سٹاک ایکسچینج امسال نے 46 فیصد منافع دیا

0

پاکستان سٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو امسال اوسط منافع چھیالیس فیصد ہوا۔ یہ منافع دنیا بھر میں سب سے زیادہ رہا۔ پاکستان تمام عالمی منڈیوں میں اہم شمار ہونے لگا ہے۔ پچھلے دس سال کا منافع بھی اس سے کہیں کم تھا ۔ اور بیس سالہ اسط بھی فقط ۲۴ فیصد ہی رہ سکی تھی۔ یاد رہے کہ ادارے اور بڑے بڑے فنڈ مالکان پاکستان کی سٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کے منافع میں اضافہ سے سٹاک مارکیٹ کا حجم مزید بڑھ جائیگا۔
اس سے قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج بالترتیب چھیالیس سنتالیس اڑتالیس ہزار کی حدوں کو توڑتا ہوا انچاس ہزار کی حد سے بھی آگے بڑھ گیا۔ سٹاک ایکسچینج نے پہلی دفعہ تاریخی حد عبور کی ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی حصص کی منڈی نے دنیا بھر میں اپنے قابل اعتبار ہوے کا ایک دفعہ دوبارہ ثبوت دیا ۔ جب سٹاک نے ۰۰۰،۴۶ کی حد عبور کی تھی تو ایک ہی دن میں سٹاک میں ۷۰۰ پوائینٹ کا اضافہ ہوا اور یوں عرصہ دراز سے کامیابی کے تسلسل سے پاکستان معیشت میں مزید ایک قدم آگے بڑھانے میں کامیاب ہوا۔ اس اہم اقتصادی اعشاریہ کی بہتری سے ڈالر کی اوپن مارکیٹ قیمت میں خاصی کمی واقع ہوئی ۔ ڈالر کی قیمت میں ستر پیسے کی یکبارگی کمی واقع ہوئی ۔ روپے کی قدر مستحکم ہوگئی تھی اور لوگوں کا روپے ہر اعتماد بڑھ گیا۔ اس سے پاکستان کے معیشت دان یہ خطرہ محسوس کررہے تھے کہ پاکستانی روپے کی قیمت میں مسلسل کمی وقع ہوگی ۔ لیکن یہ خطرہ تاحال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔ پاکستانی کرنسی اس حوالے سے اپنے استحکام کا مزید ایک ثبوت دے کر خدشات کم کرنے میں کامیاب رہا۔
اس سے قبل پاکستان کی تین سٹاک ایکسچینج (حصص کی منڈیوں ) کو اکٹھا کیا گیا تھا۔ کراچی سٹاک ایکسچینج ، سب سے بڑی منڈی تھی ۔ اس کے ساتھ لاہور اور اسلام آباد کی منڈیوں کو یکجا کرکے پاکستان سٹاک ایکسچینج کا نام دیا گیا تھا۔ یہ یکجائی بڑی حد تک مفید ثابت ہوئی اور انڈیکس مسلسل بہتری کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے یہ اہم ہدف بھی حاصل کرچکا ہے ۔ پاکستان کی معیشت عمومی طور پر بحرانوں سے گزری ہے ۔ ملک کی سیاسی صورتحال بھی دگرگوں رہتی ہے۔ مگر حصص کی منڈی میں مسلسل بہتری سے وطن عزیز کی اقتصادیات کو حقیقی بنیادیں فراہم ہوتی ہیں ۔ اس سے حقیقی ترقی سے مختلف کمپنیوں اور اقتصادی و کاروباری اداروں کو نفع حاصل ہوگا۔ یاد رہے کہ بہت سے اداروں اور بڑے بڑے ملکی و غیر ملکی بنکوں کے علاوہ مختلف النوع فنڈ بھی اپنی رقوم حصص کی منڈی میں ہی رکھتے ہیں ، جس سے حاصل شدہ فائدہ جائز اور حلال شمار کیا جاتا ہے ۔ اس آمدن سے بہت سے اداروں اور ان سے منسلک افراد کو اپنی سرمایہ کاری پر حقیقی نفع وصول ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی مختلف کمپنیوں کو بھی اس سے اپنے شئیر اور حصص سے رقوم حاصل ہوتی ہیں جنہیں وہ کاروبار میں استعمال کرتے ہیں ۔
تمام بڑی مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھا اور ساتھ میں سود کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔ اس سے لوگوں نے سٹاک خریدے ۔ سٹاک خریدنا اسلامی طور پر جائز ہے۔ اس کے علاوہ امسال پاکستان کی معیشت لگ بھگ ۵ فیصد ی شرح سے ترقی کرتی رہی جس سے عوام مالی بچت رکھنے میں کامیاب ہوئے اور اسے سٹاک خریدنے میں صرف کیا۔
ٓٓآئل کمپنیوں نے ۵۲ فیصد اور بینکوں نے ۳۳ فیصد منافع پایا۔ اس دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ۳۵۰ ملین ڈالر کے حصے بیچ ڈالے جس سے سٹاک میں مالیت کم ہوگئی ۔ اس سے پہلے اس قدر زیادہ غیر ملکی فروخت نہیں ہوئی تھی۔ اگر ایسے ہی جاری رہا تو سٹاک مارکیٹ کی ترقی میں کمیی واقع ہوسکتی ہے۔ مگر اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاھئیے کہ تمام تو معاملات کے باوجود سٹاک آگے بڑھا اور منافع حاصل ہوا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: