’’جوانی پھر نہیں آنی 2‘‘ اک لطیفہ فلم تبصرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر محمود‎

1
  • 89
    Shares

یونیورسٹی شروع ہونے کے پہلے دن ہی کلاس فیلوز کے ساتھ فلم دیکھنے کا پروگرام بنا۔ میں بضد تھا کہ کوئی اور فلم دیکھ لیں مگر باقی دوستوں کو اپنے مزاج کے عین مطابق ’’ جوانی پھر نہیں آنی 2‘‘ دیکھنے کا شوق چڑھا ہوا تھا۔ خیر ساروں نے مجھے زبردستی یا منتوں سے یہی فلم دیکھنے پر قائل کر لیا۔ پہلے سے کچھ تبصرے پڑھ رکھے تھے اس لیے دل دھک دھک کر رہا تھا کہ اللہ خیر ہی کرے وقت اور پیسہ برباد ہی نہ ہو جائے۔

فلم شروع ہی ایک بونگی سے ہوئی، ہمایوں سعید کو خود کشی کے لیے جاتا دکھائی دیا گیا اور اس کے پیچھے واسع اور احمد بٹ دوڑتے دیکھے مگر اچانک جب ہمایوں سعید نے رُک کر الوداعی نظر ڈالنا چاہی تو ایک تیسرے آدمی کی غیر مبہم شبیہہ بھی نظر آئی، یقیناً وہ فہد تھا۔ میرے ساتھ ہی فلم کی کلاس کا ایک دوست رضوان بیٹھا تھا، اس منظر پہ ہم دونوں ہی جھینپ سے گئے۔ خیر فلم آگے کی طرف بڑھنا شروع ہوئی۔ فواد خان نے بڑی زبردست انٹری ماری اور اچھوتا گیٹ اپ اپنایا مگر اس کے مکالموں کے ساتھ سب ٹائٹل لگانا چاہیے تھا تا کہ ڈائیلاگ سمجھ بھی آتے۔ یہ ایک شدید قسم کا مزاحیہ کردار تھا کہ جب تک سکرین پر رہا لوگ ہنستے ہی رہے۔ بعد ازاں جگتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو آخر تک پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔ جگتیں ویسے اچھی تھیں مگر کوئی بھی شہری اپنا سرمایہ اور وقت سنیما میں جگتیں سننے کے لیے برباد نہیں کرنے جاتا۔

سنیما ایک بہت زبردست میڈیم ہے۔ چونکہ سکرین ہماری حواسِ خمسہ کو جکڑ لیتی ہے اس لیے جو بھی اس سکرین پر دکھایا جائے اس کا اثر دیرپا رہتا ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے یہ ضروری ہے کہ فلم میں گاہے بگاہے کامیڈی چلتی رہے تا کہ یہاں کے عوام کی توجہ لگی رہی مگر سرا سر جگتیں اور طعنے سنانا فلم بنانے والوں کا بچگانہ پن ظاہر کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر بیس سیکنڈز میں تازہ جگت لگتی رہی اور تین گھنٹوں پر مبنی جگت بازی کے مقابلے کو فلم کا نام دے دیا گیا۔ کہانی کیا ہوتی ہے اس سے رائٹر ناواقف لگ رہا تھا۔ کچھ عرصہ محسوس ہوتا رہا جیسے فہد مصطفٰے ہیرو کا کردار ادا کر رہا ہے، اگلے حصے میں ہمایوں سعید ہیرو بن گیا پھر آخر پہ کیمرہ کلوز کرنے کے لیے فہد مصطفٰے اور ماورا کی کہانی سیٹ کی گئی جو کہ بالکل بے ربط تھی۔

سب سے گھٹیا بات تو یہ رہی کہ بھارتی کردار ڈال کر ان سے پاکستان پر نیچ جگتیں اور طعنے مروائے گئے۔ سہیل احمد، فواد خان، واسع چودھری اور احمد علی بٹ نے زبردست اور لازوال اداکاری کی، ماورا کی ڈریسنگ بعض جگہوں پر کوئی بہت شاندار نہیں تھی۔ شروع شروع میں فہد کا کردار بہت عالیشان دکھایا گیا پھر اتنا ہی گرا دیا گیا۔

ہمایوں سعید کو دوسری محبت ہونے سے پہلے تک ایک ’’ماہرِ خود کشیات‘‘ دکھایا گیا اور ایسے ایسے فضول مناظر عکسبند کیے کہ بندہ یکدم ’’نان سینس‘‘ کہے بغیر نہیں رُکتا۔ مثال کے طور پہ جب ڈان فہد سے پیسے لینے کے لیے پستول اس کی طرف کرتا ہے تو یہ بھائی صاحب فریم کے نیچے سے داخل ہو کر پستول کی نلی منہ میں ڈال لیتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ایسا منظر دو دفعہ دکھایا گیا۔ اس فلم میں ہمایوں سعید کی اداکاری سے واضح لگ رہا تھا کہ اب وہ جوانی والا دم خم نہیں رہا انہیں چاہیے کہ اب جاوید شیخ والے کردار لینا شروع کر دیں۔

فریمنگ کافی حد تک اچھی تھی، ٹیڑھے یا ہلتے فریمز پر بہت زیادہ قابو پا لیا گیا مگر ایک جگہ آخر پہ جب ماورا کا ’’پَپّی‘‘ بھاگ جاتا ہے تو اس وقت ’’فولی‘‘ ماورا کے قدموں کے ساتھ سنکرونائز نہیں کر پا رہی تھی۔ سوائے ایک دو مناظر کے ساری شوٹنگ پاکستان سے باہر کی گئی جبکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کا اولین مقصد ہی مقامی تاریخی مقامات اور امن و ثقافت کا پرچار کرنا ہے۔ کہانی کا کوئی بنیادی خیال نہیں تھا۔ انتہائی سنجیدہ مواقع پر بھی اچانک جگت بازی شروع کر دی جاتی رہی۔

اس فلم کی سب سے گھٹیا بات یہ تھی کہ آرٹ کے اس شعبے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ ایک سیاسی راہنما کی بے جا ایڈورٹزمنٹ کی گئی اور اس کا کردار ابھارنے کے لیے من گھڑت ویڈیو بھی شامل کی۔ میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ جس طرح پچھلے کچھ عرصہ سے فلم انڈسٹری ملکی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے غیرجانبدار رہی اسی طرح اس دور میں بھی اسے اپنی روایات کو برقرار رکھنا چاہیے۔

آرٹ سے متعلقہ کوئی بھی چیز اگر کسی اکثریتی یا اقلیتی گروہ کے مذہبی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی یا تاریخی نظریات کو ٹھیس پہنچائے تو وہ آرٹ نہیں رہتا، خیر یہ کونسا آرٹ تھا ایک لطیفہ فلم تھی جسے سکرین پر چڑھا دیا گیا اور پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کا واویلا کر کے اس کی تشہیر کی گئی مگر معاف کیجیے گا پاکستانی فلم انڈسٹری میں ایسی مزید کوششیں ناقابلِ برداشت ہونی چاہئیں اور ان کی شدید حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے تا کہ فلم انڈسٹری کی بحالی کا جو مقصد ہے وہ پورا ہو۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Yeh film ek behtareeen akkkassi thi wese hmary cinema ki, pata nahe aaapko kyun itna gussa aya is pr janaaab, ek jandaar kaavish hai yeh or awaaam me bay haddd maqbool b huiii hai jsi wajah se,

Leave A Reply

%d bloggers like this: