ تھا۔۔ بھائی اپ جیسے دانشور یقینا ہر فلم کو “دیوداس، غالب، امراو جان ادا، بلیک یا پھر شعلے کی طرز پہ سوچ کر دیکھنے جاتے ہیں۔۔ مگر مجھ جیسا احقر کامیڈی فلم کو کامیڈی کےلیے ہی دیکھنے جاتا ہے۔۔ جس میں اگر کبھی کبھی سٹوری ہلکی بھی ہو تو وہ اس کی کسر معیاری قسم کے مزاح سے پورا کرلیتا ہے۔۔ اس فلم میں ایک نہیں،کئی مواقع پہ بہترین مزاح پیش کیاگیا۔۔۔ زیادہ تر”جگتیں” برمحل اور معیاری رہیں۔۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے، دانشوروں کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔۔

ایک اعتراض یہ کیا آپ نے کہ فہد مصطفی پہ کیمرہ کلوز کرنا ٹھیک نہیں، میرا خیال ہے کہ فلم کی پوری سچویشن کے مطابق فہد مصطفی کو بھی “سیف ایگزٹ” یا باعزت ریٹائرمنٹ دینا بنتا تھا۔۔۔ فلم کے پہلے ہاف میں فہد کا کردار عالیشان تھا جبکہ دوسرے ہاف میں ہمایوں سعید غالب رہا، سو فلم کے اختتام پہ فہد مصطفی کو دکھایا جانا غلط نہیں بلکہ ضروری عمل تھا۔۔ آخر کو وہ بھی اس انڈسٹری کا ہیرو ہے۔

ہمایوں سعید اور ڈان والے منظر کو اپ نے بکواس یا بلاوجہ قرار دیا۔۔ اور میں اس سین کو ایک بہترین سین قرار دیتا ہوں۔۔ میں اس ہی سین کا تذکرہ کرکے دوستوں کو یہ فلم دیکھنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔۔۔ یہ بےساختہ قہقہہ بلند کرنے والا سین تھا جس پہ میں ہی نہیں پورے ہال میں تالیاں تک بجائی گئی تھیں۔

بھارتی کرداروں کی جانب سے پاکستان پہ باتوں والی بات پہ متفق ہوں۔۔ یا تو یہ جملے شامل نہ کیے جاتے،اگر کرنے تھے تو ان کا بھرپور جواب بھی دیاجاناچاہیے تھا۔۔۔
کسی ایک سیاستدان کی پرموشن کے حوالے سے میں شائد کافی حدتک اپ سے متفق ہوں،لیکن ایسا کرنا کچھ غلط بھی نہیں،،پوری دنیامیں ایسا کیاجاتا ہے اور اپنے اچھے لیڈرز کی تعریف/برے کی کھینچائی کی جاتی ہے۔۔۔

فلم بلاشبہ بہت اثر انگیز میڈیم ہے۔۔۔ اپ جس اثر لینے کی بات کررہے ہیں اس کےلیے اور بھی فلمیں بنی ہیں۔۔ اپ “بول ” دیکھیں،”خدا کےلیے “،”وار”، “غازی” یا ابھی تازہ تازہ بنی فلم “پرواز ہے جنون” دیکھیں۔۔

آخر میں ایک بات دہراوں گا کہ جب ہم فلم دیکھنے جاتے ہیں تو اس کی ٹائپ کا پہلے سے علم ہوتا ہے کہ یہ سنجیدہ فلم ہے یا کامیڈی۔۔ سو جس نوعیت کی فلم ہو اسے اسی طرح کے موڈ کےساتھ دیکھیں۔۔ پھر یقینا اس کےبارے ریویو دینے میں آسانی رہتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: